تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینکالممعیشت

شبر زیدی کے مبینہ تہلکہ خیز انکشافات کا تکنیکی جائزہ —- لالہ صحرائی

by دانش ڈیسک 30/10/2021
written by دانش ڈیسک 30/10/2021
191

کچھ دنوں سے جناب شبر زیدی صاحب کے نام سے پاکستان کی معیشت و ٹیکس اور ایف بی آرسے متعلق کچھ سنسنی خیز نکات (انکشافات) سوشل میڈیا پہ وائرل ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ انکشافات واقعی زیدی صاحب نے کئے ہیں یا کسی اور نے ان کے نام پہ شوشے چھوڑے ہیں کیونکہ اس کا مواد انتہائی نان۔ پروفیشنل پروپیگنڈے پر مشتمل ہے، لہذا میرا جواب زیدی صاحب کی بجائے ٹو۔ ہوم۔ اٹ۔ مے۔ کنسرن کے طور پہ ہے۔

اس مضمون میں پیش کیا گیا، انکشافات کا تکنیکی جائزہ، بیک وقت آپ کیلئے بزنس ٹیکس سسٹم کو قانونی انداز سے سمجھنے میں بھی کافی مددگار ثابت ہوگا۔


*ایف بی آر کے سابق چیرمین شبر زیدی کے تہلکہ خیز اور چونکا دینے والے انکشافات*
*جب ہم خود بدلنا نہیں چاہتے تو چایے فوج آئے یا عمران، چاہے صدارتی نظام ہو یا شریعت، کوئ مائ کا لعل ہمیں بدل نہیں سکتا.*
*جھوٹ، دھوکہ، چوری، ملک سے غداری اور خود غرضی، ہم بس ایسے ہی ہیں*

الجواب:
ایسا لگتا ہے جیسے کوئی اپنی ناکامیوں کا بوجھ عوام کو نامعقول کہہ کے اس پر شفٹ کرنا چاہتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت خود لوگوں کا اربوں روپے کا ٹیکس ریفنڈ کرنے کی بجائے ہر سال کھا جاتی ہے اور اس پر بات کرنے کو بھی تیار نہیں، تنخواہ دار کا فالتو ٹیکس تو کم از کم واپس کر دیں، اس غریب نے کونسا ٹیکس چوری کیا ہے؟

جہاں بجلی چوری ہوتی ہے وہاں ادارے اپنا خسارہ بے دھڑک بے قصور لوگوں پر ڈال دیتے ہیں یہ انصاف کی کونسی قسم ہے اور ہم عوام جب اس حد تک بدل گئے ہیں کہ فقط بیس سال پہلے جہاں سات سو ارب روپیہ ٹیکس دیتے تھے وہاں اب پانچ ہزار ارب روپیہ ٹیکس دیتے ہیں تو کیا حکومت ہماری ضرورت کا آدھا پانی بھی مفت میں دینے کو تیار ہے؟

میگاپولیٹن کراچی کے ایک ڈیڑھ کروڑ لوگ آج بھی اپنا پیٹ کاٹ کے ٹینکر سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں کیوں؟
—————————–

*میں سات انڈسٹریز پہ ٹریک اینڈ ٹریس لگانے کی کوشش میں تھا جیسے سیمنٹ، سگریٹ وغیرہ، لیکن ہم ناکام ہو گئے، سگریٹ پہ لگایا گیا تو عدالت سے سٹے آرڈر آ گیا، شبر زیدی*۔

الجواب:
بیان کنندہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ 2003 سے بیشتر انڈسٹری کیپسٹی بیسڈ اسیسمنٹ کے تحت چیک ہوتی ہے، یہ کام کلیکٹر سیلزٹیکس افتخار قطب صاحب نے ہر انڈسٹریل ایسوسی ایشنز کیساتھ مل کے کیا تھا، آج کے ٹیکس کمشنر اسوقت ٹیکس کلکٹر کہلاتے تھے۔

ان کی سروے ٹیم میں تین افسر ایف۔ بی۔ آر کے، دو نمائندے متعلقہ بزنس سیکٹر کی ایسوسی ایشن کے اور دو نمائندے انفرادی انڈسٹریز کی طرف سے شامل ہوتے تھے، ایک بزنس سیکٹر کی سروے ٹیم کا میں خود بھی حصہ رہا ہوں، تب میں ایک کمپنی کا جی۔ ایم تھا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی انڈسٹری چوری کرتی تھی اس کا رستہ بند کرنے کیلئے ان کی پروڈکشن کیپسٹی کا جائزہ لیکر پابند کیا گیا کہ آپ اس سے کم پروڈکشن نہیں دکھا سکتے، اس کا فائدہ یہ ہوا کہ جو انڈسٹری بمشکل پچاس ساٹھ ہزار روپے مہینہ سیلزٹیکس دیتی تھی وہ ایکدم سے ڈھائی تین لاکھ روپے ماہانہ تک چلی گئی، آج وہی انڈسٹری مختلف نئے آڈٹ پیرامیٹرز شامل ہونے کی وجہ سے ایک کروڑ سے بھی زائد ماہانہ سیلزٹیکس دیتی ہے نتیجۃً اس کا انکم ٹیکس بھی انتہائی حد تک بڑھ چکا ہے۔

دوسری بات یہ کہ آئینی طور پر آپ کسی کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتے، ہر وقت اگلے کی چیکنگ کرنا ریاستی جبر کے زمرے میں آتا ہے جو انفرادی بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے اسلئے ماضی کی سپروائزڈ کلئیرنس جس میں ایک ٹیکس انسپکٹر اور ایک دو سپاہی کمپنیوں کے اندر تعینات ہوتے تھے وہ نظام ختم کرکے سیلف اسیسمنٹ کا نظام لاگو کیا گیا تھا تاکہ ہر بندہ شخصی آزادی کیساتھ اپنا بزنس کرے اور وولینٹیریلی اپنا حساب دے۔

