تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سماجیسیاسیعلمیکالممذہبی

شناخت کا بحران (2) : اسلام اور مغرب — نجیبہ عارف

۱۱؍۹کے بعد امریکہ میں مطالعۂ اسلام کی ایک نئی جہت

by دانش ڈیسک 07/10/2023
written by دانش ڈیسک 07/10/2023
707

تہذیبی برتری کا دعویٰ اور تاریخی حقائق

ارنسٹ نے اہلِ مغرب، بالخصوص امریکی قوم کی نفسیات اور احساسِ برتری کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی بہت سی خوبیوں کے مالک ہیں مگر وہ اپنے علاوہ دیگر اقوام کی تہذیب و ثقافت کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے یا اسے ضروری نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب (یعنی یورپ اور امریکہ) اور باقی دنیا کے درمیان اجنبیت اور لاعلمی کی ایک گہری خلیج حائل ہے۔ افہام و تفہیم کا عمل اگر ہے بھی تو نامکمل اور یک طرفہ۔ یعنی ایجادات، اشیا اور تصورات و نظریات کا بہاؤ مغرب سے دنیاے دگر کی جانب ہے۔ اس عمل کو عہدِ حاضر میں عالم گیریت (گلوبلائزیشن) کا نام دے دیا گیا ہے۔ مغرب کے نو آبادیاتی دور میں چند یورپی زبانوں نے ؛ جن میں انگریزی، فرانسیسی، ہسپانوی، پرتگالی اور روسی شامل ہیں، دنیا بھر میں اہمیت اختیار کر لی اور ان کا کلچرپوری دنیا میں ممتاز و معتبر سمجھا جانے لگا۔ یہی زبانیں اعلیٰ تعلیم کے حصول کا ذریعہ بنیں اور ذرائع ابلاغ پر قابض ہو گئیں۔ دوسری دنیا کے لیے ان زبانوں اور ان سے منسلک تہذیب و ثقافت کو اپنانا ناگزیر ہو گیا لیکن امریکی اور یورپی اقوام کے لیے دوسری زبانوں جیسے چینی، اردو، عربی، بنگالی، انڈونیشین زبانوں کو نظر انداز کرنا بالکل فطری معلوم ہونے لگا۔ امریکی اور یورپی ادیب، شاعر اور فن کار دنیا بھر میں معروف و مقبول ہو گئے لیکن ایشیائی، افریقی یا مشرق وسطیٰ کے ادبیوں، شاعروں اور فن کاروں کو یہ پذیرائی حاصل نہ ہوسکی۔

حقیقت تو یہ ہے کہ امریکہ اور مغرب کی جامعات میں لاکھوں کی تعداد میں نوجوان طالب علم تاریخ، سیاسیات اور کلچر سے متعلق نصابی کتابوں کے ذریعے یہی سبق پڑھتے ہیںکہ تہذیب کی اولین تحریک کا آغاز میسوپوٹیمیا اور عراق سے ہوا، مگر اسے باقاعدہ سمت اور رفتار یونان میں حاصل ہوئی۔ یونان کے زوال کے بعد یہ شمع روم نے روشن رکھی اور پھر دیگر یورپی ممالک، فرانس، جرمنی اور سپین سے ہوتی ہوئی انگلستان تک پہنچی جہاں سے بالآخر تہذیبی سیادت کی یہ سعادت امریکہ کو نصیب ہوئی۔ ایک نظریے کے مطابق امریکہ میں بھی کیلی فورنیا کا علاقہ وہ مقام ہے جسے مغربی تہذیب کا نقطۂ عروج قرار دیا جا سکتا ہے تاہم نیو یارک جیسے علاقوں سے اس آخری نقطۂ نظر سے اختلاف کی صدا بلند ہوتی رہتی ہے۔

