کبھی کبھی مجھے یوں لگتا ہے کہ ہم ایک عجیب زمانے میں زندہ ہیں۔ ایسا زمانہ جس میں ہر شخص بول رہا ہے مگر گفتگو کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہر شخص کے پاس رائے ہے مگر اتفاقِ رائے ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ معلومات کا سیلاب ہے مگر فہم کی زمین پیاسی ہے۔
اگر کوئی شخص صرف ایک دن سوشل میڈیا پر گزار لے تو اسے محسوس ہوگا کہ پورا معاشرہ ایک عظیم الشان فکری اجتماع میں شریک ہے۔ سیاست پر تبصرے ہو رہے ہیں، مذہب پر فیصلے سنائے جا رہے ہیں، تاریخ ازسرِنو لکھی جا رہی ہے، معیشت کے نسخے تجویز ہو رہے ہیں، عالمی سیاست کے تجزیے ہو رہے ہیں۔ ہر شخص گویا اپنے دائرے میں ایک ادارہ ہے۔
بظاہر یہ منظر امید افزا معلوم ہونا چاہیے۔ آخر انسان صدیوں تک اظہار کی آزادی کے لیے جدوجہد کرتا رہا ہے۔ آج وہ آزادی پہلے سے کہیں زیادہ دستیاب ہے۔ قلم چند لوگوں کی میراث نہیں رہا۔ رائے کا حق مخصوص طبقات تک محدود نہیں رہا۔ ہر شخص کو بولنے کا موقع ملا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کے نتیجے میں معاشرے کا شعور بھی بلند ہوا ہے؟

اس سوال کا جواب اتنا آسان نہیں جتنا بظاہر دکھائی دیتا ہے۔
میرے نزدیک ہم ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں مسئلہ جہالت نہیں رہا۔ کم از کم روایتی معنی میں نہیں۔ معلومات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔ مسئلہ کسی اور نوعیت کا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ شعور تو پیدا ہو رہا ہے مگر منتشر صورت میں۔ افراد سوچ رہے ہیں مگر مل کر نہیں سوچ رہے۔ آراء پیدا ہو رہی ہیں مگر کسی اجتماعی فکر میں ڈھل نہیں رہیں۔
میں اس کیفیت کو “شعور کی انارکی” کہتا ہوں۔
انارکی کا لفظ سنتے ہی ذہن سیاسی افراتفری کی طرف جاتا ہے، لیکن شعور کی انارکی سڑکوں پر نہیں، ذہنوں میں جنم لیتی ہے۔ یہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب معاشرے میں مشترک فکری مراکز کمزور پڑ جائیں۔ جب روایت اپنی گرفت کھو دے، ادارے اپنا اعتبار کھو بیٹھیں، علم اپنی اتھارٹی سے محروم ہو جائے اور ہر فرد اپنے محدود تجربے کو کائنات کی آخری حقیقت سمجھنے لگے۔
ماضی کے معاشروں میں بھی اختلاف تھا۔ بہت شدید اختلاف تھا۔ فقہا میں اختلاف تھا، فلاسفہ میں اختلاف تھا، سیاست دانوں میں اختلاف تھا۔ لیکن ان اختلافات کے باوجود ایک مشترک فکری زبان موجود تھی۔ ایک ایسا دائرہ موجود تھا جس کے اندر رہ کر لوگ ایک دوسرے کو سمجھ سکتے تھے۔
آج صورت حال مختلف ہے۔
اب اختلاف صرف رائے کا نہیں رہا، حقیقت کا بھی ہے۔ لوگ صرف مختلف نتائج تک نہیں پہنچ رہے، وہ مختلف حقائق میں رہ رہے ہیں۔ ایک ہی واقعہ بیک وقت کئی متضاد حقیقتوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ہر شخص اپنے گرد اطلاعات کی ایک ایسی دیوار تعمیر کر لیتا ہے جس کے اندر اس کی اپنی دنیا آباد ہوتی ہے۔
اب اختلاف صرف رائے کا نہیں رہا، حقیقت کا بھی ہے۔ لوگ صرف مختلف نتائج تک نہیں پہنچ رہے، وہ مختلف حقائق میں رہ رہے ہیں۔ ایک ہی واقعہ بیک وقت کئی متضاد حقیقتوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ہر شخص اپنے گرد اطلاعات کی ایک ایسی دیوار تعمیر کر لیتا ہے جس کے اندر اس کی اپنی دنیا آباد ہوتی ہے۔
یہاں مسئلہ صرف سوشل میڈیا نہیں، اگرچہ سوشل میڈیا نے اس عمل کو غیر معمولی رفتار دی ہے۔ اصل مسئلہ اس سے زیادہ گہرا ہے۔ یہ تہذیبی مسئلہ ہے۔ ہم نے ان اداروں کو کمزور کر دیا ہے جو انفرادی شعور کو اجتماعی فکر میں تبدیل کرتے تھے۔ خاندان کمزور ہوا، تعلیمی ادارے کمزور ہوئے، مطالعے کی روایت کمزور ہوئی، علمی شخصیات کا اثر کم ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فرد آزاد تو ہو گیا مگر تنہا بھی ہو گیا۔
انسان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا نہیں ہو رہا۔ تہذیبوں کے زوال کے ادوار میں یہ منظر بار بار دکھائی دیتا ہے۔ لوگ موجود ہوتے ہیں مگر اجتماع غائب ہو جاتا ہے۔ آوازیں موجود ہوتی ہیں مگر ہم آہنگی ناپید ہو جاتی ہے۔ علم موجود ہوتا ہے مگر حکمت رخصت ہو جاتی ہے۔
شاید اسی لیے ابن خلدون نے عصبیت کو تہذیب کی بنیاد قرار دیا تھا۔ ان کے نزدیک معاشرے صرف قوانین سے نہیں چلتے، ان کے پیچھے ایک اجتماعی روح بھی ہوتی ہے۔ جب وہ روح کمزور پڑ جائے تو عمارت کھڑی رہتی ہے مگر اس کے اندر زندگی باقی نہیں رہتی۔
آج ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ کم جانتے ہیں۔ شاید تاریخ میں کبھی اتنی معلومات دستیاب نہیں تھیں جتنی آج ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ معلومات بڑھ رہی ہیں اور معنی کم ہو رہے ہیں۔ رابطے بڑھ رہے ہیں اور تعلق کم ہو رہے ہیں۔ شعور بیدار ہو رہے ہیں مگر ان کے درمیان ربط ختم ہوتا جا رہا ہے۔
یہ صورت حال صرف فکری مسئلہ نہیں، تہذیبی مسئلہ ہے۔ قومیں صرف معیشت سے نہیں بنتیں، صرف سیاست سے نہیں بنتیں، صرف ریاستی اداروں سے بھی نہیں بنتیں۔ قومیں ایک مشترک شعور سے بنتی ہیں۔ جب وہ شعور بکھر جائے تو معاشرہ افراد کا مجموعہ تو رہتا ہے، قوم نہیں رہتا۔
ہمارے عہد کا شاید سب سے اہم سوال یہی ہے: کیا ہم اب بھی مل کر سوچ سکتے ہیں؟
اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں ماننا ہوگا کہ ہم معلومات کے عہد میں ضرور زندہ ہیں، لیکن شاید شعور کی انارکی کے عہد میں بھی۔!!!
