پاپولرفکشن اورادب کی بحث اردو میں ہمیشہ جاری رہی۔ ابن صفی جیسی مستنداور مقبول ادیب کوادبی پنڈتوں کبھی ادب میں شمار نہیں کیا اورنہ سب رنگ جیسے لاکھوں کی تعداد میں چھپنے والے ڈائجسٹ کو ادب میں مقام دیا۔ لیکن ادبی جاگیرداروں کی تمام ترمخالفت کے باوجودابن صفی اورسب رنگ عوام کے دلوں میں بستے ہیں۔ جاسوسی ناول نگار وفات کے پینتالیس برس بعد بھی چھپتا اور فروخت ہوتاہے۔ سب رنگ بند ہونے کے سترہ اٹھارہ برس بعد بھی لوگوں کو یاد ہے اور اس کے پرانے شمارے منہ مانگے داموں خریدے جاتے ہیں۔ حسن رضاگوندل جیسے دیوانے بھی سب رنگ ہی کو میسر آئے۔ جو شکیل عادل زادہ کے نگار خانے کے گوہر یکجا کر رہے ہیں اور بک کارنر جہلم انہیں کتابی صورت دے رہے ہیں۔ احمد اقبال بھی ڈائجسٹوں کے ایسے ہی مقبول اور معروف ادیب ہیں۔ جن کی تحریروں کا قارئین کو انتظار رہتا ہے۔ اشاعت کے برسوں بعد بھی ان کی کہانیاں، تراجم اور سلسلہ وار ناولز کی قارئین کو تلاش رہتی ہے۔ احمد اقبال دلچسپ اور قابل مطالعہ خود نوشت سوانح ’’اقبالی بیان‘‘ کو ایمل مطبوعات نے شائع کیا ہے۔
پچیس مارچ انیس سو سینتیس کو محمدعلی ہائی اسکول بیار اجمیر کے ہیڈماسٹرچشتی احمدخان کے ہاں پہلے بیٹے نے جنم لیا۔ شاعرباپ کوعلامہ اقبال سے شدید عقیدت تھی۔ انہوں نے بیٹے کا نام اپنے محبوب شاعرکی نسبت سے اقبال احمد خان رکھا۔ استاد والد نے بیٹے کو ابتدائی تعلیم گھر ہی پردی۔ برصغیر کی تقسیم پریہ باپ بیٹے بے سروسامانی کے حالت میں ہندوستان سے لاہور ریلوے اسٹیشن پراترے تو انہیں اگلے وقت کی روٹی کی بھی خبر نہیں تھی۔ لیکن والدنے سب سے پہلے سجدہ شکر ادا کیا۔ یہ تعارف ہے ڈائجسٹ رسالوں کے بے مثل ادیب احمد اقبال کا۔ جن کے قلم کے سحر کاایک دنیا شکار ہے۔
اقبال احمدخان نے مقابلے کاامتحان دیاتواس میں ٹاپ کیا۔ سرکاری ملازمت اپنی مرضی سے چھوڑی اورسترکی دہائی میں قلم کی مزدوری شروع کردی۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے منفرد، شگفتہ اور پرمزاح اسلوب سے قارئین کے دلوں میں گھرکرلیا۔ ستر کے عشرے میں احمد اقبال نے جتنے اورجس معیار کے تراجم کیے۔ اس کی کوئی اور مثال نہیں ہے۔ طبعزاد ناولز اور کہانیاں لکھیں تواپنے منفرد انداز تحریرسے قارئین کے پسندیدہ ادیب بن گئے۔ ریڈیو کے ایک جشن تمثیل میں انہوں نے دو الگ الگ ڈرامے اپنے اور بھائی انوار احمد خان کے نام سے بھیج دیے۔ ایک مکمل طربیہ اور دوسرا مکمل المناک۔ دونوں نے پہلی اور تیسری پوزیشن حاصل کرلی۔ جاسوسی ڈائجسٹ میں احمداقبال کا سلسلہ ’’شکاری‘‘ چودہ سال جاری رہا اور آج چوتھائی صدی کے بعد بھی اسے اور اس کے کرداروں کو لوگ یاد کرتے ہیں۔ مداری، اناڑی اور جواری نے بھی بہت شہرت حاصل کی۔ احمد اقبال کا نام ہی کسی سلسلہ وارکہانی، ناول کے ترجمہ کے بہترین ہونے کی ضمانت ہے۔ دوعشروں تک میں احمد اقبال کے ترجمہ کردہ ناولزکے لیے عالمی ڈائجسٹ خریدتا رہا۔ کرائے کے گھروں کی شفٹنگ میں عالمی کاایک ناول نمبر گم ہوگیا۔ جس کی آج تک تلاش ہے۔
بطور مصنف اقبال احمدخان نے احمداقبال کاقلمی نام اختیار کیا۔ اس کی تفصیل بھی انہی کی زبانی سنیے۔