ٹیکس دینا ایک ذمہ داری ہے لیکن حکومت کو ٹیکس اکٹھا کرکے دینا ایک رضاکارانہ ذمہ داری ہے، یعنی میرے پاس سو کروڑ کا فنڈ ہے تو میری مرضی ہے میں نہیں کام کرتا، آپ مجھے بزنس کرنے پہ مجبور نہیں کر سکتے، پھر اگر میں بزنس کرنا چاہوں تو آپ اپنے حصے کا ٹیکس کلیکشن کا کام میرے اوپر کیسے مسلط کر سکتے ہیں؟

لیکن ریاست کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ بزنس۔ پرسن کو ٹیکس کلیکشن ایجنٹ بنا دے تاکہ جب وہ اپنا سودا بیچے تو گاہک سے سرکار کا ٹیکس بھی پکڑ کے خزانے میں جمع کرا دے، اس سے کوئی بہتر نظام آپ لا ہی نہیں سکتے۔

کوئی بندہ مفت میں کسی کو کوئی بھی سروس نہیں دیتا مگر بزنس۔ پرسن مفت میں آپ کو ٹیکس کلیکشن کی سروس فراہم کرتا ہے، اسے اس کام کی تنخواہ ملنی چاہئے لیکن الٹا پچاس ہزار روپے مہینہ اس کام کا حساب رکھنے پہ خرچ ہو جاتا ہے، لہذا یہ ایک وولینٹئیر سروس ہے، اپنے ذاتی خرچے پر، اسلئے میں حساب بھی وولینٹیریلی دوں گا، بلا کسی جبر و اکراہ و بلا کسی خوف و ہراس کے، آپ کو یہ پسند نہیں تو اپنا کوئی اور انتظام کر لیں۔

اس میں چوری ہوتی ہے مگر اب اس کا لیول بہت کم ہے کیونکہ آڈٹ پیرامیٹرز بہت سخت ہو گئے ہیں، کسی کنسلٹینٹ سے پوچھیں تو آڈٹ کے دوران اس کے دانتوں کو بھی پسینہ آجاتا ہے کیونکہ بزنس۔ مین کی بقا کا سارا بوجھ اس کے کندھوں پر آیا ہوتا ہے، وہ زرا سا چوک جائے تو کمپنی کو ایک کروڑ کا نوٹس ٹُھک جاتا ہے۔

لہذا ہائیکورٹ کا فیصلہ بالکل ٹھیک تھا کہ اپنی قابلیت بڑھائیں اور اپنے آڈٹ پیرامیٹرز کیساتھ کنٹرول کریں، وولینٹئیر کے پیچھے کیمرہ لیکر ٹریک اینڈ ٹریس کا کھیل نہیں کھیل سکتے، آپ کو نہیں پسند تو موٹروے پولیس کی طرح ٹیکس کلیکشن کیلئے پرائیویٹ کنٹریکٹر رکھ لیں جو مارکیٹ میں خریداروں سے ٹیکس وصولتے پھریں، اپنے خرچے پر ہر کمپنی کے گیٹ پر بیٹھ جائیں، جو کوئی فیکٹری سے مال لیکر نکلے اس سے بل کے مطابق اپنا ٹیکس لے لیں، وہ کنٹریکٹر آپ کا ملازم ہوگا، اس کیساتھ بیشک ٹریکر لگا لیں، ساڈی جانے بلا۔

ہم اپنا کام کریں، ساتھ میں تمہارا کام بھی کریں، تمہارے کام کا معاوضہ بھی نہ ملے، الٹا اپنی جیب سے اسپر خرچ کرنا پڑے، پھر رشوت بھی دینی پڑے، پھر چور بھی کہلائیں، جرمانے بھی بھگتیں اور آپ ٹیکس کلیکشن کا سارا کریڈٹ و مراعات ٹیکس کمشنر کو دیدیں، پھر ہمارے اوپر ٹریکنگ ڈیوائس بھی لگانا چاہیں تو عوام کو اس منجھدار میں ڈالنے کی کوئی آئینی و قانونی وجہ ہے؟
—————————–

*دوسری میری کوشش تھی ایف بی آر کو بینکنگ ڈیٹا تک رسائی حاصل ہو، پاکستان میں بزنس اکاونٹ 4 کروڑ ہیں لیکن ٹیکس میں 1 کروڑ ڈیکلئیر ہیں، ایک کروڑ روپے اکاونٹ میں ہونے پر NTN لگنا چاہیے، شبر زیدی*۔

الجواب:
جب ایک کروڑ بینک اکاؤنٹ ٹیکس سسٹم میں ڈیکلئیر ہیں تو بھائی آپ کے دور میں ٹیکس ریٹرن صرف بیس لاکھ کیوں آئے تھے، پچھلے سال میں بھی صرف اکتیس لاکھ کی سمبھاؤنا ہے، رواں سال میں پینتیس لاکھ ہو سکتے ہیں، لہذا پہلے ایک کروڑ کو تو اچھی طرح ڈیل کر لو پھر چار کروڑ کو بھی دیکھ لینا۔

پھر ان صاحب کو انکم ٹیکس کے سیکشن دو۔ سو۔ اکتیس۔ اے اور پی کا معلوم ہونا چاہئے جس کے تحت مقررہ لمٹ سے زیادہ رقم نکالنے، ٹرانسفر کرنے یا انسٹرومنٹ بنوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی لگتی ہے اور اس کی رپورٹ بھی ایف۔ بی۔ آر کو مل جاتی ہے تو جن لوگوں کا ٹیکس ڈیڈکشن رپورٹ ہو رہا ہے ان کو ڈائیریکٹ نوٹس بھیج لیں، بینک پر کنٹرول کیوں چاہئے؟

پھر آپ کو پروڈینشیل ریگولیشنز کا بھی پتا ہونا چاہئے جس کے تحت ان۔ نیچرل ٹرانزیکشن پر اکاؤنٹ ہولڈر کو فوراً بینک سے فون آجاتا ہے کہ آپ کی ٹرانزیکشنز بزنس ٹائپ کی لگتی ہیں، اگر آپ بزنس۔ پرسن ہیں تو این۔ ٹی۔ این دیجئے، نہیں تو سات یوم کے اندر بنوا لیجئے، بصورت دیگر جسٹیفائی کریں کہ آپ کی ٹرانزیکشنز نان۔ بزنس ہیں ورنہ آپ کا اکاؤنٹ بلاک کر دیا جائے گا۔

