برصغیر پاک و ہند میں موسیقی کی تاریخ کا مطالعہ اگر خانقاہوں، درگاہوں، آستانوں، عرسوں اور صوفی مراکز کے ذکر کے بغیر کیا جائے تو یہ تاریخ نہ صرف نامکمل رہ جاتی ہے بلکہ موسیقی کے سماجی ارتقا کی ایک نہایت اہم جہت بھی ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ ہندوستانی موسیقی کی تشکیل میں بادشاہوں کے دربار، راجاؤں کی سرپرستی، نوابوں کے محل، طوائفوں کے کوٹھوں،موسیقی کے گھرانے اور بعد کے زمانے میں ریڈیو، فلم اور ٹیلی وژن یقیناً اہم رہے ہیں لیکن ان سب کے متوازی ایک ایسا تہذیبی نظام بھی موجود رہا جس نے موسیقی کو عوامی زندگی، روحانی تجربے اور اجتماعی ثقافت سے جوڑے رکھا، یہ نظام خانقاہ اور درگاہ کا نظام تھا۔
خانقاہ برصغیر میں محض عبادت، ذکر اور روحانی تربیت کا مرکز نہیں تھی۔ یہ ایک ایسی تہذیبی درس گاہ بھی تھی جہاں شاعری، زبان، موسیقی، لوک روایت، قصہ، حکایت اور اجتماعی ثقافت ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ یہاں شعر صرف پڑھا نہیں جاتا تھا بلکہ گایا جاتا تھا، کلام صرف کتاب میں محفوظ نہیں رہتا تھا بلکہ آواز کے ذریعے لوگوں کے حافظے کا حصہ بنتا تھا اور موسیقی صرف خواص کے دربار تک محدود نہیں رہتی تھی بلکہ غریب، امیر، کسان، تاجر، مسافر اور مختلف مذہبی و سماجی طبقات کے لوگوں تک پہنچتی تھی۔ اس اعتبار سے خانقاہ نے موسیقی کو اشرافیائی دائرے سے نکال کر عوامی تہذیب کا حصہ بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
اس پورے عمل کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے ’’سماع‘‘ کے تصور کو سمجھنا ضروری ہے۔ سماع کے لغوی معنی سننے کے ہیں، مگر تصوف کی اصطلاح میں سماع محض موسیقی سننے کا نام نہیں۔ صوفیانہ روایت میں سماع ایسی مجلس ہے جس میں حمد، نعت، منقبت، صوفیانہ شاعری یا ذکر کے کلام کو خوش الحانی اور بعض صورتوں میں ساز کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے تاکہ دل میں ایک خاص روحانی کیفیت پیدا ہو۔ اس کیفیت کو وجد، حال یا ذوق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس لیے صوفیاء کے ہاں سماع کا اصل سوال یہ نہیں تھا کہ ’’موسیقی ہے یا نہیں‘‘ بلکہ یہ بھی تھا کہ کلام کیا ہے، سننے والے کی نیت کیا ہے، ماحول کیسا ہے اور وہ غنایت یا موسیقیت دل پر کیا اثر ڈال رہی ہے۔
اسلامی تصوف میں سماع پر ایک طویل فکری بحث موجود رہی ہے۔ امام ابو حامد الغزالی نے ’’احیاءُ علوم الدین‘‘ میں سماع اور وجد پر مستقل بحث کی اور اس کے روحانی اثرات کو نیت، کلام اور سامع کی باطنی کیفیت کے ساتھ مربوط کیا۔ اسی طرح برصغیر میں علی بن عثمان الہجویری المعروف داتا گنج بخش کی ’’کشف المحجوب‘‘ سماع کے مسئلے پر ابتدائی اہم صوفیانہ ماخذ فراہم کرتی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ برصغیر میں خانقاہی سماع کوئی اچانک پیدا ہونے والی روایت نہیں تھا بلکہ اسلامی تصوف کی ایک طویل فکری روایت کا ہندوستانی تہذیب کے ساتھ امتزاج تھا۔ برصغیر میں اس روایت کو سب سے زیادہ منظم، مقبول اور عوامی شکل دینے میں سلسلۂ چشتیہ کا کردار نمایاں ہے۔ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سے لے کر خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، بابا فرید الدین گنج شکر اور حضرت نظام الدین اولیاء تک چشتی خانقاہوں نے سماع کو ایک روحانی اور تہذیبی روایت کے طور پر فروغ دیا۔ اجمیر سے دہلی اور دہلی سے پنجاب و دکن تک پھیلنے والی اس روایت نے مقامی زبانوں اور موسیقیاتی عناصر کو اپنے اندر جذب کیا۔
خواجہ معین الدین چشتی کی اجمیر کی خانقاہ اس سلسلے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اجمیر شریف آج بھی برصغیر کے ان عظیم مراکز میں شمار ہوتا ہے جہاں عرس، محفلِ سماع اور قوالی ایک زندہ روایت کے طور پر موجود ہیں۔ درگاہ میں ’’محفل خانہ‘‘ بھی موجود ہے جہاں عرس کے موقع پر قوالی اور دیگر مذہبی محافل منعقد ہوتی ہیں۔ یوں اجمیر میں موجودہ قوالی کو صرف ایک جدید ثقافتی سرگرمی سمجھنا درست نہیں بلکہ اسے صدیوں پر محیط چشتی خانقاہی روایت کے تسلسل کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
