تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

بلوچستان کا ادبی تناظر --- نجیبہ عارف

by دانش ڈیسک 07/12/2025
written by دانش ڈیسک 07/12/2025
325

بلوچستان کا ذکر جب بھی چلے، اس کے پہاڑوں کی سنگلاخی کا تذکرہ ضرور آتا ہے مگر بلوچستان جا کر محسوس ہوا کہ یہ سنگلاخی صرف منظر نامے کا حصہ ہے؛ بلوچستان کے باسیوں کے دل بے حد گداز، محبت و خلوص کی نرمی و گرمی سے مملو اور شدت احساس سے انگارے کی طرح سرخ ہیں۔ بقول میر،

گلشن میں آگ لگ رہی تھی رنگِ گل سے میر

حسرت موہانی نے اسی مضمون کو اپنے ایک شعر میں کیا خوب باندھا ہے

روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام
دہکا ہوا ہے آتشِ گل سے چمن تمام

اس روشن اور دہکتی ہوئی انجمن میں شعر و ادب کیوںنہ پھلیں پھولیں؛ سو ہم نے دیکھا کہ وہاں ہر زبان کا ادیب اپنی تہذیبی روایت، لوک ادب اور معاصر تاریخ سے گہرے طور پر وابستہ ہے۔ کوئٹہ کے اہل علم و ادب سے ملاقات کے لیے ہم نے اکادمی ادبیات پاکستان کے کوئٹہ دفتر میں اکادمی کے مقبول سلسلے ’’اہلِ قلم سے ملیے‘‘ کے تحت ایک تقریب میں مختلف زبانوں کے سینئر ادیبوں سے مکالمے کا اہتمام کیا تھا۔ اعزازی ناظمِ تقریبات ڈاکٹر عبد القیوم بیدا ر نےنوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس میں بلوچستان کے ادبا و شعرا کی خاصی تعداد کو مدعو کر رکھا تھا۔

 اس تقریب میں سابق چیف سیکرٹری بلوچستان، اور کمال فن ایوارڈ یافتہ بلوچی ادیب منیر بادینی، سابق سیکرٹری ثقافت اور ادیب ایوب بلوچ، گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلراور براہوئی ادیب ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، ممتاز پشتو ادیب اور سکالر ڈاکٹر عبدالکریم بریالئی، معتبر بلوچی ادیبہ ڈاکٹر زینت ثنا، فارسی اور ہزارگی زبان کے سینئر شاعر پروفیسر آغا ناصر، ناموربراہوئی ادیب ڈاکٹر نور خان حسنی اور معروف اردو شاعر ڈاکٹر بیرم غوری نے اپنے اپنے تخلیقی سفر، ادبی تجربات اور بلوچستان کی مجموعی ادبی صورت حال کے بارے میں اظہار خیال کیا۔حاضرین میں موجود اہل علم و ادب کی کثیر تعداد نےبھی اس مکالمے میں حصہ لیا۔ ان میں ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم، ڈاکٹر سلیم مظہر، ڈاکٹر شیر علی اور ڈاکٹر رمضان طاہر تو اسلام آباد سے آئے تھے جب کہ ڈاکٹر فیصل ریحان، محسن شکیل، افضل مراد، محترمہ جہاں آرا تبسم، منظور پویا، پروفیسر اکبرساسولی، ماہنامہ ’’سنگت‘‘کے مدیر اور ملک بھر میں معروف اردو ادیب ڈاکٹر شاہ محمد مری اور دیگر کئی نامور اہل قلم بلوچستان کی مختلف زبانوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔

اس مکالمے کا حاصل یہ تھا کہ بلوچستان کی فضا ادب و علم کے فروغ کے لیے جیسی اور جتنی سازگار ہے، اس کی کوئی اور مثال شاید ہی ملے۔ لوگ اب بھی کتابیں شوق اور دلچسپی سے خریدتے اور پڑھتے ہیں۔ اردو زبان پر مکمل قدرت، لب ولہجہ اہل زبان کا سا نفیس اور شستہ۔ ہر ایک اپنی مادری زبان سے محبت کرتا ہے مگر اردو کی تہذیبی اہمیت سے بھی بخوبی واقف ہے اور اردو کے خلاف کسی طرح کی کدورت یا نفرت ان فراخ دل احباب کی باتوں میں نہیں جھلکتی۔ بلوچستان کی عمومی سیاسی صورت حال، پس ماندگی اور احساسِ جبر کی شکایت البتہ ضرور سامنے آئی مگر ایک دکھے ہوئے دل کی صدا کی طرح۔ بلوچستان کا ادیب بے حد باشعور، دردمند اور عصری صورت حال کا نبض شناس ہے۔ ہم نے انھیں یقین دلایا کہ ہمارے دل بھی اہل بلوچستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔آخر میں حال ہی میں وفات پانے والے اہل قلم اسحاق سوز اور علی بابا تاج کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

