تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —– ارشد محمود

by دانش ڈیسک 12/07/2026
written by دانش ڈیسک 12/07/2026
85

محترم شہزاد حنیف سجاول صاحب!

سب سے پہلے میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے “شعور کی انارکی” کے عنوان سے ایک ایسے موضوع پر سنجیدہ فکری گفتگو کا آغاز کیا جو ہمارے عہد کے بنیادی سوالات میں سے ایک ہے۔ اس سے بھی زیادہ خوش آئند بات یہ ہے کہ آپ نے اختلافِ رائے کو خندہ پیشانی سے قبول کیا اور اسے مناظرے کے بجائے مکالمے میں تبدیل کیا۔ ہمارے فکری ماحول میں یہی روایت سب سے زیادہ نایاب اور سب سے زیادہ ضروری ہے۔

آپ کے مضامین کا یہ سلسلہ بتدریج ارتقا پذیر ہوتا محسوس ہوا۔ ابتدا میں “شعور کی انارکی” ایک نسبتاً قطعی تشخیص دکھائی دیتی تھی، مگر آخری کالم تک پہنچتے پہنچتے آپ خود اس نتیجے پر پہنچتے نظر آتے ہیں کہ شاید اصل اہمیت کسی قطعی جواب سے زیادہ سوال کو زندہ رکھنے کی ہے۔ میرے نزدیک یہی اس پورے سلسلے کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

اس کے باوجود، میرا بنیادی اختلاف اب بھی برقرار ہے۔

میری گزارش یہ ہے کہ ہم اپنے عہد کو اب بھی بڑی حد تک ماضی کی علمی عینک سے دیکھ رہے ہیں۔ اسی لیے موجودہ تغیر ہمیں زیادہ تر انتشار دکھائی دیتا ہے، جبکہ بعید نہیں کہ وہ کسی نئے تہذیبی نظم کی تشکیل کا عبوری مرحلہ ہو۔

انسانی تہذیب کا ارتقائی سفر کبھی سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھا۔ ہر بڑی تبدیلی سے پہلے ایک ایسا مرحلہ ضرور آیا ہے جب پرانا نظم کمزور پڑتا ہے، نیا نظم ابھی پوری طرح نمایاں نہیں ہوتا اور دیکھنے والے کو ہر طرف بے ترتیبی اور انتشار دکھائی دیتا ہے۔ لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ ہر نئی تہذیب کسی خلا سے پیدا نہیں ہوتی؛ وہ ہمیشہ کسی سابقہ نظم کی تحلیل اور تشکیلِ نو کے عمل سے جنم لیتی ہے۔

قدرت کا مطالعہ بھی اسی اصول کی تصدیق کرتا ہے۔ بیج جب پھٹتا ہے تو بظاہر ٹوٹ رہا ہوتا ہے، مگر حقیقت میں وہ درخت بننے کے سفر کا آغاز کر چکا ہوتا ہے۔ درخت جوں جوں بلند ہوتا ہے، اس کا بیرونی دائرہ وسیع تر ہوتا جاتا ہے اور اس کی داخلی ساخت بھی زیادہ پیچیدہ ہوتی جاتی ہے۔ ہر شاخ مزید باریک شاخوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ دور سے یہ تقسیم بکھراؤ محسوس ہو سکتی ہے، مگر حقیقت میں یہی اس کی نشوونما اور تکمیل کا اظہار ہوتی ہے۔

میرا خیال ہے کہ انسانی تہذیب بھی اسی اصول کے تحت ارتقا پذیر ہے۔ اس کے بیرونی دائرۂ وجود کے پھیلنے کے ساتھ ساتھ اس کی داخلی ساخت مسلسل زیادہ متنوع، زیادہ پیچیدہ اور زیادہ منقسم ہوتی جاتی ہے۔ اس عمل کے ساتھ شرحِ تغیر بھی مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔ یہی بڑھتی ہوئی رفتار ہمارے ادراک کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔ ماضی کا سفر ہمیں نسبتاً منظم اس لیے دکھائی دیتا ہے کہ اس کی رفتار کم تھی، جبکہ حال کا تیز بہاؤ ہماری بصیرت کو دھندلا دیتا ہے۔ ہم اکثر اس دھندلاہٹ کو انتشار سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ ممکن ہے وہ ایک نئے نظم کی تشکیل کا درمیانی مرحلہ ہو۔

اسی لیے میں موجودہ صورتِ حال کو محض “شعور کی انارکی” نہیں بلکہ “ارتقاء کے شعور” کی ایک عبوری کیفیت سمجھتا ہوں۔

یہاں میرا ایک اور اختلاف بھی سامنے آتا ہے۔

آپ نے اس بحران کے حل کے طور پر مطالعہ، مکالمہ، اخلاق اور تعلیم کی طرف واپسی کی بات کی ہے۔ ان اصولوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہی ذرائع اپنی موجودہ صورت میں آنے والے عہد کے لیے کافی ہوں گے؟

