تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

زندگی: اقبال کی نظر میں ---  یگانہ نجمی

by دانش ڈیسک 10/11/2025
written by دانش ڈیسک 10/11/2025
271

علامہ اقبال بر صغیر کےوہ مفکر وشاعر ہیں جنہوں نے انسان کو اس کی کھوئی ہوئی پہچان یاد دلائی۔ انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعےزندگی،خودی،عمل،اور ایمان کے پیغام کو نئی معنویت بخشی ۔ان کی نظم ”برتر از اندیشہء سود و زیاں ہے زندگی”دراصل زندگی کے فلسفے کا ایک جامع تعارف ہے،جس میں اقبال نے انسانی وجود کو بیدارکرنے کی کوشش کی ہے۔اقبال کی یہ نظم روحانی دور کی نظم ہے۔ جو مسلسل جدو جہد اور آگے بڑھنے کا پیغام دیتی ہے۔ وہ ماضی میں گھٹ کر رہ جانے اور مستقبل کی فکر میں مبتلا رہنے کو تیار نہیں۔اقبال کے نزدیک زندگی محض سانس لینے کا نام نہیں،بلکہ پیہم کوشش،حرکت اور خودی کے اظہار کا عمل ہے۔وہ فرماتے ہیں۔

برتر از اندیشہء سود و زیاں ہے زندگی

ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی

اقبال انسان کو یہ درس دیتے ہیں کہ زندگی کو نفع نقصان کی تنگ سوچ میں محدود نہ کرو ۔زندگی تو کبھی قربانی کا تقاضا کرتی ہے ۔اور کبھی خود تسلیم و رضا کا مظہر بن جاتی ہے۔زندگی سے مراد وقت ہےجو آگے بڑھتا رہتا ہے کسی کے لیے ٹہھرتا نہیں ہے۔

اقبال کی شاعری میں حرکت کو بنیادی مقام حاصل ہے۔وہ زندگی کو رواں دریا سے تشبیہ دیتے ہیں جو کبھی رکتا نہیں۔

وہ کہتے ہیں ۔

جاوداں، پیہم رواں، ہر دم جواں ہے زندگی

یہ مصرعہ  دراصل اس پیغام کا مظہر ہے کہ زندگی جمود نہیں ایک تسلسل ہے جو انسان کو جواں رکھتا ہے۔ اس لیے وہ انسان کو جمود سے نکال کر عمل اور تازگی کی دعوت دیتا ہے۔اقبال کے نزدیک ساکت زندگی دراصل موت ہے،جب کہ متحرک زندگی ہی ایمان کی علامت ہے۔اقبال انسان کو تخلیق کائنات کا حصہ نہیں بلکہ خالق کائنات کا ثانی بننے کی دعوت فکر دیتے ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کو غلامی  سے نکالنے کے لیے غلامی کی خرابیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے انھیں بتایا کہ غلامی انسان کی سوچ کو محبوس کردیتی ہےجس سے اس کی فکر آزادی سلب ہوجاتی ہے۔چوں کہ اقبال انسان کو خالق کائنات کا شریک کار سمجھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انسان اپنی دنیا خود بنائے۔

اپنی دنیا آپ  پیدا کر اگر زندوں میں ہے

سر آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگی

ضمیر کن فکاں وہ طاقت ہے جو انسان کے باطن میں پوشیدہ ہے ۔یہ وہی طاقت ہے جو اسے کچھ نیا پیدا کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔اس لیے وہ اپنی زمہ داری کو سمجھے اور زندگی کے پیغام کو سمجھتے ہوئے غلامی کی زنجیریں توڑ دے جس طرح ایک کو ہ کن بڑے سے بڑے پہاڑ کو اپنے تیشے سے توڑ دیتا ہے۔وہ یہ نہیں دیکھتا کہ پہاڑ کتنا بڑا اور سخت ہے۔ وہ اپنے زور بازو پر بھروسہ کرکے اسے پاش پاش کردیتا ہے اس کا جذبہء صادق اسے حوصلہ بخشتا ہے۔

اقبال نے اپنی شاعری میں انسان کی خودی یعنی اس کی خوداری کی بات کی ہے ۔اگر وہ اس بات سے آگاہ ہوجائے اور اپن ذات کو پہچان لے تو دنیا میں کوئی شکست نہیں دے سکتی ۔وہ مسلمانوں کو اس مقام تک لے جاتی ہےجو زمین و آسمان کے سارے راز آشکار

کردیتی ہے۔وہ بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو پہچانے۔ اور کائنات کےسارے رازوں سے پردہ اٹھا دے۔

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے  اک جوئے کم آب

اور آزادی میں بحر بے کراں ہے زندگی

یہ شعر صرف سیاسی آزادی نہیں ۔بلکہ فکری آزادی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ یعنی وہ آزادی جو انسان کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا حق دیتی ہے۔اقبال کی فکر میں آزادی ایمان کی علامت ہے جب کہ گلامی روح کی موت۔

قلزم ہستی سے مانند حباب ابھرا ہے تو

اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی

نظم کا یہ آخری شعر میں اقبال انسان کویاد دلاتے ہیں کہ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے ۔زندگی کا مقصد صرف آرام نہیں بلکہ مسلسل جدو جہد اور اپنی خودی کو منواناہے۔اگر چہ انسان کی زندگی ایک قطرے سے بنی ہے اور اس کی حیثیت ایک بلبلہ کی سی ہے جو کسی بھی لمحے ختم ہو سکتا ہے اس کے پاس جو مہلت ہے وہ اتنی کم ہے کہ وہ اس محدود زندگی کہ وہ ماضی اور مستقبل کے اندیشوں میں گھرا رہے گا تو یہ ممکن نہیں کہ وہ اس محدود زندگی کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھتا رہے کیوں کہ دینا صرف اور صرف نقصان کی جگہ ہے۔ اقبال کی یہ نظم صرف شاعری نہیں بلکہ منشور ِ حیات ہے۔

Facebook Comments Box
Allama Iqbaliqbalاقبالعلامہ اقبال
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
next post

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.