اسے ٹرانزیشنل پیریڈ کہتے ہیں یعنی وہ دورانیہ جس میں آہستہ آہستہ لوگوں کو قانونی پیرامیٹرز میں لایا جا رہا ہے، اس میں انہیں رسائی دینے کا مطلب ایک تو بینک کی پرائیویسی دوسری بینک کسٹمر کی پرائیویسی بھنگ کرنے کے مترادف ہے۔

مین۔ وائل انہوں نے دو سال قبل بینکوں سے پوٹینشیل کلائنٹس کا ڈیٹا مانگا تھا جو لاکھوں کی تعداد میں انہیں فرام کر دیا گیا تھا کہ ماہانہ پانچ لاکھ سے زائد ٹرن۔ اوور رکھنے والے لوگ یہ ہیں، ان کا کیا کر لیا آپ نے؟ کوئی ایک نوٹس بھی ایشو نہیں ہوا، چلیں مان لیتے ہیں کوئی تھوڑا بہت کام ہوا بھی ہوگا تو آٹے میں نمک کے برابر۔
—————————–

*بجلی کے ساڑھے تین لاکھ انڈسٹرئیل کمرشل کنکشن ہیں لیکن سیلز ٹیکس میں 40 ہزار رجسٹرڈ ہیں، میں نے ہر ڈسکو کو ڈیٹا کے لئے خط لکھا، ڈیٹا نہیں دیا گیا، پھر لاہور چیمبر آف کامرس سے پریشر آنا شروع ہوگیا کہ ہاتھ ہولا رکھیں، شبر زیدی*

الجواب:
یہ وہی بات ہے جیسے کوئی چیف جسٹس کی گاڑی کو ٹکر مار دے تو چیف جسٹس عوام سے انصاف مانگتا پھرے جبکہ تمام ڈسکوز سیلزٹیکس کے ایمبٹ میں آتے ہیں، آپ جب چاہیں جس سال کا چاہیں جتنی بار چاہیں ان کا آڈٹ کر سکتے ہیں۔

میں چئیرمین ہوتا اور ڈسکوز مجھے جواب نہ دیتے تو میں ہر ڈسکو پر ایک اے۔ سی بھیج دیتا جو ان تمام کنیکشن ہولڈرز کا ڈیٹا نکال کے لے آتے، اس کام کیلئے قانونی طور پر ایک۔ سو۔ بیس۔ دن کا وقت میسر ہوتا ہے، کسی آڈٹ کیلئے چار ماہ بہت ہوتے ہیں، میں اکیلا بندہ ایک ڈسکو کا ڈیٹا ایک ماہ میں بڑے آرام سے کمپائل کر سکتا ہوں۔

پھر لیٹر آپ نے ڈسکوز کو لکھا اور جواب آپ کو چیمبر سے آرہا ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک سرکاری محمکہ جس کو لیٹر سے خطرہ بھی کوئی نہیں وہ بھاگ کے چیمبر سے فریاد کرے کہ ہمیں بچا لو صاحب، ان کا آپس میں کوئی تعلق واسطہ بھی نہیں بنتا۔

مسئلہ کوئی اور ہے، آپ ٹیکس کلیکشن سے مخلص ہوتے تو طریقہ یہ تھا کہ ممبر سیلزٹیکس کی ڈیوٹی لگاتے وہ متعلقہ ٹیکس آفس کے چیف کمشنر کو حکم دیتا کہ ڈسکوز سے فلاں ڈیٹا لیکر دیں، یہ پراپر چینل ہے، کسی چئیرمین کو یہ اختیار نہیں کہ وہ بلاواسطہ ایک صنعت کار کو حساب دینے کا خط لکھے۔

اب آپ پوری بات بتائیں کہ آپ نے محض کھاڑکُو پن دکھانے یا توجہ حاصل کرنے کیلئے کسی سیمینار یا بزنس فورم پر ہوائی بڑھکیں مار دی تھیں تو پوری مارکیٹ میں ہراسمنٹ پیدا ہوگئی اسلئے چیمبر کو انٹروین کرنا پڑا، اس کی چند ٹھوس وجوہات ہیں۔

مثال کے طور پر ان کنیکشنز میں پولٹری فارمز بھی ہیں، تندور بھی ہیں، ہوٹل، دکانیں، منڈیاں، ورکشاپ، سکولز، پلازے، گودام ان سب پر سیلزٹیکس نہیں لگتا تو پوری مارکیٹ کو ہراسمنٹ کرنے کا حق کس نے دیا جبکہ ان تمام کے بلوں پر آپ سیلزٹیکس چارج بھی کر لیتے ہیں۔

ہر کنیکشن ہولڈر کا نیچر آف ورک یا پرپز۔ آف۔ کنزمپشن اس کے کنیکشن فارم میں درج ہوتا ہے، آپ آڈٹ کے ذریعے سب کچھ جان سکتے ہیں پھر اسے سیگریگیٹ کریں گے کہ بزنس کی نوعیت کے اعتبار سے کس کو سیلزٹیکس کا نوٹس بھیجنا ہے اور کس کو صرف انکم ٹیکس کا سوال کرنا ہے۔

آپ کی طاقت کیا ہے؟
انکم ٹیکس و سیلزٹیکس کے قانون میں لکھا ہے کہ جو سرکاری کام میں مداخلت کرے گا اس پر قانونی کاروائی ہوگی، ڈسکو کے سربراہ سے ریکارڈ مانگیں، نہیں دیتا تو وہی قانون اپلائی کریں جس کے تحت آپ مزاحمت کرنے والے صنعتکار پر فوجداری کیس بنا دیتے ہیں، فیکٹری سیل کر دیتے ہیں، سیلزٹیکس نمبر معطل کر دیتے ہیں اور نوے دن کے بعد بلاک کر دیتے ہیں تاکہ وہ کام نہ کرسکے اور مجبور ہو کے آپ کو کمپلائنس دے، خط کا جواب نہ دینے پر پندرہ ہزار، دوسرے پر پچیس اور تیسرے پر پچاس ہزار جرمانہ لگاتے ہیں، اتنی طاقت رکھنے کے باوجود ڈسکوز پر آپ کا بس کیوں نہ چلا؟

