دنیا کی سرحدیں اب صرف نقشے تک محدود رہ گئی ہیں، حقیقت میں دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ دور رہ کر بھی ایک دوسرے سے رابظہ رکھنا اب مشکل نہیں رہا۔ بھلا ہو کافروں کا کہ زندگی کے سبھی معاملات سبک رفتاری سے چل رہے ہیں۔ سوائے اس کے کہ جہاں کچھ حیوانی دماغوں (اداروں) سے کبھی کوئی کام پڑ جائے تو اول تو وہ کام ہوتا ہی نہیں اگر ہونا ممکن ہوبھی تو طوالت کا شکاررہتا ہے۔ خیرچھوڑیئے۔
ہم سب زندگی کے معاملات میں ایسے مگن ہیں جیسے زندگی کوئی میراتھن ہو۔ اگر کوئی رک گیا توسمجھ جائیے ہار گیا۔ صبح گھر سے دفترتک پہنچنے میں ٹریفک کی جھنجھٹ، دفتر کے مسائل، پنچائتیں، پولی ٹکینگ، گھر تک واپسی پر وہی ٹریفک جیسے پورا شہر سفر میں ہو۔ پھر گھر کی زمہ داری، آپ والدین ہیں تو اولاد کی نافرمانی۔ آپ اولاد ہیں تو والدین کی انا کے مسائل، شوہر ہیں تو بیوی کی شکایتیں، بیوی ہیں تو شوہر کے موڈ سوونگز۔ ۔ پھرننید کی آغوش میں جانے تک سکرین پربے مقصد سکرولنگ۔ اور پھر آنکھ کھلتے ساتھ ہی ایک نئے دن کے ساتھ وہی مصروفیات۔ مصروفیت کی چکی میں پسنے والے انسان نے اپنے اطراف کے انسانوں کو دیکھنا، سننا اور سونگھنا تقریبا چھوڑ دیا ہے۔ جن کا مذہب ہی کام اور پیسہ بن کر رہ گیا ہو ان کے لیے یہ کوئی عجیب بات نہیں۔ رہی بات دوست، احباب اور عزیزو اقارب کی تو زندگی کی اس دوڑ میں بنا مطلب کے کون کسے پوچھتا ہے! جہاں تک سماجی ضروریات کا تعلق ہے تو آج کی جنریشن یہ ضروریات آنلائن ہی پورا کر لیتی ہے۔ تیکنالوجی نے قربت کو بھی مجازی بنا دیا ہے۔ کسی حقیقی رشتے کی کوئی خاص طلب باقی نہیں رہتی۔ رشتوں اور احساسات کی موت کی ایک ممکنہ وجہ مجھے تو یہی نظر آتی ہے۔
تکنیکی ترقی اور روزمرہ مصروفیات کے علاوہ قریبی رشتہ داروں میں فاصلے کی ایک اور وجہ انا بھی ہے۔ کچھ لوگوں میں انا کا قد احساس سے بڑا ہو جاتا ہے اور جہاں انا پنپنے لگے وہاں احساس اور رشتے دم توڑ جاتے ہیں۔ اجتماعیت کی جگہ انفرادیت لے لیتی ہے۔ بتاتی چلوں کہ انا ہے کیا؟ انا آپ کی شخصیت کا وہ حصہ ہے جو آپ کو برتر، صحیح اور اپنی بات منوانے پر اصرار کرتا ہے، خواہ آپ غلط ہی کیوں نہ ہوں۔ انا اگر حد میں رہے تو لوگ آپ کو باوقار سمجھتے ہیں۔ حد سے بڑھ جائے تویہی انا آپ کو بے حس بنا دیتی ہے۔ اوریہ بے حسی آپ کو اپنے ارد گرد ہی ناچتی دکھائی دے گی۔ چلیے میں نشاندہی کر دیتی ہوں۔ کچھ دن پہلے ہی علم ہوا کہ ایک بے گوروکفن فنکارہ اپنوں کی سرد مہری اور سماج کی بے رخی کے ہاتھوں اسی انا اور بے حسی کا شکار ہوکر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ حیرت ہے اس کے ہونے یا نہ ہونے سے کسی کو فرق ہی نہیں پڑا اور اس کا جسد خاکی کئی مہینے کمرۂ اجل میں کیڑوں کی خوراک بنتا رہا!
