تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سماجیسیاسیعلمیکالممذہبی

شناخت کا بحران (2) : اسلام اور مغرب — نجیبہ عارف

۱۱؍۹کے بعد امریکہ میں مطالعۂ اسلام کی ایک نئی جہت

by دانش ڈیسک 07/10/2023
written by دانش ڈیسک 07/10/2023
708

صلیبی جنگیں: محرکات و اثرات

ارنسٹ کا استدلال ہے کہ قرونِ وسطیٰ میں عیسائی اور مسلم دنیا کے درمیان اس مخاصمت کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب صلیبی جنگیں بھی تھیں جن میں عیسائی شہزادوں نے رومن کیتھولک چرچ کی بھرپور اعانت سے ترکوں اور عربوں سے ارض ِمقدس کا قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ کئی صدیوں تک جاری رہنے والی ان جنگوں میں سیاسی اور مذہبی قوتوں کا حیرت انگیز گٹھ جوڑ سامنے آیا اور اس کے نتیجے میں یہودیوں کا قتل عام اور عیسائی شہرقسطنطنیہ کا سقوط عمل میں آیا۔ ہسپانوی شہنشاہ نے پوپ کی بھر پور استعانت سے غرناطہ فتح کیا اور ہسپانیہ کی مسلمان آبادی کے انخلا یا انھیں جبری عیسائی بنانے کا حکم دیا۔ ہسپانوی تخت کی یہی مسلم دشمنی بالواسطہ طور پر امریکہ کی دریافت کا سبب بھی بنی۔ کولمبس (۱۴۵۱ء۔ ۱۵۰۶ء) کی مہم کو ہسپانوی شاہی تائید اس لیے حاصل ہوئی تھی کیوں کہ وہ مشرق بعید سے مصالحہ جات کی تجارت کے راستوں پر مسلم اجارہ داری سے نجات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ تاہم جنوب مشرقی یورپ میں عثمانی ترکوں کی پیش رفت ۱۴۵۳ء میں قسطنطنیہ کی فتح، بلقان ریاستوں پر قبضے اور وسطی یورپ کے لیے سترھویں صدی تک ایک خطرے کی صورت جاری رہی اور سترھویں صدی کے اوائل تک یورپی مصنفین عثمانیوں کو پورے یورپ کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے۔ ۲۰

جدید دور میں اسلام اور مغرب میں کشمکش: اسباب و محرکات

الف۔ نوآبادیاتی نظام کا ردعمل: اگرچہ صلیبی جنگوں کے اثرات دیر پا اور دوررس تھے لیکن جدید دور میں اسلام اور مغرب کی کشمکش کی بنیاد محض صلیبی جنگوں کی یاد نہیں۔ ارنسٹ نے واضح طور پر نوآبادیاتی استعمار پسندی اور اس کے ردعمل کو اس جدید تر کشمکش کی جڑ قرار دیا ہے۔ ان کے خیال میں امریکی قوم نوآبادیاتی نظام کی ستم رانیوں سے پوری طرح واقف نہیں۔ فرانسیسی اور برطانوی استعمار نے انیسویں صدی میں ٹیکنالوجی میں مہارت، نسل پرستانہ نظریات اور سازشی ذہنیت کے ہتھیاروں کی مدد سے ایشیا اور افریقہ میں ظلم و استحصال کا جو بازار گرم کیا اس کی صرف ایک مثال الجیریا کی جنگ آزادی (۱۹۵۴ء۔ ۱۹۶۲ء) ہے جس کے دوران دس لاکھ الجیرین باشندے اور تیس ہزار فرانسیسی مارے گئے۔ ارنسٹ کا خیال ہے کہ امریکہ کا اسلام سے اولین تعارف نوآبادیاتی دور میں افریقہ سے آنے والے حبشی غلاموں کے ذریعے ہوا جن میں سے پندرہ فی صد مغربی افریقہ کے مسلمان تھے اور جو اپنے دورِ غلامی میں نہ صرف اپنی تہذیبی روایت کے پابند رہے بلکہ ان میں سے کچھ نے تو عربی تصانیف بھی یادگار چھوڑی ہیں۔ امریکہ کا مسلمانوں سے دوسرا رابطہ فلپائن پر اس کے نوآبادیاتی دورِ حکومت میں ہوا جب زیادہ تر فوجی مہمات فلپائنی مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کے لیے بھیجی جاتی تھیں (۱۸۹۹ء۔ ۱۹۰۲ء)۔ معاصر عہد میں بھی ایران اور عراق میں امریکہ کے استعمار پسندانہ عزائم بروے کار آتے رہے ہیں۔ غرض یہ کہ اسلام اور مغرب کی اس کشمکش کی کئی جہات نوآبادیاتی نظام کی تاریخ میں پیوست نظر آتی ہیں۔ ارنسٹ کے اس تجزیے سے قطع نظر امریکہ اور اسلام کے رشتے کو پوری طرح سمجھنے کے لیے امریکہ کے یورپی ماضی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ امریکہ کی طرف ہجرت کا ایک سبب یورپ کے پروٹسٹنٹ فرقے کا کیتھولک نظریات کے خلاف دینی احتجاج بھی تھا اوران دنوں میں یورپ میں اسلامی اندلس کا ذکر دینی آزادی کے حوالے سے زور پکڑ گیا تھا۔ تاہم آنے والی صدیوں میں امریکی معاشرے کا اسلامی تہذیب سے براہ راست تعلق انھی ذرائع سے ہوا جن کا ذکر ارنسٹ نے کیا ہے اور سیاسی و عسکری اعتبار سے یہ رشتہ زیادہ تر معاندانہ ہی رہا۔

