ہمارے معاشرے میں آزاد چائے والا اور ان جیسے لوگ یقینا نوجوانوں کو کاروبار اور ھنر سیکھنے کی طرف لانے والی وڈیوز ریلیز کرکے اور سیمینارز میں اپنی موٹیویشنل گفتگو کے ذریعہ اچھے جذبے سے بچوں کو کچھ نہ کچھ سکھاتے رہتے ہیں۔ میں خود بھی پہلے ان سے متاثر رہا اور انکی طرح بچوں کو ھنر سیکھ کر روزگار پر جلد لگنے پر ابھارتا تھا۔ لیکن مشاہدے، تجربہ اور وقت نے سکھایا کہ یہ سوچ درست نہیں اور بچوں کو غلط رخ پر ڈالنے کے مترادف ہے۔ انھیں تعلیم مکمل کرنے سے روک کر زندگی میں ہمیشہ کے لئے ادھورے پن کے ساتھ عملی میدان میں پھینک دینے کے مترادف ہے۔
میں نے امریکہ کینیڈا میں اپنے قیام کے دوران یہی سیکھا کہ بچوں کی اولین ترجیح تعلیم مکمل کرنا ہے۔ جن کو ضرورت ہوتی ہے وہ دوران تعلیم روزانہ چند گھنٹوں کی کوئ مزدوری یا کوئی پارٹ ٹائم کام کیمپس میں یا کیمپس سے باہر کرلیتے ہیں جو انکی تعلیم کو متاثر نہیں کرتی اور انکی زندگی کی فورئ ضرورت بھی پوری ہوجاتی یے۔ اسکے علاوہ ڈیجیٹل دنیا میں اپنے ذاتی کاروبار کے دوران بھی گزشتہ 14 سالوں میں یہی دیکھا کہ جنہوں نے پوری تعلیم حاصل کی انہوں نے ہمیں بھی بہت فائدہ پہنچایا اور وہ وقت کے ساتھ بہت آگے گئے۔ مگر جو بارھویں جماعت یعنی انٹر میڈیٹ پر یا اس سے پہلے ہی رک گئے، پڑھائی چھوڑ دی، اپنے کیرئیر کو صیح معنوں میں شروع ہی نہ کر سکے۔ وہ پیسے تو کمالیتے ہیں مگر کسی دوسری جگہ جاکر بہتر جاب کے لیئے کوالیفائی نہیں کرپاتے اور نہ ہی انکی اکثریت ( سب نہیں) ایک حد سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ تعلیم کی کمی ہر طور سے انکی زندگی میں انہیں محتاج کئے رکھتی ہے اور Grow کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔
ہم اپنے بچوں کو صرف روزگار کمانے کے لیے نہیں پڑھاتے۔ انکو پیسہ کمانے والی مشین نہیں بنانا____ ہمارا اصل مقصد انہیں اچھی زندگی گذارنے، اچھا شہری بنانے اور بہتر انسان بنانے کے لیے تعلیم دینا ہے۔ ہم انہیں اچھی عادات، اچھے اخلاق اور سچائی کی اہمیت سکھاتے ہیں۔ ہماری پوری کوشش ہونی چاہیئے کہ ہم اپنے بچوں کو ایسے اداروں میں داخلے دلوائیں جہاں اچھی تعلیم، اچھے اساتذہ کی صحبت اور ایک ایسا خالص تعلیمی ماحول ہو جہاں روپے پیسے ہی کی نہیں انسانیت، اخلاق، ریسرچ، ادب اور ایجادات کی بھی باتیں ہوں۔ حتی کہ پیسہ کمانے اور پروفیشنل لایف میں بھی ایک تعلیم یافتہ شخصیت کا مقابلہ، کم تعلیم یافتہ سے کرنا ممکن نہیں۔
شارٹ کورسز، دو کمروں کے کمرشیل ٹریننگ سینٹرز اور آن لائن کورسز ایسے ٹیکنیکل ہنر شائد سکھادیں جو وقتی طور پر کسی روزگار کا بندوبست بھی کردے گا مگر کم عمری میں بچوں میں تعمیر کردار اور شخصیت سازی کا عمل مکمل نہ ہوسکے گا۔ اور یہ ایسا نقصان ہوگا کہ زندگی بھر اسکی تلافی نہ ہوسکے گی۔ بچوں کی شخصیت میں جھول رہ جائے گا، وہ جلد باز، غصیلے، ضدی اور انا پرست بن سکتے ہیں۔ عملی زندگی میں خواہ ذاتی ہوں یا پروفیشنل، اچھے فیصلوں کی صلاحیت، دوسروں کو سننے سمجھنے کی عادت اور اکیلے میں بیٹھ کر غور و فکر کر کے کسی مسئلے کا حل نکالنا انکے بس میں نہیں ہوگا ___
محترم آزاد چائے والے سے معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ ہم اپنی پوری قوم کو اسکولوں کالجوں سے نکال کر وقت سے پہلے کمانے پر نہیں لگا سکتے۔ ہمیں کال سینٹروں پر کام کرنے والوں، صابن بنانے والوں اور کاپی پیسٹ کرکے پیسہ کمانے والوں کی بہت کم اور بڑے موجدوں، ادیبوں، شاعروں، محققین، مصنف، قانون دانوں اور پڑھے لکھے ایماندار سیاسی رہنماوں کی بہت زیادہ اور پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے_ بچوں کو وقت سے پہلے جوان نہ بنایئں، انھیں زیادہ سے زیادہ پڑھنے لکھنے کی طرف لگایئں وہ اچھی تعلیم حاصل کرکے نہ صرف اپنا روزگار پیدا کرلینگے بلکہ ایسے ادارے بھی بناسکیں گے جہاں ھزاروں لوگ روزگار کماسکیں گے۔ ایسے میں یہ طلبہ اپنی زندگی میں بھی ایک کامیاب اور بہتر انسان کے طور پہ ہر میدان میں کامیابی اور اعتماد سے آگے بڑھ سکیں گے۔ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرکے ڈگری حاصل کرنے والے اور اسکے بغیر ہی صرف پیسہ کمالینے والے انسان زندگی میں برابر نہیں ہوسکتے، اسکا احساس جب ہوتا ہے تب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔ اپنے بچوں کو ایسی ادھوری شخصیت بننے سے بچائیں کہ پھر انکے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہ رہے۔
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —- سہیل بلخی
ڈگری یا قبل از وقت فری لانسنگ اور کمائی کے موضوع پر ایک تجزیہ
810
Facebook Comments Box

1 comment
بلاشبہ تعلیم کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ ہنرمند ہونا اور تعلیم یافتہ ہونا دو مختلف خوبیاں ہیں