مس۔ ٹریٹمنٹ پر چیمبر بالکل کہے گا کہ ہتھ ہولا رکھیں یعنی اپنی حد میں رہیں، ہمیں آپ کے دائرے اور قانون کا پتا ہے، آپ تجاوز مت کریں، لیکن اس کی آئینی حیثیت کیا ہے جس سے ڈر کے آپ پیچھے ہٹ گئے، حالانکہ آپ کے بعد ٹئیر۔ ون کے ہزاروں تاجروں کو کمشنرز نے سیلزٹیکس میں کمپلسری رجسٹر کیا ہے، اس پر تو چیمبر نے کسی کا ہاتھ نہیں پکڑا، جو چیمبر چئیرمین کو بیک۔ فٹ پہ لیجا سکتا ہے وہ اس کے ماتحت کمشنر کو روکنے میں ناکام کیوں رہا کیونکہ کمشنر کی کاروائی قانونی دائرے میں تھی۔

سر یو ور ناٹ ڈوئینگ اٹ رائٹ، ورنہ مان لیجئے کہ ٹیکس کمشنر اپنے چئیر مین سے بھی زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔

اچھا ان سارے قانونی پوائنٹس کو ایک طرف رکھ کے دیکھیں کہ یہ کچھ صرف لاہور میں ہی کیوں ہوا، انہوں نے پشاور، اسلام آباد اور کراچی کے ڈسکوز کو کیوں نہ خط لکھا حالانکہ کراچی میں یہی کنکشن لاہور سے دوگنا زیادہ ہیں۔

وجہ شروع کی دو لائنوں سے صاف ظاہر ہے کہ لاہوری افسروں کو کرپٹ، بے ضمیر، وطن دشمن، خودغرض، غدار اور ن۔ لیگ کے حامی قرار دینا تھا، یہ دو ماشے فیم جب تک بلکتی ہوئی عوام کو کرپٹوں کے نام پہ نہیں کھلاتے وہ ان سے سنبھلتی نہیں، کہانی میں چس نہیں آتی، نوازشریف اب بھی اگر اتنا طاقتور ہے اور آپ حکومت میں بھی ایسے بے بس ہیں تو پھر ماتم اپنے بال و پر کا کریں، ان کا نہیں۔
—————————–

*زراعت: پاکستان میں آڑھتی اتنا پاور فل ہے جس کی مرضی وہ قیمت بڑھائے یا کم کرے، مہنگائی کی اصل وجہ صرف آڑھتی ہے، وہ اتنا طاقتور اسلئے ہے کہ کرپشن کا پیسہ اسکا پارکنگ لاٹ ہے، میری آڑھتیوں سے بھی میٹنگ ہوئی تھی مجھے کہا گیا آپکے بس کا روگ نہیں، شبر زیدی*

الجواب:
آڑھتی کا ٹیکس بطور کمیشن ایجنٹ اور بطور ٹریڈرز قانون میں طے شدہ ہے، یہ ریجنل افسر کی ڈیوٹی ہے کہ وہ منڈی میں جا کے انہیں رجسٹر کرلے اور ٹیکس جمع کروائے، آپ کا کام نہیں۔

قیمتوں کے حوالے سے بھی چئیرمین کی میٹنگ بنتی نہیں، اگر بنتی بھی ہے اور یہ نہیں مانتے تو آپ ہر بلدیہ میں ایک سرائے ٹائپ بلدیاتی مارکیٹ قائم کرا دیں، اس میں ہر دکان میں ایک چارپائی، پنکھا، لائٹ اور ایک کاؤنٹر مہیا کر دیں جہاں علاقے کے کسان چند دن کیلئے دکان کرائے پر لیکر اپنے مال کا سیمپل رکھ کے ڈائیریکٹ سودے کر لیا کریں، یہ کام آج بھی اتنا مشکل نہیں لیکن کیا اس سسٹم میں کسان، آڑھتی سے، سستا مال بیچ دے گا؟
—————————–

*گوشت (بیف) کی اتنی بڑی ٹریڈ ہے ایک گوشت والا مجھ سے زیادہ پیسہ کما رہا ہے، لیکن سرکار کو ایک پیسہ نہیں جاتا، پولٹری کس کی ہے سب کو پتہ ہے، پولٹری پہ کتنا پیسہ سرکار کو جاتا ہے؟پولٹری پہ ٹوٹل انکم ٹیکس پورے پاکستان سے تیس چالیس کروڑ سے زیادہ نہیں ہے، شبر زیدی*

الجواب:
آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ بنیادی اشیائے صَرف، جو برانڈڈ نہ ہوں وہ سیلزٹیکس کے ایمبٹ میں نہیں آتیں، کھلا دودھ، جوس، پانی، آٹا، چاول، فروٹ، چھوٹا بڑا گوشت اور چکن پر سیلزٹیکس نہیں لگایا جا سکتا لیکن جب انہی چیزوں کو پیک کرکے برانڈ بنا لیں گے تو پھر ان پر سیلزٹیکس لاگو ہو جائے گا، ملک۔ پیک، سلائس۔ جوس، منرل۔ واٹر، پیکڈ آٹا و چاول، میٹ۔ ون اور کے۔ اینڈ۔ این۔ چکن والوں کو دیکھ لیں، سب ٹیکس دیتے ہیں۔

ایک شہر میں گوشت اور پولٹری کی کتنی دکانیں ہوتی ہیں، بڑے شہروں کی ایک ایک کالونی میں کتنی ہوتی ہیں، یہ آپ کا اسٹاف نہیں گن سکتا تو یہاں پر درجنوں سروے کمپنیاں موجود ہیں، آپ ان سے سروے کرا لیں اور ان۔ برانڈڈ کو انکم ٹیکس میں اور برانڈڈ کو انکم و سیلزٹیکس دونوں میں رجسٹر کر لیں، احتجاجی جھگڑے سے بچنے کیلئے ان پر کیپسٹی بیسڈ فکس ٹیکس بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔

یہ کل ملا کے ایک سے تین مہینے کا کام ہے، پورا شہر رجسٹر ہو جائے گا مگر اس محنت کی نسبت ایک مبہم سا اشارہ حمزہ شہباز کی طرف کر دینا زیادہ آسان ہے تاکہ پبلک کو وہی دوماشے فیم اس معاملے پر بھی چڑھ جائے۔