ب۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور نسل وتہذیب کی برتری کا دعویٰ: عثمانی ترکوں کے زوال کے بعد جب یورپی اقوام نے سائنسی برتری اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے کے بعد ایشیا اور افریقہ کی طرف رُخ کیا تو یورپی روشن خیالی مذہب کو قدیم اور فرسودہ قرار دے کر رد کر چکی تھی۔ لہٰذا صلیبی جنگوں کی طرح مذہب کو اپنے استعماری نظام کا جواز قرار دینا ممکن نہ رہا تھا۔ اس نئی صورت حال میں سائنس اورعقلیت پرستی کو فوجی مہمات کا جواز بنا کر پیش کیاگیا۔ اس مقصد کے لیے نسلی برتری کی سائنسی توجیہات پیش کی گئیں۔ آگسٹ کونتے (Auguste Comte، ۱۷۹۸ء۔ ۱۸۵۷ء) جیسے مفکرین نے یہ دعویٰ کیا کہ دنیا کی پانچ ترقی یافتہ ترین قومیں، یعنی انگریز، فرانسیسی، اطالوی، ہسپانوی اور جرمن، انسانیت کا ہراول دستہ ہیں اور نسلی اعتبار سے دیگر اقوام و ملل پر فائق ہیں۔ چارلس ڈارون (۱۸۰۹ء۔ ۱۸۸۲ء) کے نظریہ ارتقا کو استعمال کرتے ہوے یہ ثابت کیا گیا کہ سفید فام نسلیں دیگر نسلوں کی نسبت زیادہ ارتقا یافتہ اور اس لیے ان پر حکمرانی کی سزاوا ر ہیں۔ برطانیہ میں اسے ’سفید فاموں کا بوجھ‘ (White man’s Burden)۲۱ اور فرانس میں ’تہذیب کا عمل‘ (Civilizing Mission) قرار دیا گیا۔ کارل مارکس ( Carl Marx، ۱۸۱۸ء۔ ۱۸۸۳ء) اور فریڈرک اینگلز (Friedrich Engels، ۱۸۲۰ء۔ ۱۸۹۵ء)نے Oriental Mode of Production ۲۲ کے نام سے جو نظریہ پیش کیا اس کے تحت یہ یہ بات مسلمہ حقیقت سمجھی جانے لگی کہ مشرق کے باشندوں کی فطرت کا تقاضا یہی ہے کہ ان پر آمرانہ طرزِ حکومت مسلط رہے۔ ۲۳

نسلی برتری کے اس تصور کی شدت اور ہمہ گیری کا اندازہ معروف فرانسیسی مفکر، ارنسٹ ریناں (Ernest Renan، ۱۸۲۳ء۔ ۱۸۹۲ء) کے پیرس میں دیے جانے والے ایک لیکچر (۱۸۸۳ء) سے ہوتا ہے جس میں انھوں نے یہ استدلال پیش کیا کہ اسلام سائنس اور ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے موزوں نہیںکیوں کہ اسلام ایک عربی مذہب ہے اور عرب، سامی النسل ہونے کے باعث اس دقت نظری اور باریک بیں ذہن سے محروم ہیں جو سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے لازمی ہے۔ ان دنوں معروف مسلم مصلح جمال الدین افغانی ( ۱۸۳۸ء۔ ۱۸۹۷) بھی عارضی طور پر پیرس میں مقیم تھے۔ انھوں نے ریناں کے اس دعوے کو چیلنج کر دیا اور یہ تسلیم کرنے کے بعد کہ تمام مذاہب بنیادی طور پر آمرانہ اور غیر سائنسی ہوتے ہیں، یہ دلیل پیش کی کہ چوں کہ اسلام عیسائیت کی نسبت ایک نو عمر مذہب ہے اس لیے اس کے تحت سائنسی اور عقلی روح کے کارفرما ہونے میں کچھ اور وقت لگے لگا۔ اس تردید کے بعد ریناں نے فراخ دلی سے اعتراف کیا کہ اس کا نقاد بلاشبہ فلسفیانہ تفکر کا مالک ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ جمال الدین افغانی کا تعلق سامی النسل عربوں سے نہیں بلکہ آریائی نسل سے ہے۔ ۲۴ نسلی بر تری کا یہ نظریہ انیسویں صدی میں عام ہی نہیں بلکہ فیشن بھی سمجھا جاتا تھا۔