ٍ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے بارے میں صوفی تذکروں میں سماع اور وجد سے متعلق متعدد روایات ملتی ہیں۔ مشہور روایت کے مطابق ایک مجلس سماع میں ان پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ اسی حالت میں وفات پا گئے۔ تاریخی تنقید کے اعتبار سے اس واقعے کو روایت اور تذکرے کے درجے میں رکھنا زیادہ محتاط رویہ ہے تاہم یہ روایت اس امر کی علامت ضرور ہے کہ چشتی ماحول میں سماع کو محض تفریح یا گانے بجانے کا عمل نہیں بلکہ روحانی واردات کا وسیلہ تصور کیا جاتا تھا۔ بابا فرید الدین گنج شکر کے ہاں پہنچتے پہنچتے صوفیانہ شاعری اور مقامی زبان کا تعلق مزید گہرا ہو چکا تھا۔ بابا فرید کے اشعار کا بعد میں گرو گرنتھ صاحب میں شامل ہونا اس بات کی غیر معمولی مثال ہے کہ خانقاہی شاعری کس طرح مذہبی سرحدوں سے آگے بڑھ کر پورے خطے کی مشترکہ تہذیبی یادداشت کا حصہ بن سکتی ہے۔ یہاں شعر مذہبی وعظ نہیں رہتا بلکہ گایا جانے والا، یاد کیا جانے والا اور نسل در نسل منتقل ہونے والا تہذیبی متن بن جاتا ہے۔حضرت نظام الدین اولیاء کی دہلی کی خانقاہ اس پورے عمل کا ایک فیصلہ کن مرکز تھی۔ یہاں سماع کی مجالس منعقد ہوتی تھیں اور اسی ماحول سے امیر خسرو جیسی عظیم ادبی و موسیقیاتی شخصیت وابستہ ہوئی۔ امیر خسرو نے فارسی، ہندوی اور ہندوستانی موسیقیاتی روایتوں کے درمیان جو رابطہ قائم کیا اس کے اثرات بعد کی صدیوں تک محسوس کیے گئے۔ انہیں قوالی کی ابتدائی تشکیل اور اس کے خانقاہی قالب کی تنظیم سے جوڑا جاتا ہے اگرچہ جدید علمی تحقیق کی روشنی میں انہیں قوالی کا قطعی ’’موجد‘‘ کہنا مناسب نہیں، زیادہ درست یہ ہے کہ انہوں نے اس ابتدائی روایت کو منظم کرنے اور تخلیقی قوت فراہم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
قوالی کی تشکیل دراصل کئی عناصر کے امتزاج سے ہوئی۔ قول، فارسی اور ہندوی شاعری، اجتماعی گائیکی، تالیاں، ہارمونیم اور بعد میں مختلف سازوں کا استعمال، مرکزی گائیک اور جواب دینے والے گروہ کی ساخت، مصرعوں کی تکرار اور بتدریج بڑھتی ہوئی لے نے مل کر قوالی کو ایک منفرد موسیقیاتی قالب عطا کیا۔ قوالی کی یہی اجتماعی ساخت اسے دوسری اصناف سے ممتاز کرتی ہے۔ یہاں گائیک اور سامع کے درمیان ایک زندہ تعلق قائم ہوتا ہے۔ ایک مصرع اٹھایا جاتا ہے، گروہ اسے دہراتا ہے، تالیاں تال کو مستحکم کرتی ہیں اور شعر بار بار لوٹ کر سامع کے ذہن اور دل میں اترتا چلا جاتا ہے۔
چشتی خانقاہوں میں سماع کے آداب بھی اہم تھے۔ صوفیاء کے نزدیک ہر گانے کو سماع نہیں کہا جا سکتا تھا۔ کلام کا معنی، مجلس کی کیفیت، سننے والوں کی نیت اور باطن پر اس کا اثر اہم سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سماع کے جواز اور عدم جواز کی بحث صدیوں تک جاری رہی۔ بعض علماء نے اس کی مخالفت کی، بعض نے محدود شرائط کے ساتھ اجازت دی اور بعض صوفیاء نے اسے روحانی تربیت کا مؤثر وسیلہ قرار دیا۔ اس تاریخی اختلاف کو سامنے رکھنا ضروری ہے کیونکہ خانقاہی روایت کو سمجھنے کے لیے یہ تصور درست نہیں کہ تمام صوفیاء موسیقی کے حامی اور تمام علماء موسیقی کے مخالف تھے۔ خانقاہی موسیقی کی ایک بڑی خصوصیت اس کا لسانی تنوع تھا۔ فارسی، عربی اور ہندوی کے ساتھ پنجابی، سندھی، سرائیکی، برج، راجستھانی، بنگالی، پوربی، اردو اور دیگر علاقائی زبانیں صوفیانہ موسیقی کا حصہ بنتی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر کی صوفیانہ موسیقی ایک زبان یا ایک طبقے کی موسیقی نہیں رہی۔
