محترم حافظ نعیم الرحمٰن صاحب
امیر جماعت اسلامی
چیئرمین یوسی 8، نارتھ ناظم آباد ٹاؤن
السلام علیکم، امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ اب چونکہ آپ کی سیاست کا دائرہ کار کراچی سے نکل کر پورے پاکستان میں پھیل چکا ہے اور آپ کی سیاسی مصروفیات قومی اور بین الاقوامی معاملات کے گرد گھوم رہی ہیں، اس لیے کراچی آپ کی طرف سے ماضی میں ملنے والی توجہ سے محروم ہو چکا ہے۔
ہمیں امید ہے کہ آپ کو اس بات کا ادراک ہے کہ حق دو کراچی تحریک، ناظم آباد بحالی تحریک، نارتھ ناظم آباد بحالی تحریک، کے فور منصوبے اور کراچی کو پانی کی فراہمی کے لیے احتجاج، کراچی میں مقیم بنگالیوں اور بہاریوں کو شناختی کارڈ کے اجراء کیلئے تحریک اور کوٹہ سسٹم کے خلاف آپ کی توانا آواز جیسی سیاسی سرگرمیوں نے آپ کو کراچی کی سطح سے ملکی لیول کا لیڈر بنایا ہے۔
آپ کی سیاسی جدوجہد اور اصولوں پر کمپرومائز نہ کرنے کی پالیسی نے نہ صرف کراچی والوں بلکہ پورے پاکستان کے ووٹرز کو متاثر کیا ہے۔
آپ کا نعرہ کہ اختیارات سے زیادہ کام کریں گے، سابق مئیر وسیم اختر کی طرح اختیارات اور وسائل کے نہ ہونے کا رونا دھونا نہیں کریں گے، کراچی والوں کیلئے حقوق کی جدو جہد جاری رکھیں گے اور کراچی والوں کا حق چھین کر انھیں دلائیں گے جیسے وعدوں نے کراچی والوں کو مجبور کیا کہ وہ جماعت اسلامی کو ووٹ دیں۔
آپ کی سیاسی جدوجہد اور کراچی والوں کے ووٹوں کی بدولت اس وقت وسائل اور اختیارات کے ساتھ کراچی کے 9 ٹاؤنز کی حکومت جماعت اسلامی کے ہاتھ میں ہے۔
کراچی والوں نے آپ کی سیاسی جدوجہد اور وعدوں کی بدولت جماعت اسلامی سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کر لی تھیں۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ 9 ٹاؤنز کے وسائل اور اختیارات کے باوجود آپ کے امیر کراچی سے امیر جماعت اسلامی پاکستان بن جانے سے کراچی میں بہت بڑا خلا پیدا ہو چکا ہے۔
کراچی والوں سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے لیے سیاسی جدوجہد کو جاری رکھنا ضروری تھا اور ضرورت اس امر کی تھی کہ کراچی کیلئے آپ کے ویژن اور خوابوں کی تکمیل کے لیے آپ ہی کی ذہنی اور سیاسی سطح کی قیادت کو کراچی کی بھاگ دوڑ سنبھالنی چاہیے تھی۔
ہم نہایت تکلیف اور شرمندگی کے ساتھ آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ جس سیاسی جدوجہد اور کراچی کی بہتری کے لیے کیے گئے وعدوں کی بدولت کراچی والوں نے آپ کو ووٹ دیا تھا، کراچی کی موجودہ قیادت خصوصاً ٹاؤنز کے چیئرمین اپنے امیر کی جدو جہد اور کراچی بحالی تحریک سے حاصل شدہ سیاسی ثمرات کو ضائع کر رہے ہیں۔
ہم مانتے ہیں کہ مئیر کراچی کے اختیارات جماعت اسلامی کے پاس نہیں ہیں مگر جماعت اسلامی کراچی کے 9 ٹاؤنز کی قیادت کررہی ہے جن میں تقریباً 60 فیصد کراچی کی شہری آبادی مقیم ہے۔
ہم کراچی والوں نے اپنا سیاسی مینڈیٹ حافظ نعیم کی جدو جہد اور وعدوں پر دیا تھا،ہم واقف نہیں تھے کہ بلدیاتی انتخابات میں مئیر کراچی کی نشست نہ جیتنے کی صورت میں آپ امیر جماعت اسلامی کی حیثیت سے کراچی کیلئے کی گئی جدو جہد اور حقوق کی جنگ سے دستبردار ہو جائیں گے۔
ہم کراچی والوں کو پہلے ہی شدید احساس محرومی نے گھیرا ہوا تھا اور حافظ نعیم کی صورت میں امید کی ایک کرن نظر آئی تھی۔
ہمیں آپ سے شکوہ ہے کہ کراچی کے 9 ٹاؤنز کی حکومت مکمل مالی وسائل اور اختیارات ہونے کے باوجود کراچی والوں کے ساتھ ماضی جیسا سلوک روا رکھا جارہا ہے۔
گزشتہ 2سالوں میں کراچی والے آپ کو اور آپ کے ٹاؤنز چیئرمینز کو بلدیاتی انتخابات سے پہلے کی طرح متحرک نہ دیکھ کر سخت مایوسی کا شکار ہیں۔
ہم خاص طور پر آپ کی یونین کونسل یوسی 8 (الفلاح) نارتھ ناظم آباد کی زبوں حالی اور بنیادی شہری مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے سخت ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار ہیں۔
کاش آپ نے ہمیں بارہا یہ امید نہ دلائی ہوتی کہ جماعت اسلامی دوسروں سے بہتر سیاسی قیادت ثابت ہوگی اور جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے اختیارات سے زیادہ کام کریں گے، اختیارات اور وسائل کے نہ ہونے کا رونا اور بہانے بازی نہیں کریں گے اور کراچی والوں کے حقوق نہ ملنے کی صورت میں کراچی والوں کا حق چھین کر لیں گے۔