وقت گزرتا رہا، مگر کسی نے پلٹ کر نہ دیکھا۔ آس پاس کے لوگ اس کی غیر موجودگی کو معمول سمجھ کر آگے بڑھ گئے۔ وہ تنہا، خاموش، اور دنیا کی بےرخی میں تحلیل ہوتی رہی۔ کسی نے دروازے پر دستک نہ دی، کسی نے فون پررابطہ نہ کیا۔ اور پھرضرورت مندوں کو حوش آیا۔ وہ ضرورت مند جن کو مکان کا کرایہ درکار تھا، وہ ادارے جاگے جنہیں بل کی ادائیگی نہیں کی گئی تھی۔ وہ لینڈ لورڈ جس کے گھر پر وہ بے ضرر قابض تھی۔ ۔
پھر ایک دن دروازہ توڑا گیا۔ شہر کے باوقار اداروں کے کارکن اندر داخل ہوئے، تو منظر دیکھ کر ساکت رہ گئے۔ گھر کے اندر خاموشی چیخ رہی تھی، دیواریں بین ڈال ڈال کر تھک چکی تھیں، ۔ بے بسی تھکن سے نڈھال ہو کر ایک کونے میں اوندھے منہ پڑی تھی۔ گھر جیسے مفلسی اور تنہائی کی داستان سنا رہا تھا۔ کیڑے مکوڑے لواحقین بن کر اپنا اپنا حصہ خود میں دفن کر چکے تھے، گویا وہی وارث ہوں جنہیں مرنے والی نے کبھی نہ بلایا ہو۔ بدن کی بو دیواروں میں اتر چکی تھی، اور مکان اور مکین دونوں ہی خاک کی چادر اوڑھے، خاموشی سے وقت کی قبر میں دفن ہو چکے تھے۔ مختصر یہ کہ روشنیوں کے شہر کا ایک گھر تاریکی میں ڈوب چکا تھا۔
پھر ایک کارکن نے اس بے بس کی تصویر لینا کارِ خیر سمجھا، تاکہ لوگ عبرت پکڑیں، دو لمحے کو افسوس کریں، اور پھر اگلے لمحے اس تصویر پر لعنت بھیج کر خود کو اشرف المخلوقات سمجھ سکیں۔ یہ ہے ہمارا سماجی رویہ، جہاں موت بھی پرائیویسی سے محروم ہے، اور درد بھی خبروں کی زینت بن کر دم توڑتا ہے۔ اب غم پر آنسو نہیں، صرف تبصرے ہوتے ہیں، موت پر دعا نہیں، صرف لعنت اور بددعا دی جاتی ہیں۔ جن کو خبر نہیں کے ان کا اپنا خاتمہ ایمان پر ہوگا یا نہیں وہ کسی کے جنتی اور جہنمی ہونے کا فیصلہ بھی اسی دنیا میں سنا دیتے ہیں۔ خیر چھوڑئیے۔ جانے والا چلا گیا۔
اب آپ بتائیے کہ آپ میں سے کوئی بالکل اسی طرح دنیا سے رخصت ہو جائے تو لاش کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی آئیے ان تعلیمات کو ایک بار پھر سے تازہ کر لیتے ہیں جو ہمارے دین اسلام نے ہمیں سکھائی ہیں۔
ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں:
سلام کا جواب دینا
مریض کی عیادت کرنا
جنازے کے ساتھ جانا
دعوت قبول کرنا اور
چھینک کا جواب دینا
مرنے والے کے حقوق میں شامل ہیں غسل، کفن، جنازہ، تدفین، دعا، قرض کی ادائیگی، ترکہ کی تقسیم اور عزت اور احترام۔
اللہ ہم سب کوآسانیاں عطا فرمائے اور ہمارا خاتمہ ایمان پر کرے۔ آمین
