Connect with us

تازہ ترین

غلیل —- خالد بلغاری کا افسانہ

Published

on

خزاں کے آخری دن تھے۔

برف ابھی نہیں پڑی تھی مگر دن چھوٹے ہوچکے تھے اور سردی خاصی ہونے لگی تھی۔ ہلکی سی بھی ہوا چلتی تو زرد پتے درختوں سے گرنے لگتے۔ گاؤں کے ساتھ والے جنگل کے فرش پر ان خشک پتوں کی ایک موٹی تہہ جم گئی تھی۔ گاؤں کے لوگ برف پڑنے سے پہلے پتے سمیٹ کر جانوروں کے لیے ذخیرہ کرنا چاہتے تھے۔ وہ موٹے تنکوں والے لمبے جھاڑو لیکر پہلے مختلف جگہوں پر پتوں کے ڈھیر لگاتے پھر ایک بڑی سی چادر پر وہ سارے پتے ڈال لیتے اور گٹھڑی بنا کر گھروں کو لے جاتے۔

سہ پہر کا وقت جمیل کو ہمیشہ اداس کردیتا تھا۔ خاص طور پر اِس موسم میں جب کان سرخ کردینے والی ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں اور درخت اپنے سب پتے گرا کر ٹنڈ منڈ سے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

اسے تقریبا یقین تھا، اگرچہ اس نے کبھی کسی سے اسکا ذکر نہیں کیا کہ بغیر پتوں کے یہ سب درخت رات بھر آسمان کی طرف اپنی ننگی شاخیں اٹھائے فریاد کرتے رہتے ہیں۔ وہ اپنی کرخت چوبی زبانوں میں بس یہ بات دوہراتے رہتے ہیں کہ ہمیں سردی لگ رہی ہے، ہمیں سردی لگ رہی ہے۔ کسی کو مگر انکی آواز سنائی نہیں دیتی یاشاید لوگ ان سنی کر دیتے ہیں۔

دوپہر کا کھانا کھا کر وہ گھر کے دروازے کے باہر بڑے پتھر پر بیٹھا یہ باتیں سوچ رہا تھا۔

"لیاقت پہنچ چکا ہوگا۔۔ ”

اس کو خیال آیا اور وہ اٹھ کر جنگل کے راستے پر ہولیا۔ جنگل زیادہ دور نہیں تھا۔ آج پتے سمیٹنے والی کوئی ٹولی نظر نہیں آرہی تھی۔ جنگل کے فرش کو خشک پتوں نے ڈھانپ کر زرد کردیا تھا اور اسکے پاؤں کے نیچے ان کے ٹوٹنے کی آواز سے شور ہورہا تھا۔

بڑی چٹان کے پاس ہی اسے لیاقت مل گیا۔

وہ زمین سے پتے ہٹا کر کنکر چن رہا تھا۔

جمیل نے اسے اپنے جمع کیے ہوئے کنکر دکھائے۔

اور وہ دونوں آگے چل دئے۔

دو دنوں سے جمیل کو کچھ اطمینان تھا کہ سب سے مشکل کام ہوگیا ہے۔ جو پانچ روپے اسے ابا سے انعام کے طور پر ملے تھے اُن کے ربڑ کی دو سرخ پٹیاں وہ خرید کر سنبھال چکا تھا۔ چمڑے کا کوئی ٹکڑا کاٹھ کباڑ والے سٹور سے مل جائے گا، اسے امید تھی۔ لکڑی کی دوکھٹی کیلیے بھی اس نے سوچ رکھا تھا کہ دو شاخوں والی کوئی ٹہنی کاٹ کر بنا لے گا۔ مسئلہ اصل میں غلیل بنانے کا تھا۔

"تم سے نہیں ہوتا یار مجھے واپس کرو۔”

وہ دونوں تھوڑا ہی آگے گئے ہونگے جب لیاقت نے اپنا غلیل اُسکے ہاتھ سے تقریباً چھینتے ہوئے کہا۔ اسکا دل بجھ سا گیا۔ ابھی اُس نے ایک دفعہ ہی غلیل چلائی ہوگی۔ اُسے اپنا بھائی بہت یاد آیا۔ کاش برف پڑنے سے پہلے وہ ایک دفعہ گاؤں کا چکر لگا جائے۔ "میں منت کرکے اس سے غلیل بنوالوں گا ”

اس نے لمحہ بھر کیلیے سوچا۔

برف پڑنے کے بعد درّہ عبور کرنا ممکن نہیں رہتا تھا۔ اِدھر کے لوگ اِدھر رہ جاتے اور اُدھر کے اُدھر۔

چھوٹے چھوٹے کنکروں کو جیب میں بھر کے وہ دونوں بیری کے درختوں کے بیچ گھومتے رہے۔ "پچھلی سردیوں میں اُس درخت کے اوپر مجھے دو کبوتر ملے تھے” لیاقت نے ایک درخت کی طرف اشارہ کرکے اپنے شکار کی کہانی سنانی شروع کردی۔ جمیل جانتا تھا کہ وہ سب کہانیاں جھوٹی ہیں مگر چپ چاپ سنتا اُس کے پیچھے چلتا رہا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ لیاقت خفا ہوجائے۔ اُس کی جیب کنکروں سے بھری ہوئی تھی لیاقت نے ایک دفعہ ہی اسے غلیل چلانے کو دی تھی اور پھر چھین لی تھی.