عیسائی مشنری سرگرمیاں بھی نوآبادیاتی دور میں بھر پور طریقے سے کارفرما رہیں۔ مذہبی مناظرے اور منظم تبلیغی جماعتوں نے مفتوحہ علاقوں پر گہرے اثرات مرتب کیے اور مسلمانوں کے مذہبی مناظروں میں استعمال ہونے والی زبان، اسلوب، تکنیک اور طرز استدلال پر بھی ان مشنریوں کا واضح اثر نظر آتا ہے۔ تاہم نو آبادیاتی انتظامیہ کے اراکین، مذہبی اثرات سے بھی زیادہ جس محرک کے زیر اثرنظر آتے ہیں وہ یورپ کی تہذیبی اور سائنسی برتری اور عظمت کا یقین ہے۔ مثلاً لارڈ میکالے (Thomas Babington Macaulay، ۱۸۰۰ء۔ ۱۸۵۹ء) کی رپورٹ Minute on Indian Education میں انگریزی کو برطانوی ہند کی سرکاری اور تعلیمی زبان قرار دینے کے حق میں جو دلائل پیش کیے گئے وہ نوآبادیاتی طاقتوں کی ذہنیت کی خوب عکاسی کرتے ہیں۲۵۔ اسی طرح سر ولیم میور (William Muir، ۱۸۱۹ء۔ ۱۹۰۵ء) کی کتاب Life of Mahomet ۲۶میں نہ صرف پیغمبر اسلام کو شیطانی اثرات کا حامل ظاہر کیا گیا ہے بلکہ جرمن طبیب سپرنگر (Springer، ۱۸۱۳ء۔ ۱۸۹۳ء) کی پیروی میں آپ ؐ کے الہامی تجربات کو سائنسی حوالوں سے مرگی کا مرض ثابت کیا گیا ہے۔

ج۔ مستشرقین کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیاں: اسی زمانے میں، جب یورپی نو آبادیاتی نظام اپنے عروج پر تھا، یورپی جامعات میں ایشیا اور افریقہ کے بارے میں علمی و تحقیقی مطالعات کا رواج ہوا جسے بعد ازاں اورئینٹل ازم کی تحریک قرار دیا گیا اور بیسویں صدی کے مابعد نو آبادیاتی دور میں ایڈورڈ سعید (۱۹۳۵ء۔ ۲۰۰۳ء) جیسے مفکرین نے اس علمی تحریک کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس تنقید کے نتیجے میں قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی مستشرقین نوآبادیاتی استعمار کے آلۂ کار کے طور پر ان علمی مشاغل میں منہمک تھے؟ نیز ا نھوں نے مشرقی، خصوصاً مسلم ممالک کے بارے میں جو تاثرات پیش کیے، کیا ان کا اصل مقصد محض ان ممالک پر قبضے کا جواز پیش کرنا تھا؟ ارنسٹ کا خیال ہے کہ ایسا سمجھنا مبالغے اور مغالطے پر مبنی ہو گا۔ اس بارے میں عہد حاضر کے دیگر محققین بھی ان کے ہم خیال نظر آتے ہیں۔ ۲۷ارنسٹ سمجھتے ہیں کہ اکثر مستشرقین علمی لگاؤ کے باعث ان مطالعات میں مصروف ہوئے اور انھیں اندازہ تک نہیں تھا کہ ان کے پیش کردہ نظریات و خیالات اس قسم کے سیاسی نتائج کی بنیاد ثابت ہوں گے۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ مستشرقین کے اس مطالعے کے نتیجے میں مشرق، بالخصوص اسلام کے بارے میں چند بندھے ٹکے نظریات رواج پا گئے جو آج تک مطالعاتِ مشرق میں رہنما اصول کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

ان میں سے ایک نظریہ مشرق کی مابعد الطبیعیاتی فضا کے بارے میںہے جس کے تحت یہ فرض کیا گیا کہ مشرقی ممالک کی تہذیب و ثقافت اور زندگی کا ہر پہلو مذہب سے گہرے طور پر منسلک ہے اور اس کی تمام جہات کو محیط ہے۔ یہاں ارنسٹ نے اس حقیقت کی نشان دہی نہیں کہ خود مسلمانوں میں ـــ’’اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے‘‘ کا اعلان بڑے شد و مد سے کیا جاتا رہا۔ زمینی حقائق خواہ کچھ بھی رہے ہوں لیکن مسلمان معاشرے اسلام ہی سے عملی، فکری اور جذباتی رہنمائی اور روشنی حاصل کرنے کے دعوے دار رہے ہیں۔ ان کے اس نقطۂ نظر میں جزوی سچائی موجود ہے۔ جزوی سے مراد یہ ہے کہ اگرچہ شعوری طور پر مسلمان ہر معاملے میں اسلام کو قولِ فیصل ماننے پر مصر رہتے ہیں، لیکن درحقیقت مقامی تہذیبیں اسلامی معاشروں پر غیر محسوس طریقے سے اثرانداز ہوتی رہی ہیں۔ عوام الناس کو شاید اس امر کا شعور ہی نہیں ہو پاتا کہ ان کے فکر و عمل کا ماخذ مذہب نہیں، جیسا کہ وہ سمجھتے ہیں؛ بلکہ ان کا جغرافیائی تمدن، روایات اور ماضی بھی ان کے شخصی و قومی کردار کی تشکیل میں برابر کارفرما رہتے ہیں۔ مسلمان معاشروں کے عوام اسلام کا نعرہ تو شد و مد سے لگاتے ہیں لیکن اسلام کی روح تک پہنچنے کی کوشش کم ہی جاتی ہے۔ اسی نعرے بازی کی فضا سے یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ مسلمان معاشروں کا طرزِ زندگی اسلام کی حقیقی روح کا ترجمان ہے۔

