Connect with us

انٹرویوز

مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

Published

on

مولانا خان محمد، سجادہ نشین و مہتمم خانقاہ و مدرسہ سراجیہ، کندیاں (میانوالی)، نائب امیر، جمعیت العلمائے اسلام مفتی گروپ کا یہ انٹرویو۔مارچ ۱۹۷۵ میں مرحوم پروفیسر ممتاز احمد نے دینی مدارس کی صورتحال کے موضوع پہ لیا تھا۔ دانش کے قارئین کے لئے یہ گفتگو اس کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر شایع کی جارہی ہے۔


مولانا خان محمد ۱۹۲۰ء میں پیدا ہوئے۔ آپ ۱۹۵۶ء سے وفات تک خانقاہ سراجیہ کندیاں، میانوالی کے سجادہ نشین رہے۔ مولانا خان محمد نے ابتدائی تعلیم خانقاہ سراجیہ اور دارالعلوم عزیزیہ بھیرہ میں حاصل کی۔ حدیث کی کتب جامعہ اسلامیہ ڈابھیل ضلع سورت میں پڑھیں۔ ۱۹۴۱ء میں دارالعلوم دیوبند سے حدیث اور تفسیر کی تعلیم کی تکمیل کے بعد خانقاہ سراجیہ میں مقیم ہو گئے اور وفات تک خانقاہ کے سجادہ نشین رہے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختم نبوت میں حصہ لیا اور گرفتار بھی ہوئے۔ ایک درجن سے زائد مدارسِ عربیہ کی سرپرستی اور معاونت کی۔ ۱۹۷۴ء کی ختم نبوت تحریک میں بھرپور حصہ لیا اور ۱۹۷۷ء میں مولانا یوسف بنوری کی وفات کے بعد عالمی مجلسِ ختم نبوت کے امیر منتخب ہوئے۔ آپ کا انتقال ۵ مئی ۲۰۱۰ء کو ۹۰ سال کی عمر میں ہوا۔


ہمارے ہاں مدارس میں اس وقت تک جو نظامِ تعلیم چلا آرہا ہے، اس سے ہم کافی حد تک مطمئن ہیں۔ البتہ موجودہ روش کے اعتبار سے تھوڑا بہت تغیر ہم چاہتے ہیں۔

ہمارے مدارس میں لکھنے اور بولنے کا نظام نہیں ہے۔ اس طرف اب ضروری توجہ دینے کا کام ہونا چاہیے۔ جس طرح اسکولوں میں لکھنے اور بولنے کا نظام ہے اور جو زبان بھی وہاں پڑھائی جاتی ہے اُسے وہ لکھاتے بھی ہیں اور اس کی مشق بھی کرائی جاتی ہے، اسی طرح کی صورت ہمارے مدارس میں نہیں ہے۔ ہمارے مدارس میں اس کی ابتداء ہی سے کمی ہے۔ لکھنے اور بولنے کی طرف توجہ نہیں ہے۔ صرف کتاب دانی کی طرف توجہ دی جاتی ہے۔ قرآن، حدیث اور دیگر علوم و فنون میں بھی صرف کتاب دانی پر زور دیا جاتا ہے، اس کے علاوہ بولنے، پڑھنے اور لکھنے پر توجہ نہیں دی جاتی۔ ہم صرف یہی کمی محسوس کرتے ہیں۔

س: کیا آپ اس بات کی بھی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ مدارس کے نظامِ تعلیم میں قدیم عربی و دینی علوم کے ساتھ ساتھ جدید علوم کو بھی شامل کیا جائے؟ کیا یہ جدّت آپ کے نزدیک مناسب یا ضروری ہے؟

ج: یہ جدت تو ضرور ہونی چاہیے۔ زمانے کے تغیرات کے لحاظ سے یہ تو ہونا ہی چاہیے۔

س: یعنی آپ اس بات کے حق میں ہیں کہ جدید علوم مثلاً سیاسیات، عمرانیات، معاشیات اور انگریزی زبان بھی مدارس میں پڑھائے جائیں؟