ہمیں نہایت افسوس اور شرمندگی کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ 9 ٹاؤنز تو ایک طرف نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کی یوسی 8 جس کے آپ منتخب چیئرمین ہیں آپ کی ٹاؤن انتظامیہ اور ضلع وسطی کی قیادت نے اپنے امیر کی جدو جہد اور قربانیوں کا بھی پاس نہیں رکھا۔
یوسی 8 نارتھ ناظم آباد کا حال 2 سال پہلے جماعت اسلامی کی قیادت آنے کے باوجود بد سے بدترین ہوگیا ہے۔
ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ یوسی 8 الفلاح کو نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کی ماڈل یوسی بنانے کے اپنے وعدے پر عمل کیجئے۔
خدارا کراچی کی عوام کے اعتماد، بھروسے اور سیاسی مینڈیٹ کی توہین مت کیجیے۔ ہمارے ساتھ گزشتہ 70سالو میں سوتیلی اولاد جیسا سلوک ہوتا رہا ہے، کراچی والوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو آزما لیا اور نئی نسل نے حافظ نعیم کے وعدے کا اعتبار کرتے ہوئے نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کی قیادت جماعت اسلامی کے سپرد کی تھی۔ اگر نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کا چیئرمین جو کہ جماعت اسلامی کا کارکن ہے اپنے امیر کی جانب سے کیے گئے وعدوں کا پاس نہیں رکھ سکتا اور اسے عوام کی تکلیف، پریشانی، بے چینی اور جماعت اسلامی کی گرتی ہوئی مقبولیت سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو آپ کو سوچنا چاہیے کہ ایسا نا اہل اور سیاسی شعور سے عاری شخص ٹاؤن سطح پر جماعت اسلامی کی قیادت کرنے کا اہل ہے؟
آپ نے وعدہ کیا تھا کہ اختیارات اور وسائل کے نہ ہونے کا رونا دھونا نہیں کریں گے۔ نارتھ ناظم آباد ٹاؤن اور جماعت اسلامی کی ضلع وسطی کی قیادت بلدیاتی انتخابات کے بعد سے عوام سے ملنا جلنا پسند نہیں کرتی جبکہ جماعت اسلامی کو کراچی میں کامیابی عوام سے رابطے اور جدو جہد کی بنا پر ملی ہے۔
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جماعت اسلامی کی ضلع وسطی کی قیادت نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کے چیئرمین کا احتساب کرنے سے قاصر ہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے منصوبے بنانے سے بھی عاری ہے۔
ہم لوگوں نے آپ کو ووٹ دیا تھا اور آپ سے بحیثیت یوسی چیئرمین پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ آپ نے اپنی یوسی اور نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کو ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے زیر اثر علاقوں کے مقابلے میں عوامی مشکلات دور کرنے کیلئے کیا اقدامات کیے ہیں؟
براہ مہربانی یاد رکھیے کراچی کے عوام تعصب، خوف، غنڈہ گردی اور قومیت کی سیاست سے بالاتر ہوکر حالیہ انتخابات میں اپنے سیاسی شعور کا مظاہرہ کر چکے ہیں، اگر جماعت اسلامی نے دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح کراچی کے شہریوں کو کیڑے مکوڑے، خوفزدہ اور بے زبان جانوروں ہی کی طرح سمجھا تو کراچی کے عوام سیاسی انتقام لینا اچھی طرح جان چکے ہیں۔
اگر جماعت اسلامی کی قیادت کراچی کے عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری نہیں کرے گی اور جماعت اسلامی کے پاس موجود 9 ٹاؤنز کی حکومت میں عوام کے مسائل حل نہیں کیے جائیں گے اور وسیم اختر کے دور کی طرح صرف رونا پیٹنا اور الزام تراشی کی سیاست جاری رکھی جائے گی تو یاد رکھیے کراچی کے عوام ذہنی اور سیاسی غلامی سے نجات حاصل کر چکے ہیں۔
امید ہے کہ جلد آپ اپنی یونین کونسل کا دورہ کریں گے اور اپنے ووٹرز سے مل کر سیاسی نعروں اور وعدوں سے بڑھ کر ان کے مسائل کے حل کیلئے پلان کیے گئے منصوبوں کی تفصیلات شیئر کریں گے۔
کراچی کی عوام گزشتہ 2 سالوں میں زبانی جمع خرچ اور اختیارات نہ ہونے کے بہانوں سے عاجز آچکی ہے۔ اگر آپ اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ ہیں تو براہ مہربانی اپنی جماعت کے معاملات کا جائزہ لیجیے اور کراچی کے عوام سے اپنا تعلق بحال کیجیے۔
خیر اندیش
ذیشان جعفری
