نگارشاتِ سحر ممتاز محقق، نقاد، شاعر اور ماہرِ لسانیات پروفیسر سحر انصاری کے انیس (19) علمی و ادبی مضامین کا ایسا مجموعہ ہے جو انجمن ترقی اردو (ہند) سے شائع ہو کر ہم تک پہنچا ہے۔یہ اردو تحقیق، تنقید، شعریات، متنی تدوین، لسانیات اور شخصی مطالعات کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ اس کتاب کو جناب محمد صابر نے مرتب کیا ہے، جس کے لیے وہ داد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے نہ صرف پروفیسر سحر انصاری کے متنوع مضامین کو حسنِ ترتیب سے یک جا کیا بلکہ اسے مفید اور عالمانہ حواشی کے ساتھ پیش کیا ہے، جس سے مضامین کی افادیت اور تحقیقی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
اس مجموعے کا سب سے نمایاں وصف اس کے موضوعات کا تنوع ہے، جسے تفصیلاً دیکھنے کی ضرور ت ہے:
کتاب کا ایک اہم حصہ بابائے اردو مولوی عبد الحق کی شخصیت، علمی خدمات اور لسانی، تنقیدی و تحقیقی افکار کے مطالعے پر مشتمل ہے۔ ’’بابائے اردو مولوی عبد الحق (شخصیت اور لسانی افکار کے چند اجمالی پہلو)‘‘، ’’اورنگ آباد اور مولوی عبد الحق‘‘، ’’مولوی عبد الحق کی تنقیدی معروضیت‘‘، ’’متنی تنقید اور ڈاکٹر مولوی عبد الحق‘‘ اور ’’بابائے اردو کے خطوط پروفیسر آلِ احمد سرور کے نام‘‘ جیسے مضامین ان کی علمی و فکری جہات کو مختلف زاویوں سے اجاگر کرتے ہیں۔ ان تحریروں میں نہ صرف مولوی عبد الحق کی لسانی بصیرت، تنقیدی رویے، تدوینِ متن اور لغت نویسی میں خدمات کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے بلکہ جدید اردو تحقیق اور علمی اداروں کی تشکیل میں ان کے بنیادی کردار کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ ان مضامین سے یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ پروفیسر سحر انصاری بابائے اردو کو محض ایک تاریخی یا لسانی شخصیت کے طور پر نہیں بلکہ اردو تحقیق کی جدید روایت کے معمار اور ایک مستند علمی حوالہ تصور کرتے ہیں۔ چنانچہ کتاب میں ان پر متعدد مضامین کی شمولیت مصنف کی اسی فکری وابستگی اور علمی اعتراف کی غماز ہے، جو اردو لسانیات، تحقیق اور تدوینِ متن کی روایت کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم اور بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
کتاب میں علامہ اقبال سے متعلق مضامین بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ کیوں کہ اقبال ایسی ہمہ گیر شخصیت ہیں جن کی فکر، فن اور ادبی خدمات پر تحقیق و تنقید کا سلسلہ ایک صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود مسلسل جاری ہے اور ہر عہد میں ان کی شخصیت اور فکر کے نئے زاویے سامنے آتے رہتے ہیں۔’’اقبال کے خطوط میں ادبی مباحث‘‘ یہ واضح کرتا ہے کہ اقبال کے خطوط صرف شخصی مکاتبات نہیں بلکہ زبان، ادب، تنقید، تخلیقی عمل اور ادبی نظریات سے متعلق گراں قدر علمی مباحث کا اہم ذخیرہ ہیں۔ اس طرح سحر انصاری قاری کو کلام ِ اقبال کی ادبی جہات اور اقبال شناسی کے ایک نئے اور معنی خیز زاویۂ نظر سے روشناس کراتے ہیں اوراقبال کی شخصیت کے ایک ایسے پہلو کو نمایاں کرتے ہیں جس پر دیگر متنازع موضوعات کی نسبت کم توجہ دی گئی ہے۔
کتاب کا ایک اور نمایاں وصف شخصی تنقید ہے۔ غالب، اقبال، ٹیگور، حسرت موہانی، جوش، فراق، شان الحق حقی، غلام عباس اور ممتاز حسین جیسے متنوع مزاج رکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کا انتخاب اس بات کی دلیل ہے کہ سحر انصاری کسی خاص مکتبۂ فکر کے نمائندہ نقاد نہیں بلکہ ادب کو اس کی کلیت میں دیکھنے کے قائل ہیں۔ ان کے ہاں کلاسیکی اور جدید، روایت اور جدت، شاعری اور نثر، لسانیات اور تنقید، سب ایک ہی فکری سلسلے کی مختلف کڑیاں معلوم ہوتے ہیں۔
پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ یہ شخصی تنقید سوانحی انداز اختیار نہیں کرتی بلکہ ہر شخصیت کے ادبی اور فکری کارناموں کا تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے۔ حسرت موہانی کے نظریاتی، سیاسی اور فکری شعور، جوش ملیح آبادی کے شعری امتیازات، فراق گورکھپوری کے اثرات، شان الحق حقی کی ترجمہ نگاری، سجاد ظہیر کی حافظ شناسی اور ممتاز حسین کی تحقیقی خدمات کو مصنف نے نہایت اعتدال اور استدلال کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ان مضامین میں نہ تو شخصیت پرستی ہے اور نہ ہی غیر ضروری تنقید؛ بلکہ ہر جگہ علمی دیانت اور تنقیدی توازن نمایاں ہے۔یہ توازن ان کی تنقید کے ایک انتہائی اہم وصف معروضیت کے سبب ہے۔ وہ کسی ادیب یا شاعر کی صرف خوبیوں کو بیان نہیں کرتے بلکہ جہاں ضرورت محسوس ہو وہاں علمی انداز میں اختلاف بھی کرتے ہیں اور تمام تر پہلوؤں تک پہنچنے کی بھرپور سعی کرتے ہیں، مثلاً شان الحق حقی کے تراجم کے ساتھ ان اشعار کا اصل متن بھی پیش کیا گیا ہے تاکہ باذوق قاری کو خود بھی فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ پھر ان کی تنقید جذباتیت کے بجائے دلائل، حوالوں اور متن کی بنیاد پر استوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مضامین تاثراتی تنقید کے بجائے تحقیقی اور تجزیاتی تنقید کی عمدہ مثال بن جاتے ہیں۔
اس مجموعے میں شامل یادداشتوں پر مبنی مضامین بھی اپنی نوعیت میں منفرد ہیں۔ “یادوں کی برات: محض دل چسپ واقعات” اور “غلام عباس: چند یادیں” صرف ان سے متعلق مضامین نہیں بلکہ مضمون نگار کے ذاتی مشاہدات کا احوال بھی ہیں۔یوں یہ مضامین ادبی تاریخ کے معاون ماخذ کی حیثیت بھی اختیار کر لیتے ہیں کیوں کہ مصنف کےذاتی مشاہدات، ادبی شخصیات سے ملاقاتوں اور علمی ماحول کی ایسی ایسی جھلکیاں نہایت دل نشیں انداز میں سامنے آتی ہیں، جو قاری کو اردو کے ایک پورے ادبی عہد سے روشناس کراتی ہیں اور ان شخصیات سے متعلق اہم معلومات بہم پہنچاتی ہیں۔ اس کی مثال کے طور پر غلام عباس کے انتقال پر ان کی اہلیہ کے الفاظ ملاحطہ کیے جا سکتے ہیں۔
کتاب کا ایک اہم پہلو متنی تنقید (Textual Criticism) ہے۔ “دیوانِ غالب (نسخۂ خواجہ) کا ایک تعارف” اور “متنی تنقید اور ڈاکٹر مولوی عبد الحق” جیسے مضامین صرف متون کے تعارف تک محدود نہیں رہتے بلکہ اردو میں متنی تدوین کے اصول، مستند متن کی اہمیت اور نسخوں کے تقابلی مطالعے کی ضرورت کو بھی واضح کرتے ہیں۔ سحر انصاری اس امر پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی ادبی متن کی صحیح تفہیم اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کا معتبر متن سامنے نہ ہو۔ اس اعتبار سے ان کے یہ مضامین اردو متن شناسی کی روایت میں قابلِ قدر اضافہ ہیں۔
پروفیسر سحر انصاری کے مضامین کی ایک نمایاں خوبی ان کا متوازن، معروضی اور مدلل اسلوب ہے۔ان کی زبان نہایت شستہ، علمی اور سلیس ہے۔ وہ مشکل موضوعات کو بھی سہل انداز میں بیان کرتے ہیں، تاہم اس سہولت میں علمی وقار اور فکری گہرائی کہیں مجروح نہیں ہوتی۔ ان کے مضامین میں حوالہ جات، تاریخی شواہد اور متنی استناد کا استعمال ان کی تحقیقی دیانت کا مظہر ہے، جب کہ منطقی ترتیب اور استدلال ان کی تنقیدی بصیرت کو نمایاں کرتے ہیں۔۔ وہ کسی شخصیت یا ادبی متن کا جائزہ لیتے ہوئے نہ تو غیر ضروری تحسین سے کام لیتے ہیں اور نہ ہی بے جا تنقید سے۔ ان کی تحریروں میں تحقیقی دیانت، حوالہ جاتی استناد، تاریخی شعور اور تنقیدی بصیرت نمایاں طور پر موجود ہے۔ یہی خصوصیات اس مجموعے کو محققین، اساتذہ، طلبہ اور ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے یکساں طور پر مفید بناتی ہیں۔
مختصراً، نگارشاتِ سحر کا مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ پروفیسر سحر انصاری کا تنقیدی و تحقیقی زاویۂ نظر محض شخصیات کے تعارف یا ادبی تاریخ کے بیان تک محدود نہیں بلکہ وہ ہر موضوع کو اس کے تاریخی، فکری اور تہذیبی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کے مضامین کا بنیادی وصف یہ ہے کہ وہ ادبی متن، ادبی شخصیت اور ادبی روایت، تینوں کے درمیان ایک مربوط رشتہ قائم کرتے ہیں۔ اسی لیے ان کی تحریروں میں تحقیق، تنقید، لسانیات، متن شناسی اور ادبی تاریخ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتیں بلکہ ایک مکمل فکری نظام کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔
نگارشاتِ سحر محض مختلف اوقات میں لکھے گئے مضامین کا مجموعہ نہیں بلکہ اردو زبان و ادب کے کلاسیکی اور جدید مباحث، اہم ادبی شخصیات، شعریات، متنی تنقید، لسانیات، ترجمہ نگاری اور ادبی تاریخ کے متنوع موضوعات پر مشتمل ایک وقیع علمی سرمایہ ہے۔ یہ کتاب پروفیسر سحر انصاری کی وسیع المطالعگی، تحقیقی بصیرت اور تنقیدی اعتدال کی عمدہ مثال ہے اور اردو تحقیق و تنقید کے سنجیدہ ذخیرے میں ایک اہم اضافہ قرار دی جا سکتی ہے۔