شش شش۔ وہ ان درختوں کے پاس پہنچے ہی تھے جب لیاقت نے اپنے منہ پر انگلی رکھ کر اشارہ کیا۔ بیری کے خشک پتوں پر چلنے سے شور خاصا ہورہا تھا۔ جمیل جہاں تھا وہیں ساکت کھڑا ہوگیا۔ اس نے دیکھا کہ لیاقت نے ایک درخت کی اوٹ لے لی ہے۔ پھر اس نے بڑی خاموشی کیساتھ جیب سے کنکر نکال کر غلیل میں بھرا، درخت کے تنے پر ہاتھ ٹکا کر غلیل کو کھینچا۔ خوب پیچھے کھینچ کر چھوڑا تو چھپاکے کیساتھ غلیل سے پتھر نکلا اور پتوں کے درمیان گم ہوگیا۔ اُسی وقت تین چڑیاں درخت کی شاخوں سے نکل کر اگلے جھنڈ کی طرف اڑ گئیں۔ ہر دفعہ کی طرح لیاقت نے اس بار بھی سر ہلا دیا۔ "بالکل پاس سے گذر گیا یار۔ کنکر زیادہ باریک تھا "۔

اس کے پاس کئی قسموں کے بہانے ہوتے تھے مگر جمیل غلیل کے لالچ میں اس سے اختلاف نہیں کرنا چاہتا تھا۔

اب مجھے بھی ایک دفعہ دے دو یار میں بھی۔”۔”

جمیل نے مجبور ہوکر پھر کہنا چاہا۔

اب کچھ نظر آیا تو تم چلا لینا“۔”

لیاقت نے گردن اونچی کرکے ںظروں سے اُن چڑیوں کا تعاقب کرتے ہو اوپری آواز میں کہا مگر غلیل نہ پکڑائی۔

کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔ درختوں سے بچے کھچے پتے گرنے کی آواز آتی رہی یا خشک پتوں پر ان دونوں کے قدموں کی آواز۔

شام ہورہی ہے چلو واپس چلیں۔ کل پھر آئینگے”۔ ”

لیاقت یہ کہہ کر واپسی کیلیے مڑا۔ چڑیاں اب نظر نہیں آرہی تھی۔ وہ دور کسی جھنڈ میں جاکر شور مچا رہی تھیں.

جمیل کی امیدوں پر اوس سی پڑ گئی۔

روز شام کو یہی کہتا ہے اور اگلے دن پھر کل آئینگے کہہ دیتا ہے۔”

کیا میں لیافت کے چچا سے ہی بنوالوں غلیل؟

جمیل کو یہ خیال دوسری دفعہ آیا۔

مگر ساتھ ہی اسے اپنے بھائی کی تنبہیہ بھی یاد آگئی

"عبدالرحیم سے دور رہنا۔ کبھی اسکے پاس مت جانا”

جمیل کا بھائی کئی بار اسے سمجھا چکا تھا۔

لیاقت کا چچا عبدالرحیم، جمیل کے بڑے بھائی شکیل کا کلاس فیلو تھا اور پچھلے چند سال سے محکمہ جنگلات میں فارسٹ گارڈ کے طور پر کام کررہا تھا۔ وہ سارا دن رائفل کندھے پر رکھ کر جنگل میں گھومتا رہتا تھا۔ جنگل کی مشرقی سمت کا وہ اوپری حصہ جہاں سے اونچے پہاڑ شروع ہوجاتے تھے اور جہاں چیڑ اور دیودار کے درخت چوٹی تک پھیلے ہوئے تھے، وائلڈ لائف کا علاقہ تھا۔ اُن پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف گرمی کے موسم میں بھی نہیں پگھلتی تھی۔ کہا جاتا تھا کہ وہاں مارخور اور چیتے رہتے ہیں۔ جمیل کو کبھی نظر تو نہیں آئے تھے سوائے اُن چند گورے شکاریوں کے جو گرمی کے موسم میں دوربین والی لمبی رائفلیں لیکر اوپر کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دیتے۔ لیاقت کا چچا اُن گورے شکاریوں کے آگے پیچھے پھرتا تھا۔ وہ اُنکا گائڈ تھا۔ یہ شکاری لوگ واپس جاتے وقت اُسکو اپنے دھوپ کے چشمے، دستانے اور بیگ، اور کبھی دوربین یا کیمرہ بھی دے جاتے تھے۔

