بلوچستان کی کہانی اتنی ہی قدیم، پرانی اور سحر انگیز ہے جتنا کہ خود یہ سنگلاخ اور پروقار خطہ ہے۔ اگر ہم وقت کے پہیے کو پیچھے گھمائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ دھرتی مہر گڑھ جیسی عظیم الشان نو ہزار سال پرانی تہذیب کا گہوارہ رہی ہے، جہاں انسان نے پہلی بار باقاعدہ کھیتی باڑی اور تمدن کی بنیاد رکھی۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اس تزویراتی اہمیت کی حامل سرزمین پر ایران کے ہخامنشیوں، سکندرِ اعظم، موریہ سلطنت اور پھر عرب مسلمانوں نے اپنے نقشِ قدم چھوڑے۔
لفظ “بلوچستان” کا مطلب ہی ‘بلوچوں کا دیس’ ہے، جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ حلب یا شام کے علاقوں سے ہجرت کر کے ایران کے راستے یہاں آ کر آباد ہوئے۔ یہ لوگ اپنے ساتھ بہادری، مہمان نوازی اور غیرت کی وہ داستانیں لائے جو آج بھی یہاں کی ہواؤں میں گونجتی ہیں۔
اگرچہ بلوچ قوم اس وقت صوبے کی کل آبادی کا 39.91% ہیں۔ یہ زیادہ تر مکران، رخشان، اور مشرقی بلوچستان کے اضلاع میں آباد ہیں۔ پشتون تقریباً 30% سے 35% ہیں جو زیادہ تر شمالی اور شمال مشرقی اضلاع جیسے کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ اور ژوب میں آباد ہیں۔ براہوئی زبان بولنے والے براہوی صوبے کی کل آبادی کا 17.22% ہیں۔ یہ بنیادی طور پر صوبے کے وسطی اضلاع جیسے قلات، مستونگ، خضدار اور سوراب میں مقیم ہیں۔ باقی فیصد آبادی میں میں سندھی، سرائیکی، پنجابی، ہزارہ اور دیگر اردو بولنے والے شامل ہیں جو زیادہ تر بڑے شہروں یا درمیانی پٹی پر بستے ہیں
اٹھارویں صدی میں میر ناصر خان اول کے دور میں قلات کی ریاست ایک مضبوط اور متحد شکل میں ابھری، جس نے بلوچستان کی ایک الگ اور واضع پہچان قائم کی۔ بعد ازاں، انگریزوں نے برصغیر پر قبضے کے دوران اس خطے کی جغرافیائی اہمیت کو بھانپ لیا اور ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ کی پالیسی کے تحت اسے مختلف حصوں اور ایجنسیوں میں بانٹ دیا۔
جب سنہ 1947 میں پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا، تو قلات سمیت یہاں کی دیگر شاہی ریاستوں نے رفتہ رفتہ پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا اور یوں یہ عظیم خطہ پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ بن گیا۔
یہ صوبہ ایک دلکش گلدستے کی مانند ہے جس کے پتے وسائل سے تو مالامال ہیں، مگر اس کی جڑیں طویل عرصے سے محرومی اور بے یقینی کے پانی سے سینچی جا رہی ہیں۔ رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باوجود، یہاں کا عام انسان آج بھی پینے کے صاف پانی، معیاری تعلیم اور صحت جیسی بنیادی زندگی کی نعمتوں کے لیے ترستا نظر آتا ہے۔ مقامی آبادی کے دلوں میں یہ گلہ شدت سے پنپ رہا ہے کہ ان کی دھرتی سے نکلنے والی گیس، سونا اور تانبا پوری دنیا کو تو چمکاتا ہے، مگر خود ان کے اپنے گھروں کے اندھیرے دور نہیں کر پاتا۔ یہی احساسِ محرومی رفتہ رفتہ ایک سنگین سیاسی اور سماجی خلا میں بدل چکا ہے، جہاں جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کا معاملہ اس وقت ایک انتہائی حساس انسانی مسئلہ بن کر سڑکوں پر احتجاج کی شکل میں ابھر رہا ہے۔