ج: ان مضامین کو ضمنی حیثیت دینی چاہیے۔ اصل اور بنیادی اہمیت تو قرآن و حدیث ہی کو حاصل ہے۔ان کے علاوہ جو فنون و علوم درسِ نظامی میں شامل ہیں وہ ہمارے علماء نے قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لیے بطور معاون شامل کیے تھے۔ ان کو پڑھنے کا باالذات کوئی علیحدہ مقصد نہیں تھا۔ یونانیوں کے اثرات کی وجہ سے اُس زمانے میں بعض ایسی اصطلاحات رائج ہو گئی تھیں جو نئی تھیں، ان کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے ان علوم و فنون کو پڑھنے کی ضرورت پیش آئی تو انہیں مدارس کے نصاب میں شامل کر لیا گیا۔ تو اب اس زمانہ میں کچھ اور قسم کے حالات پیدا ہو گئے ہیں جن کے لیے اب نئے علوم بھی قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لیے ضروری ہو جائیں گے۔ مثلاً جو سیاسی اورمعاشی مسائل اِس زمانے میں پیدا ہو گئے ہیں وہ پہلے زمانے میں نہیں تھے، ان کو سمجھنے کے لیے اور قرآن و حدیث میں ان کے متعلق غور و فکر کرنے کے لیے، ان علوم کو پڑھنا ضروری ہو گیا ہے۔
س: آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ ہمارے معاشرے میں مادی آسائشیں حاصل کرنے کی ایک رو چلی ہوئی ہے اور مادی آسائشیں حاصل کرنے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ اسکولوں اور کالجوں میں دنیاوی معاملات میں کام آنے والی تعلیم حاصل کی جائے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اسکولوں اور کالجوں کی تعلیم کو نظرانداز کر کے دینی تعلیم حاصل کرتے رہیں اور اس تعلیم سے ظاہر ہے اُنہیں اتنا دنیاوی فائدہ حاصل نہیں ہوتا جتنا کہ عام تعلیم سے ہو سکتا ہے۔ نہ یہ لوگ سول سروس میں جا سکتے ہیں اور نہ ہی دوسری اچھی قسم کی پرائیویٹ ملازمتوں میں۔ کیا آپ بتا سکیں گے کہ ایک ایسے ماحول میں جبکہ مادیت پسندی کا رجحان عام ہے، بعض لوگ یہ کیوں فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ دینی مدارس میں تعلیم حاصل کریں۔

ج: یہ خیال کرنا غلط ہے کہ دینی مدارس میں جو لوگ پڑھتے ہیں وہ کوئی نمایاں قسم کے لوگ نہیں ہوتے یا اُن کا معاشی مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ دراصل جس نظام میں یہ لوگ چل رہے ہیں اس نظام کی بقا کی بھی تو ضرورت ہے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ نظام اس وقت ہی باقی رہے گا جب اس کو چلانے والے بھی پیدا ہوتے رہیں۔ اگر ہمیں دینی مدارس کو چلانا اور انہیں باقی رکھنا ہے تو ان مدارس کے مہتمم حضرات کی بھی ضرورت ہوگی، اساتذہ کی بھی ضرورت ہو گی۔ پھر اس نظام کے ساتھ مساجد کا بھی نظام ہے جہاں آئمہ اور خطباء کی بھی ضرورت ہو گی۔ تو ان لوگوں کے لیے جو مدارس میں پڑھتے ہیں، اس طرح کے دنیاوی راستے بھی کُھلے ہوتے ہیں۔ ہم نے آج تک ایسا نہیں دیکھا کہ ایک مولوی صاحب پڑھ کر فارغ ہو چکے ہوں اور دنیاوی لحاظ سے مایوس پھر رہے ہوں اور بے روزگار ہوں۔ اگر کسی نے صحیح طریقہ سے پڑھ رکھا ہے تو وہ کبھی بھی بے کار نہیں رہے گا۔ مدارس میں مدرسین کی اس قدر قلّت ہے کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ اچھے مدرسین نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے ہاں کے کئی مدارس ٹھیک طریقے سے نہیں چل رہے ہیں۔اگر طلبہ صحیح طریقہ سے پڑھیں تو مدارس میں اساتذہ کی یہ قلت بھی پوری ہو سکتی ہے۔ اس وقت مدارس میں صدر مدرسین پانچ سو سے سات سو روپے ماہوار تک تنخواہ لے رہے ہیں جو ایک اوسط درجے کے خاندان کے لیے ایک معقول آمدنی ہے۔ چنانچہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ دینی مدارس میں پڑھنے والوں کا معاشی مستقبل تاریک نہیں ہے اُن کے اپنے میدان میں اُن کے لیے راستے کھلے ہیں۔

