تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبفلسفہ

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

by دانش ڈیسک 11/07/2026
written by دانش ڈیسک 11/07/2026
92

کبھی کبھی مجھے یوں لگتا ہے کہ ہم ایک عجیب زمانے میں زندہ ہیں۔ ایسا زمانہ جس میں ہر شخص بول رہا ہے مگر گفتگو کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہر شخص کے پاس رائے ہے مگر اتفاقِ رائے ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ معلومات کا سیلاب ہے مگر فہم کی زمین پیاسی ہے۔

اگر کوئی شخص صرف ایک دن سوشل میڈیا پر گزار لے تو اسے محسوس ہوگا کہ پورا معاشرہ ایک عظیم الشان فکری اجتماع میں شریک ہے۔ سیاست پر تبصرے ہو رہے ہیں، مذہب پر فیصلے سنائے جا رہے ہیں، تاریخ ازسرِنو لکھی جا رہی ہے، معیشت کے نسخے تجویز ہو رہے ہیں، عالمی سیاست کے تجزیے ہو رہے ہیں۔ ہر شخص گویا اپنے دائرے میں ایک ادارہ ہے۔

بظاہر یہ منظر امید افزا معلوم ہونا چاہیے۔ آخر انسان صدیوں تک اظہار کی آزادی کے لیے جدوجہد کرتا رہا ہے۔ آج وہ آزادی پہلے سے کہیں زیادہ دستیاب ہے۔ قلم چند لوگوں کی میراث نہیں رہا۔ رائے کا حق مخصوص طبقات تک محدود نہیں رہا۔ ہر شخص کو بولنے کا موقع ملا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کے نتیجے میں معاشرے کا شعور بھی بلند ہوا ہے؟

اس سوال کا جواب اتنا آسان نہیں جتنا بظاہر دکھائی دیتا ہے۔

میرے نزدیک ہم ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں مسئلہ جہالت نہیں رہا۔ کم از کم روایتی معنی میں نہیں۔ معلومات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔ مسئلہ کسی اور نوعیت کا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ شعور تو پیدا ہو رہا ہے مگر منتشر صورت میں۔ افراد سوچ رہے ہیں مگر مل کر نہیں سوچ رہے۔ آراء پیدا ہو رہی ہیں مگر کسی اجتماعی فکر میں ڈھل نہیں رہیں۔

میں اس کیفیت کو “شعور کی انارکی” کہتا ہوں۔

انارکی کا لفظ سنتے ہی ذہن سیاسی افراتفری کی طرف جاتا ہے، لیکن شعور کی انارکی سڑکوں پر نہیں، ذہنوں میں جنم لیتی ہے۔ یہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب معاشرے میں مشترک فکری مراکز کمزور پڑ جائیں۔ جب روایت اپنی گرفت کھو دے، ادارے اپنا اعتبار کھو بیٹھیں، علم اپنی اتھارٹی سے محروم ہو جائے اور ہر فرد اپنے محدود تجربے کو کائنات کی آخری حقیقت سمجھنے لگے۔

ماضی کے معاشروں میں بھی اختلاف تھا۔ بہت شدید اختلاف تھا۔ فقہا میں اختلاف تھا، فلاسفہ میں اختلاف تھا، سیاست دانوں میں اختلاف تھا۔ لیکن ان اختلافات کے باوجود ایک مشترک فکری زبان موجود تھی۔ ایک ایسا دائرہ موجود تھا جس کے اندر رہ کر لوگ ایک دوسرے کو سمجھ سکتے تھے۔

آج صورت حال مختلف ہے۔

اب اختلاف صرف رائے کا نہیں رہا، حقیقت کا بھی ہے۔ لوگ صرف مختلف نتائج تک نہیں پہنچ رہے، وہ مختلف حقائق میں رہ رہے ہیں۔ ایک ہی واقعہ بیک وقت کئی متضاد حقیقتوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ہر شخص اپنے گرد اطلاعات کی ایک ایسی دیوار تعمیر کر لیتا ہے جس کے اندر اس کی اپنی دنیا آباد ہوتی ہے۔

اب اختلاف صرف رائے کا نہیں رہا، حقیقت کا بھی ہے۔ لوگ صرف مختلف نتائج تک نہیں پہنچ رہے، وہ مختلف حقائق میں رہ رہے ہیں۔ ایک ہی واقعہ بیک وقت کئی متضاد حقیقتوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ہر شخص اپنے گرد اطلاعات کی ایک ایسی دیوار تعمیر کر لیتا ہے جس کے اندر اس کی اپنی دنیا آباد ہوتی ہے۔

یہاں مسئلہ صرف سوشل میڈیا نہیں، اگرچہ سوشل میڈیا نے اس عمل کو غیر معمولی رفتار دی ہے۔ اصل مسئلہ اس سے زیادہ گہرا ہے۔ یہ تہذیبی مسئلہ ہے۔ ہم نے ان اداروں کو کمزور کر دیا ہے جو انفرادی شعور کو اجتماعی فکر میں تبدیل کرتے تھے۔ خاندان کمزور ہوا، تعلیمی ادارے کمزور ہوئے، مطالعے کی روایت کمزور ہوئی، علمی شخصیات کا اثر کم ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فرد آزاد تو ہو گیا مگر تنہا بھی ہو گیا۔

انسان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا نہیں ہو رہا۔ تہذیبوں کے زوال کے ادوار میں یہ منظر بار بار دکھائی دیتا ہے۔ لوگ موجود ہوتے ہیں مگر اجتماع غائب ہو جاتا ہے۔ آوازیں موجود ہوتی ہیں مگر ہم آہنگی ناپید ہو جاتی ہے۔ علم موجود ہوتا ہے مگر حکمت رخصت ہو جاتی ہے۔

شاید اسی لیے ابن خلدون نے عصبیت کو تہذیب کی بنیاد قرار دیا تھا۔ ان کے نزدیک معاشرے صرف قوانین سے نہیں چلتے، ان کے پیچھے ایک اجتماعی روح بھی ہوتی ہے۔ جب وہ روح کمزور پڑ جائے تو عمارت کھڑی رہتی ہے مگر اس کے اندر زندگی باقی نہیں رہتی۔

آج ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ کم جانتے ہیں۔ شاید تاریخ میں کبھی اتنی معلومات دستیاب نہیں تھیں جتنی آج ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ معلومات بڑھ رہی ہیں اور معنی کم ہو رہے ہیں۔ رابطے بڑھ رہے ہیں اور تعلق کم ہو رہے ہیں۔ شعور بیدار ہو رہے ہیں مگر ان کے درمیان ربط ختم ہوتا جا رہا ہے۔

یہ صورت حال صرف فکری مسئلہ نہیں، تہذیبی مسئلہ ہے۔ قومیں صرف معیشت سے نہیں بنتیں، صرف سیاست سے نہیں بنتیں، صرف ریاستی اداروں سے بھی نہیں بنتیں۔ قومیں ایک مشترک شعور سے بنتی ہیں۔ جب وہ شعور بکھر جائے تو معاشرہ افراد کا مجموعہ تو رہتا ہے، قوم نہیں رہتا۔

ہمارے عہد کا شاید سب سے اہم سوال یہی ہے: کیا ہم اب بھی مل کر سوچ سکتے ہیں؟

اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں ماننا ہوگا کہ ہم معلومات کے عہد میں ضرور زندہ ہیں، لیکن شاید شعور کی انارکی کے عہد میں بھی۔!!!

Facebook Comments Box
AnarchyAnarchy of ConsciencesAnarchy of Mindاختلافتعصبشعور کی انارکی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی امینہ
next post
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.