سندھ میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کلام ’’سُروں‘‘ میں منظم ہوا، پنجاب میں بابا فرید، بلھے شاہ، سلطان باہو، وارث شاہ، مہر علی شاہ اور میاں محمد بخش کی شاعری گائی گئی، سرائیکی خطے میں خواجہ غلام فرید کی کافیوں نے موسیقیاتی زندگی پائی اور بنگال میں باؤل اور صوفیانہ روایتوں نے مقامی موسیقی کو نئی معنویت عطا کی۔شاہ عبداللطیف بھٹائی کا ’’شاہ جو رسالو‘‘ اس عمل کی سب سے خوب صورت مثالوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کے کلام کو ’’سُروں‘‘ کے تحت مرتب کیا گیا اور ان کی روایت میں فقیر ان اشعار کو مخصوص موسیقیاتی انداز میں گاتے رہے۔ یہاں شاعر صرف شاعر نہیں رہتا وہ موسیقی کے ذریعے ایک پورے خطے کے روحانی اور ثقافتی حافظے کا حصہ بن جاتا ہے۔ سیہون شریف میں لال شہباز قلندر کی درگاہ سے وابستہ دھمال بھی اسی وسیع خانقاہی موسیقیاتی ثقافت کی ایک مختلف صورت ہے۔ قوالی اور دھمال ایک ہی صنف نہیں مگر دونوں کے پس منظر میں اجتماعی وجد، تال، تکرار اور روحانی نسبت موجود ہے۔ دھمال نے موسیقی، تال اور جسمانی حرکت کو اس طرح یکجا کیا کہ وہ خود ایک مخصوص عوامی روحانی اظہار بن گئی۔ اسی طرح داتا دربار، پاکپتن، ملتان، بھٹ شاہ، سیہون، اجمیر اور نظام الدین جیسے مراکز نے نہ صرف مخصوص صوفیانہ کلام کو زندہ رکھا بلکہ فن کاروں، سازندوں، قوالوں اور شاعروں کو ایک مستقل سامعین فراہم کیے۔ خانقاہ کا سب سے بڑا کمال یہی تھا کہ اس نے موسیقی کو ’’ادارہ‘‘ فراہم کیا۔ بادشاہ بدلتے رہے، دربار ختم ہوتے رہے، سیاسی حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں، مگر خانقاہی روایت کے ذریعے فن کاروں کو ایک ایسی جگہ ملتی رہی جہاں وہ اپنی آواز اور فن پیش کر سکیں۔
اس سلسلے میں مختلف صوفی سلاسل کا کردار بھی الگ الگ رنگ لیے ہوئے ہے۔ چشتیہ میں سماع اور قوالی کی روایت سب سے نمایاں رہی، مگر قادری، سہروردی، قلندری، وارثی، نظامی، صابری اور دیگر صوفی روایات نے بھی اپنے اپنے علاقوں اور روحانی مزاج کے مطابق موسیقی اور صوفیانہ کلام کی سرپرستی کی۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ برصغیر میں صوفی سلسلے جامد ادارے نہیں رہے بلکہ ان کے اندر مقامی ثقافتیں داخل ہوتی رہیں۔ اسی لیے ایک علاقے کی خانقاہ میں قوالی غالب رہی تو دوسرے علاقے میں کافی، دھمال، لوک گائیکی یا صوفیانہ کلام کی کوئی اور صورت سامنے آئی۔ وارثی روایت میں بیدم شاہ وارثی جیسے شعراء کا کلام قوالی اور صوفیانہ گائیکی کا اہم حصہ بنا۔ آج بھی بیدم شاہ وارثی سے منسوب ’’بے خود کیے دیتے ہیں اندازِ حجابانہ‘‘ جیسے کلام قوالوں اور صوفی گائیکوں کے ہاں سنائی دیتے ہیں۔ اسی طرح نظامی روایت میں حضرت نظام الدین اولیاء سے منسوب دہلی کی خانقاہی روایت نے قول، قوالی اور فارسی و ہندوی صوفیانہ شاعری کو زندہ رکھا۔ صابری روایت نے قوالی کو ایک مخصوص بلند آہنگ، کلاسیکی بنیاد اور روحانی شدت کے ساتھ آگے بڑھایا جس کی بیسویں صدی میں نمایاں ترین نمائندگی صابری برادران نے کی۔
قلندری روایت میں موسیقی کا اظہار مزید عوامی اور پرجوش صورت اختیار کرتا ہے۔ سیہون شریف کی دھمال اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ قادری روایت میں بھی صوفیانہ شاعری اور ذکر کے ساتھ مقامی موسیقیاتی روایتوں کے امتزاج کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔ یوں مختلف سلاسل کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ خانقاہی موسیقی ایک یکساں نظام نہیں بلکہ مختلف روحانی روایتوں، علاقوں اور موسیقیاتی مزاجوں کا ایک وسیع مجموعہ ہے۔ خانقاہی روایت کے ساتھ ’’عرس‘‘ کا ادارہ بھی موسیقی کے فروغ کا ایک غیر معمولی ذریعہ بنا۔ کسی بزرگ کے وصال کی سالانہ یاد میں منعقد ہونے والا عرس رفتہ رفتہ مذہبی اجتماع کے ساتھ ایک تہذیبی میلے کی صورت اختیار کرتا گیا۔ دور دراز علاقوں سے زائرین آتے، بازار لگتے، لنگر تقسیم ہوتا، شعراء اور فن کار آتے، قوالیاں ہوتیں، لوک فن کار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے اور مختلف علاقوں کی موسیقی ایک ہی مقام پر جمع ہو جاتی۔ اس طرح عرس نے موسیقی کے لیے ایک ایسا سالانہ پلیٹ فارم فراہم کیا جو آج کے میوزک فیسٹیول سے کئی اعتبار سے مشابہ محسوس ہوتا ہے اگرچہ اس کی بنیاد مذہبی و روحانی نسبت پر قائم تھی۔
