اردو ادب اور برصغیر کی سیاسی تاریخ میں کچھ شخصیتیں ایسی ہیں جنہیں کسی ایک خانے میں رکھنا ممکن نہیں۔ مولانا حسرت موہانی بھی ایسی ہی ایک حیرت انگیز شخصیت تھے۔ ایک طرف وہ شاعر تھے، جن کی غزل ’’چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘‘ اردو کی مقبول ترین غزلوں میں شمار ہوتی ہے دوسری طرف وہ صحافی، مجاہدِ آزادی، سیاست دان، صوفی مزاج درویش، کمیونسٹ خیالات رکھنے والے انقلابی اور مذہبی آدمی تھے۔ لیکن حسرت موہانی کی شخصیت کا شاید سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ ایک نہایت پابند مسلمان مولانا ہونے کے باوجود وہ شری کرشن سے گہری عقیدت رکھتے تھے، متھرا اور برج کی سرزمین سے روحانی نسبت محسوس کرتے تھے اور کرشن کی بانسری کو محض ایک اساطیری ساز نہیں بلکہ محبت، معرفت اور حیاتِ جاوداں کی علامت سمجھتے تھے۔
حسرت موہانی کا اصل نام سید فضل الحسن تھا۔ ’’موہانی‘‘ ان کے آبائی قصبے موہان کی نسبت سے ان کے نام کا حصہ بنا اور ’’حسرت‘‘ ان کا تخلص تھا۔ ان کی تاریخِ پیدائش کے بارے میں بعض ماخذوں میں اختلاف ملتا ہے تاہم ریختہ اور بھارتی سرکاری مواد میں 1878 اور 1875 دونوں روایات ملتی ہیں اس لیے ان کی سوانح لکھتے ہوئے سنِ پیدائش کو قطعی انداز میں بیان کرنے کے بجائے ماخذ کا اختلاف ملحوظ رکھنا چاہیے۔ حسرت کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے شاید ان کے سیاسی کردار سے زیادہ ان کے تصورِ عشق کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہی عشق ان کی غزل میں محبوب کے لیے ہے، یہی عشق ان کے صوفیانہ مزاج میں حق کے لیے ہے، یہی عشق آزادی کی جدوجہد میں وطن کے لیے ہے اور یہی عشق ان کی کرشن بھکتی میں کرشن کے لیے دکھائی دیتا ہے۔ اسی لیے حسرت کے ہاں بظاہر مختلف دنیائیں ایک دوسرے سے متصادم نظر آنے کے بجائے ایک ہی روحانی تجربے کی مختلف صورتیں بن جاتی ہیں۔ وہ سخت مذہبی آدمی تھے۔ حج کیے، اسلامی شعائر کی پابندی کی اور قادری صوفی روایت سے وابستہ رہے لیکن اسی کے ساتھ ان کی نظر میں عشق کی کوئی ایسی مذہبی سرحد نہیں تھی جو انسان کو دوسرے مذہبی تجربے کی روحانی قدر محسوس کرنے سے روک دے۔ ان کے بارے میں ڈاکٹر راؤف پاریکھ نے بھی لکھا ہے کہ وہ ایک طرف اسلام کے بنیادی عقائد پر سختی سے قائم تھے اور دوسری طرف متھرا میں کرشن کے جنم دن کی تقریبات میں شریک ہوتے تھے۔ یہیں سے حسرت موہانی کا کرشن سے تعلق ایک دلچسپ تاریخی واقعہ بننے کے بجائے ایک اہم فکری مسئلہ بن جاتا ہے۔
حسرت کے نزدیک کرشن محض ہندو مذہبی روایت کی ایک شخصیت نہیں تھے بلکہ عشق، حسن اور معرفت کے ایک ایسے استعارے تھے جس کے ذریعے انسان اپنے باطن کی حقیقت تک پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں کرشن کے لیے وہی زبان استعمال ہوتی ہے جو عام طور پر صوفی شاعر اپنے محبوبِ حقیقی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ وہ کرشن کو ’’حضرتِ کرشن‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں اور کہتے ہیں:
