میرے ساتھ ایسا بہت کم ہوا کہ کوئی تخلیق ہاتھ آئی اور جانے پہچانے کرداروں اور ماحول سے بنا ہوا بے رحم اور سفاکیت بھرا بیانیہ تھما گئی۔ پھر خود تو کہیں پس منظر میں چلی گئی لیکن مجھے تخلیق کار کے تخلیقی اور ذاتی کرب کے حوالے کر گئی۔ اس کے بعد بیان کی اذیت سے ذہن ایسا الجھا کہ گھنٹوں کچھ سجھائی نہیں دیا اور آخر میں اگر کچھ باقی رہا تو تخلیق کار کا لا متناہی دکھ جو ایک نہ ختم ہونے والی اذیت میں مبتلا کر گیا۔
اپنے طرز کی واحد اردو افسانہ نگار خالدہ حسین کا افسانہ "دادی آج چھٹی پر ہیں” پہلی بار پڑھتے ہوئے بھی میری یہی کیفیت ہوئی کیوں کہ یہ خالدہ حسین سے متعلق اہم سوانحی اشارے فراہم کر کے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گیا۔ وجہ؟ اس کا موضوع ؛جو ایک شدت پسند معاشرے اور گھریلو ماحول میں ایک عورت، ایک استاد اور ایک لکھاری کی الجھن ہے یا پھر ایک انحطاط پذیر معاشرے کی تصویر ہے، جس میں بطور تخلیق کار ایک عورت پر مسلسل خوف مسلط کر دیا گیا ہے حالاں کہ خود وہ تو اس فکر میں غلطاں ہے کہ ایک معروف ادیب ہونے کے باوجود لکھے نہ لکھے؛ کہے نہ کہے؛ اگر لکھے یا کہے تو اپنے گھر والوں،سماج اور باقی سب کے مفاد کو مدنظر کیسے رکھے؟ اور پھر ان سب کے ساتھ اپنی مذہبی اور معاشرتی ذمے داریاں کیسے نبھائے؟ لیکن ستم یہ ہے کہ اس قدر احتیاط، منصوبہ بندی اور بحیثیت لکھاری "ایک اہم قومی اثاثہ ” ہونے کے باوجود وہ کسی کو خوش نہیں رکھ پاتی اور اپنوں ہی کے ہاتھوں” دوزخ” کی حق دار ٹھہرتی ہے۔
ایسا اس لیے بھی ہوتا ہے کہ ہمارے یبوست زدہ معاشرے میں عورت کو بحیثیت فرد یا وجود ایک مکمل اکائی اور مساوی رفیق تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اسے ایک پس ماندہ طبقہ گردانا جاتا ہے۔ اسی امر کا نمائندہ اس افسانے میں “دادی” کا کردار ہے، جس کی صاف شفاف اور مثالی زندگی ان کی پوتی زینب کی زبانی بیان ہوتی ہے۔ اس دادی سے ہر ایک نے اپنی توقعات وابستہ کر لی ہیں، جن میں لکھنے لکھانے، میل جول بڑھانے، موسیقی سننے، شوخ رنگ پہننے، بالوں کو رنگنے، خوش بو لگانے جیسے قبیح افعال کی ممانعت سر فہرست ہے جب کہ گھر کے مرد ان پابندیوں سے آزاد ہیں۔ دادی عورت کے لیے قائم کردہ ان "معیارات "پر پورا اترنے کی کوشش میں مصروف بھی ہیں کہ انھوں نے تمام عمر مذہب، معاشرتی روایات اور رشتوں کا پاس رکھا ہے، لیکن ہر طرح کی کوشش کے باوجود نہ تو کسی کو مطمئن کر پا رہی ہیں اور نہ کوئی ان کا حالِ دل جاننے اور ان کے نفسیاتی وجود کو تسلیم کرنے کو تیار ہے۔
