تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

میرا بچپن اور بچوں کی تربیت کا روایتی اسلوب —- احمد جاوید

by دانش ڈیسک 30/10/2021
written by دانش ڈیسک 30/10/2021
293

بچوں کی تربیت کے حوالے سے اگر یہ کہا جائے کہ ہم نے ماضی کے کچھ مثبت عناصر کو حال میں چھوڑ دیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔

بچپن میں جس طرح میری تربیت ہوئی، اس کی تھوڑی سی جھلک آپ کے سامنے پیش کرنے سے طریقہ تربیت عملی طور پرآپ کے سامنے آ جائے گا۔ چار سال کی عمر میں میرا داخلہ پہلی جماعت میں، گاؤں کےایک اسکول میں کروایا گیا۔ وہاں ایک استاد پڑھاتے تھے جن کا نام افضل نائب جی تھا۔ افضل نائب جی نے مجھے کسی بات پے کہا کہ تم بچھانے کے لیے ٹاٹ کیوں نہیں لائے؟ میں وہاں کچی زمین پرہی بیٹھ گیا تو انھوں نے تھوڑا سا ڈانٹ کر تنبیہ کی کہ “کل بیٹھنے کے لیے کوئی چیز لے کر آنا “۔ مجھے اس سے بڑا صدمہ پہنچا۔ میرے داد بااثر آدمی تھے۔ میں نے گھر آکر اپنی دادی سے استاد کی شکایت کی کہ مجھےانھوں نے سب لڑکوں کے سامنے ڈانٹا ہے۔ میری دادی کو یہ بات مجھ سے محبت کی وجہ سے بُری لگی۔ دادا جی کے گھر آنے پر انھوں نےان سے شکایت کر دی کہ “بھئی آپ افضل نائب جی کوسمجھائیں کہ یہ آپ کا پوتا ہے”۔ اس پر انھوں نے مجھے بلوا کر سوال کیا کہ” یہ سب تم نے اپنی دادی کو بتایا ہے”؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ میں سمجھا کہ اب یہ افضل نائب جی کو بلوائیں گے۔ انھوں نے میرے دونوں ہاتھ پکڑے اور میرے منھ پر زوردار طمانچہ رسید کیا اور کہا تم جانتے ہو افضل نائب جی کون ہیں؟ افضل نائب جی کے پاؤں سے اُٹھنے والی مٹی اپنے مرتبے میں مجھ سے بلند ہے۔ اور خبردار آئندہ اس طرح استاد کی شکایت کی۔ افضل نائب جی کے بارے میں مجھے بہت بعد میں پتا چلا کہ وہ آئی۔ سی۔ ایس تھے لیکن انھوں نے اسے چھوڑ کر مسلمان بچوں کی پرائمری تعلیم کا نظام صحیح کرنے کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔ انھوں نے یو۔ پی میں بچوں کی تعلیم کے لیے دیہات میں ایک تحریک چلائی تا کہ بچپن سے ہی بچے تعلیم کے لیے پوری طرح اہل ہوں اور ان کے مقاصدِ زندگی متعین ہو جائیں۔

ہماری تربیت کا ایک حصّہ یہ چار برس کی عمر کا ہے۔ میرے دادا کے پاس بہت سی کتابیں تھیں میں ان کتابوں میں اکثر گھس جاتا تھا۔ ایک دن میں نے اپنے گھر کے ستونوں پر کوئلے سے آڑی ترچھی لکیریں لگائیں اور انھیں بھر دیا۔ اپنی دانست میں، میں نے انگریزی لکھی تھی۔ میں نے جب یہ کاروائی کی اس وقت سفید کلی نئی نئی ہوئی تھی۔ دادا کی بیٹھک بھی وہیں تھی اس لیے سب گھبرا گئے کہ اب پتا نہیں دادا کیا کہتے ہیں۔ جب انھوں نے دیکھا تو مجھے اپنے پاس بلوایا۔ میں بہت ڈر گیا انھو ں نے کہا “یہ تم نے کیا لکھا ہے”؟ میں نےجواب دیا “میں نے انگریزی لکھی ہے” تو اس پر وہ ہنسنے لگے۔ شاذو نادرہی ایسا ہوا ہو گا کہ انھوں نے کبھی ہمارے سر پر ہاتھ پھیرا ہو۔ اس دن سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا کہ “لکھنے کا کام کاغذ پے کیا کرو”۔ کاپی قلم میں تمہیں دلواؤں گا۔

بالکل بچپن میں تربیت کے یہ جو دو مظاہرے میرے سامنے ہوئے انھوں نے میری شخصیت بنانے میں سنگِ بنیاد کا کام کیا۔ ایک تو یہ کہ استاد کا ادب کیا ہوتا ہے؟ استاد کی عزت کیا ہوتی ہے؟ دوسرا یہ کہ اگر علم کا شوق جاہلانہ جذبے سے بھی ہو تو پرانے لوگ اس کی تحسین کرتے اور اصلاح کر کے حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔

اگر علم کا شوق جاہلانہ جذبے سے بھی ہو تو پرانے لوگ اس کی تحسین کرتے اور اصلاح کر کے حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔

میرے دادا کے ایک چھوٹےسگے بھائی علی ظہیر صاحب عثمانی بہت درویش آدمی تھے۔ ان کی شخصیت میں بہت سی چیزیں جمع تھیں، مثال کے طورپر وہ ایک طرف آل انڈیا ٹیم کے کھلاڑی تھے اور دوسری طرف بیشتر بڑی مشرقی زبانیں جانتے تھے یعنی انگریزی کے علاوہ وہ سنسکرت، عربی اور فارسی سے بھی واقف تھے۔ انھیں دنیا سے بالکل رغبت نہ تھی۔ وہ شاعر بھی تھے اور باقاعدہ شاعری کیا کرتے۔ اصغر گونڈوی کو استاد مانتے تھے۔ میں کوئی سات آٹھ برس کا ہوں گاجب ان کی کشش کی وجہ سے میں ان کے گھر زیادہ اور اپنے گھرکم رہتا تھا۔ ان کا نماز، تہجدوغیرہ پڑھنے کا حجرہ جس کا فرش کچی مٹی کا لپا ہوا تھا، مجھے اس میں بٹھا کر عجیب عجیب اسرار اور روحانی حقائق کی باتیں کیا کرتے تھے۔ جو ان کی طرف کشش کا محرک تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ” میں یہ تمہارے اندر میں منتقل کر رہا ہوں”۔ کم عمری کے سبب مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔ انھوں نے میرا نام جاوید سرمدی رکھا۔ مجھے اس وقت بس اتنا محسوس ہوتا کہ میرے لیے یہ سب سے زیادہ پُر کشش آدمی ہے۔ جیسے بچہ اپنی پسندیدہ چیزوں کی طرف لپکتا ہے اسی طرح میں آنکھ کھلتے ہی ان کے گھر کی طرف لپکتا۔ اس سےمجھے بڑے ہو کر ایک اُصول کا پتا چلا۔ احساس ہوا کہ شخصیت کی تبدیلی بڑوں سے تاثرات کی منتقلی سے ہوتی ہے۔ یعنی وعظ و نصحیت اور تعلیم وغیرہ بچے کی تربیت میں ثانوی حیثیت رکھتے ہیں ۔ علی ظہیر عثمانی صاحب جیسا بڑا اس مقصد سے محبت آپ کے قلب میں اُتار دیتا ہے، جس کے لیے آپ کی تربیت کی جا رہی ہو اور جو احوال کواپنی سچائی کی وجہ سے آپ میں منتقل کرنے کے لائق ہو۔

 کوئی بھی سچا آدمی اپنے احوال کو دوسروں میں منتقل کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اچھی صحبت کی تاکید کی جاتی ہے۔
ہمارے بڑے بہت ہی بصیرت اور فراست سے بڑی باتوں کی قبولیت کا مزاج پیدا کردیتے تھے۔

 کوئی بھی سچا آدمی اپنے احوال کو دوسروں میں منتقل کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اچھی صحبت کی تاکید کی جاتی ہے۔ دوسرا یہ کہ تربیت سے ذہن بننے کا عمل شروع تو ہو جاتا ہے لیکن اس وقت وہ بچے کے ذہن میں نہیں آتا۔ میرے ذاتی تجربے کے مطابق تربیت کا مقصد بچے اور اس کی نفسیات میں کچھ خصائص پیدا کرناہے۔ خصائص کا مطلب عارفانہ خصائص، علم سے محبت کی خصوصیت، عاشقانہ اوصاف کے میلانات کو پیدا کرنا۔

ہمارے بڑے بہت ہی بصیرت اور فراست سے بڑی باتوں کی قبولیت کا مزاج پیدا کردیتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مجھے بہت سے شعر یاد ہو جاتے تھے کیوں کہ ماحول ایسا تھا۔ یہ کچھ ایسی چیزیں ہیں کہ آدمی ان مثالی شخصیات کو حاصل کرنے کے لیے آئندہ زندگی میں ذہن کو مصروف رکھتا ہے، وہ مثالی شخصیات ذہن میں آنےسے پہلے اپنا ذائقہ چکھوا دیتی ہیں۔ اگر ہم کہیں کہ اس وقت چلن کیا تھا، نصحیت کیا تھی؟اور کن چیزوں کی پابندی کی تلقین اور نگرانی کی جاتی تھی؟ ان میں بڑوں کا ادب، چھوٹوں پر شفقت، اور ماں، باپ، بھائی، بہنوں اور رشتہ داروں سے ایسی محبت جو آپ کو ایثار پر، ان کے لیے قربانی دینے پر اُکساتی رہے۔ استاد سے محبت اور احترام خوف کے غلبے کے ساتھ، یعنی استادسے ڈر لگتا ہے اس کی محبت کو کم کیے بغیر۔ اس کے بعد ایک بہت بڑا عنصر یہ تھا کہ گھر، مدرسے اور اسکول میں جو کچھ آپ کو سکھایا گیا یعنی شخصیت کے فضائل کی جو فہرست آپ کو دی گئی اُس میں معاشرہ مدد دیتا تھا، رکاوٹ نہیں بنتا تھا۔ یہ آج کا بہت بڑا مسئلہ ہے کہ ہم حُجرے میں تربیت تو کر لیتے ہیں لیکن بازار میں جا کر اُس تربیت میں سوائے ناکامی کے اور کسی چیز کا تجربہ نہیں ہوتا۔

تربیت کے لیے یہ وہ چند چیزیں تھیں جو میرے خیال میں نہایت قابل غور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  نوجوانوں سے کچھ فکر انگیز باتیں —– احمد جاوید


یہ بھی دیکھئے:   میرے اساتذہ کا کردار، مزاج اور طریقہ تعلیم ـ احمد جاوید

Facebook Comments Box
Ahmad JavaidEducation of Childrenfeaturedاحمد جاوید صاحببچوں کی تربیتتعلیم و تربیت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
غلیل —- خالد بلغاری کا افسانہ
next post
فقط دو فیصد ٹیکس دہندگان کا ملک —– نعیم صادق

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.