میرا خیال ہے کہ مسئلہ کتاب اور سوشل میڈیا کے درمیان انتخاب کا نہیں، بلکہ علم کے ذرائع کی تبدیلی کا ہے۔ کتاب اپنی وقعت برقرار رکھے گی، مگر اب وہ علم کی واحد شاہراہ نہیں رہی۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل میڈیا، عالمی علمی نیٹ ورکس، اجتماعی ذہانت (Collective Intelligence) اور تیز رفتار معلوماتی نظام انسانی شعور کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر ہم ان نئے ذرائع کو محض خطرہ سمجھتے رہے اور انہیں اپنی تہذیبی تعمیر کا حصہ نہ بنا سکے تو شاید ہم مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے فرار اختیار کر رہے ہوں گے۔

عصرِ حاضر کا عالمی منظرنامہ بھی اسی حقیقت کی گواہی دے رہا ہے۔ طاقت کا عالمی توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ جو ریاستیں علم، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی علوم اور ڈیجیٹل معیشت کے نئے تقاضوں کو بروقت سمجھ کر اپنے تعلیمی، معاشی اور ریاستی ڈھانچوں کو ازسرِنو تشکیل دے رہی ہیں، وہ مستقبل کی قیادت سنبھالتی جا رہی ہیں۔ اس کے برعکس جو معاشرے اب بھی ماضی کے سانچوں میں حال اور مستقبل کو قید کرنا چاہتے ہیں، وہ داخلی اضطراب، فکری جمود اور عالمی انحصار کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔

تیسری دنیا، بالخصوص پاکستان، اس حقیقت کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ہمارے بیشتر سیاسی، تعلیمی، معاشی اور فکری مباحث اب بھی گزرے ہوئے زمانوں کے حوالوں میں الجھے ہوئے ہیں، جبکہ ہمارے نوجوان ایک ایسے مستقبل کے دروازے پر کھڑے ہیں جس کی زبان مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت اور عالمی ربط ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مراجعت پسندی اور مستقبل بینی کا فرق سب سے نمایاں ہو جاتا ہے۔

میرے نزدیک آنے والے زمانے کی کامیاب قومیں وہ نہیں ہوں گی جو تبدیلی کی مزاحمت کریں گی، بلکہ وہ ہوں گی جو تبدیلی کو سمجھیں گی، اس کی سمت متعین کریں گی اور اسے اپنی تہذیبی اقدار اور اخلاقی بنیادوں کے تابع کر دیں گی۔

شاید اسی لیے میں تہذیبوں کی بقا کا اصل اصول طاقت یا وسائل میں نہیں بلکہ تطابق (Adaptation) میں دیکھتا ہوں۔ فطرت ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ بقا ہمیشہ سب سے طاقتور کا مقدر نہیں بنتی، بلکہ اس کا جو بدلتے ہوئے ماحول کے ساتھ سب سے بہتر ہم آہنگ ہو سکے۔ تہذیبوں پر بھی شاید یہی اصول صادق آتا ہے۔

میرا گمان ہے کہ تہذیبیں اس وقت نہیں مرتیں جب ان کے پرانے مراکز کمزور پڑتے ہیں؛ تہذیبیں اس وقت زوال پذیر ہوتی ہیں جب وہ نئے مراکزِ علم، نئے ذرائعِ قوت اور نئے تقاضوں کو سمجھنے، ان کے ساتھ اپنا اخلاقی رشتہ قائم کرنے اور انہیں اپنی تہذیبی اقدار کے تابع کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہیں۔

شاید یہی وہ مقام ہے جہاں میرا اور شہزاد صاحب کا زاویۂ نظر الگ ہو جاتا ہے۔ وہ منتشر شعور کو مربوط شعور کی طرف واپس لے جانا چاہتے ہیں، جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ تاریخ ہمیں پہلے سے مختلف نوعیت کے ایک نئے مربوط شعور کی طرف بلا رہی ہے؛ ایسا شعور جو مرکزیت کے بجائے ربط، اشتراک، مسلسل سیکھنے، اخلاقی ذمہ داری اور تغیر کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت پر قائم ہوگا۔

اگر میرا یہ گمان درست ہے تو ہمارے عہد کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ ہم شعور کی انارکی میں کیوں مبتلا ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم ارتقاء کے اس نئے شعور کو پہچاننے، اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنے اور اسے ایک بہتر انسانی تہذیب کی بنیاد بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

میرے نزدیک یہی سوال آنے والے زمانے کی سمت متعین کرے گا۔

Facebook Comments Box
ارتقاء کا شعور
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
next post
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ — شہزاد حنیف سجاول

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.