بھارت میں اجمیر شریف اور دہلی میں نظام الدین اولیاء کی درگاہ اس روایت کی کلاسیکی مثالیں ہیں۔ لیکن یہ روایت صرف ان دو مراکز تک محدود نہیں۔ بھارتی پنجاب کے ناکودر میں ڈیرہ بابا مراد شاہ بھی اس حوالے سے ایک قابلِ ذکر جدید مثال ہے۔ دربار کی اپنی فراہم کردہ معلومات کے مطابق بابا مراد شاہ کے زمانے سے سالانہ میلے میں قوالیاں ہوتی رہی ہیں اور مالیرکوٹلہ سے قوال اس روایت میں شریک ہوتے رہے۔ موجودہ دور میں بھی قوالی اس دربار کی ثقافتی شناخت کا حصہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بابا مراد شاہ کے دربار کے موجودہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر صرف قوالی ہی نہیں بلکہ گورداس مان اور نوراں سسٹرز جیسے فن کار کا نام اور کلام بھی موجود ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ فیصل آباد پاکستان سے مولوی حیدر حسن اختر مرحوم قوال بھی کچھ سال پہلے وہاں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں اور ان کا پنجابی کلام” نی او تیرا کی لگدا” بھی سامعین کی داد سمیٹ چکا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جدید درگاہی ثقافت میں موسیقی کی حدود صرف روایتی قوالی تک محدود نہیں رہیں بلکہ پنجابی صوفیانہ، لوک اور مقبول موسیقی کے وسیع دائرے تک پھیل چکی ہیں۔ اسی طرح بھارتی پنجاب کی نوراں سسٹرز اس روایت کی ایک نہایت اہم جدید مثال ہیں۔ جیوتی نوراں اور سلطانہ نوراں ایک صوفی گائیک گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کی موسیقی میں شام چوراسی گھرانے کی کلاسیکی روایت، صوفیانہ گائیکی اور پنجابی لوک رنگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ ان کی شہرت نے یہ بھی ثابت کیا کہ خانقاہی اور صوفیانہ موسیقی نئی نسل اور جدید میڈیا کے ذریعے نئے سامعین پیدا کر سکتی ہے۔
یہاں یہ نکتہ خاص اہمیت رکھتا ہے کہ صوفیانہ موسیقی کو صرف ’’قوالی‘‘ سمجھنا ایک بڑی علمی تقلیل ہوگی۔ قوالی کے علاوہ غزل، کافی، کلاسیکی خیال، ٹھمری، سولو ساز، لوک گائیکی، صوفیانہ کلام اور بعض مقامات پر مقبول پنجابی موسیقی بھی درگاہی میلوں کا حصہ بنتی رہی ہے۔ جدید دور کی بعض درگاہیں ایک طرح سے کثیر الاصناف ثقافتی مراکز بن گئی ہیں جہاں ایک ہی موقع پر قوال، غزل گائیک، کلاسیکی گائیک، سازندے اور لوک فن کار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
اسلام آباد پاکستان میں سید عبدالطیف کاظمی المعروف بری امام کی درگاہ اسی جدید صورتِ حال کی ایک اہم مثال ہے۔ بری امام کی درگاہ کی بنیادی شناخت صوفیانہ عقیدت اور زیارت سے ہے مگر اس کے ساتھ وابستہ میلوں اور ثقافتی اجتماعات میں قوالی کے علاوہ مختلف گائیکوں اور موسیقی کی دوسری اصناف کی پیش کش بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ حالیہ برسوں میں بری امام سے متعلق مختلف پروگراموں میں قوالوں کے ساتھ غزل اور صوفی موسیقی کے فن کاروں کی پرفارمنسز کے شواہد بھی ملتے ہیں۔ اس تناظر میں چکوال کا DAAC یعنی Dhan Arts and Culture ایک غیر معمولی معاصر مثال بن کر سامنے آتا ہے۔ اگر خانقاہی اور درگاہی ثقافت کو صرف قدیم روایت سمجھا جائے تو DAAC جیسے اداروں کی اہمیت سمجھ میں نہیں آتی۔ چکوال اور دھَن کے ثقافتی ماحول سے وابستہ DAAC نے مقامی سطح پر موسیقی، فن اور ثقافت کی ایسی دستاویز بندی اور پیش کش شروع کی ہے جو روایتی خانقاہی سرپرستی کے جدید، غیر روایتی اور ڈیجیٹل تسلسل کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کے پلیٹ فارم پر قوالی، غزل، کلاسیکی موسیقی، سولو ساز، نعت، صوفیانہ کلام اور دیگر موسیقیاتی پیش کشیں ریکارڈ اور نشر کی گئی ہیں۔ موجودہ ڈیجیٹل اعداد و شمار کے مطابق اس کے یوٹیوب پلیٹ فارم کے تین لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرز اور نو کروڑ سے زائد ویوز ہیں جو اس کے وسیع عوامی اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ DAAC کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس نے موسیقی کی مختلف اصناف کو ایک ہی ثقافتی پلیٹ فارم پر جگہ دی۔ یہاں قوالی کے ساتھ سولو سازوں کی پرفارمنس، غزل اور کلاسیکی موسیقی بھی پیش کی گئی۔ مثال کے طور پر استاد رئیس احمد خان کی وائلن پرفارمنسز DAAC کے پروگراموں کا حصہ رہیں۔ ’’راگ بھوپالی‘‘ میں رئیس احمد خان وائلن پر اور نفیس احمد خان ستار پر پرفارم کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جب کہ دوسرے پروگراموں میں رئیس احمد خان نے وائلن کو بطور سولو ساز بھی پیش کیا۔ یہ مثال خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں وائلن عموماً ساتھ دینے والے ساز کے طور پر بھی استعمال ہوا ہے لیکن استاد رئیس احمد خان نے اسے سولو آواز کی طرح پیش کرنے کی کوشش کی۔ ان کی DAAC سے وابستہ پرفارمنسز میں راگ، فلمی دھنوں اور غزل کے سازینہ اظہار کی مختلف مثالیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر کلاسیکی گائیک جن میں شفقت سلامت علی خاں ان کے بیٹے اور حامد علی خان اور ان کے بیٹے بھی یہاں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ اس طرح چکوال کا ایک ثقافتی پلیٹ فارم نہ صرف مقامی سامعین کے لیے موسیقی پیش کر رہا ہے بلکہ ایسے فن کاروں کے فن کو بھی محفوظ کر رہا ہے جو بصورت دیگر صرف ایک محدود محفل تک سنائی دیتے۔ اس سلسلے میں ڈاک کے روح ِ رواں سید اسد علی شاہ کی کاوشیں لائق ِ تحسین ہیں۔ DAACکی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس نے قوالی کو محض مذہبی یا خانقاہی کلام تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے وسیع ثقافتی اور عوامی تناظر میں پیش کیا۔ عارِف فیروز قوال اور دوسرے قوالوں کی پرفارمنسز، نعت، منقبت، قوالی اور صوفیانہ کلام کے ساتھ ساتھ کلاسیکی اور مقبول موسیقی کی ریکارڈنگز اس بات کی مثال ہیں۔ اس کے پلیٹ فارم پر بعض قوالی پرفارمنسز نے لاکھوں ویوز حاصل کیے ہیں جو اس امر کا ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی روایتی موسیقی کے لیے سامعین کی ایک کثیر تعداد موجود ہے۔
اوکاڑہ میں کھونڈی والی سرکار کا دربار بھی اس جدید درگاہی موسیقیاتی ثقافت کی قابلِ ذکر مثال ہے۔ وہاں قوالی کی متعدد محفلیں اور فن کاروں کی پرفارمنسز ریکارڈ ہو کر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک پہنچی ہیں۔ ارشد ساؤنڈ کے ذریعے کھونڈی والی سرکار سے وابستہ متعدد قوالوں اور فن کاروں کی پرفارمنسز محفوظ اور نشر کی گئی ہیں۔ ان میں عارف فیروز قوال، نذیر اعجاز فریدی قوال، زوالفقار علی، مبارک علی قوال اور دیگر فن کار شامل ہیں۔ کھونڈی والی سرکار کی مثال اس لحاظ سے بھی دلچسپ ہے کہ یہاں درگاہی موسیقی صرف ایک قدیم روایت کی نقل نہیں بلکہ ایک زندہ، بدلتی ہوئی ثقافت ہے۔ قوالی کے ساتھ صوفیانہ کلام، نعت، پنجابی گائیکی، غزل اور دیگر عوامی موسیقیاتی پیش کشیں بھی سامنے آتی ہیں۔ اس طرح دربار ایک ایسے ثقافتی مرکز میں تبدیل ہوتا دکھائی دیتا ہے جہاں مذہبی عقیدت اور عوامی موسیقی ایک دوسرے کے ساتھ موجود ہیں۔ یہی صورت حال پاکستان کے مختلف مزارات اور درباروں پر مختلف درجوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ کہیں قوالی مرکزی حیثیت رکھتی ہے، کہیں صوفیانہ کافی، کہیں دھمال، کہیں غزل اور کہیں مقامی لوک موسیقی۔ اس تنوع کو خانقاہی روایت کی کمزوری کے بجائے اس کی لچک اور زندہ رہنے کی صلاحیت سمجھنا چاہیے۔خانقاہی موسیقی نے صرف گلوکار پیدا نہیں کیے بلکہ سازندوں کے لیے بھی جگہ پیدا کی۔ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی تاریخ میں سارنگی، طبلہ، پکھاوج، ستار، ہارمونیم، بانسری اور بعد میں وائلن جیسے سازوں کے فن کاروں کو سماع، دربار اور عوامی محفلوں میں مختلف مواقع ملتے رہے۔ قوالی کی اپنی تشکیل میں ہارمونیم، طبلہ، ڈھولک اور ہاتھ کی تالیاں اہم عناصر بنے، جبکہ صوفیانہ اور کلاسیکی محفلوں میں سازینہ موسیقی کے لیے الگ جگہ پیدا ہوئی۔