’’1971ء میں میری پہلی کہانی اقبال احمد خان کے نام سے سب رنگ میں شائع ہوئی۔ نہ مہینہ یاد ہے نہ کہانی کانام اور نہ معاوضے کی رقم، تین چار کہانیاں تواتر سے ہرماہ ٓئیں۔ یہ قصہ ہے جب کا کہ سب رنگ کا تازہ شمارہ مقررہ تاریخ پر ہر ماہ پاکستان بھر میں دست یاب ہوا کرتا تھا۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا تو نام بھی ہوتا لیکن خرابی نام نے کی۔ میرے ایک ہم نام روزنامہ جنگ کے رپورٹر فلمی صحافت میں بہت نامورتھے، پڑھنے والوں نے ان سے پوچھنا شروع کیا کہ یہ کہانیاں لکھنے کا شوق کب سے ہوا اور مجھ سے فلمی دنیا کی کسی خبر کی تصدیق مانگی تو ہم دونوں کو وضاحت مشکل ہوئی۔ بعد میں جنگ کے مذکورہ صحافی اقبال احمد خان کو ضیاالحق کی ایک پریس کانفرنس میں دل کادورہ پڑا۔ جس سے وہ جاںبر نہ ہوسکے۔ میں نے شکیل بھائی سے کہا تو وہ چٹکی بجا کے سگریٹ کی راکھ جھاڑ کر بولے ’’میاں تم کچھ اور نام رکھ لو۔‘‘ میں بھونچکا رہ گیا۔ شکیل بھائی یہ تو دادا نے رکھا تھا پاکستان بننے سے دس برس پہلے۔ سرکاری ریکارڈ اور تمام اسناد میں لکھا ہوا ہے۔ وہ ہنسے ’’یار کوئی قلمی نام اختیار کرلو، مثلاً احمد اقبال کیسا ہے۔‘‘ پاس بیٹھے نام ور شاعر اور ان کے دست راست انور شعورنے پھڑک کر داد دی۔ بھئی سبحان اللہ! کیا شعریت ہے اس نام میں، مبارک ہو میاں احمدقبال اپنا نیا جنم۔ ایمانداری کی بات ہے کہ میرے کانوں کو بھی اچھا لگا۔ خان کے لاحقے سے جو نسواریت ٹپکتی محسوس ہوتی تھی وہ قلمی نام میں نہ تھی۔ میں احمد اقبال ہو گیا اور اب تو کبھی کبھی خود کو بھی یاد دلانا پڑتا ہے کہ میں سرکار کے لیے احمد اقبال نہیں ہوں۔ خصوصاً ٹرین یا جہاز میں سیٹ بک کراتے وقت جب شناختی کارڈ کے بغیر ثابت ہی نہیں ہوتا کہ میں 25 مارچ 1937ء کو دنیا میں آنے والا اقبال احمد خان ہوں۔‘‘
احمد اقبال کے چھوٹے بھائی اخلاق احمدجوخود بھی بہترین افسانہ نگاراورربع صدی تک اخبارجہاں کے ایڈیٹررہے۔ ’’کہانی کارکی کتھا‘‘ عنوان سے لکھتے ہیں۔
’’میں شاید آٹھ سال کا بچہ تھا جب ان کی شادی ہوئی۔ اورجب میں بڑا ہوا تو میری شادی کے دوچارسال بعد ہی ان کی بڑی بیٹی کی شادی ہوگئی۔ بڑے بھائی کو عام طور پر معلوم ہی نہیں ہوتاکہ اس کا چھوٹا بھائی اسے کتنی توجہ سے، غورسے دیکھ رہاہے۔ اقبال بھائی کو بھی برسوں پتا نہ چلا۔ وہ تو اپنی ہی زندگی میں الجھے ہوئے تھے۔ بیوی بچے، سرکاری ملازمت، سرکاری کوارٹر، پھر اس ملازمت سے چھٹکارا، عالمی ڈائجسٹ سے وابستگی، کئی انگریزی ناولوں کی تلخیص و ترجمہ، پھر ایک ناول ’رنگ مہک مہک اٹھے‘ اس کے بعد ہزارطرح کی طبع زاد کہانیاں، قسط وار سلسلے، شوخ کہانیاں، زمین سے جڑے فسانے، آدمی کے اندر بنی بھول بھلیوں کے قصے، ایک قسط وار کہانی’شکاری‘ تو ایسی کہ ربع صدی بعد بھی بے شمار لوگ اس کے دیوانے ہیں۔ توزندگی کی اس کشاکش میں انہیں شاید بہت دیر سے پتا چلا ہوگا کہ ان کا چھوٹا بھائی ان کو دیکھ دیکھ کر انہی کے راستے پر چلنے کی کوشش کر رہا ہے، ان کے انداز تحریر کی نقل کرہاہے، انہی جرائد کا رخ کررہاہے جہاں جہاں احمد اقبال کا نام شائع ہوتاہے، انہی مغربی مصنفین کو پڑھ رہا ہے جو بڑے بھائی کو پسند ہیں۔ ایک بار اقبال بھائی عالمی ڈائجسٹ کے لیے کسی کہانی (یا کسی سلسلے) کی تکمیل سے قبل بخار میں مبتلا ہوگئے۔ سواس کہانی کے آخری صفحات میں نے لکھے۔ کہانی من وعن چھپ گئی، حسب معمول بہت پسند کی گئی، اور کسی کوپتہ نہ چلا کہ یہ معروف مصنف احمد اقبال اور ان کے نقال چھوٹے بھائی کا مشترکہ کارنامہ ہے۔ ’اقبالی بیان‘ ان ہزاروں عشاق کے لیے خاص تحفہ ہے جو احمد اقبال کی تخلیقات سے، ان کے انداز تحریر سے، ان کے کرداروں سے، اور خود ان سے محبت کرتے آئے ہیں۔‘‘
