تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

افغانستان میں وہ جان چکے، پاکستان میں بھی جان لیں —- چوہدری بابر عباس

by دانش ڈیسک 20/12/2023
written by دانش ڈیسک 20/12/2023
241

صدر بش کا دور تھا اور یہاں تب زرداری صاحب صدر تھے۔ پاکستان پر ڈرونز حملوں سے مطلوب کم معصوم زیادہ خونریزیوں کا سلسلہ جاری تھا۔ جس پر زرداری حکومت کا علامتی احتجاج جاری رہتا تھا۔ مگر عوامی سطح پر حالیہ دنوں میں زیر عتاب سیاسی جماعت ہی کے علاوہ کوئی قابل ذکر مزاحمت موجود نہیں تھی جسکے نتیجے میں ایک مختصر وقفے کے لیے نیٹو سپلائی ٹو افغانستان بھی روکی گئی تھی۔

تیس جنوری 2009 کو رچرڈ ہالبروک جس کو کہ سپیشل نمائندہ افغانستان اور پاکستان مقرر کیا گیا تھا، اس نے تیس جنوری 2009 کو پاکستان کے امریکہ میں سفیر حسین حقانی کو ایک شام ڈنر پر بلایا۔یہ ہالبروک کا AFPAK پرجیکٹ کے سلسلے کا پہلا عملی قدم تھا۔ جسکا مقصد تو بہر حال کچھ اور تھا جو اس وقت موضوع نہیں ہے۔ مگر اسی ڈنر میں جب پاکستان پر ڈرونز کی بات ہوئی تو ہالبروک نے پاکستان کے لیے ایک بات کہی:

” میں سمجھ سکتا ہوں کہ پاکستانی حکومت کو اس احتجاج کی ضرورت ہے کیونکہ ظاہر ہے وہ اس پر اپنی رضامندی تو ظاہر نہیں کر سکتے۔ مگر یہ بات پاکستانی حکومت کو نہیں بھولنی چاہئیے کہ یہ احتجاج ایک بے قابو امریکی مخالف تحریک نہ بن جائے “۔

امریکی، عوامی رد عمل کے بارے میں بہت حساس ہوتے ہیں، خواہ ہو حمایت میں ہو یا مخالفت میں۔  وہ معروضیت کے گہرے مطالعہ کے ساتھ سفاک عملیت کے قائل ہیں۔ بش حکومت کے آخری ایام میں اس وقت کے افغانستان میں موجود افغان جنگ کے کماندار جنرل ڈیوڈ مکیرنن David mckiernan کا مطالبہ تھا کہ افغانستان میں تیس ہزار مزید آپریشنل فورس اور تربیتی عملہ کی کمک بھیجی جائے۔ اس وقت بش انتظامیہ اگر اس جنگ کے نتائج اور فتح کے بارے میں اگر کوئی جواب دے سکتی تھی تو صرف یہی تھا کہ ہم افغانستان میں ہار نہیں رہے۔ اور نیٹو اور امریکی فورسز اس ہار نہیں رہے والی لکیر کو بمشکل ہی تھامے ہوئے تھے۔

تیس ہزار مزید فوج کا مطالبہ پورا کرنا وہ بھی محض شکست کے خلاف مزاحمت کو بحال رکھنے کے لیے۔۔۔!

بش انتظامیہ نے یہ فیصلہ الیکشن دو ہزار نو تک موخر رکھا، متوقع نتائج کو بھانپتے ہوئے بش انتظامیہ امریکی ٹیکس دہندگان کی طرف سے نئے سوالات کو جنم نہیں دینا چاہتی تھی کیونکہ وہاں جنگوں کا حساب مانگا جاتا ہے۔ اور نہ ہی اوباما کے اعراق اور افغانستان سے فوجی انخلاء کے ارادوں کے برعکس کسی نئ پیچیدگی میں پڑنا چاہتی تھی۔جبکہ دوسری طرف افغانستان کے معروضی حالات ضرور ایسے تھے کہ اوباما کو اقتدار میں آنے کے چند روز بعد ہی انخلاء کے بجائے سترہ ہزار کی فوری فوجی کمک بھیجنا پڑی تھی۔

