تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
فکنگ بِچ —– افسانہ
اقبالی بیان، ڈائجسٹوں کے شہرہ آفاق مصنف احمد...
ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین...
کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ تریننوجوان

آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —- سہیل بلخی

ڈگری یا قبل از وقت فری لانسنگ اور کمائی کے موضوع پر ایک تجزیہ

by دانش ڈیسک 21/11/2023
written by دانش ڈیسک 21/11/2023
810

ہمارے معاشرے میں آزاد چائے والا اور ان جیسے لوگ یقینا نوجوانوں کو کاروبار اور ھنر سیکھنے کی طرف لانے والی وڈیوز ریلیز کرکے اور سیمینارز میں اپنی موٹیویشنل گفتگو کے ذریعہ اچھے جذبے سے بچوں کو کچھ نہ کچھ سکھاتے رہتے ہیں۔ میں خود بھی پہلے ان سے متاثر رہا اور انکی طرح بچوں کو ھنر سیکھ کر روزگار پر جلد لگنے پر ابھارتا تھا۔ لیکن مشاہدے، تجربہ اور وقت نے سکھایا کہ یہ سوچ درست نہیں اور بچوں کو غلط رخ پر ڈالنے کے مترادف ہے۔ انھیں تعلیم مکمل کرنے سے روک کر زندگی میں ہمیشہ کے لئے ادھورے پن کے ساتھ عملی میدان میں پھینک دینے کے مترادف ہے۔

میں نے امریکہ کینیڈا میں اپنے قیام کے دوران یہی سیکھا کہ بچوں کی اولین ترجیح تعلیم مکمل کرنا ہے۔ جن کو ضرورت ہوتی ہے وہ دوران تعلیم روزانہ چند گھنٹوں کی کوئ مزدوری یا کوئی پارٹ ٹائم کام کیمپس میں یا کیمپس سے باہر کرلیتے ہیں جو انکی تعلیم کو متاثر نہیں کرتی اور انکی زندگی کی فورئ ضرورت بھی پوری ہوجاتی یے۔ اسکے علاوہ ڈیجیٹل دنیا میں اپنے ذاتی کاروبار کے دوران بھی گزشتہ 14 سالوں میں یہی دیکھا کہ جنہوں نے پوری تعلیم حاصل کی انہوں نے ہمیں بھی بہت فائدہ پہنچایا اور وہ وقت کے ساتھ بہت آگے گئے۔ مگر جو بارھویں جماعت یعنی انٹر میڈیٹ پر یا اس سے پہلے ہی رک گئے، پڑھائی چھوڑ دی، اپنے کیرئیر کو صیح معنوں میں شروع ہی نہ کر سکے۔ وہ پیسے تو کمالیتے ہیں مگر کسی دوسری جگہ جاکر بہتر جاب کے لیئے کوالیفائی نہیں کرپاتے اور نہ ہی انکی اکثریت ( سب نہیں) ایک حد سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ تعلیم کی کمی ہر طور سے انکی زندگی میں انہیں محتاج کئے رکھتی ہے اور Grow کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔

ہم اپنے بچوں کو صرف روزگار کمانے کے لیے نہیں پڑھاتے۔ انکو پیسہ کمانے والی مشین نہیں بنانا____ ہمارا اصل مقصد انہیں اچھی زندگی گذارنے، اچھا شہری بنانے اور بہتر انسان بنانے کے لیے تعلیم دینا ہے۔ ہم انہیں اچھی عادات، اچھے اخلاق اور سچائی کی اہمیت سکھاتے ہیں۔ ہماری پوری کوشش ہونی چاہیئے کہ ہم اپنے بچوں کو ایسے اداروں میں داخلے دلوائیں جہاں اچھی تعلیم، اچھے اساتذہ کی صحبت اور ایک ایسا خالص تعلیمی ماحول ہو جہاں روپے پیسے ہی کی نہیں انسانیت، اخلاق، ریسرچ، ادب اور ایجادات کی بھی باتیں ہوں۔ حتی کہ پیسہ کمانے اور پروفیشنل لایف میں بھی ایک تعلیم یافتہ شخصیت کا مقابلہ، کم تعلیم یافتہ سے کرنا ممکن نہیں۔