اس نقطۂ نظر کے مطابق مغربی تہذیب کے بنیادی مآخذ دو ہیں: اخلاقیات اور مذہبی معتقدات کا سرچشمہ اسرائیلی الہامی مذاہب اور صحائف ہیں اور سائنسی علوم اور جمہوری طرزِ حکومت کا منبع حکمتِ یونان ہے۔ لیکن یہ نقطۂ نظر اسلامی تہذیبی سفر کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔ ارنسٹ کے خیال میں اسلامی تہذیب بھی انھی دونوں منابع سے کسبِ فیض کی دعویدار ہے۔ اگرچہ ارنسٹ کا یہ خیال ایک طویل بحث کا متقاضی ہے لیکن وہ اس دعوے کا یہ ثبوت پیش کرتے ہیں کہ قرآن میں حضرت ابراہیمؒ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ سمیت نبیوں اور رسولوں کی ایک کثیر تعداد کا اثبات موجود ہے اور حکمت یونان کو یورپ سے متعارف کرانے کا سہرا بھی مسلمانوں ہی کے سر ہے۔ لیکن یونانی علوم کے یورپ میں احیا کے بعد مسلم دنیا میں فلسفے اور علوم کا ارتقا تھم نہیں گیا تھا بلکہ ایران اور ہندوستان میں زمانۂ حال تک مسلم فلسفہ کئی اہم تبدیلیوں سے دوچار ہوتا رہا ہے۔ بدقسمتی سے ایک مخصوص طبقے کے علاوہ، مغربی علما عام طور پر مسلم فلسفے کے اس ارتقا سے ناواقف رہے ہیں۔ لہٰذا مغرب کا یہ دعویٰ کہ وہ اسرائیلی پیغمبروں کے مذاہب اور حکمت یونان کا تنہا وارث ہے، درست نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ۱۴۵۳ء میں ترکوں کے ہاتھوں قسطنطنیہ کی فتح کے بعد، تہذیب کے دھارے کی ایک لہر روم سے مشرق کی جانب بھی رُخ کر چکی تھی۔

دوسری طرف یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ تہذیب کے تنہا وارث ہونے کا دعویٰ یک طرفہ نہیں تھا، سیاسی برتری کے عہد میں مسلمان بھی تہذیبی برتری کے دعوے دار رہے ہیں۔ چودھویں صدی کے اواخر میں، شمالی افریقہ کے ایک عرب مؤرخ اور فلسفی ابن خلدون (۱۳۳۲۔ ۱۴۰۶ء) نے بھی یہ ’’افواہ سنی تھی کہ شمالی فرنگستان کے کچھ ’وحشی‘ یعنی یورپی عیسائی، فلسفے وغیرہ میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن اسے اس امر کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا‘‘۔ ۸ لیکن ایسی لاعلمی کا کم از کم موجودہ دور میں کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا اور اہلِ مغرب تہذیبی ارتقا میں مسلمانوں کے کردار کو نظر انداز کر کے خود اپنے تشخص کو مشکوک بنارہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ تہذیبوں کے تصادم جیسے نظریات اس مغالطے کو فروغ دے رہے ہیں کہ یورپ کی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی دراصل اس کی تہذیبی برتری کا ثبوت ہے۔ ادھر اسلام کے حلقے سے بھی کچھ لوگ مغرب اور دنیاے اسلام میں ازلی مخاصمت کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اس لیے کوئی بھی نتیجہ قائم کرنے سے پہلے یہ حقیقت ذہن میں رکھناضروری ہے کہ عوام الناس سے خطاب کے دوران جو مذہبی زبان استعمال کی جاتی ہے وہ محض معلومات کی ترسیل کے لیے نہیں، بلکہ مذہبی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے وضع کی جاتی ہے۔ ۹ یہاں مذہبی زبان سے ارنسٹ کی مراد، صحائف کی زبان نہیں بلکہ مذہبی حلقوں کی جانب سے استعمال ہونے والی زبان ہے جس سے عوام کی پسند، ناپسند اور جوش و جذبے کا رُخ مطلوبہ سمت میں موڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مذہبی اصطلاحات اور لسانی اظہارات کو پوری طرح سمجھنے کے لیے تاریخی تناظر کو مدنظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ یورپ کا اسلام کے خلاف تعصب نوآبادیاتی نظام کا کوئی قابل قبول جواز پیش کرنے کی کاوش ہو سکتا ہے اور معاصر اسلامی حلقوں میں مغرب مخالف واویلا اسی نوآبادیاتی تسلط کے ردعمل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ۱۰ نیز اس بات سے بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ دونوں طرف کے سیاسی حلقے اور حکمران اپنے اقتدار کی حفاظت کے لیے مذہب کو ایک آلۂ کار اور ہتھکنڈے کے طور پر بھی استعمال کرتے آئے ہیں۔ مذہبی جذبات کے اس استحصال کی مثالیں تاریخ کے صفحات سے لے کرزمانۂ حال تک موجود ہیں۔