احمد اقبال کی تحریر میں موجود شگفتگی ہر لمحہ قاری کو گدگداتی ہے اور اس کی دلچسپی کسی آن کہانی سے ٹوٹنے نہیں دیتی۔ اگر احمد اقبال مستقل طنز و مزاح کو اپناتے تو اردو مزاح نگاری عظیم بیگ چغتائی، شوکت تھانوی، محمد خالد اختر، شفیق الرحمٰن، اشفاق حسین اور مشتاق احمدیوسفی کے بعد اتنی مفلس نہ ہوتی اور اسے احمداقبال کی شکل میں بہترین طنزومزاح نگار میسر آجاتا۔ لیکن قاری بے مثل ناولز اورتراجم سے محروم رہ جاتے۔ تحریر میں موجود لطافت اورشگفتگی کی زیریں لہر احمداقبال کی خود نوشت ’’اقبالی بیان‘‘ میں بھی موجود ہے، بلکہ خودنوشت کاعنوان ہی مصنف کی شگفتہ مزاجی کا آئینہ دار ہے اور اس کا آغاز بھی طنزومزاح سے لبریز اسی طرز کے پہلے باب ’’احمد اقبال حاضر ہو‘‘ سے ہوتا ہے۔
’’یہ کراچی کے گارڈن روڈ والے سرکاری کوارٹرزمیں جولائی کی ایک شدید گرم اور حبس زدہ دوپہر تھی۔ اچانک دھڑ دھڑائے جانے والے دروازے کی ہول ناک صدا پر میں ہڑبڑا کے اٹھا، یا رحیم و کریم۔ اس وقت کون دروازے توڑنے آگیا اورکیوں۔ دروازہ یوں فریاد کناں ہوا کہ میں نے چلا کے کہا۔ آرہا ہوں آرہا ہوں بھائی اور دوڑا کہ اس مضروب دروازے کوبے وقت سجدہ ریز ہونے سے بچالوں۔ باہر چھ فٹ طول اور اس سے زیادہ محیط والے پیٹ کے ساتھ اپنی انتہائی بلندی پر شاید ایک فٹ کی مونچھیں واجبی سی ناک کے دونوں پھیلائے کوئی اجنبی صلیب کی طرح ایستادہ تھا اور اس کے تیور بھی مجھے مصلوب کرنے والے ہی لگتے تھے۔ میرے حلق سے نکلنے والے خوف سے گھٹی سلام کی آواز کے جواب میں اس کے وعلیکم السلام پر مجھے بے اختیارہنسی آگئی، کیونکہ اس کے تن و توش اور جسامت کے ساتھ یہ آواز ایسی تھی جیسے بھینس ڈکرائے تو وہ صدا نکلے جو مرغی سے انڈا برآمد ہوتے وقت نکلتی ہے۔‘‘
احمد اقبال کا انداز بیان میں ایک معمولی واقعہ کو کیا رنگ اور دلچسپی بخش دیتاہے۔ بقول سیف احمد سیف ع
سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے۔ ۔ ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
واقعہ صرف اتنا ہے کہ یوسف زمان صدیقی جواحمد اقبال کے باس تھے۔ انہوں نے مصنف کے بلامعاوضہ ڈرامہ لکھنے سے انکار پران کے خلاف فراڈ اورجعل سازی کا کیس درج کرادیا۔ غلام فاروق ایف آئی اے انسپکٹرنے بتایا کہ
’’یوسف زمان صدیقی نے آپ کے خلاف دھوکادہی، جعل سازی اور فراڈ کا کیس زیردفعہ چار سو بیس درج کرایا ہے۔ میری آواز دم نزع کی طرح نکلی، اچھا؟ کتنے لاکھ کا؟ میں نے ان کے اکاؤنٹ سے رقم نکلوائی؟ یاان کی روڈ رولر جیسی منکوحہ سے۔۔ مگر دفعہ420؟ وہ سر ہلا کر ہنساجوبڑا مفرح تجربہ تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آپ کا اصل نام اقبال احمدخان ہے لیکن آپ چارسال سے دفتر کے باہر احمد اقبال بنے ہوئے ہیں اور اس نام سے لاکھوں کما چکے ہیں۔ میں دم بخود بیٹھا رہا۔ کیسے؟میں تو کہانیاں لکھتا ہوں اس نام سے، یہ فراڈ کیسے ہوا؟ اور جناب میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ مجھے کہانی کامعاوضہ اب تیس روپے صفحہ ملتا ہے۔ آپ جون ایلیا سے پوچھ لیں۔ وہ ہنسنے لگا۔ اصلی انسانوں والی ہنسی جوخوش دلی کی مظہر تھی۔ دیکھا تو ہے بہت مگر پڑھنے کااتفاق نہیں ہوا کبھی۔ یہ جون ایلیا کیا ہے؟ اب میں پرسکون ہوچکا تھا اور مطمئن تھا کہ تھانے دار کو قائل کرلوں تو شاید پھانسی سے بچ جاؤں۔ میں نے جون ایلیا کااصل نام بتا کے کہا۔ اب یہ شاعر امروہہ کاخالص سید، کیا یہ بھی فراڈکرتے ہیں۔ جیسے یہ ان کاتخلص ایسے ہی یہ میرا نام ہے۔ معاف کرنا جی ہم ان پڑھ لوگ۔ دن رات چوروں، بدمعاشوں اور قاتلوں سے واسطہ رہتاہے مگر آپ جیسے لکھنے پڑھنے والوں کی عزت بہت کرتے ہیں۔ اب میرا حوصلہ بحال ہوگیا تھا۔ میں نے کہا۔ ابن انشا کو تو جانتے ہوگے۔ ایسا مزاحیہ کالم لکھتے ہیں کہ ہنستے ہنستے پیٹ میں بل پڑجائیں۔ وہ یوں ہنسا کہ پیٹ کسی بیلی ڈانس کرنے والی مصری رقاصہ کے پیٹ کی طرح تھرتھرانے لگا۔ ہاں جی۔ وہ میرامنشی سناتا ہے۔ میں نے کہاکہ ان کا اصل نام ہے شیر محمد، کیا وہ بھی فراڈ ہے۔ جیسے ان کا قلمی نام ہے ایسے ہی میرا بھی قلمی نام ہے۔ وہ سوچ میں پڑگیا۔ یہ قلمی آم تو ہوتے ہیں جیسے اپنا سندھڑی، بندے کب سے ہونے لگی۔‘‘
ایک معمولی واقعہ کو احمداقبال کے قلم نے کس طرح دل چسپ بنادیا۔ یہ انہی کے قلم کااعجاز ہے۔ اسکے ساتھ ہمارے معاشرے میں سرکاری افسران کس طرح اپنے ماتحتوں کوذاتی غلام سمجھتے ہیں اورکسی قسم کی حکم عدولی کے کیا نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اس واقعہ سے یہ پہلوبھی عیاں ہوتاہے۔
احمد اقبال تقسیم ملک کے بھی عینی شاہد ہیں۔ گو والد کے سرکاری ملازم ہونے اور پاکستان کو منتخب کرنے پر وہ اور ان کی فیملی نے اس طرح آگ اور خون کا دریا عبور نہیں کیا۔ لیکن پھر بھی ہجرت کی تکالیف کا سامنا توکرنا پڑا اورپھر نئے ملک اورنئے ماحول کے ساتھ ہم آہنگ ہونا بھی کچھ آسان نہ تھا۔ اگست سینتالیس سے قبل ہی ساتھ رہنے والوں کے درمیان بے گانگی آگئی تھی۔ جس کا شکار احمد اقبال جیسے بچے بھی بنے۔ لے کے رہیں گے پاکستان کا مقبول عام نعرہ لگانے پر پرانے پڑوسی سے یہ بھی سننا پڑا۔ مسلے کتے، میرے دروازے پر بھونکتا ہے۔ یہ وہی پڑوسی تھا جو انہیں اور بھائی کو ریڈیوسننے کے لیے گھر کے اندر بلا لیتا تھا۔ پاکستان توجانا ہی تھا۔ والد لکھ کر دے چکے تھے۔ ان کے اس فیصلے کا منطقی جواز وہ خود جانتے تھے۔ آج ستر سال بعدان کی پانچویں نسل یقینا بہت فائدے میں ہے۔ اس عزت اور آسودہ حالی کا وہاں آج تصور بھی نہ ہوتا۔ عارضی منتقلی میں ہم نے پہننے کے کپڑوں کے سواکچھ نہ لیا تھا۔ ابا ایک دن اچانک دفتر سے کوئی گاڑی لے کر آگئے اور اماں سے کہا کہ یہاں خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ چلو کچھ دن کے لیے دلی چلے جاتے ہیں۔ ہم جس حال میں بیٹھے تھے اسی حال میں دہلی آگئے۔ رفتہ رفتہ دہلی میں فسادات نے شدت اختیار کی تو نکلنے کی فکر ہوئی مگر وسیلہ کوئی نہیں بن رہا تھا۔ انتظام دست غیب نے کیا۔ ابا کے ایک ہندو شاگرد کیپٹن تنویر نے سرراہ اپنے استاد کو پہچان لیا۔ ابانے اپنی پریشانی بیان کی تو اس نے کہا کہ آپ فکر نہ کریں۔ میں کچھ کرتاہوں۔ دو دن بعد اس نے ملٹری کا ایک ٹرک دو مسلح محافظوں کے ساتھ بھیج دیا۔