دوسری طرف، گوادر پورٹ اور سی پیک جیسے عالمی سطح کے بڑے منصوبے جہاں ملکی ترقی کا ضامن سمجھے جاتے ہیں، وہیں سکیورٹی کی مخدوش صورتحال اور عسکریت پسند تنظیموں کے حملوں نے اس خطے کے امن کو داؤ پر لگا رکھا ہے۔ یوں، بلوچستان کا موجودہ بحران محض امن و امان کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ سیاسی بیگانگی، معاشی عدم مساوات اور اعتماد کے شدید فقدان کی ایک ایسی الجھی ہوئی ڈور ہے جسے اب طاقت کے بجائے صرف محبت، بامعنی مذاکرات اور منصفانہ حقوق کے ذریعے ہی سلجھایا جا سکتا ہے۔
بلوچستان کی شورش اور اس سے جڑے کرداروں کی کہانی ایک بساط کی طرح ہے جہاں مہرے مقامی ہیں مگر چالیں عالمی سطح پر چلی جا رہی ہیں۔
اس بساط پر سب سے پہلا رخ ان علیحدگی پسند عسکری تنظیموں کا ہے جو صوبے میں سرگرم ہیں، جن میں بلوچ لبریشن آرمی (BLA) سب سے پرانی اور مہلک کارروائیاں کرنے والی تنظیم ہے جو خاص طور پر سکیورٹی فورسز اور چینی شہریوں کو نشانہ بناتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈاکٹر اللہ نذر کی قیادت میں بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) مکران اور ساحلی پٹی کے علاقوں میں متحرک ہے، جبکہ ان سب نے مل کر ‘براس’ (BRAS) کے نام سے ایک مشترکہ اتحاد بھی بنا رکھا ہے تاکہ ایک دوسرے کی مدد سے حملوں میں تیزی لائی جا سکے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تنظیموں کے پاس جدید ترین ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے لیے فنڈنگ کہاں سے آتی ہے، تو اس کے ذرائع بھی اتنے ہی پیچیدہ ہیں۔ یہ گروہ مقامی کوئلہ کانوں کے مالکان، بڑے تاجروں اور ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکیداروں سے زبردستی لاکھوں روپے بھتہ وصول کرتے ہیں، اور ساتھ ہی پاک-افغان اور پاک-ایران سرحدوں پر ہونے والی اربوں روپے کی اسمگلنگ اور منشیات کے نیٹ ورک سے اپنا حصہ نکالتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بیرونِ ملک مقیم بعض قوم پرست بلوچوں کی طرف سے بھی مالی معاونت بھیجی جاتی ہے، جبکہ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ ان تنظیموں کو سرحد پار سے بھاری خفیہ فنڈز اور لاجسٹک سپورٹ بھی فراہم کی جاتی ہے۔
بلوچستان اپنی جغرافیائی پوزیشن اور گوادر پورٹ کی وجہ سے عالمی طاقتوں کی نظروں میں رہتا ہے۔ پاکستان کا کٹر حریف بھارت اس بساط کا ایک بڑا کھلاڑی ہے، جس پر ہمیشہ یہ الزام لگتا ہے کہ وہ پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے اور چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) کو ناکام بنانے کے لیے ان عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کرتا ہے۔
دوسری طرف چین کا مفاد یہاں کے امن سے وابستہ ہے کیونکہ اس نے سی پیک اور گوادر پر اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، اسی لیے عسکریت پسند چین کو ایک استحصالی قوت کے طور پر دیکھ کر نشانہ بناتے ہیں تاکہ وہ یہاں سے چلا جائے۔
جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، وہ خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو پسند نہیں کرتا اور چینی پیش رفت پر نظر رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے، اگرچہ حال ہی میں امریکہ نے بلوچستان کے ریکوڈک منصوبے میں بھی تجارتی سرمایہ کاری شروع کی ہے۔