جمیل کو اس سے ایک عجیب وحشت محسوس ہوتی تھی

"عبدالرحیم کے پاس کبھی اکیلے مت جانا۔

جمیل کو پھر اپنے بھائی کی بات یاد آگئی۔

اُسکے بھائی نے اُسے سختی سے منع کیا ہوا تھا۔

لیاقت بھی کہتا تھا کہ عبدالرحیم اسکا سگا چچا نہیں۔ ابا کی طرف سے دور کا کوئی رشتہ دار ہے. لیاقت کی امی لیاقت کو چچا کے ساتھ کہیں نہیں بھیجتی تھیں۔ وہ گرمیوں میں زیادہ تر اپنے شکاری جھونپڑے میں رہتا جو اوپر کے جنگلوں میں کہیں بنا ہوا تھا۔ موسم سرد ہونے لگتا اور مارخور نچلے پہاڑوں میں اتر آتے تو یہ بھی نیچے لیاقت کے گھر اتر آتا۔ کہانی اسکے بارے میں یہ مشہور تھی کہ دوستوں کے منع کرنے کے باوجود بچپن میں کبوتروں کے گھونسلے سے چوزے پکڑنے کیلیے یہ کسی اونچے درخت پر چڑھا تھا اور وہاں سے نیچے گر گیا تھا۔ اسے سر پہ سخت چوٹیں آئی تھیں، اور کئی ہفتے درے کے پار چوکی والے فوجی ھسپتال میں بے ہوش پڑا رہا تھا۔ جب اُدھر کے میجر صاحب نے ایک رات مایوس ہوکر اسے نیچے شہر والے بڑے ھسپتال میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو وہ اگلی صبح حیرت انگیز طور پر ہوش میں آگیا تھا۔ بتانے والے بتاتے تھے کہ ہوش میں آنے کے بعد وہ ہنستا رہتا اور ہنستے ہنستے اسے مرگی کی طرح کے دورے پڑنے لگ جاتے۔ آہستہ آہستہ اسکے دورے کم ہوتے گئے اور ہنسنا بھی۔

اسکے بھائی بتاتے تھے کہ سر کی چوٹ نے اور مسلسل پڑنے والے دوروں نے عبدالرحیم کو بدل دیا تھا۔ اسکی یادداشت گم تو نہیں ہوئی تھی جیسے کہانیوں میں ہوتا ہے لیکن عبدالرحیم کوئی اور آدمی بن گیا تھا۔ اسکو پرانی باتیں یاد کروائی جاتیں تو وہ پھر سے ہنسنے لگتا۔ اسکے دوست اس ڈر سے کہ اسے دورے نہ پڑنے لگیں پرانی باتیں یاد ہی نہ کرواتے تھے۔ سکول جانا مسجد جانا اس نے چھوڑ دیا تھا۔ وہ اردگرد سے اور اپنے ماضی سے بھی کٹتا گیا۔ کئی کئی دن گھر نہ آتا اور اوپر کے جنگلوں میں رہتا۔ بعد میں وہیں اس نے ایک شکاری جھونپڑی بنا لی۔ بھائی بتاتے تھے کہ انکے دوستوں نے وہ جھونپڑی دیکھ رکھی ہے۔ بعد میں لیاقت کے ابا نے میجر صاحب سے کہہ کر اسے فارسٹ گارڈ بھرتی کروادیا تھا۔ گرمی کے موسم میں وہ گائڈ بن جاتا اور گورے شکاریوں کو مارخور کا شکار کرواتا۔

ابھی تک عبدالرحیم نظر نہیں آیا۔ پتے جھڑ چکے ہیں۔ ہر سال کی طرح برف پڑنے سے پہلے نیچے اتر آئے گا "۔”

جمیل نے سوچا۔

جمیل کو اس سے ڈر بھی لگتا تھا مگر اسے دلچسپی بھی بہت تھی کیونکہ وہ اصلی والا شکاری تھا اور سارا سال کندھے پر رائفل رکھ کر گھنے جنگلوں میں گھومتا تھا۔ اسکے پاس دوربین اور کیمرہ تھا۔ کہا جاتا تھا کہ وہ سیزن میں وائلڈ لائف والوں کی نظروں سے بچ کرخود بھی مارخور کا شکار کرتا ہے اور گوشت کو نمک لگا کر جھونپڑی میں محفوظ کرلیتا ہے۔ وہ برف پر کھلے آسمان کے نیچے سو سکتا ہے کیونکہ مارخور کا گوشت کھاتے رہنے کی وجہ سے اسکے جسم میں بھی مارخور کی خاصیتیں پیدا ہوگئی تھیں۔