وہ اپنے لیے کچھ زیادہ بھی نہیں چاہتیں ؛ محض اپنے تخلیقی وقفے کے لیے ایک موقعے کی کھوج میں ہیں، جہاں وہ اپنے وجود کا اثبات حاصل کر سکیں ؛ تخلیق کے نئے امکانات تلاش کر سکیں اور اپنے وجود کو فنا کے خوف سے نکال سکیں کیوں کہ لکھنا ہی ان کے وجود کا جواز ہے۔ اس کے لیے دادی "چھٹی ” منانا چاہتی ہیں جس سے ان کی مراد "اپنے دل کی خوشی کرنا ” اور ایک محدود زندگی سے نکل کر صرف ایک دن بس ایک دن اصل آزادی کا بسر کرنا ہے، لیکن اس معاشرے کے جبر کا کیا کیا جائے، جو ان کی یک روزہ معمولی سی ” چھٹی ” کا بھی روادار نہیں۔
نتیجہ وہی جو ہونا چاہیے۔ دادی کے اندر کی عورت ان کے داخل ہی میں رہ جاتی ہے اور آنکھوں کے دریچوں سے اپنے لیے بنائے گئے اصول و ضوابط خاموشی سے دیکھتی، جھیلتی اور کوسنے سنتی خود تو سماج کی تجویز کردہ دنیا سے رابطہ سوار کر لیتی ہے، لیکن اپنی پوتی زینب کے ذریعے اپنا کتھارسس (تحلیل نفسی) کرنے کی کوشش کرتی ہے؛ اسے گھماتی پھراتی ہے؛ سنڈریلا اور گولڈی لوکس کے کارٹونوں سے آگاہ کرتی ہے؛ معروف موچی، سند باد جہازی اور اڑن کھٹولوں کی کہانیاں سناتی ہے؛ سہیلیوں کے ساتھ ککلی اور لڈی ڈالنے کی بابت بتاتی ہے اور کسی نہ کسی طرح آزادی کا کوئی لمحہ اس کی جھولی میں ڈالنے کی سعی میں سرگرداں رہتی ہے، جس کے جواب میں گھر والوں سے اس قسم کے جملے سننا معمول قرار پاتا ہے :
"ان خرافات کے بجائے بچی کو اسلامی تاریخ اور صحابیات کے حالات اور قصص القرآن سنائیے۔ "
یا
"بہت سے انسانوں سے ملنا اور مل کر خوش ہونا انتہائی مبتذل حرکت اور بد راہی ہے”
لیکن چوں کہ دادی مفاہمت پسند ہیں؛ بقولِ خود بزدل ہیں اور بغاوت ان کا مزاج نہیں اس لیے وہ اپنے عمل سے ان عورتوں کی ترجمان بن جاتی ہیں جو اس پدرسری معاشرے میں عمر بھر ہرج مرج کھینچتی زیست تو کر جاتی ہیں، مگر وہ چیز جسے”زندگی”کہتے ہیں، ان کی کبھی آغاز نہیں ہو پاتی۔
یہاں سب سے تکلیف دہ امر یہ ہے کہ اس افسانے کے لفظوں کی اوٹ میں خالدہ حسین خود اپنی ذات کا انکشاف کر کے اپنا دکھ قاری کو سونپ رہی ہیں اور اپنی زندگی سے قریب تر علامتیں استعمال کر رہی ہیں،جو مکمل ابلاغ بھی رکھتی ہیں۔ یوں وہ اپنے افسانے کا آمیزہ آشوب ذات سے تیار کر کے نہ صرف اسے شہر آشوب بنا رہی ہیں بلکہ اپنے انفرادی، داخلی اور باطنی کرب کو خارجیت سے آشنا کر کے اسے اجتماعیت عطا کر رہی ہیں، جس سے معاشرے کے بے حس افراد کے اقوال و افعال میں موجود تضاد، دو رنگی اور منافقت کا پردہ بھی چاک ہو رہا ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو ان کے فن کو اظہارِ ذات سے بلند کرکے سماجی شعور اور بیداری کی سطح پر لے آتا ہے۔ اس اعتبار سے خالدہ حسین کا افسانوی اظہاریہ نہ صرف عہد کے داخلی کرب کا معتبر دستاویز ہے بلکہ اجتماعی ضمیر کو بیدار کرنے والی ایک مؤثر اور توانا آواز بھی ہے۔
