Connect with us

تازہ ترین

پاکستان دفاعی اعتبار سے بھارت سے برتر کیوں؟ —- پراوین سانی (بھارتی دفاعی تجزیہ کار)

Published

on

میری نئی آنے والی کتاب ڈریگن آن دی ڈور سٹیپ کا آغاز میں نے اس جملے سے کیا ہے کہ چین کی بات تو دور، انڈیا اس وقت پاکستان سے بھی جنگ نہیں جیت سکتا۔ اگلی جو بھی جنگ ہوگی اس میں پاکستان نہایت تسلی کے ساتھ انڈین ملٹری کو overmatch کر جائے گا۔ اس کی تین وجوہات ہیں۔ میں یہی تین وجوہات بیان کروں گا۔

اسے سمجھنے کے لیئے ہمیں جنگ کے بنیادی اصولوں پر نظر ڈالنی ہوگی۔ کسی بھی جنگ کے بنیادی طور پر تین لیول ہوتے ہیں۔ سب سے نچلا tactical لیول ہوتا ہے۔ یہاں پر فیزیکل لڑائی لڑی جاتی ہے۔ یہ طاقت کے ساتھ طاقت کا مقابلہ ہوتا ہے۔ کس کے پاس کتنے ٹینک کتنے طیارے اور کتنے ہتھیار ہیں یہ سب ٹیکٹیکل لیول پر ڈسکس ہوتا ہے۔

جنگ کا دوسرا لیول آپریشنل لیول کہلاتا ہے۔ آپریشنل لیول پر ٹیکٹیکل لیول کی تمام لڑائیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہوتا ہے۔ یہ سب سے اہم ہے کیونکہ پوری لڑائی کا نتیجہ آپریشنل لیول ہی طے کرتا ہے۔ جو آپریشنل لیول پر کامیاب ہوتا ہے جیت بھی اسی کے حصے میں آتی ہے۔ یہ سٹیج جنگ کے تیسرے یعنی سٹریٹیجک لیول پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ تیسرا یعنی سٹریٹیجک لیول پر فوجی اور سویلین قیادت کی ہم آہنگی ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اس لیول پر ہی کوئی ملک ایک قوم کے طور پر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ جنگ کس طرح لڑنی ہے۔

اس سٹریٹیجک لیول پر پاکستان انڈیا سے بہت آگے نکل چکا ہے۔

دوسری وجہ جاننے کے لیے ہمیں بھارتی فوج کے وار concepts جاننے کی ضرورت ہے۔ بھارتی فوج جس ڈاکٹرائن کے تحت لڑائی لڑے گی اسے ایئر لینڈ وار کہا جاتا ہے۔ یہ ڈاکٹرائن 1986 میں امریکی فوج نے پیش کیا تھا۔ یہاں سب سے پہلا سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ انڈین ملٹری 1986 کے ایک ڈاکٹرائن کو کیوں ساتھ لے کر چل رہی ہے اور اسے اپگریڈ کیوں نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تینوں سورسز (نیوی ایئر فورس اور آرمی) میں آرمی ہی باقی دونوں کو لیڈ کرتی ہے اور ہماری فوج 1990 سے جموں و کشمیر میں صرف کاؤنٹر ٹیررسٹ اور کاؤنٹر insurgency آپریشن میں مصروف ہے۔ پچھلے تیس سال سے یہی کچھ ہو رہا ہے اور آگے بھی ہوتا رہے گا۔

اس کے مقابلے میں ہمارے شمالی ہمسائے چین کی پی ایل اے (پیپلز لبریشن آرمی) نے اپنے وار ڈاکٹرائن میں پچھلے تیس سالوں میں تین بار upgradation کی ہے۔ پہلے وہ نیٹورک سینٹرک آپریشنز پر گئے۔ پھر informationized وار اور اب وہ انٹیلیجنس سائز جنگ کی طرف بڑھ چکے ہیں۔ اسے روبوٹک وار بھی کہا جاتا ہے جو آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر منحصر ہوگی۔ ہماری انڈین فوج نے یہ سب مس کر دیا ہے۔

اور جہاں تک پاکستانی فوج کا تعلق ہے تو اس پورے خطے میں ان کا واحد دشمن انڈیا ہے۔ اس وجہ سے پچھلے بیس سال میں انہوں نے اپنے آپ کو آپریشنل (دوسرے) لیول پر مضبوط رکھا اور اس میں وہ کامیاب بھی ہو چکے ہیں۔