مشرقی معاشروں کے بارے مستشرقین کا دوسرا مفروضہ تصور ’’پراسرار مشرق‘‘ کا تھا۔ ارنسٹ کے خیال میں یہ نقطۂ نظر یورپی رومانویت کی پیداوار تھا اور اس نے مشرق کے حقیقت پسندانہ مطالعے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کیے رکھی۔ تاہم ارنسٹ نے اس طرف توجہ نہیں دی کہ رومانویت اور اسرار کا جو ہالہ مشرق کے گرد بنا گیا تھا اس میں سچائی بھی ہو سکتی ہے اور غالباً اس کی ایک وجہ طبّی اور طبعی ہے۔ گرم علاقوں کے باشندوں کے خون کی گرمی انھیں جذباتی طور پر تند اور شدت پسند بنا دیتی ہے اور یورپ کے برفانی موسم میں پروان چڑھنے والی شخصیتیں اس گرم جوشی کو حیرت کی نظر سے دیکھتی ہیں۔

مستشرقین کی ایک اور مشترکہ خصوصیت یہ تھی کہ انھوںنے نسلی برتری کے تصور کو قبول کیے رکھا اور اسی کے زیر اثر مشرقی اور ایشیائی تاریخ کو سامی اور آریائی نسل کے درمیان تصادم کی صورت میں دیکھا اور سمجھا۔ اس تصور کا رد غالباً مستقبل میں یورپ اور امریکہ میں ابھرنے والا سفید فام مسلم طبقہ کر سکتا ہے۔

چوتھی بڑی غلط فہمی مستشرقین کو یہ رہی کہ مذہب اور تہذیب و ثقافت کا زبان سے گہرا اور بنیادی تعلق ہے اور محض اس کی زبان کا علم حاصل کر کے کسی قوم کی مذہب اور تہذیب سے مکمل شناسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ چناں چہ مسلمانوں کے تاریخی ارتقا، عصری حقائق، بدلتی ہوئی معاشرتی اقدار اور تہذیبی و ثقافتی تنوع کو نظر انداز کر کے، چند عربی متون اورایک لغت کی مدد سے اسلام کو سمجھنے اور بیان کرنے کا عمل عروج پر پہنچ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ نوآبادیاتی نظام کے خلاف اٹھنے والی ہر بغاوت کو اسلامی شدت پسندی پر محمول کیا گیا اور اس سامنے دھری حقیقت کو سرے سے نظر انداز کر دیا گیا کہ یہ سیاسی غلامی کے خلاف فطری انسانی ردعمل تھا۔

د۔ عرب اسرائیل تنازعہ: زمانۂ حال میں صیہونیت کی تحریک اور عرب اسرائیل تصادم نے مسلمانوں کے بارے میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے اس روایتی تاثر کو گہرا کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ کس قدر مضحکہ خیز بات ہے کہ صیہونی تحریک جو ابتدا میں ایک سوشلسٹ اور سیکولر تحریک تھی، بعد ازاں یہودیت کا مذہبی تشخص حاصل کر گئی۔ صیہونیت کا بانی موسز ہیس (Moses Hess، وفات: ۱۸۷۵ء) کارل مارکس کا معتمد رفیق کار تھا۔ اس تحریک نے ابتدا میں ارض موعود کی طرف نقل مکانی کو اپنا مقصد قرار دیا۔ بعد ازاں، پہلی جنگ عظیم کے بعد، جب برطانیہ نے عثمانی سلطنت کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا تو یورپ اور روس سے بڑے پیمانے پر یہودیوں کی نقل مکانی کا عمل شروع ہوا۔ برطانوی قبضے کے دوران، یہودیوں کی فلسطین میں آبادکاری کی مثال فرانس کے الجیریا پر تسلط کے مماثل ہے۔ ہولوکاسٹ کے نتیجے میں، دوسری جنگِ عظیم کے بعد صیہونیت کی تحریک نے زور پکڑا اور ۱۹۴۷ء میں اسرائیلی حکومت کا قیام عمل میں آیا جو آج تک عرب اسرائیل تنازعے کی بنیاد ہے۔ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی سرپرستی اور پشت پناہی کی جاتی رہی ہے اور امریکیوں کی اکثریت اس معاملے میں، فلسطینی عربوں کی اکثریت کو نظر انداز کرکے یہودیوں کی فلسطین پر حکومت کو حق بجانب سمجھتی ہے۔ دوسری طرف تحریکِ آزادیٔ فلسطین (PLO) جو فلسطین پر حقِ حکم رانی حاصل کرنے کے مقصد کے تحت جدوجہد کرنے والی ایک سیکولر تنظیم تھی، مغرب کی نظر میں اسلامی شدت پسندی کی ترجمان سمجھی جاتی رہی ہے اور فلسطینیوں کے جانب سے ہونے والے حملوں کو مسلم دہشت گردی قرار دیا جاتا رہا۔ یہ خیال اس حدتک جڑ پکڑ چکا ہے کہ عرب، مسلم اور دہشت گرد تنیوں لفظ ہم معنی سمجھے جاتے ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ تمام مسلمانوں کو بلا تفریق دہشت گرد خیال کرنے میں کوئی عقلی دلیل مانع نہیں آتی۔