کچھ ہم کو بھی عطا ہو کہ اے حضرتِ کرشن
اقلیمِ عشق آپ کے زیرِ قدم ہے خاص
پھر اپنی خواہش کو صرف عقیدت کے اظہار تک محدود نہیں رکھتے بلکہ متھرا میں حاضری کی دعا کرتے ہیں:
حسرت کی بھی قبول ہو متھرا میں حاضری
سنتے ہیں عاشقوں پہ تمہارا کرم ہے خاص
یہ اشعار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حسرت کے لیے متھرا محض ایک جغرافیائی مقام نہیں تھا وہ اسے عشق کی سرزمین سمجھتے تھے۔
ان کی مشہور نظم ’’کرشن‘‘ اس تعلق کی سب سے واضح شعری دستاویز ہے:
متھرا کہ نگر ہے عاشقی کا
دم بھرتی ہے آرزو اسی کا
ہر ذرۂ سرزمینِ گوکل
دارا ہے جمالِ دلبری کا
اور پھر وہ اس پورے روحانی تجربے کو کرشن کی بانسری سے جوڑ دیتے ہیں:
پیغامِ حیاتِ جاوداں تھا
ہر نغمۂ کرشن بانسری کا
یہاں بانسری محض موسیقی کا ساز نہیں رہتی۔ حسرت کے شعری نظام میں وہ ایک روحانی آواز بن جاتی ہے ایسی آواز جو انسان کو اپنے محدود وجود سے نکال کر کسی وسیع تر حقیقت کی طرف بلاتی ہے۔ ریختہ پر محفوظ اس نظم کے ماخذ کے طور پر جاں نثار اختر کی کتاب ’’ہندوستان ہمارا‘‘ بھی درج ہے۔
حسرت موہانی اور بانسری کا تعلق اسی لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ بعض تاریخی و صحافتی روایات کے مطابق وہ اپنے پاس بانسری رکھا کرتے تھے۔ یہ بات اتنی عام نہیں جتنی ان کی کرشن بھکتی یا ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کا نعرہ، لیکن ان کی کرشن شاعری کے پس منظر میں اسے دیکھیں تو یہ روایت غیر معمولی معنویت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ بھی دلچسپ ہے کہ حسرت کی بانسری سے رغبت کو صرف موسیقی کی پسند سمجھنا شاید ان کی شخصیت کو بہت محدود کر دینا ہوگا۔ کرشن کی پوری علامتی دنیا میں بانسری عشق کی پکار ہے۔ کرشن کی بانسری سن کر گوپیاں اپنے معمولات چھوڑ دیتی ہیں؛ صوفیانہ روایت میں بھی محبوب کی آواز سالک کو اپنی ذات سے بے نیاز کرتی ہے۔ حسرت نے شاید اسی مشترک روحانی کیفیت کو محسوس کیا تھا۔ ان کے لیے بانسری کا نغمہ مذہبی شناختوں کو مٹانے سے زیادہ عشق کی مشترک انسانی زبان بن جاتا ہے۔
حسرت کا یہ کرشن تجربہ محض شاعرانہ تخیل بھی نہیں تھا۔ وہ متھرا جاتے تھے اور کرشن جنم اشٹمی کی تقریبات میں شریک ہوتے تھے۔ ان کے لیے متھرا، گوکل، برسانہ اور نند گاؤں صرف تاریخی یا مذہبی مقامات نہیں بلکہ عشق کے روحانی جغرافیے کے حصے تھے۔ ان کی نظم میں وہ صاف کہتے ہیں کہ وہ برسانہ اور نند گاؤں جا کر ’’جلوہ‘‘ دیکھ چکے ہیں۔ اس نسبت کا ایک نہایت دلچسپ پہلو یہ ہے کہ حسرت موہانی نے کرشن کے لیے صرف فارسی آمیز یا کلاسیکی اردو کا سہارا نہیں لیا بلکہ برج بھاشا اور ہندوستانی لوک روایت کے لہجے کو بھی اپنایا۔ ان کی بعض کرشن سے متعلق نظموں میں وہی نسوانی اور برج کی عاشقانہ زبان ملتی ہے جو کرشن بھکتی کی قدیم روایت میں نظر آتی ہے۔ جدید تحقیق بھی اس امر کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ یراودا جیل میں حسرت نے کرشن سے متعلق اشعار معیاری اردو کے ساتھ ساتھ نسوانی/علاقائی اسلوب میں بھی لکھے۔ یہاں حسرت موہانی کی شخصیت کا ایک اور حیرت انگیز پہلو سامنے آتا ہے کہ وہ جیل میں بھی کرشن کو نہیں بھولے۔