بھارتی فوج کا جو ایئر لینڈ لڑائی کا ڈاکٹرائن ہے وہ صرف اور صرف ٹیکٹیکل یعنی سب سے نچلے لیول پر focused ہے۔ اس ڈاکٹرائن میں دو عنصر شامل ہیں۔ ایئر یعنی ایئر فورس اور لینڈ یعنی زمینی فوج یعنی آرمی۔ دونوں عناصر کی چند بنیادی صلاحیتیں۔ آرمی کی بنیادی صلاحیت کمبائینڈ مسلح آپریشنز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آرٹلری آرمر اور انفینٹری وغیرہ اپنی الگ الگ پلاننگ نہیں کریں بلکہ ایک لیڈرشپ کے تحت ایک ہی پلان پر کام کریں گے۔ جہاں تک ایئر فورس کا تعلق ہے اس کی بنیادی صلاحیتیں رفتار lethality رینج اور flexibility وغیرہ ہوتی ہیں۔ اس لیئے جب جنگ کی بات ہوتی ہے تو ایئر فورس اور آرمی کی پلاننگ میں ٹیکٹیکل لیول پر synergy ہونی چاہیئے۔ البتہ یہ synergy تبھی اچھے نتائج دے سکتی ہے جب جنگ بھی انہیں دو domains یعنی ایئر اور لینڈ پر لڑی جا رہی ہو۔ وہاں ان کے درمیان پلاننگ میں joint ness اور execution میں کوآرڈینیشن ہونی چاہیئے۔ البتہ ہمارے جنرل راوت جو ملٹری ریفارمز کو دیکھ رہے ہیں وہ انٹیگریٹڈ تھیئٹر کمانڈ کی بات کر رہے ہیں جہاں آرمی اور ایئر فورس کو ایک ہی فورس بنایا جائے گا۔ میری زاتی رائے میں یہ ہمارے لیئے فائدہ مند نہیں ہوگا کیونکہ اس سے ایئر فورس کی بنیادی صلاحیتیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لیئے میں انٹیگریٹڈ تھیئٹر کمانڈ کے حق میں نہیں۔ کیونکہ جنرل راوت پلاننگ اور execution دونوں میں joint ness پیدا کرنا چاہ رہے ہیں۔

ویڈیو کے شروع میں میں نے کہا کہ پاکستان سٹریٹیجک لیول پر انڈیا سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں جو بھی آرمی چیف آتا ہے وہ اپنے ملک کی نیوکلیئر پالیسی، سیکیورٹی پالیسی اور دفاعی پالیسی کنٹرول کرتا ہے۔ پاکستانی آرمی چیف کو ان پالیسیوں میں کسی کی مداخلت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ چاہے وہ سویلین سیاسی لیڈرشپ ہو یا بیوروکریسی۔ انڈیا میں یہ معاملہ بلکل الٹ ہے۔ انڈیا کی ان پالیسیوں میں سیاسی قیادت اور بیوروکریسی مسلسل مداخلت کرتی ہیں۔ اس کی مثال بھی آپ کو دیتا ہوں۔ جب مودی حکومت آئی تو انہوں نے تمام ملٹری کمانڈرز کی کانفرنس میں واشگاف الفاظ میں بیان دیا کہ threat کو تو ہم جانتے ہیں جو پاکستان ہے لیکن دشمن جس سے آپ نے لڑنا ہے وہ دہشت گرد (م ج ا ہ دین) ہیں۔ دوسرے الفاظ میں مودی بھارتی فوج کو یہ بتا رہا تھا کہ کاؤنٹر insurgency آپریشن جاری رہیں گے اور آپ نے انہیں "دہشت گردوں” سے ہی لڑنا ہے۔ اور ہماری فوجی قیادت نے بھی چپ چاپ یہ بات تسلیم کر لی۔ بغیر یہ realize کیئے کہ دہشت گردی اصل میں دشمن نہیں ہے۔ دہشت گردی تو صرف پاکستانی فوج کی ایک ملٹری سٹریٹیجی ہے۔ آپ اپنی فوج کو ایک ملٹری سٹریٹیجی سے لڑنے پر مجبور کر رہے ہیں جس میں کبھی کامیابی مل ہی نہیں سکتی۔