پاکستان میں پٹیالہ، شام چوراسی، گوالیار، دہلی، قصور اور دیگر گھرانوں کے گائیکوں نے اس پورے ثقافتی ماحول کو مزید وسیع کیا۔ پٹیالہ گھرانے کی روایت بالخصوص غزل، ٹھمری اور خیال کے ساتھ اپنی مخصوص تانا کاری، لے کاری اور آواز کے بھرپور استعمال کے لیے معروف ہوئی۔ علی بخش اور فتح علی خان کی جوڑی سے وابستہ یہ روایت بعد میں بڑے غلام علی خان، امانت علی خان، فتح علی خان، حامد علی خان اور غلام علی جیسے عظیم فن کاروں تک پہنچی۔غلام علی کی غزل گائیکی بھی اس بات کی عمدہ مثال ہے کہ کلاسیکی موسیقی کی گھرانہ روایت کس طرح غزل کو نئی فنی سطح عطا کر سکتی ہے۔ وہ پٹیالہ گھرانے سے وابستہ رہے اور ان کی غزل گائیکی میں کلاسیکی راگ داری، تان، لے اور غزل کے شعری مزاج کا امتزاج نظر آتا ہے۔
اسی طرح عابدہ پروین نے سندھ کے صوفیانہ کلام کو عالمی سطح پر پہنچانے میں جو کردار ادا کیاوہ خانقاہی موسیقی کے جدید تسلسل کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست، بابا بلھے شاہ اور دیگر صوفی شعراء کے کلام کو ان کی آواز نے پاکستان سے نکل کر دنیا کے بڑے ثقافتی مراکز تک پہنچایا۔ صنم ماروی نے بھی سندھی، پنجابی اور اردو صوفیانہ شاعری کو جدید سامعین تک پہنچایا اور اس روایت کو مقبول موسیقی کے نئے ذرائع سے جوڑا۔ اسی سلسلے میں تحسین سکینہ ایک نئی نسل کی نمائندہ آواز کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ ان کی اپنی پیشہ ورانہ شناخت صوفی گائیک اور قوال کے طور پر ہے اور ان کے ہاں غزل، ٹھمری، خیال، راگ، قوالی اور صوفیانہ موسیقی کے مختلف عناصر موجود ہیں۔ وہ عابدہ پروین سے متاثر ہونے اور ان کی رہنمائی میں تربیت حاصل کرنے کا ذکر کرتی ہیں۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ وہ اس صنف میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ سید سخاوت حضور بخاری بھی اس سلسلے میں ایک اہم نام ہیں کو کہ خانقا ہ جہان پور شریف گھوٹکی سندھ کے سجادہ نشین بھی ہیں اور گائیک بھی ہیں۔ غزل گائکی میں نمایاں مقام رکھتے ہیں اور اکثر معروف طبلہ نواز استاد طاری خان کی سنگت میں گاتے دکھائی دیتے ہیں۔ رمضان جانی بھی اس جدید تسلسل کی ایک مثال ہیں۔ ان کی تربیت میں پٹیالہ گھرانے سے وابستہ استاد ارشد فتح علی خان کا اثر شامل ہے اور ان کے فن میں کلاسیکی، لوک، صوفیانہ اور معاصر موسیقی کے عناصر ملتے ہیں۔ وہ اردو، پنجابی اور سرائیکی میں گاتے ہیں اور صوفیانہ کلام کے ساتھ لوک اور کلاسیکی موسیقی بھی پیش کرتے ہیں۔ محمد علی خان بھی غزل گائیکی میں ایک مستحکم پہچان رکھتے ہیں اور مختلف درگاہوں کی تقاریب میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
یہاں نصرت فتح علی خان کا ذکر ناگزیر ہو جاتا ہے۔ درگاہ لسوڑی شاہ سے روحانی وابستگی ہوتے ہوئے انہوں نے قوالی کو جس سطح پر عالمی موسیقی کے منظرنامے تک پہنچایا وہ شاید خانقاہی موسیقی کی جدید تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ ان کا تعلق قوال بچے کی روایت سے تھامگر ان کی آواز نے اس روایت کو پاکستان اور ہندوستان سے نکال کر یورپ، امریکا اور دنیا کے بڑے موسیقیاتی پلیٹ فارموں تک پہنچا دیا۔ انہوں نے قوالی کے بنیادی ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے اس میں ایسے تجربات کیے جنہوں نے عالمی موسیقی کے سامع کو اس صنف سے متعارف کرایا۔نصرت کے بعد قوالی نے متعدد نئی صورتیں اختیار کیں۔ صابری برادران نے اپنی بلند آہنگ اور کلاسیکی رنگ لیے ہوئی قوالی کے ذریعے ایک مخصوص طرز قائم کیا، عزیز میاں نے قوالی کو فلسفیانہ، وجودی اور فکری سوالات سے جوڑا، فرید ایاز و ابو محمد نے دہلی کی کلاسیکی قوال روایت کے مختلف عناصر کو زندہ رکھا جب کہ بعد کے قوال خاندانوں نے اسے مختلف علاقائی زبانوں اور جدید سازینہ امکانات کے ساتھ آگے بڑھایا۔