ر۔ مسلمان عورت کا پردہ اور اس کی معاشرتی حیثیت: مسلمانوں کے بارے ایسے بندھے ٹکے تصورات میں ایک اور کلیشے، مسلمان عورت کا پردہ بھی ہے جسے تاریخی اعتبار سے پیغمبر اسلام کی ایک سے زیادہ شادیوں کے مسئلے کے ساتھ جوڑ کر، اسلام میں عورت کے نام نہاد استحصال اور اس کے حقوق کی پامالی کی ایک طویل داستان تراشی جا چکی ہے۔ اٹھارھویں صدی میں عربی ادب کے ایک شاہکار ’’الف لیلہ ولیلہ‘‘ کا فرانسیسی ترجمہ ۲۸ عربوں ( یعنی مسلمانوں) کی جنسی دلچسپیوں کے بارے میں یورپ کی توجہ کا مرکز بنا اورانیسویں صدی میں مسلمانوں کے ’حرم‘ کی ہیجان انگیز کہانیوں کو فرانسیسی مصوروں نے برہنہ یورپی طوائفوں کی مدد سے تصویر کیا۔ مسلمان عورتوں کے روایتی لباس اور معاشرے میں مردوں اور عورتوں کے درمیان اختلاط کے مواقع نہ ہونے کے باعث، مغربی سیاحوں کی قوت متخیلہ نے بھی خوب کرشمے دکھائے اور جدید یورپی اور امریکی عوام و خواص اس مفروضے پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ مسلمان عورت اپنے انسانی حقوق سے بالکل محروم ہے۔ یہ فرض کرتے ہوئے وہ مسلمان اور عیسائی عورتوں کی حالت زار کو تاریخی تناظر میں دیکھنے کی قطعاً کوشش نہیں کرتے۔ مغرب میں عورت کو جتنی بھی آزادی حاصل ہوئی ہے، تاریخی اعتبار سے وہ بالکل کل کی بات ہے۔ ۱۸۷۰ء تک انگریز عورتوں کو جائیداد کی ملکیت کا حق حاصل نہ تھا جب کہ مسلمان عورت کو شریعت اسلامیہ کی رو سے یہ حق ساتویں صدی سے حاصل رہاہے۔ ۱۷۱۶ء میں جب لیڈی میری وٹلی مانٹیگیو (Lady Mary Wortley Montagu، ۱۶۸۹۔ ۱۷۶۲) ۲۹نے برطانوی سفیر کی بیوی کی حیثیت سے اپنے شوہر کے ساتھ قسطنطنیہ، ترکی کا سفر کیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ عثمانی امرا کی بیگمات بڑی بڑی جاگیروں کی مالک تھیں اوراپنی جائیداد کی دیکھ بھال تنہا، کسی مرد کی معاونت کے بغیر کر سکتی تھیں۔ انھیں تو یہ بھی محسوس ہوا کہ مسلمان عورتوں کے نقاب نے عورتوں کو مردوں کی چبھنے والی نگاہوں سے محفوظ کر کے ایک نوع کی آزادی کا احساس دے رکھا ہے۔

اگرچہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مذہب کی آڑ لے کر عورت کے حقوق کی پامالی کا سلسلہ شمالی افریقہ، مشرق قریب اور ایشیاکے کئی مسلمان معاشروں میں عام رہا ہے لیکن کیا یہ بات پورے یقین اور اعتماد سے کہی جا سکتی ہے کہ یورپ اور امریکہ میں اس رویے پر پوری طرح قابو پا لیا گیا ہے؟ یہ انتہائی منافقانہ عمل ہے کہ مسلمان معاشروں کو اس عدم مساوات پر مطعون کیا جائے جس پر ابھی تک یورپ اور امریکہ خود پوری طرح قابو نہیں پا سکے۔ ارنسٹ کا یہ سوال قابلِ غور ہے۔

مغرب میں غیر جانب دارانہ مطالعۂ اسلام : مستقبل کی ناگزیر ضرورت

ارنسٹ نے اسلام اور مغرب کے درمیان کشمکش کی پوری تاریخ بیان کرنے کے بعد چند بہت معنی خیز سوال اٹھائے ہیں۔ انھوں نے اس بیّن حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ عہد حاضر میں مسلمانوں کے متعلق صرف اور صرف منفی تاثرات کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے مسلسل نشر کیا جا رہا ہے۔ پروپیگنڈے کی طاقت کا یہ عالم ہے کہ پوری کی پوری مسلم تہذیب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے پر کوئی بھی معترض نہیں ہوتا۔ حالاں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی ایسی تہذیب جو ایک ہزاربرس سے زیادہ کی مدت تک، دنیا کے تقریباً نصف حصے میں پھلتی پھولتی رہی ہو، پوری کی پوری منفی عوامل پر مبنی ہو؟ اور دوسری طرف اس کے مدمقابل تہذیب ان تمام برائیوں اور الزامات سے ہمیشہ پاک رہی ہو جو مسلمانوں کے سر ڈالے جارہے ہیں؟ مثلاً تمام مسلمانوں پر بلکہ مذہب اسلام پر تشدد پسندی کا الزام لگا یا جاتا ہے تو کیا انیسویں صدی کی مغربی استعمارپسندی اور ناجائز تسلط کو عیسائیت کے کھاتے میں ڈالا جا سکتا ہے؟ اسی طرح حالیہ تاریخ میں، ۱۹۹۶ء میں راسخ العقیدہ عیسائی سربوں کے ہاتھوں ایک دن میں چھے ہزار مسلمان مردوں اور بچوں کا قتل کیا پوری عیسائی دنیا کا عمل قرار دیا جانا چاہیے؟ مسلمان معاشروں پرعورتوں کو مناسب مقام نہ دینے کا الزام ہے لیکن مغربی ٹیکنالوجی کے شاہ کار انٹرنیٹ پر موجود پورنو گرافی کی لاکھوں ویب سائٹس، اور مغرب میں ٹیلی ویژن، اخبارات اور اشتہارات کے ذریعے عورت کو ایک جنسی کھلونے کی حیثیت سے پیش کرنا کیا عورت کے احترام پر مبنی عمل ہے؟