ابھی وہ قانون اپنی جگہ ہے کہ کتنی رقم سے کم مالیت کا سالانہ مال بیچنے والا سیلزٹیکس میں رجسٹر نہیں ہوگا اور کاٹیج انڈسٹری والا بھی نہیں ہوگا خواہ وہ سیلزٹیکس۔ ایبل آئٹمز ہی بناتا بیچتا ہو۔
—————————–

*پاکستان میں سلک کی ایک بھی ملز نہیں چل رہی، نہ ہی پاکستان سلک امپورٹ کر رہا ہے، تو اندازہ لگائیں پاکستان میں سلک کا کپڑا کہاں سے آ رہا ہے ؟ سارا کچھ یہاں سمگلنگ سے چل رہا ہے، شبر زیدی*

الجواب:
اس پر تو اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ رینجرز، لیویز، کوسٹ گارڈز، کسٹمز انٹیلیجنس، سیلزٹیکس انٹیلیجنس، سی۔ آئی۔ اے، ایف۔ آئی۔ اے اور دیگر اداروں کے ہوتے ہوئے یہ عوام کا کام نہیں کہ وہ جا کے سمگلنگ کو روکے، سلک مارکیٹ میں وہی ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لگا لیتے جو سگریٹ کمپنی پر لگانا چاہتے تھے کیونکہ یہ مجرم ہیں، سگریٹ والوں کی طرح ان کا احتجاج قانونی نہ ہوگا، نہ یہ ہائیکورٹ میں جا سکیں گے، آج بھی وہاں انٹیلیجنس بٹھا سکتے ہیں جو سپلائیرز کی ٹریکنگ کرلے، اس میں آپتّی کیا ہے؟
—————————–

*کراچی چیمبر میں سراج قاسم تیلی کو کہا تھا کہ ٹیکس سے متعلق ساری مشکلات ختم کر دوں گا، لیکن شرط یہ ہے کل سے آپ کراچی میں سمگل گڈز نہیں بیچیں گے، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، یہ ہمارے رویے ہیں، شبر زیدی*

الجواب:
اللہ بخشے یہ کام تیلی صاحب کی سرپرستی میں تھوڑی ہوتا تھا جو انہوں نے انکار کرکے برا کیا، کاروباری عوام ان کی غلام بھی نہیں تھی جو ان کا حکم ہوتا تو ٹل جاتی، نہ ان کے پاس کوئی قانونی اتھارٹی تھی جس کا وہ استعمال نہیں کرنا چاہتے تھے، وہ صرف ایک تاجر نمائندہ تھے جس کی بات ماننا کسی پر فرض نہیں لہذا وہ کیسے ذمہ داری لے لیتے؟

حیرت ہے کہ ایک ریاست کی ریوینیو اتھارٹی کا سربراہ جس کے اپنے ماتحت مؤثر کاروائی کی اہلیت رکھنے والے دو عدد انٹیلیجنس کے ادارے موجود ہیں، جو بوقت ضرورت پولیس کی بھی بھاری نفری طلب کر سکتے ہیں، تفتیش کیلئے مجرم کو اپنے لاک۔ اپ میں قید رکھ سکتے ہیں، اور ایف۔ آئی۔ آر بھی کٹوا سکتے ہیں، وہ ایک تاجر نمائندے سے سمگلنگ رکوانے کیوں چل پڑا؟

ظاہر ہے، تیلی صاحب ن۔ لیگئے ہوں گے یا اس حکومت سے کسی قسم کا اختلاف رکھتے ہوں گے اسلئے دوماشے افیم ان کے نام کی بھی چلا دی گئی۔
—————————–

*مہنگائی ختم کرنے اور معشیت ٹھیک کرنے کا پہلا علاج یہ ہے کہ پانچ ہزار کا نوٹ بند کر دیں، بڑے نوٹ نہیں ہونے چاہیں، دوسرا مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنائیں، آڑھتی مڈل مین خودبخود ختم ہو جائے گا، اس میں چھ سات بڑے آئیٹم لائیں، شبر زیدی*

الجواب:
پتا نہیں چھ سات بڑے آئیٹم سے کیا مراد ہے البتہ نوٹ بندی کی بجائے اپنا معاشی انتظامی نیٹورک درست کر لیں تو زیادہ بہتر ہے، نہیں تو پہلے بھارتیوں سے مشورہ کر لیں جو نوٹ بندی کا تجربہ الگ سے جھیل رہے ہیں، کرپشن ویسی کی ویسی الگ ہے۔

مارکیٹ میں کسان کو آزادانہ ٹریڈ کیلئے سرائے منڈی قائم کر دیں جہاں کسان اپنی اجناس کا سیمپل رکھ کے دو چار دن قیام کر سکے اور ڈائیریکٹ سودے کرکے سرائے کا کرایہ ادا کرکے چلا جائے۔

میرے گاؤں کا ایک وکیل ہے، اس کا ملازم اس کے کھیتوں کی سبزی لیکر صبح سویرے منڈی میں پہنچ جاتا ہے اور آڑھتی کو دینے کی بجائے وکیل صاحب وہاں کھڑے ہو کے خود بولی لگاتا ہے، بیس کی ڈھیری، بیس کی ڈھیری، سو کی ٹوکری، سو کی ٹوکری، آٹھ بجے تک سودا بیچ کے گھر جاتا ہے، نو بجے کالا پینٹ کوٹ پہن کے کچہری چلا جاتا ہے، کامیاب وکیل اور کامیاب کسان ہے، اس کام میں اور کیا لگتا ہے؟
—————————–

*انڈر انوائسنگ تقریبا 8 ارب ڈالر کے قریب تھی، جسے کم کر کے 3 ارب ڈالر کے پاس لایا گیا ہے، عمران خان کی حکومت کو اگر کوئی کریڈٹ جاتا ہے تو وہ یہ ہے، اس وجہ سے امپورٹر مجھ سے بہت ناراض ہوئے، میں نے کسٹم کلئیرنس پرائس کو ریٹیل پرائس کردیا، شبر زیدی*