خانقاہی روایت کے اس وسیع منظرنامے میں قوالی کو صرف ایک مذہبی صنف سمجھنا اس کے فنی امکانات کو محدود کرنا ہوگا۔ قوالی میں راگ، تال، لے، آلاپ، بول بانٹ، تکرار، سُر، اجتماعی آواز، شعری معنی اور جذباتی عروج سب موجود ہیں۔ اسی طرح صوفیانہ غزل میں بھی کلاسیکی موسیقی کے کئی عناصر داخل ہوئے۔ استاد حامد علی خان، غلام علی، عابدہ پروین، صنم ماروی اور متعدد دوسرے گائیکوں نے شاعری اور کلاسیکی موسیقی کے درمیان ایسا رشتہ قائم کیا جو خانقاہی روایت کی وسیع تہذیبی میراث سے جڑا ہوا ہے۔خانقاہی موسیقی کی تاریخ میں ایک اہم تبدیلی یہ بھی آئی کہ جو موسیقی کبھی مخصوص سماع کی مجلس میں پیش ہوتی تھی، وہ بعد میں اسٹیج، ریڈیو، ریکارڈ، کیسٹ، ٹیلی وژن اور آخرکار یوٹیوب تک پہنچ گئی۔ اس تبدیلی نے موسیقی کے سامعین کو کئی گنا بڑھا دیا۔ DAAC جیسے پلیٹ فارم اس تبدیلی کی بہترین مثال ہیں۔ ایک طرف چکوال کے مقامی ثقافتی ماحول میں موسیقی کی محفل ہوتی ہے دوسری طرف اسی محفل کی ویڈیو دنیا کے کسی بھی حصے میں بیٹھا ہوا شخص دیکھ سکتا ہے۔ یوں عرس اور محفل کا جغرافیہ ختم ہو جاتا ہے اور موسیقی ڈیجیٹل درگاہ کی طرح عالمی فضا میں گردش کرنے لگتی ہے۔
یہ ڈیجیٹل دور خانقاہی موسیقی کے لیے ایک نیا امکان بھی ہے اور ایک بڑا سوال بھی۔ امکان یہ کہ صدیوں پرانے کلام، نایاب دھنیں، قوال خاندانوں کی گائیکی اور کلاسیکی سازوں کی پرفارمنسز محفوظ ہو سکتی ہیں۔ سوال یہ کہ جب سماع ایک مخصوص روحانی ماحول سے نکل کر الگورتھم، شارٹ ویڈیو اور تفریحی پلیٹ فارم کا حصہ بن جاتا ہے تو اس کی اصل روح کس طرح محفوظ رہے گی؟ یہی وہ مقام ہے جہاں جدید ثقافتی اداروں کو صرف ریکارڈنگ نہیں بلکہ دستاویز بندی، تحقیق، فن کاروں کی تربیت اور موسیقی کے تاریخی پس منظر کو بھی محفوظ کرنا ہوگا۔اس اعتبار سے ادارے، درگاہی عرس، خانقاہی محافل، صوفی میلے اور جدید ثقافتی پلیٹ فارم ایک مشترکہ ذمہ داری رکھتے ہیں، وہ صرف فن کار کو مائیک نہ دیں بلکہ اس فن کی تاریخ کو بھی محفوظ کریں۔ اگر کسی بزرگ کے عرس پر قوالی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ قوال خاندان کی تاریخ، کلام کے شاعر، راگ، تال، دھن اور روایت بھی محفوظ ہونی چاہیے۔ اگر کوئی استاد وائلن یا ستار پر راگ پیش کرتا ہے تو اس پرفارمنس کے ساتھ اس کی گھرانہ روایت اور استاد شاگرد سلسلہ بھی درج ہونا چاہیے۔ یہی چیز مستقبل کے محقق کو صرف آواز نہیں بلکہ آواز کا پس منظر بھی فراہم کرے گی۔
خانقاہی موسیقی کے اثرات کا ایک اور اہم پہلو سماجی شمولیت ہے۔ تاریخی طور پر درگاہیں ایسی جگہیں رہی ہیں جہاں سماجی طبقاتی تقسیم نسبتاً نرم پڑتی تھی۔ عرس میں ایک طرف اعلیٰ طبقے کے لوگ آتے تھے تو دوسری طرف عام زائرین بھی شریک ہوتے تھے۔ قوالی سب کے لیے ہوتی تھی۔ یہی عوامی شرکت موسیقی کو زندہ رکھنے کا ایک بڑا سبب بنی۔ موسیقی اگر صرف شاہی دربار میں ہوتی تو بادشاہت کے زوال کے ساتھ اس کی بہت سی روایتیں ختم ہو سکتی تھیں مگر خانقاہی موسیقی نے عوام کے حافظے میں جگہ بنائی۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی کسی درگاہ کا عرس محض مذہبی تقریب نہیں ہوتا۔ وہ مقامی معیشت، دست کاری، خوراک، لباس، شاعری، موسیقی، لوک فنون اور اجتماعی یادداشت کا مرکز بھی بن جاتا ہے۔ اس میں قوالی کے ساتھ دوسرے فن کار بھی شریک ہوتے ہیں۔ بعض جگہ غزل کی محفل ہوتی ہے، بعض جگہ لوک گائیک آتے ہیں، بعض جگہ کلاسیکی موسیقی اور سازینہ پیش کش ہوتی ہے۔ اس طرح درگاہ ایک کثیر الاصناف ثقافتی میدان بن جاتی ہے۔