ارنسٹ کی تجویز ہے کہ آج ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ خود کو ذرائع ابلاغ کے ایک بالغ نظر نقاد کی حیثیت سے تربیت دے کیوں کہ معلومات کی ترسیل کی بجائے، تجارتی اور دیگر مقاصد کے لیے اسے مسخ کرنا ذرائع ابلاغ کا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے۔ خاص طور پر اسلام کے معاملے میں منفی تاثر اجاگر کرنا ایک آسان اور مقبول حربے کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ ۳۰ یورپ اور امریکہ کے عوام، اپنی رائے کی بنیاد زیادہ ترذرائع ابلاغ کے وسائل پر ہی رکھتے ہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ اسلام کے بارے میں مسلسل ایک منفی تاثرقبول کیے جاتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس سے آگے بڑھ کر مسلمانوں کو انسان سمجھنے کا عمل شروع کیا جائے اور تاریخی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی تناظر کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کے کردار و اعمال کا تجزیہ کر کے انھیں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔

اس مقصد کے لیے ارنسٹ نے اپنے مطالعۂ اسلام کی بنیاد اس مفروضے پر قائم کی ہے کہ تمام مسلمان یکساں نہیں۔ وہ دنیا کے مختلف خطوں میں آباد ہیں اور اپنے اپنے معاشی، معاشرتی اور جغرافیائی حقائق کے مطابق اپنے تہذیبی طرز عمل کو ترتیب دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں ایسا سوچنا کہ مسلمان جہاں کہیں بھی ہیں، جیسے بھی ہیں، بس مسلمان ہونے کی بنا پر ایک جیسے ہیں، مسلمانوں کو انسانیت کے دائرے سے خارج کرنے کے مترداف ہے کیوں کہ انسان انفرادی اور قومی سطح پرتنوع کا وصف رکھتے ہیں۔ پھر ان کے طرز عمل کو ان کے تاریخی تناظر میں سمجھنے کی بجائے محض ایک ہی گھسے پٹے رجحان کے تابع سمجھنا بھی بہت بڑی غلطی ہے اور اس سے بھی بڑی غلطی یہ ہے کہ اگر مسلمان تشدد پسند ہیں تو اس عمل کا جواب بھی تشدد ہی کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔

اگرچہ اس معاملے میں ارنسٹ کا مشاہدہ مسلمان تہذیب کی روح تک پہنچنے میں ناکام رہا ہے۔ دراصل مسلم تہذیب مسلمان معاشروں کی باطنی روح کے مترادف ہے جب کہ اسلامی دنیا کا جغرافیائی اور ثقافتی تنوع تہذیب کی ظاہری سطح پر نمودار ہوتا ہے۔ اس کی مثال کسی جدید سکائی سکریپر کی سی ہے جس کی بنیاد مشترک ستونوں پر قائم ہوتی ہے لیکن عمارت کی ظاہری شکل و صورت، اس کے استعمال اور مقاصد میں تنوع پایا جاتا ہے۔ ایک ہی عمارت میں دفتر بھی قائم ہیں، رہائشی مکان بھی اور بازار اور دکانیں بھی۔ ہر اکائی بظاہر ایک دوسرے سے جدا مگر درحقیقت ایک ہی کل کا جزو ہے۔ اسلامی تہذیب بھی کچھ مشترک بنیادی عقائد اور مسلمات کی بنا پر تعمیر ہوتی ہے مگردنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والے مسلمان اپنے اپنے جغرافیائی حقائق، موسم، آب و ہوا اور تاریخی تناظر کے مطابق جزوی تفصیلات مرتب کر لیتے ہیں اور یوں ایک روح کا اظہار مختلف پیکروں کے ذریعے ہوتا ہے۔ تاہم ارنسٹ کا یہ تجزیہ بالکل درست ہے کہ دنیا بھر کی ثقافتیں ایک دوسرے پر مسلسل اثر انداز ہو رہی ہیں اور یہ بھی کہ مسلمان حکم رانوں کی سیاسی نااہلی کے باعث کم و بیش تمام مسلمانوں کی تقدیر مغربی ممالک کے ہاتھ میں ہے۔ معاشی، سیاسی اور تاریخی اختلافات اپنی اپنی جگہ انفرادی خطوں کی پالیسیوں پر یقیناً اثرانداز ہوتے ہیں اورانھیں نظر انداز کردینا خلافِ فطرت ہو گا۔