اس سارے منظرنامے میں ایران اور افغانستان جیسے پڑوسی ممالک بھی شامل ہیں، جہاں ایران اپنے علاقے سیستان و بلوچستان میں سرگرم جیش العدل جیسے گروپوں کی وجہ سے فکر مند رہتا ہے تو دوسری طرف افغان سرزمین کا عسکریت پسندوں کی طرف سے استعمال پاکستان کے لیے تشویش کا باعث بنتا ہے۔ سادہ لفظوں میں، بلوچستان ایک ایسا اکھاڑا بن چکا ہے جہاں مقامی نوجوانوں کی محرومیوں کو ایندھن بنا کر عالمی اور علاقائی طاقتیں اپنی اپنی تزویراتی جنگیں لڑ رہی ہیں۔
ریاست کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ BLA (بلوچ لبریشن آرمی) اور BLF ( بلوچ لبریشن فرنٹ) جیسے عسکری گروہوں کے خلاف صرف بندوق کی گولی کافی نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی کثیر الجہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو ان کی جڑوں کو اندر سے کھوکھلا کر دے۔ جہاں ایک طرف ہماری سکیورٹی فورسز، فرنٹیئر کور اور پولیس نے حالیہ جولائی 2026 کے آپریشن شعبان کے دوران انٹیلی جنس بیسڈ زمینی اور فضائی کارروائیوں میں سو سے زائد عسکریت پسندوں کو عبرتناک انجام تک پہنچایا ہے، وہیں طویل مدتی امن کے لیے ریاست کو تین اہم محاذوں پر بیک وقت کام کرنا ہوگا۔
سب سے پہلی اور اہم ترین حکمت عملی ان عسکری گروہوں کے فنڈز اور ہتھیاروں کی سپلائی لائن کو کاٹنا ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ پاک-افغان اور پاک-ایران سرحدوں پر سکیورٹی کو مزید سخت کرے تاکہ سرحد پار سے ملنے والی خفیہ فنڈنگ، لاجسٹک سپورٹ اور جدید ترین ہتھیاروں کی سمگلنگ کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔ جب تک بیرونی مدد اور اسمگلنگ کا یہ نیٹ ورک متحرک رہے گا، عسکریت پسندوں کو نئی افرادی قوت اور ایندھن ملتا رہے گا، اس لیے ان کے مالیاتی ذرائع پر کاری ضرب لگانا سب سے پہلا قدم ہونا چاہیے۔ جبکہ ناراض بلوچوں کو عام معافی کی پیشکش کر کے قومی دھارے میں واپس لانے کا ایک mechanism بھی بنایا جائے۔
دوسرا بڑا محاذ “بیانیے کی جنگ” یا کاؤنٹر نیریٹو کا ہے، کیونکہ عسکریت پسند تنظیمیں عام طور پر مقامی بلوچ نوجوانوں کی معاشی محرومیوں اور غصے کو اپنے مقاصد کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ ان نوجوانوں کو عسکریت پسندوں کے چنگل سے بچانے کے لیے گوادر اور ریکوڈک جیسے بڑے معاشی منصوبوں میں براہِ راست روزگار، اعلیٰ تعلیم اور فنی مہارت کے مواقع فراہم کرے تاکہ وہ بندوق اٹھانے کے بجائے قلم اور روزگار کو ترجیح دیں۔ اس کے ساتھ ہی، لاپتہ افراد جیسے حساس سیاسی اور انسانی مسائل کو شفاف اور قانونی طریقے سے حل کرنا ہوگا تاکہ عوام کے دلوں سے بیگانگی کا احساس ختم ہو اور عسکریت پسندوں کو مقامی پناہ گاہیں ملنا بند ہو جائیں۔
تیسرا اور آخری حل اختیارات کی نچلی سطح پر منصفانہ منتقلی ہے، جس میں سرداری نظام کے اثر ورسوخ کو کم کر کے بلدیاتی اداروں کو مضبوط کیا جائے تاکہ بلوچستان کے عام شہری کو پینے کا صاف پانی، صحت اور تعلیم کی سہولیات اس کی دہلیز پر مل سکیں۔ سادہ لفظوں میں، اگر ریاست سکیورٹی کی سخت پالیسی کے بجائے ترقی، محبت اور قانون کی بالادستی کا راستہ اختیار کرے، تو بلوچستان کے پہاڑوں سے اٹھنے والا دھواں ہمیشہ کے لیے امن کی خوشبو میں بدل سکتا ہے۔