1921 کے احمد آباد کانگریس اجلاس میں حسرت نے برطانوی اقتدار سے مکمل آزادی کی قرارداد پیش کی۔ یہ اس وقت کی کانگریس کی عمومی سیاسی حد سے کہیں آگے کا مطالبہ تھا۔ ان کی نظر میں ’’سوراج‘‘ کا مطلب برطانوی سلطنت کے اندر محدود خود اختیاری نہیں بلکہ مکمل آزادی تھا۔ اس قرارداد کو اس وقت قبول نہیں کیا گیا لیکن بعد میں یہی مطالبہ ہندوستانی آزادی کی سیاست کے مرکزی مطالبات میں شامل ہوا۔ ان کی اسی سیاسی سرگرمی کے نتیجے میں وہ قید ہوئے اور یراودا جیل پہنچے۔ سی۔ ایم۔ نعیم کے مطابق یراودا میں قیام کے دوران حسرت نے بڑی تعداد میں شاعری کی اور اپنی جیل کی شاعری کو باقاعدہ تاریخوں کے ساتھ محفوظ کیا۔ انہی ایام کی شاعری میں مذہبی اور روحانی جذبہ غیر معمولی شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے اور شاید سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اسی قید کے دوران کرشن جنم اشٹمی آئی تو حسرت کے دل میں متھرا جانے کی شدید خواہش پیدا ہوئی۔ ان کے اشعار میں ایک قیدی کی بے قراری نظر آتی ہے جو اپنے محبوب کی سرزمین تک پہنچنے سے محروم ہے:
متھرا کہ نگر ہے عاشقی کا
دم بھرتی ہے آرزو اسی کا
یعنی جس شخص کو برطانوی حکومت نے سیاسی طور پر قید کیا تھا، اس کے جسم کو جیل میں بند کیا جا سکتا تھا مگر اس کی آرزو کو متھرا کی طرف جانے سے نہیں روکا جا سکا۔ یہ واقعہ حسرت کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے شاید ان کے کسی سیاسی خطاب سے زیادہ اہم ہے۔ حسرت کی کرشن بھکتی کو سمجھنے کے لیے ایک اور شعر بھی نہایت معنی خیز ہے:
عرفانِ عشق نام ہے میرے مقام کا
متھرا کہ نگر ہے عاشقی کا
یہاں ’’عشق‘‘ اور ’’عرفان‘‘ ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ حسرت کے لیے عشق صرف جذباتی کیفیت نہیں بلکہ معرفت تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ اسی لیے کرشن کی بانسری ان کے ہاں ’’حیاتِ جاوداں‘‘ کا پیغام بن جاتی ہے۔یہاں حسرت موہانی کی صوفیانہ فکر بھی سامنے آتی ہے۔ ان کی شخصیت میں اسلام، تصوف، ہندوستانی تہذیب، کرشن بھکتی، قومی آزادی اور انقلابی سیاست الگ الگ خانوں میں نہیں تھے۔ وہ ان سب کو عشق کے وسیع تصور میں دیکھتے تھے۔ اسی لیے ان کے ہاں مسجد اور مندر دونوں میں محبوب کا جلوہ دکھائی دیتا ہے۔ ان کا ایک شعر ہے:
جمالِ یار سے روشن بہر شان و بہر صورت
مرے پیشِ نظر ہے جلوۂ دیر و حرم دونوں