یہاں ایک اور اہم سوال اٹھتا ہے۔ اگراہلِ مغرب کے لیے مسلمانوں کو سمجھنا ضروری ہے تو کیا مسلمانوں پر یہ لاز م نہیں کہ وہ بھی دیگر تہذیبوں اور معاشروں کو سمجھیں اور انھیں کلیتاً ردکر دینے کی پالیسی پر عمل پیرا نہ ہوں۔ ارنسٹ نے اس سوال کے جواب میں یاد دلایا ہے کہ نوآبادیاتی دور میں جب کم و بیش نوے فیصد مسلمان آبادی مغربی استعمارکے زیر اثر آگئی تھی، مغرب کی عیسائی طاقتوں نے جبراً اپنی زبانیں، نظامِ تعلیم اور تہذیب ان پر نافذ کر دی تھی اورانھی میں سے ایک ایسا طبقہ تیار کر دیا تھا جو نہ صرف ان کی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے آلۂ کار بنا بلکہ ان کی تہذیبی و معاشرتی روح کو بھی اچھی طرح سمجھ گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ امریکہ اور یورپ میں رہنے والے اہلِ مغرب کا ہے جن کی خود پسندی انھیں آئینہ دیکھنے کی فرصت تک نہیں دیتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی نظریات کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے اسلامی اصطلاحات اور نظریات کے تاریخی ارتقا کو پیش نظر رکھا جائے اور جدید اسلامی معاشروں کا مطالعہ کھلے ذہن اور لحظہ بہ لحظہ بدلتی ہوئی اقدار کے تناظر میں کیا جائے۔ لیکن اس کے باوجود ہمیں ارنسٹ کی خوش ظنی پر خوش ہونے کے ساتھ ساتھ، ایک بار پھر اپنے ذہنی و فکری تناظرات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

حواشی وحوالہ جات

۱۔ کارل ڈبلیوارنسٹ، Following Muhammad: Rethinking Islam in the

Contemporary World (دہلی: یدا پریس، ۲۰۰۵ء )، xiii۔ xv۔

۲۔ سوانح اور تصانیف کی تفصیل کے لیے: http://www.unc.edu/~cernst/۔

۳۔ پروفیسر اسلامی تاریخ و ادبیات، یونیورسٹی آف شکاگو اور درج ذیل کتابوں کے مصنف:

Early Islamic Mysticism.( نیو یارک، ۱۹۹۶ء )، Approaching the Qur’an: the Early Revelations ( ایش لینڈ، ۲۰۰۷ ]۱۹۹۹ء[) اور) The New Crusadesنیو یارک، ۲۰۰۳ء)۔

۴۔ ارنسٹ، Following Muhammad، xix۔

۵۔ ایضاً، xvii۔

۶۔ نذرالاسلام، Islam, 9/11 and Global Terrorism: A Study of Perceptions and Solutions (نیو دہلی: وائیوا بکس، ۲۰۰۵ء)، ۲۳۔

۷۔ لیوس، برنارڈ (Bernard Lewis)، Islam and the West (نیویارک: اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس، ۱۹۹۳ء)، ۳۔

۸۔ ارنسٹ، Following Muhammad، ۶۔

۹۔ ایضاً، ۸۔

۱۰۔ یورپ کا اسلام کے خلاف تعصب نو آبادیاتی تسلط سے بہت پہلے قرونِ وسطیٰ کی یادگار ہے جس کا سرا صلیبی جنگوں، بلکہ اس سے بھی پہلے تک جاتا ہے اور خود ارنسٹ نے آگے چل کر ان کا مفصل ذکر کیا ہے، تاہم ان واقعات کو بھی محض مذہبی تصادم کی بجائے سیاسی مفادات کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

۱۱۔ لیوس، vii۔

۱۲۔ نوآبادیاتی دور میں مسلم علما، خصوصاً ہندوستانی مسلم علما نے اس کے برخلاف عیسائیت اور اسلام کے درمیان یگانگت پر بہت زور دیا تھاتاہم اس کے محرکات بھی مذہبی نہیں تھے۔

۱۳۔ بارھویں سے چودھویں صدی تک انتہائی مقبول رہنے والی قدیم ترین فرانسیسی رزمیہ (epic) نظم La Chanson de Rolandجس میں معروف دیومالائی شخصیت شارل میگنے کی ہسپانوی مسلمانوں سے جنگ کا حال بیان کیا گیا ہے۔ یہ نظم چار ہزار سے زیادہ مصرعوں پر مبنی ہے اور اس کا قدیم ترین نسخہ اوکسفرڈ میں ہے۔

۱۴۔ پہلی مرتبہ ۱۶۹۷ء میں لندن سے شائع ہوئی۔

۱۵۔ شیرانی، حافظ محمود، Early Christian Legends and Fables Concerning Islamٰ (لندن: لوزاک اینڈ کمپنی، ۱۹۱۱ء)۔

۱۶۔ تیرھویں صدی کا معروف انگریزمؤرخ اور Flowers of Historyکا مصنف۔

۱۷۔ وہ حضرت محمد ؐکو(نعوذباللہ) مرگی کا مریض کہتا ہے اور آپ ؐ کی وفات کے بارے میں وہی کہانی دہراتا ہے جو عیسائی ادب میں بار بار بیان کی جاتی رہی۔ Flowers of History، جلد اول ( بون، ۱۸۴۹ء)، ۷۳، بحوالہ شیرانی، ۳۲۔

۱۸۔ معروف انگریزی مؤرخ اور Chronica Majora کا مصنف۔ اس کا کہنا ہے کہ حضرت محمد ؐ سراسینوں کے نبی ہیں جس کی وہ عبادت کرتے ہیں اور ایک گم راہ راہب نے آپ ؐ کے نظریات تحریر کیے تھے۔ آگے چل کر وہ ہجرت کے واقعے کو اونٹو ں کی چوری پر محمول کرتا ہے جس کے نتیجے میں حضرت محمد ؐ کو شہر سے نکال دیا گیا تھا۔ ایسے کتنے ہی بیہودہ بیانات اس کی تاریخ کا حصہ ہیں جن میں(نعوذ باللہ) حضرت محمدؐ کو ایک ڈاکو اور لٹیرے کے روپ میں پیش کیا گیا ہے اور آپ ؐ کی تعلیمات کو جلب زر اور حصول ِ مال و دولت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