س: کیا یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل جنہوں نے ایم۔ اے (عربی) یا ایم۔ اے (اسلامیات) کیا ہو، دینی مدارس میں مدرس نہیں بن سکتے؟

ج: یہ لوگ ہمارے مدارس میں کام نہیں کر سکتے۔ یونیورسٹیوں کے طالب علم بعض خاص کتابیں یا اُن کے خلاصے یا ترجمے پڑھ کر امتحانات پاس کر لیتے ہیں۔ کسی خارجی مددکے بغیر نہ تو کتابیں پڑھ سکتے ہیں اور نہ پڑھا سکتے ہیں۔ ان کے ہاں بھی عربی لکھنے اور بولنے کی کمی ہے…بالکل اسی طرح ہے جس طرح کہ ہمارے ہاں۔ ان کا مقصد علم حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ امتحانی ضروریات کو پورا کرنا ہوتا ہے۔

اللہ والے ........!!!!س: بعض مدارس میں طلبہ کے آزادانہ معاشی مستقبل کے لیے اُن کو کچھ فنون بھی سکھائے جاتے ہیں مثلاً لکڑی کا کام، کتابت، طب، وغیرہ، اِس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

ج: فن سیکھنے کے لحاظ سے تو یہ بات مناسب ہے۔ ہمارے پرانے علماء جتنے خوشنویس ہوتے تھے اتنے آج کے علماء نہیں ہیں۔ بہرحال پہلے زمانے میں مدارس میں یہ چیزیں بھی سکھائی جاتی تھیں مثلاً طب یونانی جو کہ ہر مدرسہ میں پڑھایا جاتا تھا اب پہلے کی نسبت یہ چیزیں کم ہو گئی ہیں۔

س: اس سلسلہ میں ایک اور گنجائش بھی سامنے آ رہی ہے۔حکومت وزارتِ مذہبی امور اور محکمہ اوقات کی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینا چاہتی ہے۔چنانچہ اس بات کا امکان بھی شائد پیدا ہو جائے کہ مدارس عربیہ سے فارغ التحصیل طلبہ کی ایک تعداد ان محکموں میں ملازمت کرسکے۔ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

