تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

فقط دو فیصد ٹیکس دہندگان کا ملک —– نعیم صادق

by دانش ڈیسک 30/10/2021
written by دانش ڈیسک 30/10/2021
92

ایف بی آر کا محکمہ ٹیکس جمع کرنے میں ناکامی کی وجہ سے پاکستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ کوئی بھی ملک جہاں دوفیصد سے کم لوگ ٹیکس ادا کرتے ہوں اسے سانس لینا مشکل ہوگا، وہاں ترقی کی رفتار بہت کم ہو گی۔وہ اپنے وجود کی بقا کی جدوجہد پر مجبور ہوگا اور غیر ملکی قرضوں پر بری طرح انحصار کرے گا۔ اس کی سلامتی اور خودمختاری مسلسل خطرے میں رہے گی اور اس کے عام شہری غربت میں پھنسے ہوئے زندگی گزاریں گے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان آج کھڑا ہے۔ہمیں اس کے لیے ایف بی آر کے محکمہ کا شکرگزار ہونا چاہیئے، جو اپنی سراسر نااہلی کے سبب اس کام کو انجام دینے کے اہل نہیں ہیں۔

لیکن آئیے ایک لمحے کے لیے ٹہریئے اور غور کیجئے کہ ایف بی آر پر ضرورت سے زیادہ تنقید کیوں کی جائے؟ کیا ہمارے زیادہ تر دیگر محکمے بھی بری طرح ناکامی کا شکار نہیں ہوئے ہیں۔ تعلیم کے ذمہ داروں نے 25 ملین بچوں کواسکولوں سے باہر رکھا ہوا ہے۔ ای او بی آئی کا محکمہ 90 فیصد ورکرز کو رجسٹر کرنے میں ناکام رہا ہے۔ میونسپلٹی کے ادارے مؤثر طریقے سے اپنا کچرا اٹھا نہیں پاتے ہیں اور گذشتہ 70 برسوں میں ہم ملک بھر میں ایک بھی ایمرجنسی ہیلپ لائن نہیں بنا سکے۔ ایف بی آر ان سب سے کس طرح مختلف ہے؟ کیونکہ ٹیکس جمع کرنے میں ناکامی کی وجہ سے، ایف بی آر اکیلے پاکستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر کام کررہا ہے۔ یہ پاکستان کو غیر علامتی طور پر ناکام بناتا ہے، جو کہ ناکامی کا زیادہ تکلیف دہ اور طویل ورژن ہے۔ اس صورت حال سے نکلنے کے لیے پاکستان کے پاس واحد راستہ اب بھی کھلا ہے وہ ہے تخلیقی طور پر نئے جرات مندانہ فیصلے اور مسائل کے حل کے بارے میں سوچنا، جدید ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال کرنا اور اپنی سال خوردہ قدیم اور نوآبادیاتی بیوروکریسی سے چھٹکارا حاصل کرنا۔

جس طرح گزشتہ 70 برسوں میں سندھ پولیس نے درست اور جعلی کار نمبر پلیٹ میں فرق نہیں سیکھا، اسی طرح ایف بی آر بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ صرف 0.1 فیصد سے بھی کم شہری ایسے ہیں جو اس کی پیچیدہ اور گنجلک ویب پر مبنی ٹیکس ریٹرن کو بھر سکتے ہیں۔ ۔ اس طرح ہمارا نظام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ 99% لوگ ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کرسکیں ۔ ایک عام شہری جو حکومت کو 10 ہزار روپے ٹیکس ادا کرنا چاہتا ہے اسے پہلے ٹیکس کنسلٹنٹ کو 15 ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے۔ اور یہ کوئی بھی نہیں کرے گا۔

ایف بی آر کو یہ سمجھانا ناممکن ہے کہ اس کی ‘آسان’ ٹیکس ایپ ‘آسان’ نہیں ہے۔ اس کے لیے صرف اردو اور انگریزی میں ایک صفحے کا سادہ سا فارم تیار کرنے کی ضرورت تھی جسے آٹھویں جماعت کا طالب علم بھی بھر سکتا ہو۔ ٹیکس کی ادائیگی کے لیے کسی PSID، ‘چالان’، یا بینکوں میں قطار لگانے کی ضرورت بھی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ کیونکہ ایف بی آر کا بینک اکاؤنٹ نمبر، کسی کا شناختی کارڈ اور ایک موبائل فون ہی ٹیکس ادا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ایف بی آر کے پورے پورے صفحے کے اخباری اشتہارات ” آئیے ٹیکس دہندہ بنیں’ ٹیکس دہندگان کے پیسے کو برباد کرنا ہے۔ ایف بی آر کو اس کے بجائے” ’ٹیکس دہندہ کیسے بنیں” کی تشہیر کرنی چاہیے اور آسان اورقابل عمل حل فراہم کرنا چاہیے۔

یہ امر بھی حیران کن ہے کہ ایف بی آر عوامی طور پریہ اعلان کرتا ہے کہ 500 مربع گز سے کم شہری اراضی کے مالکان یا 1000cc سے کم کار مالکان کو ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس طرح 500 مربع گز سے کم رقبے کےمکانات میں رہنے والے کراچی کے 98 فیصد لوگوں کو ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایف بی آر کو ہر شہری سے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے، چاہے ان پر کسی ٹیکس کی کوئی ذمہ داری بھی عائد نہ ہوتی ہو۔ ٹیکس ریٹرن رسمی معیشت کو وسعت دینے، اوریہ جاننے کے لیے کہ کسی فرد اور گھرانے کی کتنی آمدنی ہوتی ہے اور ضرورت مندوں کو امداد فراہم کرنے کی بنیاد تیار کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ ایف بی آر کا ایک اچھا ٹیکس نظام، جس میں تمام شہریوں کو ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی ضرورت ہوتی ہے، ان لاکھوں استحصال زدہ شہریوں کا بھی پتہ لگانے کے قابل ہونا چاہیے جنہیں کم از کم قانونی اجرت بھی ادا نہیں کی جاتی۔

اگر ایف بی آر واقعی ٹیکس وصولی کا خواہاں ہوتا تو اس نے ویلتھ ٹیکس متعارف کروانے پر زور دیا ہوتا – ایسا ٹیکس جو آسانی سے اور امیر اشرافیہ کی ملی بھگت سے ختم کر دیا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف ٹیکس کی وصولی میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی عدم مساوات کو بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔ ایک جدید اور عملی FBR پاکستان کی ترقی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے لیے ایک لازمی شرط اور ایک ایسا نظام جو آسان، صارف دوست اور فائدہ مند ہو، وقت کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments Box
FBRIncome TaxTaxانکم ٹیکسٹیکس
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
میرا بچپن اور بچوں کی تربیت کا روایتی اسلوب —- احمد جاوید
next post
شبر زیدی کے مبینہ تہلکہ خیز انکشافات کا تکنیکی جائزہ —- لالہ صحرائی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.