جمیل سوچتا تھا کہ شاید کسی دن عبدالرحیم کے سر پر سینگ بھی نکل آئیں۔۔ اسے تقریباً یقین تھا کہ عبدالرحیم ایک دن اوپر برف والی چوٹیوں کی طرف نکل جائے گا اور واپس نہیں آئیگا۔ کبھی کبھی جمیل اسطرح کے ڈراؤنے خواب بھی دیکھتا جس میں ایک بڑے سے مارخور کے جسم پر عبدالرحیم کا سر لگا ہوا ہوتا۔ مارخور جمیل کو دیکھ کر ہنسنے لگتا پھر ہنستے ہنستے اسے مرگی کی طرح کے دورے پڑنے لگ جاتے۔

مگر اس دفعہ وہ ابھی تک نظر نہیں آیا۔”

اس موسم میں اسکی واپسی ہو جاتی تھی۔

اپنی مخصوص سیٹی بجاتا ہوا اکیلا ادھر ادھر گھومتا نظر آجاتا تھا۔ رائفل کندھے سے کبھی نہیں اتارتا تھا۔

لیکن میں اس سے غلیل نہیں بنوا سکتا۔”۔

اس نے پھر سوچا۔

لیاقت سے وہ کئی دفعہ کہہ چکا تھا کہ تم بنوادو مجھے غلیل اپنے چچا سے۔ مگر لیاقت ہر بار ٹال دیتا تھا۔ لیاقت بھی شاید اس سے ڈرتا تھا۔

ٹھنڈے کنکروں سے جمیل کی جیب ابھی بھری ہوئی تھی۔

چٹان کے پاس پہنچ کر جہاں سے لیاقت کو اپنے گھر جانا تھا اُس نے ایک دفعہ پھر التجا کی۔ لیاقت نے گردن میں ٹنگی ہوئی غلیل اتار کر اسے تھما دی۔ "بس جلدی کرو یار آذان ہونے والی ہے میرے ابا ڈانٹیں گے "۔ جمیل نے جلدی جلدی جیب میں سے دو تین کنکر نکال کر غلیل میں بھرے اور کھینچ کھینچ کر جنگل کی طرف چلانے لگا۔ چڑیاں درختوں میں خوب شور کررہی تھیں اور اسکے پھینکے ہوئے پتھر نومبر کی شام کے تاریک ہوتے ہوئے آسمان میں کہیں گم ہو جاتے تھے۔ چڑیاں اسی طرح شور مچاتی رہیں. غلیل کا ربڑ کھینچنے اور کنکر کا چمڑے میں سے نکل کر دور تک چلے جانے کا احساس اسے بس چند لمحے ہی سرشار کرسکا۔ لیاقت نے کمان پر ہاتھ رکھ کر غلیل اسکے ہاتھ سے پھر لے لی۔

جیب کنکروں سے اب بھی بھری ہوئی تھی۔

غلیل گلے میں ڈال کر اپنے ہاتھوں کو آپس میں رگڑتا ہوا لیاقت اپنے گھر کی طرف نکلا تو گاؤں کی مسجد سے اللہ اکبر کی آواز بلند ہوئی۔ فضا کچھ مزید سوگوار ہوگئی۔ جمیل اپنے گھر کی طرف جانے والی پگڈنڈی پر ہو لیا۔ اُس نے پیچھے مڑ کر دیکھا، لیاقت اب نظر نہیں آرہا تھا۔ وہ اپنے ہاتھوں میں اسکے غلیل کی کمان کا لمس اب بھی محسوس کرسکتا تھا۔

زُووو۔ اس نے منہ سے غلیل چلنے کی آواز نکالی۔

پگڈنڈی کیساتھ ساتھ گہری کھائی میں ندی کا یخ پانی شور مچا رہا تھا۔ وہ جیب سے ایک ایک کر کے کنکر نکالتا جاتا اور ہاتھ کے اشارے سے غلیل کے کمان کی شکل بناکر کنکر ندی کی طرف پھینکتا جاتا۔

زووو۔۔

سرد ہوا اگرچہ زیادہ تیز نہیں تھی مگر اسکے کانوں پر جیسے چھریاں سی چلنے لگی تھیں ہاتھوں کی پشت سرخ ہوچکی تھی۔ لیکن جب تک اسکی جیب خالی نہ ہوئی وہ ندی کے اندر ابھرے ہوئے مختلف پتھروں کا نشانہ لیکر نیم تاریکی میں کنکر پھینکتا رہا۔ اور چلتا رہا۔

آذان ختم ہوئی تو دور سے اسے گھر کا دروازہ نظر آیا۔ گھر کی چمنی سے نیلا دھواں اٹھتا تھا اور کالے آسمان کو مزید تاریک کررہا تھا، اسے بھوک لگنے لگی۔ دروازے کے دائیں طرف بڑے پتھر کے ساتھ کھڑا شہتوت کا درخت اپنے سب پتے گرا چکا تھا۔ یہ بھی آج رات احاطے کے دوسرے درختوں کے ساتھ مل کر فریاد کرے گا مگر کوئی اس کی آواز نہیں سنے گا۔ اس نے سوچا۔ ہمیں سردی لگ رہی ہے ہمیں سردی لگ رہی ہے۔ دروازے کے اوپر لگا ہوا بلب ہر لمحہ مزید سرد ہوتے ہوئے اُس اداس منظر کو حرارت اور روشنی دینے کی اپنی سی کوشش کررہا تھا۔ پچھلی سردیوں سے پہلے اسکے بھائی نے گھی کا خالی ڈبہ کاٹ کر بلب کے اوپر ایک چھت سی بنا دی تھی تاکہ بلب پر برف نہ پڑے.