یہیں بلوچی اکیڈمی کے چیئرمین ہیبتان بلوچ، پشتو اکیڈمی کے چئیرمین حافظ رحمت اللہ نیازی اور براہوئی اکیڈمی کے چئیرمین ڈاکٹر سوسن براہوئی سے بھی ملاقات ہوئی جنھوں نے اپنی اپنی اکادمیوں کا دورہ کرنے کی اتنی پر زور اور پر خلوص دعوت دی کہ قبول کیے بغیر چارہ نہیں تھا۔ چنانچہ باری باری ان تینوں اکادمیو ں کے دفاتر کا دورہ ہوا اور تینوں زبانوں کے اہم ادیبوں سے ملاقات ہوئی جن میں ان اکادمیوں کے سربراہان کے علاوہ، ان کے عہدے دار اور اراکین، خصوصاً ڈاکٹر عبد الرؤف رفیقی، ڈاکٹر عبد القیوم بیدار، حاجی عبداللہ جان، افضل مینگل، مرتضیٰ کاکڑ، سنگت رفیق، نقیب اللہ احساس، ڈاکٹر عادل اچکزئی، صدیق بلوچ، ذاکر قادر، صادق بلوچ، ممتاز یوسف، عرفان جمالدینی، ڈاکٹر عبد الرزاق صابر، بیزن سبا، اکبر ساسولی، عبداللہ شوہاز، سرور علی ہزارہ اور شبیر حسین ہزارہ شامل ہیں۔

 بلوچی اکادمی اور پشتو اکادمی کی خوب صورت عمارتوں میں لائبریریاں، آڈیٹوریم، دفاتر اور دیگر سہولیات ہی نہیں، سلیقہ اور حسن ترتیب و تنظیم بھی موجود ہیں۔ براہوئی اور ہزارگی اکادمی ابھی اپنی اپنی عمارت کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ ان اکادمیوں کو حکومت بلوچستان سے خطیر امداد ملتی ہے لیکن یہ اپنی مدد آپ کے تحت بھی کئی سرگرمیاں کرتے ہیں۔ ان کے علمی و ادبی منصوبے سن کر میں حیران رہ گئی۔ کئی کئی جلدوں پر مشتمل انسائیکلو پیڈیا، لغات، لوک ادب کے مجموعے، تراجم، ڈجیٹلائزیشن، رسالوں اور کتابوں کی اشاعت؛ کون سا کام ہے جو ان اکادمیوں کے زیر غور نہیں ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے بھی انھیں کچھ سالانہ گرانٹ ملتی ہے لیکن ان اکادمیوں کا اصل سرمایہ بے لوث خدمت کا جذبہ ہے جو ان کے اراکین اور عہدے داران میں پایا جاتا ہے۔

میں نے اپنی گفتگو کے دوران میں اکادمی ادبیات پاکستان کی سرگرمیوں، منصوبوں اور ارادوں کا ذکر کیا اور تعاون و اشتراک کی پیش کش کی۔ان کی طرف سے کہا گیا کہ متعلقہ زبانوں کے بارے میں کوئی بھی کام کرتے ہوئے اگر ان اکادمیوں کے سربراہوں سے مشاورت کی جائے تو بہتر ہے جو اپنی اپنی زبان کے نمائندہ ادیب ہیں۔اگر چہ ان زبانوں کے کچھ ادیب اکادمیوں سے منسلک نہیں بھی ہیں لیکن ایسی صورت حال تو کم وبیش ہر جگہ پائی جاتی ہے۔ ادبی سیاست اور دھڑے بندیاں بھی ہوتی ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ یہ اکادمیاں ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کرتی ہیں اور دوسری زبانوں کی کتابیں بھی خیر سگالی کے طور پر شائع کرتی ہیں۔ یہی خلوص ومحبت ان کی طرف سے پیش کیے گئے تحائف اور پرتکلف دعوت طعام میں چھلک رہے تھے۔

کوئٹہ کا یہ یادگار ادبی دورہ ڈاکٹر قندیل بدر اور ڈاکٹر فیصل ریحان کی معیت میں اور بھی خوش گوار اور آسان ہو گیا۔ ڈاکٹر قندیل بدر گوہر ادبی گھرانے کی قابل فخر بیٹی، خوش فکر، خوش گو شاعر اور قابل پروفیسر ہیں۔ انھوں نے ایک ایک لمحہ حق میزبانی ادا کیا۔ڈاکٹرفیصل ریحان ہمارے طالب علم رہ چکے ہیں، عمدہ شاعر اور افسانہ نگار ہیں اور آج کل اردو اکادمی کوئٹہ کے زیر اہتمام خوب صورت کتابیں شائع کر رہے ہیں۔امید ہے کہ انھیں بھی حکومت بلوچستان کی سرپرستی حاصل ہوگی۔

 قندیل، فیصل اور ڈاکٹر رفیقی کی معیت میں آخر کار ہم بڑی کوشش اور محبت سے ڈاکٹر شاہ محمد مری کے آستانے پر جا پہنچے۔ انھوں نے تادیر اپنی باتوں سے طلسم باندھے رکھا۔ خاص طور پر مست تؤکلی کے اشعار اور حکایات محفل کو کسی اور ہی زمان و مکان میں لے جاتی رہیں۔ بالآخر ہم نے اعلان کیا کہ جو بھی ہو، ہم اہل ادب کی ’’سمّو‘‘ تو آپ ہی ہیں۔ انھوں نے اپنی روشن مسکراہٹ سے ہماری محبت قبول کی اور ہم بادل نخواستہ وہاں سے رخصت ہوئے مگر بلوچستان ہمارے دل میں اسی طرح آباد رہے گا جس طرح مست تؤکلی کے دل میں سمّو۔ آتشِ گل سے دہکے ہوئے چمن کی طرح۔

Facebook Comments Box
Literature in BaluchistanNajeeba Arifادب اور بلوچستانبلوچستان میں ادبنجیبہ عارف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
next post
فکنگ بِچ —– افسانہ

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.