مگر اس تناظر میں بش کی جاتی اور اوباما کی نئی حکومت میں اہم بات بش اور اوباما کی افغان پاکستان پالیسیز میں فرق تھی۔ بش کے برعکس اوباما جو اس جنگ کا خاتمہ چاہتا تھا، کے سامنے ایک ہی سوال تھا کہ وہ کیسے اس جنگ سے کامیاب نکل سکیں گے۔ بش کے دور کے افغان کمانڈر جنرل مکیرنن افغانستان میں ایک روایتی انداز میں کاونٹر ٹیررزم کی بنیادوں پرجنگ لڑ رہے تھے۔ مگر اوباما انتظامیہ نے آتے ہی افغانستان جنگ اور پاکستان کے کردار کا انتہائی باریک بینی سے مطالعہ و مشاہدہ کرتے ہوئے تمام تر اسٹرٹیجیز کو از سر نو ترتیب دینے کا فیصلہ کیا۔ جس میں سے ایک تو پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنا شامل تھا۔ یہ انہی دنوں کی بات ہے جب ڈو مور کا تقاضا ہمیں شب و روز ہلکان کیے ہوئے تھا۔ دوسرا اس نئی پالیسی کا اہم ترین جز افغانستان میں ایک ایسی نئ حکمت عملی کا آغاز تھا جو بیک وقت مخلتف سمتوں میں کام کر کے مطلوبہ نتائج پیدا کر سکے۔ اور وہ نئی حکمت عملی، کاونٹر انسرجنسی، کرزئی پر گڈ گورننس کا پہلے سے زیادہ پریشر اور سب سے اہم اور ناگزیر جز افغان عوام کی حمایت کا حصول تھا۔ جنرل مک کرسٹل کے نام سے کون نہیں واقف، یہ جنرل مکیرنن کی جگہ اوباما انتظامیہ کا نیا افغان کمانڈر تھا جو اسی حکمت عملی کا قائل تھا کہ کاونٹر انسرجنسی کے ساتھ ساتھ افغان تعمیر نو، افغان آرمی اور پولیس کی تشکیل و تربیت کو جنگی حکمت عملی میں شامل کر کے ہی یہ جنگ نتیجہ خیز بنائ جا سکتی ہے۔

معذرت کے ساتھ، یہی اس قدرے طویل تمہید کا مقصد تھا جو بات واضح ظاہر کرتی ہے کہ امریکی اپنی عوام کی مخالفت کا تو تصور بھی نہیں کر سکتے مگر ملک سے باہر بھی وہ اپنے مقاصد کی راہ میں کسی بھی ریاست جہاں انکی مداخلت اپنا اثر رسوخ رکھتی ہے اور اس ریاست کی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہوتی ہے وہاں کے عوام کی ایک blunt مخالفت کے حامی نہیں ہو سکتے۔ جسکا احساس اور ادراک اوباما حکومت کی نیو افغان پالیسی میں واضح دیکھا گیا تھا۔ جیسا کہ اوپر ہالبروک کا زرداری کو اس وقت کے ڈرونز حملوں کی صورت میں جو کہ براہ راست پاکستان کی سالمیت پر حملہ تھے، جیسی انتہائ سنگین صورت حال میں بھی پاکستانی احتجاج کو ایک حد میں ہی رکھنے کی تنبیہ اور اسکو کسی صورت اینٹی امیرکنزم تحریک نہ بننے دینے کی ہدایت دینا اسی بات کو ثابت بھی کرتا ہے۔ کیونکہ ایک بے ضرر اور محدود درجہ کے احتجاج سے تو کسی خط، فون کال یا زیادہ سے زیادہ محلاتی انتظام کے زریعے نمٹا جا سکتا ہے، جسکی کبھی امریکہ کو پرواہ بھی نہیں رہی۔اور اب تک یہ سارا سلسلہ کامیابی سے چلتا بھی رہا ہے۔

مگر اب اگر اسی امریکی اپروچ کو پاکستان کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں دیکھیں تو فرض ہی اگر کر لیں کہ رجیم چینج امریکی اور اندرون ملک ہمنوا آلہ کاری کی خواہش کی مہم تھی تو اس وقت اس بات میں کوئی شک نہیں رہا کہ پاکستان میں اس وقت امریکہ مخالف جذبات پاکستان کی تاریخ میں اپنی بلند ترین سطح پر ہیں جن میں مزید تشویش کی بات اس بار ان جذبات کا عملی اظہار ہے، جو کسی مسلح ملی ٹینسی کی صورت میں نہیں بلکہ سماجی، شعوری اور اب عملی سیاسی تحریک کی سطح پر آ چکے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اس وقت پاکستان کے حوالے سے امریکہ کو پہلی بار پریشان کئیے ہوئے ہے اور اس مشکل صورت حال نے اندرون ملک بندوبست کے لیے بھی انتہائی مشکل حالات پیدا کر دئیے ہیں۔

یہی نتائج ہوتے ہیں جب ریاست کے بجائے افراد یا چند مخصوص ادروں کی انگیجمنٹ سے کسی ریاست کو ڈیل کیا جائے۔اور دوسری طرف طفیلی اور مفعولی ریاست کے ارباب اختیار کی طرف سے ماورائے آئین و عوام مخصوص کپیسٹیز میں “ملک مخالف مگر بحق اغیار” ریاستی فیصلے کئے جائیں۔