"جلتے ہوئے بلب پر برف پڑ جائے تو دھماکہ ہوجاتا ہے۔ اسکے بھائی نے بتایا تھا۔

کیا پتہ اس دفعہ بھی سردیوں سے پہلے شکیل آ ہی جائے۔

اسکے قدم تیز ہوگئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح جمیل جلدی اٹھ گیا۔

رات کھانے کے بعد اس نے ابا سے پوچھا تھا کہ شکیل بھائی کب آئینگے۔ ابا نے کہا کہ شاید کچھ دنوں میں”

امتیاز تو پہنچ گیا ہے، کل دکان پر مجھے ملنے آیا تھا ”

ابا نے امی کو بتایا تھا۔

لگتا ہے کہ اس دفعہ برف جلدی پڑے گی۔

جمیل کو یہ خیال بار بار تنگ کرتا رہا۔

کل میں نچلے گاؤں خالہ کی طرف جاؤنگا اور امتیاز سے ہی بنوالوں گا غلیل۔ وہ رات یہ فیصلہ کرکے سویا تھا۔

امتیاز خالہ زرینہ کا اکلوتا لڑکا تھا۔ درے کے پار چوکی والے فوجی ھسپتال کے باہر اس نے ایک کینٹین بنا رکھی تھی جہاں وہ چائے بسکٹ وغیرہ بیچتا تھا۔ برف پڑنے سے پہلے کینٹین بند کرکے گاؤں آجاتا اور اگلے سیزن میں درّہ کھلنے پر واپس جاتا۔ امی اسکی بہت تعریف کرتی تھیں۔ "زرینہ نے تو امتیاز سے کہا تھا کہ شکیل کی طرح تم بھی شہر جا کر کالج پڑھ لو، مگر امتیاز نے یہ کہہ کرمنع کردیا کہ اگر وہ بھی شہر چلا گیا تو ماں باپ کو کون دیکھے گا۔ ” یہ امی کی رائے تھی۔ امی کو شکیل کے گاؤں چھوڑ کر شہر پڑھائی کیلیے جانے کی منطق سمجھ نہ آتی تھی۔ جمیل کے ابا شکیل کی ضد پر مان گئے تھے ورنہ اسکی امی کی یہی خواھش تھی کہ شکیل بھی امتیاز کیساتھ مل کر کینٹین کا کام سنبھال لے. یا محکمہ جنگلات میں گارڈ بھرتی ہو جائے۔ جمیل کا خیال تھا کہ امتیاز ویسے ہی پڑھائی سے بھاگتا ہے اس لیے اس نے کالج جانے کی بجائے چائے کا ہوٹل کھول لیا۔

رات کو کباڑ والے سٹور میں دیر تک وہ چمڑے کا ٹکڑا تلاش کرتا رہا تھا۔ آخر کار اسے ایک پرانا جوتا مل گیا جسے کاٹ کر اپنے مطلب کا چمڑہ بنا لیا۔ ربڑ کی پٹی اور چمڑے کا ٹکڑا اس نے رات ہی بستے میں ڈال لیے تھے۔

"اما آج میں سکول سے سیدھا خالہ کے گھر جاؤنگا امتیاز سے ملنے۔

صبح امی سے یہ کہہ کر وہ باہر نکلا اور سکول جانے کی بجائے جنگل کی طرف بڑھ گیا۔ بستے میں اس نے ابا کی شاخیں تراشنے والی قینچی بھی رکھ لی تھی۔ بڑی چٹان کے پاس اسے اپنے مطلب کی ٹہنی مل گئی۔ ایک دو شاخہ کاٹ کر اس نے اوپر نیچے سے تراش لیا اور اسکی دوکھٹی بنا لی۔

پھر اسے بستے میں ٹھونس کر سکول کی طرف دوڑ لگا دی۔

آج تو غلیل بنوا ہی لونگا۔”

وہ خوش تھا۔

امتیاز کوئی زیادہ ماہر شکاری تو نہیں مگر بنا ہی لیگا غلیل۔ لیاقت مجھے غلیل چلانے کو نہیں دیتا اور آج برف پڑ جائے گی، یا پھر کل؟ بھائی نہیں آرہے تو میں اور کیا کروں۔ وہ اپنے آپ کو مختلف باتیں سمجھاتا رہا۔