ج: اگر حکومت نیک نیتی سے کوئی کام کرے تب تو یہ ممکن ہے کہ کوئی بہتر نتائج پیدا ہوں لیکن اب تک جو حالات سامنے آئے ہیں، اُن کے پیش نظر کوئی اچھی توقع باندھنا مشکل ہے…مثلاً جامعۂ اسلامیہ بہاولپور کو لیجیے جہاں تقریباً چار پانچ لاکھ روپیہ سالانہ خرچ ہو رہا ہے مگر وہاں صرف ساٹھ ستر طالب علم پڑھ رہے ہیں۔ بظاہر اب تک حکومت اس سلسلہ میں کوئی کامیاب اسکیم نہیں بنا سکی ہے۔ اسی طرح محکمۂ اوقاف نے جن مساجد کو اپنی تحویل میں لیا ہے وہاں بھی صحیح طریقہ سے کام نہیں چل رہا۔ اوقاف کے سارے علماء بے حد مایوس ہیں۔
دراصل حکومت نے محکمۂ اوقاف اپنی سیاسی مصلحت کے لیے بنایا تھا۔ ہمارے ہاں کی روایت یہ تھی کہ برصغیر پاک و ہند میں علماء حکومت سے الگ تھلگ رہ کر آزاد ماحول میں پڑھتے پڑھاتے تھے اور اس آزاد ماحول میں رہ کر آزاد رجحان رکھتے تھے اور حکومت پر آزادانہ تنقید کرتے تھے۔ چنانچہ اس بات کا سدباب کرنے کے لیے خصوصاً ایوب خان کے زمانے میں یہ اسکیم بنائی گئی کہ مساجد، مدارس اور مقابر پر قبضہ کیا جائے۔ ایوب خان کی یہ اسکیم آج بھی چل رہی ہے۔ سرکاری دفاتر میں تو پرانی اسکیم محفوظ ہے۔ چنانچہ موجودہ حکمرانوں کے سامنے بھی اس طرح کی تجاویز آ جاتی ہیں اور یہ لوگ اس سلسلہ میں اپنے پیشرئوں سے کچھ زیادہ ہی تیز ہیں۔ اگر مخلوقِ خدا کے فائدہ کے لیے کام کرنا چاہیں تو اس محکمہ سے بہت سے مفید کام لیے جا سکتے ہیں۔ مثلاً وقف املاک کا انتظام، اسلام کی تبلیغ، اسلامی کُتب کی اشاعت، جیسا کہ شیخ محمد اکرام صاحب کے زمانے میں خاصی بڑی تعداد میں اسلامی کُتب شائع کی گئی تھیں۔
ہم نے کویت میں محکمۂ اوقاف دیکھا ہے۔ وہاں انہوں نے بہت سی اسلامی کُتب چھاپی ہیں۔ اسی طرح آئمہ مساجد کا بھی انہوں نے انتظام کر رکھا ہے۔ نجی طور پر مسجد بنانے کی تو ہر شخص کو اجازت ہے لیکن مسجد بننے کے بعد اُس شخص کو مسجد پر کوئی تصرف نہیں رہتا اور مسجد حکومت کے قبضے میں چلی جاتی ہے۔ ہر مسجد میںتین ملازم ہوتے ہیں: امام، مؤذن اور خادم۔جس مسجد میں جمعہ ہوتا ہے وہاں خطیب بھی رکھا جاتا ہے لیکن حکومت ان کے کسی مسئلہ میں مداخلت نہیں کرتی۔ صرف یہ چاہتی ہے کہ پانچوں وقت امام مسجد میں حاضر رہے اور باقاعدہ نماز پڑھاتے رہیں۔

س: یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ حکومت کی طرف سے اجتماعات جمعہ میں دیئے جانے والے خطبات مرتب کرکے خطیب حضرات کو دیئے جائیں گے تاکہ تمام مساجد میں مقررہ موضوعات پر خطبات دیئے جا سکیں۔ اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

ج: یہ بہت ہی ناقابلِ عمل چیز ہے۔ اگر حکومت زبردستی بھی کرے تو بھی اوقاف والے خطیب تک اس کی پابندی نہیں کریں گے جمعہ کے خطبے کے دو حصے ہیں: ایک توہے عربی میں پڑھا جانے والا جمعہ کا خطبہ، وہ توشاید تمام مساجد میں ایک ہو سکتا ہے لیکن حکومت کی نظر میں جو اصل خرابی ہے وہ جمعہ سے پہلے کی تقریر ہے جو خطیب حضرات کرتے ہیں۔ مگر اسے ہر جگہ کے لیے مقرر کرنا ناقابلِ عمل ہے۔

Advertisement

Trending