جہاں تک بیوروکریسی کا تعلق ہے آئین کے مطابق ہمارا ڈیفینس سیکریٹری ملکی دفاع کا زمہ دار ہے۔ اس حساب سے بیوروکریسی کی مداخلت ہر جگہ ہے۔ مثال کے طور پر ہماری بیوروکریسی آپریشنل sustainable سسٹمز میں بہت زیادہ مداخلت کرتی ہے۔ باہر کے ممالک سے دفاعی ہتھیاروں کے سودوں میں مداخلت کی بات کر رہا ہوں۔ البتہ پاکستان میں یہ سب نہیں ہوتا۔ اس لیئے میں نے کہا کہ پاکستان سٹریٹیجک لیول پر کافی آگے ہے۔ ان کے پاس کھل کر کھیلنے کے لیے بہت سے کارڈز ہوتے ہیں۔ پلاننگ اور execution میں بہت سارے options ہوتے ہیں۔ وہ لوگ آپریشنل لیول پر خود initiative لے سکتے ہیں اور یہیں اسی لیول پر جنگ کا فیصلہ ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان نے ایک اور کام بھی کیا۔ بھارتی فوج کی تعداد تقریباً 12 لاکھ ہے اور پاکستانی فوج کی تعداد تقریباً چھے لاکھ کے قریب ہوگی۔ لداخ کے حالیہ واقعات سے پہلے تک انڈین فوج کی بہت بڑی تعداد ایل او سی اور انٹرنیشنل بارڈر پر پاکستان کے سامنے تھی۔ تو پاکستان نے سوچا کہ ہم ایسے کونسے طریقے اختیار کریں جن کی مدد سے اپنے سے دو گنا بڑی فوج کا مقابلہ کیا جا سکے۔

لداخ کے حالیہ واقعات سے پہلے تک ان کی بہت بڑی تعداد ایل او سی اور انٹرنیشنل بارڈر پر پاکستان کے سامنے تھی۔ تو پاکستان نے سوچا کہ ہم ایسے کونسے طریقے اختیار کریں جن کی مدد سے اپنے سے دو گنا بڑی فوج کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس کا حل آئی ایس آئی نے نکالا۔ میری assessment کے مطابق آئی ایس آئی دنیا کی بہترین انٹیلیجنس ایجنسیوں میں سے ہے۔ انہوں نے کش میر کی پہلی جنگ (1948) کے بعد ہی یہ ادراک کر لیا تھا کہ وہ ریگولر فوجیوں کے ساتھ ساتھ قبائلیوں کو کس طرح استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد سے آئی ایس آئی کی جانب سے irregulars یعنی م ج ا ہ دین اور پیرا ملٹری فورسز کے استعمال کا سلسلہ جاری ہے۔ انہیں م ج ا ہ دین کے بارے میں جنرل مشرف نے 1999 میں کہا تھا کہ یہ پاکستان کی پہلی لائن آف ڈیفنس ہیں۔ لیکن اصل میں یہ ڈیفنس نہیں پہلی لائن آف offense ہیں۔ اور ان کے زریعے پاکستان نے ٹیکٹیکل لیول پر اپنی کم تعداد کا کافی حد تک مداوا کر لیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی فوج نے آپریشنل لیول پر انڈین آرمی کو میچ کیا اور یہی وجہ ہے کہ ہم انہیں آج تک ویسٹرن فرنٹ پر ایک بھی جنگ نہیں ہرا سکے۔ چاہے وہ 48 کی جنگ ہو 65 کی یا 71 کی۔ مغربی پاکستان کے مقابلے میں انڈیا کو اب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ اگر کسی کو میری بات پر شک ہے تو وہ اس سوال کا جواب دے کہ اگر انڈیا نے پاکستان کو ہر جنگ میں شکست دی ہے تو اب تک بین الاقوامی بارڈر ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی کیوں قائم ہیں؟ ہماری جیت کے نتیجے میں تو بارڈر obliterate ہو جانا چاہیئے تھا۔ کیونکہ پاکستانیوں کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ آپریشنل لیول پر برابری ہر صورت قائم رہنی چاہیئے۔ اس لیئے یہ کہنا کہ conventional ہتھیاروں میں وہ ہم سے کم تر ہیں ایک بیوقوفانہ سوچ ہے۔