شارٹ کورسز، دو کمروں کے کمرشیل ٹریننگ سینٹرز اور آن لائن کورسز ایسے ٹیکنیکل ہنر شائد سکھادیں جو وقتی طور پر کسی روزگار کا بندوبست بھی کردے گا مگر کم عمری میں بچوں میں تعمیر کردار اور شخصیت سازی کا عمل مکمل نہ ہوسکے گا۔ اور یہ ایسا نقصان ہوگا کہ زندگی بھر اسکی تلافی نہ ہوسکے گی۔ بچوں کی شخصیت میں جھول رہ جائے گا، وہ جلد باز، غصیلے، ضدی اور انا پرست بن سکتے ہیں۔ عملی زندگی میں خواہ ذاتی ہوں یا پروفیشنل، اچھے فیصلوں کی صلاحیت، دوسروں کو سننے سمجھنے کی عادت اور اکیلے میں بیٹھ کر غور و فکر کر کے کسی مسئلے کا حل نکالنا انکے بس میں نہیں ہوگا ___

محترم آزاد چائے والے سے معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ ہم اپنی پوری قوم کو اسکولوں کالجوں سے نکال کر وقت سے پہلے کمانے پر نہیں لگا سکتے۔ ہمیں کال سینٹروں پر کام کرنے والوں، صابن بنانے والوں اور کاپی پیسٹ کرکے پیسہ کمانے والوں کی بہت کم اور بڑے موجدوں، ادیبوں، شاعروں، محققین، مصنف، قانون دانوں اور پڑھے لکھے ایماندار سیاسی رہنماوں کی بہت زیادہ اور پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے_ بچوں کو وقت سے پہلے جوان نہ بنایئں، انھیں زیادہ سے زیادہ پڑھنے لکھنے کی طرف لگایئں وہ اچھی تعلیم حاصل کرکے نہ صرف اپنا روزگار پیدا کرلینگے بلکہ ایسے ادارے بھی بناسکیں گے جہاں ھزاروں لوگ روزگار کماسکیں گے۔ ایسے میں یہ طلبہ اپنی زندگی میں بھی ایک کامیاب اور بہتر انسان کے طور پہ ہر میدان میں کامیابی اور اعتماد سے آگے بڑھ سکیں گے۔ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرکے ڈگری حاصل کرنے والے اور اسکے بغیر ہی صرف پیسہ کمالینے والے انسان زندگی میں برابر نہیں ہوسکتے، اسکا احساس جب ہوتا ہے تب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔ اپنے بچوں کو ایسی ادھوری شخصیت بننے سے بچائیں کہ پھر انکے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہ رہے۔

Share 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Facebook Comments Box
Azad Chai walaDegreeFiverFreelancingFreelancing in PakistanIT DegreeKlick TreeKoko MediaPrefessional DegreeShort Course of Digital MarketingShort CoursesShort Courses in ITSohail BalkhiUniversity DegreeValue of Degreeآزاد چائے والاڈگری کی اہمیتڈگری یا فری لانسنگسہیل بلخیفری لانسنگ
1 comment 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ہر فرعونے را موسی: سرمد صہبائی کا “مرگ نامہ” — محمد شہزاد
next post
افغانستان میں وہ جان چکے، پاکستان میں بھی جان لیں —- چوہدری بابر عباس

Related Posts

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

30/10/2025

17/10/2025

اقبالی بیان، ڈائجسٹوں کے شہرہ آفاق مصنف احمد...

17/07/2025

1 comment

Ateeq Ahmed 22/11/2023 - 1:19 am

بلاشبہ تعلیم کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ ہنرمند ہونا اور تعلیم یافتہ ہونا دو مختلف خوبیاں ہیں

Reply

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.