سارا دن سکول میں وہ اسی طرح کی باتیں سوچتا رہا۔

خدا خدا کرکے چھٹی کا وقت ہوا۔ سکول کے گیٹ پر لیاقت پھر ملا” کھانے کے بعد آرہے ہو نا؟

لیاقت نے پوچھا۔

میں آج خالہ کی طرف جا رہا ہوں امی نے کچھ کام کہا ہے۔ ” اس نے لیاقت کو اصل بات نہیں بتائی۔

نچلا گاؤں ندی کی دوسری طرف تھوڑا نیچے کی طرف تھا۔ سکول کے گیٹ پہ کھڑے ہوکر بالکل سامنے نظر آتا تھا مگر ندی پر ایک ہی پل تھا اور پل کافی نیچے جاکر بنا ہوا تھاجس کی وجہ سے راستہ لمبا ہو گیا تھا۔

سکول سے نکل کر نچلے گاؤں کے لڑکوں کے ساتھ اس نے بھی ندی کے ساتھ ساتھ نیچے پل کی طرف چلنا شروع کردیا۔ آسمان پر بادل گہرے ہوگئے تھے اور سردی بھی بڑھ گئی تھی۔

برف شاید آج ہی پڑ جائے۔ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے پھر سوچا.

امتیاز اسے دروازے کے باہر کھڑا مل گیا۔ السلام علیکم وعلیکم السلام۔ سردی میں باہر کھڑے کیا کررہے ہیں. ابا نے رات بتایا کہ آپ آگئے ہیں۔ اس دفعہ جلدی آگئے؟

لگ رہا تھا کہ برف جلدی پڑے گی اس دفعہ اسلئے ذرا پہلے آگیا۔ امی کو نانی کے گھر چھوڑ کر ابھی واپس آیا ہوں۔

سردی کافی ہوگئی ہے۔ امتیاز نے اپنے ہاتھوں کی مٹھی بنا کر اُن میں پھونکتے ہوئے کہا۔

امتیاز بھائی مجھے غلیل بنا کر دینگے؟

جمیل سے بالکل صبر نہیں ہورہا تھا۔

غلیل؟

ہاں۔۔ میرے پاس سب سامان ہے، بستہ گود میں لیکر وہ ساتھ ٹھنڈے پتھر پر بیٹھ گیا اور سامان نکالنے لگا۔ یہ ربڑ، یہ دوکھٹی۔ ابھی کاٹ کے لایا ہوں، یہ چمڑہ۔۔ اس نے سامان نکال کر امتیاز کو دکھایا اور پر امید نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔

ربڑ کہاں سے لیا؟

حاجی صاحب کی دکان سے۔ ابا نے انعام میں پانچ روپے دئے تھے۔

اس دفعہ کیا پوزیشن آئی تمھاری؟

فرسٹ آیا ہوں امتیاز بھائی۔ جمیل نے جواب دیا۔

شاباش! لیکن کوئی ڈھنگ کی چیز خرید لیتے۔ چلو اندر چلیں ادھر سردی میں نہ بیٹھو۔

خالہ کے گھر پہ کچن میں ہی بیٹھتے تھے سارے۔ سامنے مٹی کا چولہا، ساتھ لکڑیاں پڑی ہوئی۔۔ آپکی طرف بجلی نہیں آرہی؟ جمیل کو اندر جاتے ہی اندھیرے کا احساس ہوا۔

ابھی گئی ہے۔ بیٹھو۔ امتیاز نے تکیوں کی طرف اشارہ کیا۔

چولہے اور بیٹھنے کی جگہ کے درمیان جو لکڑی کی شہتیر رکھی ہوتی ہے اس کے پاس اپنا جوتا اتارا اور تکیے پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔

جمیل نے بستے میں سے غلیل بنانے کا سامان سامنے نکال کر رکھ دیا۔ اسکے خیال میں ہر چیز پوری تھی۔ غلیل بنانے کے خیال سے وہ خوشی اور گھبراہٹ سے بے قابو ہو رہا تھا۔

بلیڈ کدھر ہے؟

جمیل کو دھچکا سا لگا۔ بلیڈ؟

ہاں ربڑ کو کاٹنا نہیں ہے؟ اسی کی ڈوریاں بنا کر کھٹی کیساتھ باندھنی ہیں نا۔

امتیاز بھائی وہ تو نہیں میرے پاس۔۔

اپنی مایوسی پر بمشکل قابو پاتے ہوئے جمیل نے تھوک نگل کر کہا۔

امتیاز کچھ دیر خاموش سوچتا رہا اور جمیل دھڑکتے دل کیساتھ اسکی طرف دیکھتا رہا۔۔

اچھا میں سٹور میں دیکھتا ہوں۔ شاید مل جائے اور اٹھ کر سٹور کی طرف چلا گیا۔ امید کی ڈور ٹوٹتے ٹوٹتے بچی۔