لیکن اب صورتحال بڑی حد تک تبدیل ہو چکی ہے۔ پانچ اگست 2019 کے دن وزیراعظم مودی کے اقدامات کے بعد جب انڈیا نے نقشے تبدیل کر دیئے تو چین نے اس پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم لداخ کو کسی صورت یونین territory نہیں مانیں گے۔ مودی کے اس اقدام سے پہلے ان کا بنیادی مسلہ صرف اروناچل پردیش تھا جسے وہ ساؤتھ تبت کہتے ہیں۔ اب لداخ کو بھی انہوں نے اپنے بنیادی concerns میں شامل کر لیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ چین کا کور concern لداخ ہے اور پاکستان کا تو کور concern ہمیشہ سے کش میر رہا ہے۔ اس صورتحال کے بعد چین اور پاکستان کے درمیان interoperability اور combined آپریشنز پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیئے۔

میں اس بات کی وضاحت کر دیتا ہوں۔ interoperability کے چار مرحلے ہوتے ہیں۔ پہلا سٹیپ ہتھیاروں کی commonality ہوتا ہے۔ آج ہم جانتے ہیں کہ پاکستانی ملٹری کے maximum ہتھیار چین سے آتے ہیں۔ دوسرا سٹیپ آپریشنل sustainability ہے۔ جب دو ممالک کے درمیان ہتھیاروں کی commonality پیدا ہو جائے تو انہیں ہتھیاروں کی سپلائی اور maintenance میں delay جیسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اگلی لڑائی میں پاکستانیوں کو اس بات کا یقین ہوگا کہ انہیں ہتھیاروں کی سپلائی معطل نہیں کی جائے گی۔ جبکہ انڈیا کے بارے میں یہ بات یقین سے نہیں کی جا سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگلی لڑائی میں انڈیا کو اپنے ہتھیار احتیاط سے استعمال کرنے پڑیں گے۔ اپنی فائر پاور conservative طریقے سے استعمال کرنی پڑے گی۔ جبکہ پاکستان اپنے ہتھیار کھل کر استعمال کرے گا کیونکہ انہیں سپلائی لائن کا کوئی مسلہ نہیں ہوگا۔ interoperability کا تیسرا سٹیپ مشترکہ ٹریننگ ہے اور یہ کام پاکستان اور چین پچھلے دس سال سے کر رہے ہیں۔ پاکستانی اور چائینیز ایئر فورس 2012 سے شاہین نامی جنگی مشقیں کر رہی ہیں۔ دونوں ممالک کی سپیشل فورسز بھی 2012 سے مشترکہ ٹریننگ میں مصروف ہیں۔ اور اس کا آخری سٹیپ جنگ کی مشترکہ پلاننگ ہے۔ پاکستان اور چین کے لیئے یہ کام انڈیا نے خود آسان کر دیا ہے۔ کش میر کا سپیشل سٹیٹس ختم کرنے کے بعد انڈیا نے ان دونوں کے لیئے وار تھیئٹر کی بھی نشاندہی کر دی ہے۔ اگلی لڑائی میں main تھیئٹر ہمارا کش میر، لداخ، پاکستانی کشمیر، سیاچن اور گلگت بلتستان ہوگا۔ اور یہ صرف ایک تھیئٹر ہوگا جس پر لڑائی کی یہ دونوں ممالک مشترکہ پلاننگ کر چکے ہوں گے۔ کیونکہ پچھلے دنوں کچھ ایسی رپورٹس بھی آئی تھیں کہ پاکستانی فوج کے کرنل لیول کے افسر چین کی ویسٹرن تھیئٹر کمانڈ اور شن جیانگ کمانڈ میں باقاعدہ تعینات کر دیئے گئے ہیں۔ ان دونوں کمانڈز کا کام لداخ کے آپریشنز دیکھنا ہے (سائیڈ نوٹ: اس رپورٹ کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی)۔ تو اب انڈیا کو پاکستان اور چین کی جانب سے combined ملٹری آپریشنز کی پوری امید رکھنی چاہیئے۔ انڈین ملٹری کے مطابق یہ ٹو فرنٹ وار ہوگی۔ لیکن میرے مطابق ایسا نہیں ہے۔ اوپر بیان کیئے گئے پوائنٹس کے بعد یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ ٹو فرنٹ نہیں بلکہ ون فرنٹ reinforced جنگ ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگلی لڑائی میں پاکستان اور چین کے درمیان مختلف domains میں ڈیپ شیئرنگ ہوگی۔