لاہور ریلوے اسٹیشن کی وسعت اورشان وشوکت دیکھ کراحمد اقبال کودہلی کا اسٹیشن بہت چھوٹا اور حقیر لگنے لگا۔ یہاں مہاجرین کی جو پذیرائی کی گئی۔ وہ بھی اس دورمیں احساس کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ ان کے والد کی انڈیا کی سروس کی تصدیق نہیں ہورہی تھی۔ تین ماہ اسی طرح گزر گئے۔ آخرکارلاسٹ پے سرٹیفیکیٹ آگیا۔ جو تصدیق کرتا تھا کہ سرکاری ملازم کہاں تھا، کس عہدے پرتھا اور اس کوآخری تنخواہ کب اور کیادی گئی تھی۔ اس دور میں تعاون اور ایمانداری ایسی تھی کہ احمد اقبال کے والد کو تین ماہ کی تنخواہ کی ادائیگی اسی دن کردی گئی۔ یہ بل بنانے سے پاس کرنے اور چیک ملنے کا وہ عمل تھاجواب مہینوں میں پورا نہیں ہوتا۔ ریٹائرڈ بوڑھے بھی نذرانہ نہ دیں تو مہینوں دھکے کھاتے رہتے ہیں۔ ایسی بہت سی کہانیاں اور واقعات ’’اقبالی بیان‘‘ کی دلچسپی میں اضافہ کرتے ہیں۔
لاہور سے احمداقبال کے والد کا تبادلہ راولپنڈی ہوگیا۔ یہیں انہوں نے گریجویشن کی اور جوانی کاسنہری دور گزارااور اب پھرپنڈی ہی میں مقیم ہیں۔ پنڈی کہ ایک شہر تھا، ٹنچ بھاٹہ، گورڈن کالج کی یادیں۔ اور پھر پشاور پہنچی وہیں پہ خاک، ریڈیوکی نشریات کا بھی مصنف پشاور ہی میں حصہ بنے۔ دوستوں کی چار کی چوکڑی بھی یہیں تشکیل پائی اورایک بار پھرپنڈی واپسی ہوئی۔ یہ سب احوال قاری کواپنے ساتھ جکڑے رکھتاہے۔ نثرکی روانی اورتحریر کی دلچسپی ختم نہیں ہوتی۔
’’اقبالی بیان‘‘ میں کئی نامورافراد کی شخصیت کے مختلف گوشے سامنے آتے ہیں۔ جودلچسپ ہونے کے ساتھ عبرت انگیز بھی ہوسکتے ہیں۔ ایک اقتباس ملاحظہ کریں۔
’’احمد فراز کالج میں مجھ سے سینئر تھا اور ٹیسٹ کرکٹر حسیب احسن میرا کلاس فیلو۔ تعلیمی سیشن کے دوران ہی حسیب احسن پاکستان ٹیم کے ساتھ ویسٹ انڈیز کے دورے پر گیا تو واپسی پر میں نے بلامعاوضہ پڑھایا۔ ایسا دو بار ہوا۔ وہ ایک لاوارث لڑکا تھا جس کا کوئی گھر تک نہ تھا لیکن وہ زبردست آف اسپنر تھا جس کی بال ایک گزٹرن کرکے جاتی تھی اور بیٹسمین دیکھتا رہ جاتا تھا۔ وہ عموماً بیٹ لیے دھوبی گھاٹ پر بیٹھا نظر آتا تھا۔ پشاور کے مختلف کلب اسے پیسے دے کر اپنی طرف سے کھلاتے تھے۔ وہ غالبا سلیکٹر ہو گیا تھا اور ترقی کرتے کرتے انشورنس کارپوریشن میں اچھے عہدے پر پہنچا تھا لیکن اس نے شادی نہیں کی تھی۔ وہ کرکٹر حنیف محمد کے گھر میں رہتا تھا۔ جب مجھے پتا چلا تو وہ میکلوڈ روڈ پر شاہین کمپلیکس کی ساتویں آٹھویں منزل پر بیٹھتا تھا۔ اسی شاہین کمپلیکس کے ٹاپ فلور پر کراچی کا پہلا ریوالونگ ریسٹورنٹ بھی تھا۔ میں شوق میں اسے ملنے گیا تھا لیکن اس نے مجھے نہیں پہچانا۔ میں نے اپنا تعارف کرایا تب بھی اس کی بے رخی کا رویہ برقرار رہا۔ مجھ سے پوچھا کہ میں کس کام سے آیا ہوں تو میں جواب دیے بغیر نکل آیا۔ ایسے احسان فراموش اور بے مروت شخص سے بات کرنا بھی مجھے گوارا نہ تھا۔ ‘‘
چار کی چوکڑی کے نام سے احمداقبال نے دوستوں کا ذکر کیا ہے۔