بری امام، کوٹ مٹھن، پاک پتن،داتا صاحب، کلیام شریف، بدھو ملہی، جہان پور شریف، چکوال کا DAAC اور اوکاڑہ کی کھونڈی والی سرکار اس جدید صورت حال کی مختلف مگر باہم مربوط مثالیں ہیں۔ ایک جگہ درگاہی نسبت کے ساتھ مختلف گائیک اور فن کار آتے ہیں دوسری جگہ ایک ثقافتی پلیٹ فارم کلاسیکی، غزل، قوالی اور سولو ساز کو ایک ہی ڈیجیٹل چھت تلے جمع کرتا ہےاور تیسری جگہ دربار کے سالانہ اجتماعات میں قوالیاں اور دیگر موسیقیاتی پیش کشیں ریکارڈ ہو کر عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارم تک پہنچتی ہیں۔ یہ تمام مثالیں مل کر ہمیں بتاتی ہیں کہ ’’خانقاہی موسیقی‘‘ کو صرف ماضی کا موضوع سمجھنا غلط ہے۔ یہ ایک زندہ روایت ہے جو مسلسل اپنی شکل بدل رہی ہے۔ کبھی یہ سماع کی مجلس تھی، پھر قوالی بنی، پھر عرس کی محفل بنی، پھر ریڈیو پر آئی، پھر کیسٹ اور ٹیلی وژن پر پہنچی، پھر فلم اور عالمی اسٹیج تک گئی اور اب یوٹیوب، فیس بک اور ڈیجیٹل اسٹریمنگ پلیٹ فارم پر موجود ہے۔خانقاہ نے برصغیر کی موسیقی کو تین بنیادی چیزیں عطا کیں، ایک روحانی جواز، ایک عوامی سامع اور ایک مسلسل روایت۔ روحانی جواز نے موسیقی کو محض تفریح سے بلند کر کے معنی اور تجربے سے جوڑا، عوامی سامع نے اسے اشرافیائی دائرے سے نکالا اور نسل در نسل روایت نے اسے زندہ رکھا۔ یہی تین عوامل بعد میں قوالی، کافی، صوفیانہ غزل، لوک گائیکی، کلاسیکی موسیقی اور سازینہ فنون کی مختلف شکلوں میں ظاہر ہوئے۔
اگر آج عابدہ پروین شاہ لطیف اور سچل کے کلام کو دنیا بھر میں گاتی ہیں، صنم ماروی صوفیانہ شاعری کو نئی نسل تک پہنچاتی ہیں، نوراں سسٹرز کلاسیکی روایت کو جدید صوفیانہ موسیقی کے ساتھ جوڑتی ہیں، رمضان جانی کلاسیکی اور لوک روایت کو نئے انداز میں پیش کرتے ہیں، تحسین سکینہ خواتین کی نئی صوفیانہ آواز کے طور پر سامنے آتی ہیں، قوال خاندان نسل در نسل سماع اور قوالی کی روایت منتقل کرتے ہیں اور رئیس احمد خان و نفیس احمد خان جیسے سازندے چکوال میں راگ اور سولو ساز کی محفلیں پیش کرتے ہیں، تو ان سب کے پس منظر میں کسی نہ کسی صورت وہی برصغیری تہذیبی روایت موجود ہے جس میں خانقاہ نے فن اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کیا تھا۔
یوں اجمیر سے دہلی، دہلی سے پاکپتن، پاکپتن سے پنجاب، پنجاب سے سندھ، سندھ سے سیہون اور بھٹ شاہ اور پھر چکوال، اسلام آباد، اوکاڑہ اور ناکودر جیسے جدید مراکز تک ایک طویل تہذیبی سفر دکھائی دیتا ہے۔ اس سفر میں کہیں امیر خسرو ہیں، کہیں نظام الدین اولیاء، کہیں بابا فرید، کہیں شاہ لطیف، کہیں لال شہباز قلندر، کہیں وارثی اور صابری روایت کے قوال، کہیں عابدہ پروین اور صنم ماروی، کہیں نوراں سسٹرز، کہیں نصرت فتح علی خان، کہیں رئیس احمد خان اور نفیس احمد خان اور کہیں چکوال کا DAAC یا اوکاڑہ کی کھونڈی والی سرکار۔یہی اس روایت کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ اس نے موسیقی کو کبھی ایک جامد شکل میں قید نہیں کیا۔ اس نے اسے زمانے کے ساتھ بدلنے دیا، مگر اس کی بنیادی روحشعر، آواز، سُر، اجتماعی سماعت اور انسانی باطن سے تعلقکو باقی رکھا۔ آج اگر کسی درگاہ کے صحن میں قوالی ہو رہی ہے، کہیں غزل گائی جا رہی ہے، کہیں ستار اور وائلن پر راگ پیش کیا جا رہا ہے، کہیں عابدہ پروین کا صوفیانہ کلام گونج رہا ہے اور کہیں یوٹیوب کے ذریعے ہزاروں میل دور بیٹھا ہوا شخص اسے سن رہا ہے تو یہ سب اسی طویل تاریخی سفر کی مختلف منزلیں ہیں۔
اس تمام تاریخی تسلسل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ برصغیر کی موسیقی کی روح صرف درباروں میں نہیں، خانقاہوں کے صحن میں بھی محفوظ رہی ہے صرف استادوں کے گھروں میں نہیں، درگاہوں کے میلوں میں بھی پروان چڑھی ہے،صرف کتابوں میں نہیں، قوالوں اور فقیروں کی آوازوں میں بھی زندہ رہی ہے۔ خانقاہ نے موسیقی کو محض محفوظ نہیں کیا بلکہ اسے سماج دیا۔ درگاہ نے اسے محض سنا نہیں بلکہ اسے عوامی حافظہ بنایا اور جدید دور نے اسے محض نشر نہیں کیا بلکہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے اس تہذیبی ورثے کے طور پر پیش کر دیا۔ یہی خانقاہوں اور درگاہوں کا موسیقی کی ترویج و اشاعت میں سب سے بڑا اور دیرپا کردار ہے۔