یہ شعر ان کے مذہبی فکر کی بنیاد سمجھنے میں مدد دیتا ہے اختلافِ صورت کے باوجود حقیقتِ جمال ایک ہے۔ حسرت کے لیے دیر اور حرم ایک دوسرے کی نفی نہیں بلکہ ایک ہی محبوب کے مختلف مظاہر بن سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے حسرت کو محض ’’مسلمان شاعر جس نے کرشن پر نظم لکھی‘‘ کہنا ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ ان کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ اس تہذیبی ہندوستان کے نمائندہ تھے جس میں مذہبی شناخت اپنی جگہ موجود رہتے ہوئے دوسرے مذہب کی روحانی روایت سے مکالمہ کر سکتی تھی۔ اردو کی تاریخ میں یہ روایت نئی نہیں تھی شاہ برہان الدین جانم، نظیر اکبرآبادی، واجد علی شاہ اور متعدد دوسرے مسلم اہل قلم کرشن اور ہندو تہذیب کے مختلف مظاہر کو اپنی شاعری کا موضوع بناتے رہے تھے۔ حسرت اسی طویل روایت کو جدید عہد میں ایک نئے سیاسی اور صوفیانہ شعور کے ساتھ آگے بڑھاتے ہیں۔ لیکن حسرت کی انفرادیت یہ ہے کہ ان کی کرشن بھکتی اور ان کی سیاسی انقلابی فکر ایک دوسرے سے الگ نہیں رہتیں۔ وہ ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کا نعرہ دینے والے شخص بھی ہیں اور کرشن کی بانسری میں ’’پیغامِ حیاتِ جاوداں‘‘ سننے والے شاعر بھی۔ وہ کمیونسٹ خیالات سے متاثر ہونے کے باوجود مذہبی آدمی ہیں، کانگریس سے وابستہ ہونے کے باوجود مسلم لیگ کی سیاست میں بھی موجود رہے، آزادی کے علمبردار ہونے کے باوجود تقسیمِ ہند کے مخالف تھے۔ ان کی پوری زندگی متضادات کا مجموعہ دکھائی دیتی ہے لیکن شاید یہی ان تضادات کے اندر موجود وحدت انہیں غیر معمولی بناتی ہے۔
ان کی سادگی بھی کم حیران کن نہیں۔ ایک ایسے شخص کا تصور کیجیے جو ایک جاگیردارانہ پس منظر سے تعلق رکھتا تھا مگر اقتدار کے قریب پہنچ کر بھی آسائش کا طالب نہیں ہوا۔ ریختہ کے تعارف میں ان کے سادہ طرزِ زندگی کے کئی واقعات ملتے ہیں بغیر استری کے کپڑے پہننا، تھرڈ کلاس میں سفر کرنا، یکے پر چلنا، چھوٹے مکان میں رہنا اور عام آدمی کی طرح روزمرہ کے کام کرنا۔ یوں حسرت موہانی کی اصل کہانی ’’چپکے چپکے رات دن‘‘ سے بہت آگے نکل جاتی ہے۔ وہ صرف رومان کے شاعر نہیں تھے؛ وہ عشق کو زندگی کے مختلف دائروں میں آزمانے والے آدمی تھے۔ عشقِ محبوب، عشقِ وطن، عشقِ آزادی، عشقِ حق اور عشقِ کرشن ان سب کے درمیان ایک داخلی رشتہ تلاش کیا جا سکتا ہے۔ شاید اسی لیے حسرت موہانی کی بانسری ہمیں آج بھی حیران کرتی ہے۔ ایک ہاتھ میں وہ شخص قرآن اور تسبیح رکھنے والا مولانا ہے، دوسرے ہاتھ میں آزادی کا پرچم؛ زبان پر ’’انقلاب زندہ باد‘‘ ہے اور دل میں متھرا کی آرزو؛ سیاست میں سامراج سے بغاوت ہے اور شاعری میں کرشن کی بانسری کا نغمہ۔ یہی حسرت موہانی ہیں ایک ایسا صوفی منش انقلابی جس کے لیے عشق نے مذہب، سیاست اور تہذیب کی دیواروں کے آرپار جانے کا راستہ پیدا کیا اور شاید ان کی اپنی شاعری ہی ان کی اس عجیب و خوب صورت شخصیت کی سب سے جامع تشریح ہے:
پیغامِ حیاتِ جاوداں تھا
ہر نغمۂ کرشن بانسری کا
حسرت کے لیے یہ صرف کرشن کی بانسری کا ذکر نہیں تھا۔ یہ شاید اس یقین کا اظہار تھا کہ سچی محبت کی آواز کسی ایک مذہب، قوم یا تہذیب کی ملکیت نہیں ہوتی۔ وہ جہاں سے بھی اٹھے اگر اس میں انسان کو اس کی اصل حقیقت کی طرف بلانے کی قوت ہو تو وہ بانسری کا نغمہ بن جاتی ہے۔