’’پشاور صدر میں کتابوں کی دکان دارالادب کاخوش ذوق، خوش مزاج اور خو ش شکل نوجوان مالک ارشادمیرا دوست بن گیا۔ ماجد اس تکون کاحصہ بنا۔ چوتھا مجھ سے ڈھائی سال چھوٹا بھائی انوار احمد خان تھا۔ عرصہ بعد پشاور جانا ہوا تو پتہ چلاکہ ارشاد کا انتقال ہو گیا۔ پشاور کے مشہور پنیر والے پکوڑے کھانے بیوی کولے کر دکان پر پہنچا۔ دکان والے نے کہاکہ پکوڑے تونہیں ہیں۔ پنیرختم ہوگیا۔ اچھا؟ میں نے مایوسی سے کہا۔ یار میں تو بیوی کو کراچی سے لایاتھا۔ خود توبہت کھائے تھے ہم نے جب کالج میں پڑھتے تھے۔ اب اس نے مجھے غورسے دیکھااورکہا، آپ چارلوگ آتے تھے نا۔ وہ حیرانی سے بولے، تم نے مجھے پہچان لیااتنے سال بعد؟ اس نے سوچ کے کہا، ایک تووہ سامنے والے ارشاد صاحب تھے، وہ فوت ہوگئے، ایک جہازکے حادثے میں مارا گیا تھا۔ میں دم بخودرہ گیا۔ چوتھا میرا چھوٹا بھائی ہے کراچی میں۔ تم یہیں ہو ابھی تک؟ جی۔ لیکن اس وقت میں ویٹر تھا۔ اب مالک ہوں یہ جگہ خرید لی تھی میں نے آپ ایک منٹ ٹہرو۔ میں لاتا ہوں پکوڑوں کے لیے پنیر۔۔ پنیر آنے تک ہم اس شخص کی یادداشت پرحیران ہوتے رہے۔ لیکن اس وقت میں گنگ رہ گیا جب اس نے پیسے لینے سے انکارکر دیا۔ آپ بھی حد کرتے ہوجی۔ آپ پہلی باربھابی کوکراچی سے لے کرآئے ہو۔ اورمیں آپ سے پیسے لوں۔ گھر آتے تو بھابھی جی کو جوڑا دیتا۔ اللہ معاف کرے مجھے۔ اتنا کمینہ نہیں ہوں میں۔ وہ روہانسا ہوگیا۔‘‘
یہ پٹھانوں کے قدیم معاشرتی تہذیب ہے۔ جسے احمداقبال نے مختصرواقعے میں بیان کیاہے۔ کالج میں اول آنے پرپرنسپل سخت ناراض، والدکوطلب کرلیا۔ تیسرے چوتھے دن والد آئے۔
’’پرنسپل نے ابا کوسامنے بٹھا کر بولنا شروع کیا۔ آپ نے دیکھا یہ لڑکا پڑھائی کے معاملے میں کتنا نان سیریس ہے۔ تین بار مسلسل غیرحاضری پراس کا نام خارج ہوا تھا۔ یہ ڈرامے لکھتا رہا، تقریریں کرتا پھرا۔ مشاعرے کراتا رہا۔ پڑھنے کے علاوہ اس کی دلچسپی ہرکام میں تھی۔ شمیم صاحب اس سال اسلامیہ کالج کے جس لڑکے نے یونیورسٹی میں ٹاپ کیا، اس کے نو ہی نمبرتو زیادہ ہیںَ۔ جویہ لے سکتاتھا، اگرمحنت کرتا۔ ہمارا طالب علم اول آسکتاتھا۔ میرا تجربہ ہے کہ ایسا لڑکا کبھی آجاتاہے، اس سے توقعات وابستہ کرنا غلط نہیں ہوتا۔ اقبال وہ لڑکا تھا۔ مگراس نے ہمیں مایوس کیا۔ اوہوتو یہ بات تھی، جس پرموڈ خراب تھا۔ میں سر جھکا کے سنتا رہا اور صورت پر ندامت کے ساتھ اعتراف جرم طاری رکھا۔ والدصاحب نے پرنسپل سے مکمل اتفاق کیا۔ تو پرنسپل اٹھا اور اس نے مجھے گلے لگا کر ابا کو مبارک باد دی۔ بعدمیں مجھے شیلڈ ملی اور میرانام رول آف آنر میں بھی لکھا گیا۔ لیکن آپ صدمہ دیکھئے توقعات کی شکست کا۔ پرنسپل کا دکھ کچھ ایسا تھا جیسے اب ہمیں ورلڈ کپ فائنل میں بھارت سے ہارنے پر ہوتاہے۔ اسے انسٹی ٹیوشن کی گڈلک کاغم تھا۔‘‘
یہ تھے وہ اساتذہ جنہیں اپنے شاگرد کے دوم آنے پر بھی دکھ ہوتاتھا اور وہ طالب علم کواول آنے پراکساتے رہتے تھے۔ احمداقبال کے گریجویشن کرنے کے فوری بعد ملک میں مارشل لا ء لگ گیا۔ گواس میں ان کاکوئی دخل نہیں تھا۔ اسکواش کے کھلاڑی روشن خان کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے احمداقبال لکھتے ہیں۔