سامنے چولہے کے اوپر خالہ نے پلیٹیں اور دوسرے برتن سجائے ہوئے تھے۔ ان برتنوں کیساتھ لالٹین رکھی تھی جسکا شیشہ صاف ہونے والا تھا۔ چولہے کے ساتھ ہی نیچے لکڑیوں کے ڈھیر کیساتھ ایک طرف چائے پھینٹنے والا ڈول رکھا تھا. چولہے کے اوپر ایک پتیلی تھی جس پر کالک جمی ہوئی تھی۔ جمیل کو بھوک محسوس ہونے لگی۔ اسکا دل کیا کہ ڈھکن کھول کر دیکھ لے۔ شاید کچھ کھانے کو ہو۔ یا کیا پتہ خالی ہو۔ امتیاز نے کھانے کا بھی نہیں پوچھا۔۔ اسے خیال آیا اور پھر اپنے اس خیال سے شرمندہ سا ہوکر دوسری طرف دیکھنے لگا۔

جوتے اتارنے کی وجہ سے اسے پاؤں پر سردی لگ رہی تھی۔ ان لکڑیوں کو چولہے میں ڈال لوں؟ اس نے سوچا۔ خالہ نے رات کے کھانے کیلیے رکھی ہونگی لکڑیاں۔ رہنے دو۔

پیچھے دیوار کیساتھ جس کی طرف ٹیک کیلیے تکیے رکھے ہوئے تھے، ایک کھڑکی تھی۔ اس میں سے کچھ روشنی اندر آرہی تھی۔ کھڑکی پر سبز رنگ کا شیشہ لگا ہوا تھا۔ شاید باہر ہوا چل رہی تھی۔۔

یہ مل گیا ہے ایک بلیڈ۔۔ امتیاز کو دلچسپی لیتا ہوا دیکھ کر جمیل کو بڑی خوشی ہورہی تھی۔ اب اسےسردی اور بھوک نہیں لگ رہی تھی۔

یہ پکڑو اب ربڑ کو۔۔ جمیل نے فوراً ربڑ کو پکڑا اور امتیاز ایک سرے سے پتلی ڈوری کاٹنے لگا۔ جمیل کے ہاتھ ٹھنڈے ہورہے تھے اور ربڑ سہی طرح پکڑا نہیں جارہا تھا۔۔

ابھی وہ آہستہ آہستہ بلیڈ چلاتے ہوئے درمیان میں پہنچے تھے کہ جمیل کے بائیں ہاتھ سے ربڑ پھسل گیا اور پٹی کے دو ٹکڑے ہوگئے۔۔

یہ کیا۔۔

دونوں ہاتھوں میں کٹے ہوئے ربڑ کا ایک ایک ٹکڑا پکڑے چند لمحے سکتے کی حالت میں جمیل امتیاز کو دیکھتا رہا۔۔

باہر ہوا تیز ہوگئی تھی، سبز شیشوں والی کھڑکی کے شیشے بج رہے تھے۔

جب ہوش کچھ بحال ہوئے تو جمیل کو شدید رونا آیا۔ مگر امتیاز کے سامنے وہ رو نہیں سکتا تھا۔ شرمندگی اور دکھ کی شدت کیساتھ اس نے ہنسنے کی کوشش کی۔۔ گلے سے مضحکہ خیز سی آواز نکلی جو ہنسنے اور رونے کے درمیان کی کوئی آواز تھی۔ یہ آواز سن کر جمیل اور شرمندہ ہوا۔۔ گھبرا کر اس نے کچھ بولنے کی کوشش کی مگر پہلے ہی لفظ پر اسکے ہونٹ کپکائے اور آواز گھٹ کر رہ گئی۔۔

سر نیچے کر کے ایک ایک کرکے اس نے غلیل کا سامان سمیٹ کر بستے میں ڈالا۔۔ جوتے پہنے اور اٹھ کھڑا ہوا۔

امی آتی ہونگی۔ کھانا کھا کر جانا۔

امتیاز نے اسے روکنا چاہا۔

جمیل کچھ کہنے کیلیے پیچھے مڑا مگر امتیاز کو دیکھ کر اسکو گلے میں ایک گولا سا محسوس ہوا اور آواز لرز کر رہ گئی۔۔ دروازہ کھول کر وہ باہر نکل آیا۔

سامنے والی چوٹی جہاں چیڑ اور دیودار کے درخت تھے گھنے بادلوں میں گم ہوچکی تھی۔ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا وہ پل کی طرف جانے لگا۔ ندی کا پانی اُس پر ٹوٹنے والے غم سے بے نیاز شور مچا رہا تھا۔ پل عبور کرکے وہ اپنے گاؤں کی طرف کی چڑھائی چڑھنے لگا۔