بلاوجہ کا کریڈٹ لینے کی بھونڈی کوشش جبکہ یہ ایک مسلسل پالیسی ہے جو پچھلے ادوار سے چلی آرہی ہے کہ آئی۔ ٹی۔ پی کو اس لیول پہ رکھا جائے کہ امپورٹڈ چیز اور ہم پلہ مقامی پیداوار کا سیلز ریٹ ایک جیسا ہو جائے بصورت دیگر امپورٹر کے مقابلے میں مقامی پیداواری صنعت کا مال نہیں بکے گا لیکن آپ امپورٹ۔ ٹریڈ۔ پرائس پر امپورٹر کیساتھ تکرار نہیں کر سکتے، اس کو جس بھاؤ ملی اس نے خرید لی، پرچیز انوائس دکھا دی، آپ کو لگتا ہے کہ امپورٹر جھوٹ بولتا ہے، پرچیز انوائس جعلی ہے تو آپ ریگولیٹری ڈیوٹی لگا دیتے ہیں تاکہ اسے مقامی پیداوار کی قیمت سے سستا نہ پڑے۔

مثال کے طور پر ٹویوٹا لینڈ کروزر وی۔ ایٹ باہر سے پچپن۔ ساٹھ لاکھ کی ملتی ہے، اسے لوکل گاڑی کی قیمت کے برابر کرنے کیلئے برابر کی ریگولیٹری ڈیوٹی لگا دی، سیلزٹیکس، ایڈیشنل سیلزٹیکس، انکم ٹیکس، ایڈیشنل انکم ٹیکس لگا کے ڈیڑھ کروڑ سے اوپر پہنچا دیتے ہیں تاکہ مقامی گاڑی کی قدر کم نہ ہو جائے۔

آٹھ اور تین کا آنکڑا اس وقت درست ہے جب سابقہ لیول کی امپورٹ پر بچت کی گئی ہو، آپ نے تو ڈالر روکنے کیلئے تعیشات پر پابندیاں لگا کر امپورٹ ہی حد درجہ کم کردی تھی، پھر انڈسٹری چوک ہونے سے جو صنعتی خام مال آنا تھا وہ بھی رک گیا تو انڈر انوائسنگ کا لیول کم ہونا ہی تھا، برقرار کیسے رہتا؟
—————————–

*میں نے پوزیشن لی، عمران خان نے بھی لی، میرا سوال ہے بڑے خرچے پر شناختی کارڈ کی شرط کہاں گئی؟ وہ معاملہ کہاں پہنچا، چاہے اسکی لمٹ پچاس ہزار کی بجائے دو لاکھ کر دیں، لیکن معاملہ کہاں پہنچا ہے آج ؟ شبر زیدی*

الجواب:
یہ پوزیشنیں لینا بڑی سوکھی ہیں اور ان کا کریڈٹ لینا اس سے بھی آسان ہے، کنٹینر سے لیکر آج تک یہی کچھ ہو رہا ہے، تنخواہ دار کا فالتو ٹیکس واپس کرنے پر کوئی پوزیشن لی ہو تو ضرور بتانا، سات سو ارب ٹیکس دینے والی قوم بیس سال بعد پانچ ہزار ارب دینے لگی ہے مگر ڈھاک کے تین پات، اس کا کوڑا اٹھانے، اس کو مفت پانی دینے پر کوئی پوزیشن لی ہو تو بتا دینا پلیز۔

میں نے تین سال میں پچاس ہزار روپے جمع کئے اور لیدر کی ایکسپورٹ کلاس برانڈڈ جیکٹ لے لی، ایک بندے نے تین سال میں ساٹھ ہزار روپے جمع کئے اور ساٹھ انچ کی ایل۔ سی۔ ڈی لے لی، ایک عورت نے دس سال پیسے جمع کئے اور بیٹی کیلئے زیور خرید لیا تو آپ ہمارا شناختی کارڈ لیکر کیا کر لیں گے، یہ لاکھوں لوگوں کی پریکٹس ہے جو ٹیکس۔ ایبل نہیں ہوتی، آپ اس پر شناختی کارڈ اکٹھے کرکے لاکھوں نوٹس پر کروڑوں روپیہ خرچ کرکے چند ہزار ٹیکس۔ ایبل لوگ تلاش کر بھی لیں گے تو یہ آنے کی بڑھیا اور ٹکا سر منڈائی سے رتی بھر بھی زیادہ دانشمندی کا کام نہیں ہے۔

پھر جو بزنس۔ پرسن پہلے ہی آپ کو اپنے ذاتی خرچے پر فری کی ٹیکس کلیکشن سروسز دے رہا ہے وہ شناختی کارڈ اکٹھے کرنے کی ایک نئی مصیبت کیوں مول لے گا؟

آپ نے ٹیکس نیٹ بڑھانا ہے تو اس کے کئی منفرد طریقے ہیں، یہاں دس طریقے میں لکھ دوں مگر فائدہ کیا، بزنس پرسن کو مفت کا غلام سمجھ کے اس پر حکم چلا دینا آپ کو آسان لگتا ہے، فیلڈ میں جا کے محنت کرنا ایک تکلیف دہ عمل ہے، اسی سے تو آپ بچتے ہیں۔
—————————–

*میں نے ایک اکاونٹ دیکھا جس میں اربوں روپے آ جا رہے ہیں لیکن اسکا NTN کیوں نہیں ہے؟ سٹیٹ بینک یہ کیوں نہیں کرتا جس کے اکاونٹ میں اتنی بڑی رقوم ہوں وہ NTN رکھے گا، لمٹ ایک کروڑ کر لیں، دس کروڑ کر لیں، لیکن نمبر تو ہونا چاہیے، شبر زیدی*

الجواب:
یہ اکاؤنٹ کسی بااثر کا ہوگا، یا کسی مینیجر نے کسی کا ترلہ منت کرکے بیلنس جمع کیا ہوگا تاکہ برانچ اوپر چلی جائے، ہر منتھ۔ اینڈ پہ، اکتیس دسمبر اور تیس جون کو یہ مصیبت ہر بینک مینیجر کو پڑی ہوتی ہے، اسوقت آپ کالا دھن بھی رکھوا سکتے ہیں۔