’’کرکٹ اب رفتہ رفتہ ایسا قومی کھیل بن گیاہے جس کی وجہ سے ہمارے دوسرے کھیل عدم توجہی کاشکارہوئے۔ دکھی کردینے والی یاد اسکواش کی ہے۔ بالکل ناقابل ذکرنواکلی گاؤںکے ایک ہی خاندان نے ساری دنیا پراپنی حکو مت قائم کررکھی تھی۔ اس کی بنیاد دو بھائیوں روشن خان اوراعظم خان نے رکھی۔ روشن خان پشاور کلب میں ٹینس کھیلنے والے انگریز حاکموں کی بالیں اٹھانے پرمامور بال بوائے تھا۔ جوخود ہی ٹینس کھیل کراسکواش سیکھ گیا اوراس کھیل کا پہلا پاکستانی چیمپئن بنا۔ میں چھوٹے بھائی اعظم خان سے پشاور کے ایئرفورس آفیسرزمیس میں ملا۔ وہ بڑے دکھ سے بتاتاتھاکہ انگلینڈ اورآسٹریلیا میں ہم وی آئی پی گیسٹ ہاؤس میں ہوتے ہیں اور وہاں ہماری کتنی عزت ہوتی ہے۔ یہاں اپنے وطن میں کتنی بے عزتی ہوتی ہے۔ تم دیکھ لو۔ روشن خان کا بڑا بیٹا جہانگیر خان کا بڑا بھائی طورسم خان جنوبی افریقا کھیلنے گیاتھاکہ ایک حادثے میں ہلاک ہوگیا۔ ورنہ وہ بھی چیمپئن شپ کی راہ پرگامزن تھا۔ طورسم خان کا جنازہ اٹھا تو گھرکے سامنے گٹر کا بدبودار پانی جمع تھا۔ اس پر جہانگیرخان بہت مشتعل ہوا تھا اوراس نے عہد کیا تھا کہ اپنے خاندان کی بے عزتی کا بدلہ لے گا اوراس نے خوب بدلہ لیا۔ وہ ڈیفنس کے قصر عالی شان ’’اسکواش ہاؤس‘‘ میں رہا۔ آٹھ بار ورلڈ چیمپئن بنا اور بالآخر ورلڈ اسکواش فیڈریشن کا چیئرمین ہوا۔ اس کے بارے میں بی بی سی نے جو پینتالیس منٹ کی دستاویزی فلم بنائی تھی۔ اس کا نام تھا ’’فاتح‘‘ جووہ تھا۔ کیاآپ اسے قدرت کامعجزہ نہیں کہیں گے کہ تیسری دنیا کے پس ماندہ علاقے میں ایک گمنام گاؤں سے جہاں کسی نے کبھی اسکواش کا نام بھی نہیں سناتھا۔ ایک خاندان اٹھا اور دنیا کے ان ترقی یافتہ ممالک پر اپنی برتری اور حاکمیت قائم کی۔ جہاں شاہانہ اسٹیڈیم تھے۔ بڑی بڑی تنخواہوں والے کوالیفائیڈ کوچ تھے اور اس کھیل کے عالمی مقابلے ہوتے تھے۔‘‘
اس قسم کے بے شمار چشم کشا واقعات، سانحات اور حقائق’’اقبال بیان” کا حصہ ہیں۔ احمداقبال کاشگفتہ اسلوب تحریر قاری کی دلچسپی کوکسی آن بھی کم نہیں ہونے دیتا اور مطالعہ کرنے والا کتاب کو ختم کیے بغیر نہیں چھوڑ پاتا۔ احمداقبال کی کہانیوں، تراجم اور سلسلوں کی طرح حرف حرف دل میں اترنے والا، واقعات چشم کشااورمعلومات سے بھرپور۔ اب اس قسم کا تجزیاتی مضمون ’’پاسباں مل گئے کعبے کوصنم خانے سے‘‘ کے عنوان سے کون لکھنے کی جرات کرے گا۔
’’حکمرانوں کو مشیر مل گئے قدرت اللہ شہاب جیسے جو ایک ذہنی اور جسمانی طور پرمفلوج اورشرابی گورنر جنرل غلام محمدکے، پھرایک اعزازی میجرجنرل اسکندر مرزا اوراس کے بعد خودساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے بھی سیکریٹری بنے رہے۔ ایں سعادت بزور بازو نیست۔ اپنی شاطرانہ فنکاری سے انہوں نے خود کو ایسا ناگزیر بنایا کہ مفلوج اورفاترالعقل گورنر جنرل غلام محمد، اسکندرمرزا اورفیلڈمارشل ایوب خان سب کے لیے ان کی فہم وفراست مینارہ نوربنی رہی۔ اپنے احساس جرم کی خلش ہی چورکی داڑھی میں تنکا بنتی ہے۔ انھوں نے شہاب نامہ کے پیش لفظ میں شکایت کی ہے کہ کچھ بدخواہ ناحق کہتے پھرتے ہیں کہ ’’جب کہیں انقلاب ہوتاہے۔ قدرت اللہ شہاب ہوتا ہے۔‘‘ غالباً اسی احساس خلش مٹانے کے لیے وہ مذہب کی طرف مائل ہوئے توصوفی بن گئے اور عقیدت مندوں نے ان کوولایت کے مرتبے پر فائز کر دیا۔ شہاب نامہ کے آخری حصے میں مافوق الفطرت واقعات اور درود و وظائف کے سواکچھ نہیں۔ ان کے ساتھ بابا فیم اشفاق احمد، لبیک والے ممتازمفتی اور ابن انشا کا نام بھی آتاہے۔ لیکن ایک گمنام حوالہ ملک کے سب سے قدیم ماہر آئین و قانون شریف الدین پیرزادہ کا نام بنا جو سب سے پہلے قائداعظم کے قانونی مشیرتھی اور اللہ نے عمر کی رسی اتنی دراز کی کہ پس منظر میں رہ کرسب کے لیے آئین سازی کرتے رہے۔ جنرل مشرف کی نظر بھی انھی پر پڑی۔ سیکریٹری صاحب نے تسلی دی ہوگی کہ سرجی آئینی قانونی موشگافیوں سے نمٹنا ہمارا کام ہے۔ آپ اپنی صدارت کااعلان کیجئے اوردیکھئے حکومت کیسے چلتی ہے۔ اسمبلی کامسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔ بیوروکریسی کے ستون چندپرانے بڑے جغادری آئی سی ایس بیورو کریٹس تھے جیسے آغا ہلالی اور آغا شاہی۔ اورآل رضا، ہاشم رضافیملی۔ جعفری برادران (شہاب صاحب نے لکھا ہے کہ یہ سب نام کے ساتھ، پی سی ایس لکھنا بھی کسرشان سمجھتے تھے) پھر الطاف گوہر تھے جن کے ہونہارصاحبزادے ہمایوں گوہرنے پرویز مشرف کو سوانح حیات لکھ کر دی۔ (سنا ہے ایوان صدرمیں دفترعملہ اور دیگر خصوصی مراعات کے علاوہ ان کو باون ڈالرفی گھنٹہ اجرت بھی دی گئی وللہ عالم) حکمرانی کاکھیل ایک ایسی مداری اشرافیہ نے ذاتی مفاد میں رچایا جو ڈگڈگی بجا کے عوام کی توجہ اصل مسئلہ سے ہٹا سکتی تھی۔‘‘
قدرت اللہ شہاب اور بیوروکریسی کے بارے میں ایسا مختصر جامع اور پراثر تبصرے کی جرات احمد اقبال کے سوا کون کرسکتاہے۔ نامورتاریخی ناول نگارنسیم حجازی کے بارے میں احمداقبال نے لکھا۔
’’نسیم حجازی نے سناکہ میں ریڈیوکے لیے افسانے ڈرامے لکھتا رہا ہوں اور نظموں کو بھی پسند کیا تو ادبی صحفے کے اعزازی نائب مدیر کے عہدے کی پیش کش کی۔ میں بہت خوش ہوا۔ ایک مہینہ گزرگیا معاوضہ ندارد۔ میں نے صبر سے کام لیا اور دوسرا مہینہ بھی گزار دیا۔ پھر ایک دن ہمت کر کے دست طلب دراز کیا تو وہ برہم ہوگیا۔ الٹا احسان جتایا کہ اتنے بڑے اخبار میں چانس دیاہے جس کے لیے شہر میں ایک سو ایک مستحق ترستے ہیں تم بات کرتے ہو پیسوں کی۔ میں ہمیشہ کا منہ پھٹ۔ پریشان الگ تھا۔ منہ پر کہ دیا۔ لعنت اس ادب شاعری اور صحافت پر۔ میں ہوا کھا کر تو زندہ نہیں رہ سکتا۔ مجھے گانا آتا ہے۔ کیوں نہ کسی مزار پر قوالوں کی منڈلی میں تالی بجانے بیٹھ جاؤں۔ نذرانہ تو ملے گا۔ وہ بھڑک اٹھا۔ آپ یہی کیجئے یہ ادب اور شاعری مراثیوں کے لیے نہیں ہے۔‘‘
اسی طرح ’’اقبالی بیان‘‘ میں احمد اقبال نے کئی نامور لوگوں کا کچا چٹھا کھولا ہے۔ کتاب کے ہر صفحہ پر ایک نیا تحیر، کوئی انوکھی بات۔ پڑھنے والے کی دلچسپی اور تجسس کو برقرار رکھتی ہے اور کتاب کب ختم ہوئی قاری کواس کاعلم ہی نہیں ہوتا۔ ’’اقبالی بیان‘‘ میں احمد اقبال نے روایتی آپ بیتیوں کی مانند پیدائش سے آخری عمر کے تجربات بیان نہیں کیے۔ ایک مخصوص دن کا دلچسپ ذکر سے کتاب کا آغاز ہوا۔ اس میں رفتہ رفتہ مصنف کی پوری حیات کے تجربات و واقعات کو پراثر اسلوب میں بیان کر دیا۔ کتاب میں آپ بیتی، جگ بیتی، شخصی خاکے، سیاسی اور ادبی واقعات، ہجرت کا المیہ، اپنوں کا اچانک غیر بن جانا۔ پھر مصنف کی اسی سالہ زندگی میں بچپن سے لے کر حصول تعلیم ملازمت اور سرکاری نوکری ترک کرکے اردو ادب کو ہی ذریعہ روزگار بنانے کے مشکل فیصلے پر کامیابی سے عمل کر کے ایک مثال قائم کر دی۔ یہ سب قاری کے لیے بھی حوصلہ افزا ہے۔ بہترین آپ بیتی جسے مطالعے کے شوقین ہر شخص کو ضرور پڑھنا چاہیے۔ احمد اقبال کو شاندار آپ بیتی لکھنے اور ایمل مطبوعات کے شاہد اعوان کو بہترین کتاب شائع کرنے پر مبارک باد۔