اس کے دماغ میں بیک وقت کئی باتیں چل رہی تھیں اور ایسے لگ رہا تھا کہ اگر وہ کچھ مزید تیز چل پائے تو شاید یہ آوازیں پیچھے رہ جائیں۔ اتنا عرصہ میں نے ربڑ سنبھال کر رکھا۔ سب سے چھپا کر۔ مجھے جلدی بہت تھی، بھائی اگر آجاتے۔۔ اب کیا ہوسکتا ہے. نیا ربڑ کیسے ملے گا کہاں سے لاؤنگا۔ اما ابا کسی کو نہیں بتا سکتا۔ امتیاز نے بتا دیا تو؟ سب ہنسیں گے مجھ پر۔ امتیاز بہت فضول آدمی ہے. کھانے کا بھی نہیں پوچھا۔

شرم کرو جمیل تم۔

اس سے بہتر ہے کہ مر جاؤ۔

اسے ندی کے پانی اور ملسل شور سے سخت نفرت محسوس ہوئی۔

سکول کے گیٹ سے گزر کر اپنے گھر کے راستے پر پہنچا تو اُس مخصوص سیٹی کی آواز اس کے کان میں پڑی اور خیالات کا شور جیسے ایکدم تھم گیا۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔ رائفل کندھے پر ڈالے عبدالرحیم اوپری جنگل والے راستے سے نیچے اتر رہا تھا۔

خوف سے جمیل کے قدم وہیں رک گئے۔ وہ سیدھا اسی کی طرف آرہا تھا۔ اسے لگا کہ شاید عبدالرحیم اسے دیکھ کر ہنس رہا ہے۔ جمیل ساکت کھڑا دیکھتا رہا۔ سیٹی کی آواز وقفے وقفے سے اسکے کانوں سے ٹکراتی رہی۔

پگڈنڈی والے راستے پر اتر کر عبدالرحیم نے اُس پر ایک سرسری سی نظر ڈالی اور لیاقت کے گھر کی طرف مڑ گیا۔

جمیل کے اوسان کچھ بحال ہوئے۔

عبدالرحیم!

جمیل کو یقین نہیں آیا کہ اُس نے عبدالرحیم کو آواز دی ہے۔ اس نے دیکھا کہ وہ عبدالرحیم کی طرف بے اختیار چلتا جارہا ہے. عبدالرحیم اسکی آواز سن کر رک گیا تھا۔ قریب پہنچ کر اس نے اپنے بستے سے کٹا ہوا ربڑ، چمڑے کا ٹکڑا اور دوکھٹی نکال کر خاموشی سے عبدالرحیم کو پکڑائی۔ عبدالرحیم چیزیں اسکے ہاتھ سے لیکر خاموش گھورتا رہا، کبھی اسکی چیزوں کو کبھی اسکو. جمیل پھر بھی کچھ نہیں بولا۔ پہلی دفعہ اس نے عبدالرحیم کو قریب سے دیکھا تھا۔ اسکی رائفل کا بٹ کتنا خوبصورت تھا.

کچھ بڑبڑاتے ہوئے عبدالرحیم ساتھ والے پتھر کیساتھ زمین پر ہی بیٹھ گیا۔ جمیل اس کے پاس کھڑا ہوگیا۔ رائفل کندھے سے اتار کر اس نے پتھر کیساتھ ٹکائی۔ بڑی سی میلی جیکٹ کی جیب سے چاقو نکال کر اسنے اپنے پاؤں میں پھنسا لیا۔ جو ربڑ ابھی کٹا نہیں تھا اسکو درمیان سے لمبائی کے رخ کاٹ کر دو بنا لیے. کٹے ہوئے ربڑ سے چھوٹی ڈوریاں بنا لیں۔ چمڑے میں پرو کر ربڑ کو جوڑا پھر دوکھٹی کے اوپر لگا کر ادھر سے بھی باندھ دیا۔۔ ساتھ پڑا کنکر اٹھا کر اس نے غلیل چلائی۔ زووو!

ربڑ کو تھوڑا کھینچ تان کر برابر کیا۔ ایک اور کنکر لیکر دوبارہ چلائی اور غلیل جمیل کو پکڑا کر اپنی رائفل تھام لی۔

شکریہ عبدلرحیم بھائی۔

جمیل کو لگا کہ وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے.

عبدالرحیم نے اسے غور سے دیکھا اور اس کے کان میں جھک کر جیسے سرگوشی کی:

درخت سردی سے روتے ہیں یہ ٹھیک ہے، مگر انکی آواز پر دھیان نہ دیا کرو۔ کسی کو بتانا بھی نہ، سب نہیں سن سکتے یہ آوازیں۔

یہ کہہ کر اس نے رائفل کو کندھے پر رکھا لیاقت کے گھر کی طرف نکل گیا۔ کچھ وقفے کے بعد سیٹی کی آواز آجاتی۔

دور سے گھر کے دروازے پر لگا بلب نظر آرہا تھا۔

جمیل غلیل گردن میں ڈال کر گھر کی طرف چل پڑا۔

برف کی ایک بوند اسکے بائیں گال پر گری اور پگھل گئی۔

Advertisement

Trending