ورنہ ہم دونوں چل کے کسی کے نام سے ایک اکاؤنٹ کھلواتے ہیں، پھر اس میں ایک کروڑ روپے رکھ کے دیکھتے ہیں کیا بنتا ہے، اس سے اکاؤنٹ کھلوانے کی دشواریاں اور پیسہ ڈمپ کرنے کا انوبھاؤ سب پتا چل جائے گا، نہیں تو کسی فریلانسر سے پوچھ لیں کس بھاؤ اکاؤنٹ کھلتا ہے حالانکہ آپ باہر سے پیسہ لانا بھی چاہتے ہیں مگر فریلانسر کے اکاؤنٹ کھلوانے میں جوتے گھسوا دیتے ہیں، کیا اسٹیٹ بینک کی پالیسی ہماری گورنمنٹ کے تابع ہوتی ہے یا بھارتی حکومت متعین کر کے دیتی ہے؟
—————————–

*جہانگیر ترین کے علاوہ کسی سیاستدان کی کمپنی لسٹڈ نہیں ہے، وہ لوگ ڈاکومینٹیشن چاہتے ہی نہیں، میں خبر دے رہا ہوں، فرٹیلائزر ڈاکومنٹڈ ہے لیکن کوئی ڈیلر رجسٹرڈ نہیں ہے، شوگر کا کوئی ڈسٹری بیوٹر رجسٹرڈ نہیں ہے، شبر زیدی*

الجواب:
لسٹڈ کمپنی وہ ہوتی ہے جو اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ ہو تاکہ اپنی کمپنی کے حصص عام پبلک کو بیچ سکے، لسٹڈ ہونا ایک آپشن ہے کوئی فرض واجب نہیں، آپ کسی بھی شہری یا سیاستدان کو مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ کس قسم کی کمپنی کھولے، یہ فرد کا اپنا ذاتی فیصلہ ہے وہ چاہے انفرادی رکھے، پارٹنرشپ، پرائیویٹ لمیٹڈ یا پبلک لمیٹڈ بنائے، وہ ٹیکس نیٹ میں رجسٹرڈ ہے تو باقی حیثیت پر آپ شنکا نہیں کر سکتے۔

فرٹیلائزر اور شوگر کے ڈیلر کو کمیشن ملتا ہے، دونوں صنعتیں اس کمیشن پر ٹیکس کاٹتی ہیں، اور اس کی شناخت ایف۔ بی۔ آر کو رپورٹ کرتی ہیں، پھر بھی ڈیلر اپنا ریٹرن نہیں دیتا تو اس کو نوٹس بھیج دیں، جو ڈیلر واقعی رجسٹرڈ نہیں، ہر شہر سے ایسے ڈیلر پکڑنا کوئی مشکل کام نہیں جبکہ قانون میں لکھا ہوا ہے کہ ٹیکس کمشنر ایسے افراد کو فرضی گاہک بھیج کے سودا طے کر کے ثبوت پیدا کرکے رنگے ہاتھوں پکڑ سکتا ہے۔

ایک ڈپٹی کمشنر کو لینڈ کروزر دیں، وہ فرضی گاہک بن کے نیا کاروبار شروع کرنے کے بہانے فرضی کمپنی کے لیٹرہیڈ سے ریکویسٹ کرکے کھاد اور چینی کے ڈیلر سے ماہانہ سو بوری سپلائی کی کوٹیشن مانگ لے، پھر دس بوریاں منگوا کے رنگے ہاتھوں پکڑ لے، کس نے روکا ہے؟

لیکن آپ کو مزا آتا ہے پوزیشن لینے میں، آج اس طرف کو پوزیشن لے لی، پرسوں اس طرف کو لے لیں گے، سوئے ہوئے لوگ کروٹیں بدلنے کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں؟
—————————–

*مجھے بزنس کمیونٹی کی طرف سے بہت زیادہ دباو کا سامنا کرنا پڑا ہے، کوئی ایک فیصد بھی ڈاکومینٹیشن کے لئے انٹرسٹڈ نہیں ہے، وہ ہر وہ کوشش کرتے ہیں جس میں ڈاکومینٹیشن نہیں ہو، شبر زیدی*

الجواب:
یار ہمت ہے اس بندے کی ویسے۔
پھر بھی میں چیلنج سے کہتا ہوں، کراچی سے زیادہ ڈاکومنٹڈ کوئی ٹیکس سرکل پورے ملک میں کہیں نہیں اور سنا ہے کراچی جیسی بدمعاشی بھی کہیں نہیں ہوتی، غنڈے لوگ گولی بھی مار دیتے تھے جبکہ یہ صورتحال اس گورنمنٹ کے دور میں رتی برابر بھی موجود نہیں۔

2003 سے لیکر 2018 تک قومی ریوینیو سات سو ارب سے سوا چار ہزار ارب تک بغیر ڈاکومنٹڈ ہوئے کیسے پہنچا، کون کچرا کنڈیوں پہ یا ٹیکس آفس کے باہر انونیمسلی ٹیکس پھینک کے جاتا رہا؟

عبداللہ یوسف صاحب نے سات سو سے بارہ تیرہ سو ارب تک کا سفر بغیر ڈاکومنٹیشن کے کیسے کر لیا، یہی سراج قاسم تیلی صاحب اور دیگر تمام چیمبرز کے کرتا دھرتا ان کے پیچھے سپورٹ بن کے کھڑے تھے کہ آپ ہراسمنٹ روک دو تو ہم ہر سال پچیس فیصد کی گروتھ دیں گے اور دیتے رہے ہیں۔

یہ وہ چئیرمین ایف۔ بی۔ آر تھا جسے ریٹائرمنٹ پر کراچی چیمبر نے یونین کلب میں دو ڈھائی ہزار ممبرز کی موجودگی میں الوداعی ڈنر بھی دیا تھا، میں اس تقریب میں شامل تھا، ہسٹری میں کوئی اور چئیرمین نہیں جسے ٹیکس بھی ڈبل کرکے دیا ہو اور الوداعی ڈنر بھی ملا ہو، اس کی وجہ تلاش کریں۔