مثال کے طور پر چین کی فوج سائیبر وارفیئر میں ایکسپرٹ مانی جاتی ہے۔ ہمیں یعنی بھارتی فوج کو اس بات کے لیئے تیار رہنا چاہیئے کہ ہماری فوجی موبیلائیزیشن پلان کے مطابق نہیں ہوگی۔ ہمارے ایئر ٹریفک کنٹرولرز میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جس کے باعث انڈین ایئر فورس کی sorties متاثر ہوں گی۔ ایسا کیوں ہوگا؟ کیونکہ ہماری ٹیلی کمیونیکیشن اور پورے پاور گرڈ میں وہ سسٹمز نصب ہیں جو ہم نے چین سے خریدے تھے۔ تو سائیبر وارفیئر ایک بہت بڑا مسلہ ہوگا جو پاکستانی ملٹری کی مدد کرے گا۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کش میر کے سپیشل سٹیٹس کے ختم کرنے کے ٹھیک ایک سال بعد یعنی اگست 2020 میں پاکستانی ایئر فورس نے چین کی مدد سے ایک نیا ادارہ سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلیجنس اینڈ cognition یعنی CENTAIC قائم کیا تھا۔ یہ ادارہ پاکستان کو دو aspects میں مدد کرے گا۔ ایک ایئر ڈیفنس ہے۔ پاکستان کا ایئر ڈیفنس ویسے بھی بہتر تصور کیا جاتا ہے اور بالاکوٹ حملے کے بعد اسے reinforce بھی کیا جا رہا ہے۔ یعنی ایئر ڈیفنس میں gaps ختم کیئے جا رہے ہیں اور چین اس سلسلے میں پاکستان کی بھرپور مدد کر رہا ہے۔ CENTAIC کی بدولت اگر پاکستان اپنے ایئر ڈیفنس میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس بھی شامل کر دے تو اس طرح پاکستان کی فضاؤں کی حفاظت انسان نہیں بلکہ مشینیں کریں گی۔ یہ پاکستانی ملٹری کے لیئے ایک بہت بڑا بوسٹ ہوگا۔

اگلا قدم الیکٹرانک وارفیئر ہے۔ پاکستان نے اپنی اس صلاحیت کا تسلی بخش مظاہرہ 27 فروری 2019 میں ہی کر دیا تھا جسے وہ آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ کہتے ہیں جو بھارتی ایئر فورس کی بالاکوٹ سٹرائیک کا جواب تھا۔ انہوں نے بہت واضح کر دیا تھا کہ الیکٹرونک وارفیئر اور الیکٹرو میگنیٹک سپیکٹرم کی مینجمنٹ میں وہ ہم سے بہتر ہیں۔

اس کے علاوہ اگلی لڑائی میں چین انہیں کافی سپیشل قسم کے سٹینڈ آف ہتھیار بھی فراہم کرے گا جس کی بدولت وہ دور سے ہی ہماری دفاعی installations کو نشانہ بنا سکیں گے۔

ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ 65 کی جنگ میں جب پاکستان نے آپریشن جبرالٹر کے تحت ریگولر اور irregulars کش میر میں گھسائے تھے اس وقت لوکل کشمیریوں نے بھارت کی مدد کی تھی اور ان پاکستانیوں کو پکڑ پکڑ کر بھارتی سیکیورٹی فورسز کے حوالے کیا تھا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔ اب ہم نے اپنے اقدامات سے ہی کشمیریوں کو alienate کر دیا ہے۔ یہ آئی ایس آئی کے لیئے ایک بڑا بوسٹ ہے (سائیڈ نوٹ: یہ الگ بات ہے کہ آئی ایس آئی اس موقع سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہی)۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیئے کہ لداخ کا فرنٹ کھلنے کے بعد ہم نے کش میر سے کافی ساری فوج نکال کر وہاں تعینات کی ہے۔ تو hostile لوکل آبادی اور فوج میں کمی پاکستانی ملٹری کو مدد فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ فوج کے ساتھ ساتھ ہمارے assets بھی دونوں طرف تقسیم ہو جائیں گے۔ ہماری ایئر فورس کو ایل او سی کے ساتھ ساتھ ایل اے سی پر بھی نظر رکھنی ہوگی۔

اس لیے میں کہہ رہا ہوں کہ موجودہ صورتحال ہمارے لیئے کافی خراب ہو چکی ہے۔ اس کا جواب صرف اور صرف پاکستان اور چین کے ساتھ امن کا قیام ہی ہو سکتا ہے۔

نوٹ: ترجمہ ایگزیکٹ نہیں ہے۔ صرف بات سمجھانے کے لیئے تھوڑی بہت تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

مذکورہ گفتگو کا لنک درج ذیل ہے:

Why Pakistan is an Overmatch for India

Advertisement

Trending