امریکہ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ پاکستانی حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار رکھتا ہے، جیسے بش انتظامیہ کے بعد اوباما انتظامیہ کو افغان جنگ میں حکمت عملی تبدیل کرنا پڑی تھی آج بائیڈن انتظامیہ کو بھی ضرور پاکستان سے متعلق پالیسی تبدیل کرنے کی ضرور پڑے گی، اور ان کو توجہ کے مراکز تبدیل کرنا پڑیں گے۔ بات پاکستانی عوام سے کرنا پڑے گی، بات ریاست کو ریاست سے کرنا پڑے گی۔

یہی موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن تب باراک اوباما کے نائب صدر تھے اور اوباما کی حلف برداری سے پہلے ہی منتخب صدر اوباما کے حکم پر پاکستان اور افغانستان کے لیے آئندہ کی حکمت عملی کی تیاری کے متعلق مطالعاتی دورے پر آئے تھے اور یہ وہ نائب صدر تھے جو اوباما کے سترہ ہزار فوجی بھیجنے کے فیصلے کے بھی خلاف تھے اور خالص سیاسی حل کے خواہاں تھے۔ صرف سیاسی حل۔

اگرچہ درست ہے کہ امریکی بیک وقت گاجر اور چھڑی کی پالیسی کے قائل ہیں، جبکہ اس بار پاکستان کی عوام کا مطالبہ گاجر سے بھی چھٹکارے کا ہے چہ جائیکہ صرف چھڑی سے انکو ہانکا جائے؟ افغانستان میں وہ جان چکے تھے پاکستان میں بھی جان جائیں۔

افغانستان میں وہ جان چکے تھے کہ یہ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جا سکتی، یہ جنگ صرف دہشت گری کے خلاف جنگ نہیں ہے یہ جنگ مذہب، تہذیب اور نظریہ حیات کے تصادم کی جنگ ہے۔ جنرل جیم جونز جو سابقہ نیٹو کمانڈر اور اوبامہ کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر تھے، جن ایام میں اوباما انتظامیہ اپنی نئ افغان پالیسی پر کام کر رہی تھی، اپنے ایک افغانستان، پاکستان اور بھارت کے دورے پر ایک پرواز کے دوران گویا ہوئے،

“ٰt is certainly a clash of civilization, it is a clash of religions.it is clash of almost concepts how to live”. The conflict is that deep, so i think if you don’t succeed in Afghanistan, you will be fighting in more places.

ایسے ہی پاکستان میں موجودہ حالات کسی سیاسی عدم استحکام اور محض کسی حکومت کا گرنا نہیں رہے، صورت حال اب حالات کو ایسے موڑ پر لے آئی ہے کہ اس نے اب ان حالات کو چوبیس کروڑ عوام کے حقوق کی جنگ، معیشت کی جنگ، سالمیت، انصاف، آزادی اور حمیت کی جنگ بنا دیا ہے۔ اور اگر بدقسمتی سے اب اس جنگ میں عوام کو کسی بھی ناجائز طریقہ سے شکست سے دو چار کیا گیا تو یہ جنگ بیک وقت کئی نئے محاذ کھول دے گی، جن کا تصور کرنا بھی محال ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے جنرل جونز کہتا ہے کہ اگر ہمیں افغانستان میں شکست ہو گئی تو یہ جنگ اشیاء سے خلیج اور افریقہ تک پھیل جائے گی اور ہمیں اعراق اور افغانستان کے ساتھ ساتھ اور کئی محاذوں پر لڑنا پڑے گا۔

حل کی طرف بڑھا جائے تصادم سے نقصان ہو گا۔ عوام اور ادارے ہی ریاست ہوتے ہیں ریاست کو کمزور نہیں مضبوط کرنے کی طرف بڑھا جائے۔ زندہ معاشروں میں سیاسی عمل ایک جبلی تقاضا ہوتا جس پر بند نہیں باندھے جا سکتے۔کبھی بھی نہیں۔ اور دنیا سے بھی ہم بات ایک مستحکم منتخب حکومتی کی موجودگی میں کر سکتے ہیں، وہ بات جو صرف اس ریاست کے مفاد کی بات ہوگی۔

Facebook Comments Box
Anti USPakistan Regime ChangeRegime ChangeUS-AfghanistanUS-Pakistanافغانستانامریکاپاک امریکارجیم چینج
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —- سہیل بلخی
next post
نواحِ کاظمہ: قصیدہ بردہ شریف، نجیبہ عارف کامنظوم اردو ترجمہ — نعیم الرحمٰن

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.