افتخار قطب صاحب کا رول آپ کو بتا چکا ہوں جو اپنی سروے ٹیم کیساتھ کسی بھی پروڈکشن یونٹ پر خود کھڑے ہو کے حساب کتاب کر کے ایک بینچ مارک متعین کرتے تھے، سیلزٹیکس کا سپیشل پروسیجر انہی کا بنایا ہوا ہے۔

کسی نے ان پر دروازہ بند نہیں کیا، کبھی یہ گن مین کیساتھ نہیں آئے، کیونکہ یہ لوگ اپنی پوری بات کہتے تھے اور اگلے کی بھی پوری بات اور پورا مسئلہ غور سے سنتے اور ایک معاہدہ کر لیتے تھے کہ آپ کو جو تحفظ چاہئے وہ ہم دیں گے، ہمیں جو ٹارگیٹ چاہئے وہ آپ پورا کرکے دیں گے۔

اسی پیٹرن پر قومی ریوینیو ق۔ لیگ نے اٹھارہ سو تک، پی۔ پی نے اٹھائیس سو تک اور ن۔ لیگ نے بیالیس سو تک لایا تھا حالانکہ یہ سارا دور افراتفری، بدمعاشی اور لاقانونیت کے عروج کا دور ہے لیکن کبھی کسی چئیرمین نے یہ آنگن ٹیڑھا والی کہانی نہیں سنائی۔
—————————–

*یہ ایشو منظم اور غیرمنظم کا ہے کہ اگر میں کمپنی میں آکے بزنس کروں گا تو ٹیکس ریٹ بھی زیادہ ہوگا ریکوائرمنٹ بھی زیادہ، پریشانی بھی زیادہ، انفرادی میں یہ سب نہیں ہوگا، تو یہ تصور غلط ہے، شبر زیدی*

الجواب:
یہ بیان اگر واقعی سابق چئیرمین کا ہے تو اس کا کوئی جواب نہیں دوں گا، یہاں کمپنی سے مراد پرائیویٹ لمیٹڈ ہے، آپ ایک کمپنی بنالیں پھر اپنا چُٹکا آپ خود تو دیکھیں گے ہی ارد گرد کے لوگ بھی دیکھ لیں گے، چٹکا اس تماشے کو کہتے ہیں جو زرا منفرد قسم کا ہو۔
—————————–

*بات سیاسی ہوجائے گی، ذاتی کاروبار کا یہاں جو سلسلہ ہے اسکا منبہ نوازشریف ہیں انکی پالیسی دیکھ لیں، انکے گروپ میں کوئی کمپنی لسٹڈ نہیں ہے، کسی سیاستدان کی کمپنی لسٹڈ نہیں، سوائے ایک جہانگیر ترین کے۔ اسلئے کہ انکو ڈاکومینٹیشن نہیں چاہیے، یہ پورا مافیا نواز شریف کے دور میں بنا ہے۔

الجواب:
یہاں سے اصل قلعی کھل جاتی ہے کہ کہنے والے نے یہ سارا قانونی و طبعی علوم سے ماورا طومار جو باندھا ہے وہ صرف لاعلم عوام کو گمراہ کرکے، منبع نواز شریف ہے والے، آخری جملے تک لانے کیلئے تھا یعنی جب بچہ روتا ہو تو اسے فیم کا ایک ماشہ کھلا کے سلا دو، پھر اٹھے گا تو پھر دیکھی جائے گی، قوم کو سلانے یا سُر میں لانے کیلئے گاہے بگاہے یہ عجب کرپشن کی گجب کہانی والی ایک ماشہ فیم بہت ضروری ہے۔

شریف فیملی یا کسی اور سیاستدان کی کوئی کمپنی انفرادی ہے، پارٹنرشپ یا لمیٹڈ ہے تو یہ ان کا قانونی حق ہے جو ساخت مرضی رکھیں، جب وہ اپنی کمپنیوں کے حصص پبلک کو فروخت نہیں کرنا چاہتے تو انہیں لسٹڈ کمپنی بنانے کی ضرورت بھی نہیں۔

عوام کی اکثریت کو نہیں پتا لسٹڈ کمپنی کیا ہوتی ہے اسلئے تزکرہ نگار بار بار لسٹڈ کی گردان سے ان کے ذہن میں یہ مغالطہ پیدا کرتا ہے کہ پتا نہیں یہ کتنا بڑا جرم ہے جو سب کر رہے ہیں۔

بزنس کے سلسلے میں جرم صرف ایک ہے کہ کسی سیاستدان یا عام آدمی کی کوئی کمپنی ٹیکس سسٹم پر رجسٹرڈ نہ ہو تو اس پر اوبجیکشن کر سکتے ہیں، ساخت پر کوئی اوبجیکشن نہیں ہو سکتا۔

پھر جس طرح ترین صاحب کی تعریف کی گئی ہے، بدلے ہوئے حالات میں یہی بندہ آج ترین صاحب کا حوالہ دینے کو بھی تیار نہ ہوگا اور یہ بتانے کیلئے تو کبھی بھی تیار نہ ہو گا کہ ترین صاحب کی شوگر انڈسٹری کیساتھ کتنے شوگر ڈیلر ٹیکس نیٹ میں واقعی رجسٹرڈ ہیں۔

میرے حساب سے یہ ساری باتیں شبر زیدی کے نام پہ کسی ایسے بندے نے پھیلائی ہیں جس کے عرف میں تھیا آتا ہو، اگر واقعی شبر زیدی نے کیں ہیں تو پھر ان کی ناکامی کی وجہ سمجھنا بھی اب آپ کیلئے چنداں مشکل نہ ہوگا تاہم ایک آخری گزارش یہ ہے کہ اس قوم کو صرف اتنیک حد تک بیوقوف بنایا کرو جتنیک حد میں آپ خود بھی ایک نادرِ روزگار قسم کے احمق نہ لگو۔

Facebook Comments Box
Corrupt FBRFBRfeaturedShibbar ZaidiTaxایف بی آرٹیکسشبر زیدیمعیشت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
فقط دو فیصد ٹیکس دہندگان کا ملک —– نعیم صادق
next post
پاکستان دفاعی اعتبار سے بھارت سے برتر کیوں؟ —- پراوین سانی (بھارتی دفاعی تجزیہ کار)

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.