ترک قوم اپنا قومی دن منا رہی ہے اور ہمارے ہاں بھی اس حوالے سے تبریک و تہنیت کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ اس موقع پر چند خوبصورت یادوں نے جمع ہو کر دل دماغ میں بھی خوب چراغاں کیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر معلوم ہوا کہ اسلام آباد کے کسی اشاعتی ادارے نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حلیہ شریف کے طغرے تیار کروائے ہیں۔ ان کی تصاویر دیکھ کر فورا منگوانا چاہا مگر اس کام کو پورا ہونا تھا لاہور انٹرنیشل بک فیئر کی پر بہار چہل پہل کے دوران، جہاں محترم شاہد اعوان صاحب سے معلوم ہوا کہ انہوں نے ہی وہ طغرے شائع کیے ہیں اور وہیں اپنے ادارے کے اسٹال سے ہمیں چند نسخے عطا بھی کر دیے۔
اس کے بعد رواں برس ربیع الاول شریف میں ایک دوست نے سوشل میڈیا پر ایک عظیم تُرک محقق، فلسفہ دان، مسلم آرٹ کے مؤرخ و مصنف اور خطاط، جناب پروفیسر فاتح اوزقافا کے چند فن پارے شیئر کیے جن میں اسم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خوبصورت خطاطی کی گئی تھی۔ جب خطاط کی وال کو دیکھا تو ان میں سے کئی اور بھی ایسے فن پارے نظر آئے جن کو اپنے پاس محفوظ کر لیا اور اپنے گھر کی محفل میلاد شریف میں ان کی وجہ سے کیف و سرور دوبالا ہو گیا۔ جناب فاتح اوزقافا کی وال کو ملاحظہ کرتے ہوئے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ محترم شاہد اعوان صاحب نے انہی کا فن پارہ شائع کیا تھا جس میں عربی کے بجائے اردو میں حلیہ مبارک شامل کیا گیا ہے۔
آپ نے یہ مصرع تو بارہا سنا ہو گا کہ ‘اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں’ لیکن پروفیسر فاتح نے اس کو سچ کر دکھایا ہے۔ یوں کہ جیسے یہ مصرع شاعر کی طرف سے انہی کے لیے ایک خاص طرز کا تاکیدی حکم ہو۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا حلیہ مبارک یوں تو متعدد احادیث میں بیان ہوا ہے اور اس موضوع پر الگ سے لاتعداد کتب لکھی جا چکی ہیں لیکن ان میں سے موجودہ ازبکستان کے شہر ترمذ کے عظیم محدث امام ترمذی نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حلیہ مبارک اور اخلاق و عادات کریمہ کو بیان کرنے کے لیے ایک الگ کتاب ‘شمائل محمدیہ’ کے نام سے لکھی ہے اور یہ کتاب مقبولیت اور شہرت میں کم و بیش بارہ سو سال سے اپنی مثال آپ ہے۔ اس میں کچھ احادیث مولائے کائنات سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے اور ان کے شہزادے امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہیں۔ اور امام حسن نے اپنے ماموں یعنی حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت ابو ہالہ رضی اللہ عنہ سے بھی اس بارے میں کچھ احادیث روایت کی ہیں۔ یہ حضرت ابو ہالہ جب سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا حلیہ شریف بیان کرتے ہیں تو کمال کر دیتے ہیں۔ لیکن فی الحال ہم مولا علی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کی بات کریں گے کیونکہ پروفیسر فاتح نے اسی حدیث سے متذکرہ بالا فن پارہ بلکہ متعدد فن پارے تخلیق کیے ہیں ۔ انہوں نے حلیہ مبارک کی اس حدیث کو ایسے ایسے انداز سے لکھا ہے اور لکھ لکھ کر سجایا اور سنوارا ہے کہ آدمی سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ جن کے حلیے کی خطاطی ایسی دلنشیں ہے وہ خود کیسے حسین و جمیل ہوں گے۔ یقینا ہمارے خطاط نے مذکورہ بالا مصرع سچ ثابت کر دکھایا ہے۔ ترک قوم کا عشق رسول صدیوں سے مثالی رہا ہے اور ہمارے بلاد جیسا نہیں، بلکہ نہایت مہذب رہا ہے اور اب بھی اس کا جواب نہیں۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ترک خطاط کو طرح طرح کے خوبصورت طریقے، رنگ، ڈیزائن، سائز، پھول بُوٹے، بیلیں اور کئی حسین سے حسین رسم ہائے خط میں حلیۂ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم والی حدیث کی خطاطی کر کے بھی قرار نہیں آتا اور وہ وقتا فوقتاً کوئی نئے سے نیا انداز لیکر بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں نذرانہ پیش کرتے رہتے ہیں۔ اس وقت ترکیہ کا قومی دن بھی منایا جا رہا ہے اور عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پاک ترک اقوام و ممالک کا مشترکہ ورثہ ہے۔ اس لیے سوچا کہ ان فن پاروں کو خراج تحسین پیش کر کے اپنی محبت کا اظہار کیا جائے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس حدیث مبارک کا ترجمہ بھی پیش کیا جائے لیکن عربی زبان و ادب کا یہ ادنی طالب علم کیا ترجمہ کر سکتا ہے، جبکہ پاکستان کے نامور ادیب و نقاد محترم محمد حمید شاہد صاحب نے انہی احادیث سے استفادہ کر کے، تقریبا ترجمے کے انداز میں، لیکن عشق سے بھرپور انداز بیان کے ساتھ حلیہ شریف لکھا ہے اور اصل بات یہ ہے کہ اب ان کے بیان کے آگے اپنی کوئی مجال نہیں، ان جیسا انداز بیان تو نصیب، نظر اور دعاؤں سے عطا ہوتا ہے ۔ لہذا ان کی کتاب ‘پیکرِ جمیل’ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں سے چند وہ جملے ملاحظہ کیجیے جو فن پارے میں حدیثِ مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ترتیب سے شامل ہیں لیکن پیکر جمیل میں سے ان کو چن کر یکجا کیا گیا ہے جن جملوں کا ترجمہ ان کی کتاب میں نہیں ملا ان کا ترجمہ قوسین میں کر دیا ہے:
“میانہ قد، نہ زیادہ طویل اور نہ ہی پست کہ آنکھوں کو بھلا نہ لگے۔ لوگوں میں کھڑے ہوتے تو ممتاز نظر آتے۔ بال نہ تو بالکل سیدھے کہ تنے ہوئے معلوم ہوں اور نہ ہی زیادہ پیچ دار کہ الجھے الجھے لگیں بلکہ ہلکا سا لطیف خم لیے ہوئے۔ پیٹ نکلا ہوا نہیں بلکہ سینے کے ساتھ ہموار۔ چہرہ چودہویں رات کے ماہِ درخشاں کی طرح تاباں اور بدر کی سی گولائی لیے ہوئے۔ رنگ ملاحت دار، روشن، کہیں کہیں سرخی چھلکتی ہوئی۔ بڑی، خوبصورت سیاہ آنکھیں، لانبی پلکیں۔ تر و تازہ متناسب بدن، جوڑوں کی ہڈیاں مضبوط اور فراخ۔ سینہ فراخ، کندھے گوشت سے بھرے ہوئے۔ (جسم پر زیادہ بال نہیں تھے، سینے پر بالوں کا ایک خط تھا) ہتھیلیاں چوڑی، انگلیاں دراز اور مضبوط مگر پُر گوشت۔ رفتار باوقار، نپے تلے قدم، گھسیٹنے کے بجائے اٹھا کر اور زمین پر جما کر رکھتے جیسے زمین وفور الفت سے قدموں کے ساتھ لپٹی جا رہی ہو۔ (کسی جانب توجہ فرماتے تو مکمل طور پر۔ کندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی کہ آخری نبی تھے) انتہا درجے کے فیاض تھے کہ جو ہاتھ آیا راہِ خدا میں لٹا دیا۔ لہجہ حقیقی، بناوٹ سے کوسوں دور۔ خندہ رو تھے، خشک مزاج نہ تھے۔ (رہن سہن میں سب سے زیادہ باوقار۔ اگر کوئی اچانک دیکھتا تو ہیبت زدہ ہو جاتا۔ لیکن جو ذات عالی وقار کو پہچان کر دیکھتا، عاشق ہو جاتا۔ جو کوئی بھی ذکر خیر کرتا یہی کہتا کہ اگلوں پچھلوں میں آپ کی کوئی مثال نہیں)
شاید یہ خاکسار ترکیہ کے قومی دن پر اس سے بہتر طریقے سے اظہار محبت نہیں کر سکتا، بلکہ یقینا نہیں!