۱۹۔ فرانسیسی سفرنامہ نگار جس کے سفر نامے کو فرضی خیال کیا جاتا ہے تاہم کولمبس اور مارکوپولو جیسی شخصیت نے اس سفرنامے سے گہرے اثرات قبول کیے تھے۔

۲۰۔ مصنف نے یہ بات رچرڈ نولس (Richard Knolles) کی کتاب، The General Histories of the Turks, from the first beginning of that nation to the rising of the Othoman amilie; with all the notable expeditions of the Christian princes against them (لندن: اے سلپ، ۱۶۳۰ء) کے حوالے سے بیان کی ہے۔

۲۱۔ رڈ یارڈ کپلنگ(Rudyard Kipling) کی معروف نظم، جو ۱۸۹۹ء میں فلپائن پر امریکی حملے کے آغاز میں، ایک رسالے McClures’ میں شائع ہوئی اور جس کی توجیہ یہ کی گئی کہ سفید فام نسلوں پر باقی کی دنیا کو تہذیب سکھانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور یوں یورپی استعمار پسندی کو اخلاقی جواز دینے کی کوشش کی گئی۔

۲۲۔ کارل مارکس نے کہا تھا “Asia fell asleep in history”. ایشیا اس وقت تک بیدار نہیں ہو سکتا جب تک کوئی بیرونی طاقت (مثلاً مغربی اقوام)، اس کی اصلاح احوال کی ذمہ داری نہیںاٹھاتی۔

۲۳۔ ارنسٹ، ۲۰۔

۲۴۔ ایضاً، ۲۰۔ ۲۱۔

۲۵۔ میکالے کی رپورٹ کے یہ الفاظ، جو ارنسٹ نے بھی نقل کیے ہیں، قابلِ غور ہیں:

I have no knowledge of either Sanscrit or Arabic- but I have done what I could do to form a correct estimate of their value. I have read translations of the most celebrated Arabic and Sanscrit works. I have conversed both here and at home with men distinguished by their proficiency in the Eastern tongues. I am quite ready to take the Oriental learning at the valuation of the Orientalists themselves. I have never found one among them who could deny that a single shelf of a good European library was worth the whole native literature of India and Arabia. The intrinsic superiority of the Western literature is indeed, fully admitted by those memebers of the Committee who support the Oriental plan of education.

ارنسٹ، ۲۲۔

۲۶۔ ولیم میور، The Life of Mahomet and History of Islam to the era of the Hegira، چار جلدیں(لندن: اسمتھ ایلڈر اینڈ کمپنی، ۱۸۵۸ء)۔

۲۷۔ لیوس، ۹۔

۲۸۔ اس ترجمے کے فرانسیسی مترجم ژاں آنطئن گیلنڈ (Jean Antoine Galland) تھے اور یہ ۱۷۰۴ سے ۱۷۱۷ء کے درمیان شائع ہوا۔

۲۹۔ لیڈی میری و و ٹلی مانٹیگ(Lady Mary Wortly Montague، ۱۶۸۹ء۔ ۱۷۶۲ء) برطانوی طبقۂ اشرافیہ کی نمائندہ خاتون ادیب، جن کی پہچان ان کے وہ خطوط ہیں جو انھوں نے ترکی میں اپنے قیام کے دوران لکھے۔ ان خطوط کی بنا پر انھیں پہلی مغربی خاتون ادیب کہا جاتا ہے جنھوں نے مسلم شرق کے بارے میں سیکولر انداز میں تبصرہ کیا۔

۳۰۔ یہ مباحث اس سے پہلے ایڈورڈ سعید اپنی کتاب Covering Islamمیں تفصیل سے پیش کر چکے ہیں ۔

Facebook Comments Box

Pages: 1 2 3

and Politics at a South Asian Sufi CenterApproaching the Quran: The Early RevelationsCarl ErnstChristendomCovering IslamEternal Garden: MysticismFollowing Muhammad: Rethinking Islam in the Contemporary WorldhistoryLady Mary Wortly MontagueMichael SellsRethinking Islamic Studies:From Orientalism to CosmopolitanismRuzbihan Baqli: Mystical Experience and the Rhetoric of Sainthood in Persian Sufism۔Sufi Martyrs of Love: Chishti Sufism in South Asia and BeyondTeachings of SufismThe Unveiling of Secrets: Diary of a Sufi Masterاسرائیلی الہامی مذاہباسلاماسلام اور مغرباسلام اور مغرب میں کشمکشاسلام: مغرب کی نظر میںبرنارڈ لیوسبین المذاہب ہم آہنگیپیغمبر اسلام کی کردار کشیتہذیبی برتریرب اسرائیل تنازعصلیبی جنگیںعیسائی مشنری سرگرمیاںغلام علی آزاد بلگرامیکارل ارنسٹگلوبلائزیشنمستشرقین کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیاںمسلم تہذیبمسلمان عورت کا پردہ اور اس کی معاشرتی حیثیتمغرب میں اسلام دشمنینجیبہ عارفنوآبادیاتی نظامیورپی استعمار پسندی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
انور شعور: یعنی یکتائے روز گار ہوں میں — محمد حمید شاہد
next post
میر صاحب کو کیسے پڑھیں! — محمد حمید شاہد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.