مغرب میں اسلام دشمنی: تاریخی تناظر

ارنسٹ لکھتے ہیں کہ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مغرب میںکسی مذہب کا ایسامنفی تاثرقائم نہیں ہوا جیسا اسلام کا۔ گاندھی نے ہندومت کا عدم تشدد کا فلسفہ دنیا میں متعارف کرواکے خاصا مثبت تاثر قائم کر لیا اور دلائی لامانے تو دنیا بھر میں بدھ مت کا خوش گوار تعارف کروا دیا۔ یورپ اور امریکہ میں گزشتہ صدی کے دوران یہودیت کے بارے میں بھی بہت مثبت تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ یہود دشمنی اگرچہ بیسویں صدی کے آغاز تک عام تھی لیکن ہو لوکاسٹ اور اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد اس میں نمایاں کمی آئی ہے۔ عیسائیت تو آج بھی مغربی عوام کی اکثریت کا مذہب ہے اور اسے مغرب میں کبھی کوئی خطرہ لاحق نہیں رہا۔ اب رہا اسلام تو ذرائع ابلاغ مسلسل اس کا ایک منفی تاثر قائم کرتے آئے ہیں اور یہ تاثر کم و بیش پو رے مغرب میں نفوذ کر چکا ہے۔ یہ منفی تاثر کیوں قائم ہوا؟ مسلمانوں کے ماضی اور حال کا رشتہ کس حد تک استوارہے؟ مسلمانوں کے خلاف یہ مخاصمانہ جذبات جنھیں مغرب میں قبول عام حاصل ہو چکا ہے، کیا جواز رکھتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جنھیں اٹھانا اب ناگزیر ہو گیا ہے۔ تعجب خیز امر تو یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ میں سامی النسل یہودیوں سے دشمنی کو کوئی معزز شخص جائز نہیں سمجھتا۔ اس بات پر کم و بیش تمام عوام کا اتفاق ہے کہ یہودیوں کے بارے میں تحقیر آمیز کلمات ادا کرنا یا ان کی توہین کرنا، خواہ یہ جسمانی خصائص کی بنا پر ہو یا رویے کی بنا پر، قابلِ نفرت اور بداخلاقی کا مظہر ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھی عوام کا تعلیم یافتہ اور باشعور طبقہ تک اس بات کا قائل نظرآتا ہے کہ اسلام بذاتہ عورتوں پر ظلم کرنے والا اور تشدد پسند مذہب ہے۔ شماریاتی اعتبار سے بھی اس امر کا تجزیہ دلچسپ نتائج پیش کرتا ہے۔ دنیا میں یہودیوں کی آبادی ایک کروڑ ستر لاکھ ہے جو سکھوں کی آبادی سے کچھ کم ہے۔ ظاہر ہے یہ سمجھنا مضحکہ خیز ہو گا کہ اتنی بڑی آبادی کا ہر فرد ایک جیسی خصوصیات، عادت و اطوار کا مالک ہو گا۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ مسلمانوں کی آبادی ایک ارب سے بھی کچھ اوپر ہے اور اتنی بڑی آبادی کے ہر فرد کو ایک جیسی خصوصیات کا حامل قرار دے دیا جاتا ہے جو یقیناً بہت بڑی غلطی ہے۔

ارنسٹ کہتے ہیں کہ حقیقت وہی ہے جسے مطالعہ ٔ اسلام کی ایک نام ور شخصیت، مارشل ہوجسن Marshal Hodgson) ۔ ۱۹۶۸ء۔ ۱۹۹۲ء ) نے اپنی کتاب The Ventures of Islam: Conscience and History in the World Civilaiztion میں پیش کیا ہے، کہ گزشہ ۲۰۰ سال سے کسی علیحدہ اسلامی دنیا کا وجود نہیں ہے۔ نہ سیاسی طور پر، نہ معاشی طور پر، نہ تہذیبی و ثقافتی طور پر اور نہ عسکری اعتبار سے۔ اکثر مسلم ممالک کی تقدیر اس تمام عرصے کے دوران کسی نہ کسی طور پر یورپ اور امریکہ سے وابستہ رہی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے، کثیر القومی تجارتی ادارے، ذرائع ابلاغ کے دیو اور انٹر نیٹ کی دنیا نے ایک ایسی دنیا کی تشکیل کی ہے جس میں کسی ایک کلچر کو دوسرے کے اثرات سے پاک رکھنا کم و بیش ناممکن ہے۔ دوسری طرف اگر پچاس سے زیادہ مسلمان ممالک کی جانب دیکھا جائے تو ان کے درمیان موجود تہذیبی و ثقافتی تنوع، لسانی، نسلی اور گروہی امتیازات اور نظریاتی و فرقہ وارانہ اختلافات کو نظر انداز کر کے ان سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی روش اختیار کرنا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔

مغرب اور اسلام یا دوسرے لفظوں میں عیسائی دنیا اور دنیاے اسلام کے درمیان روابط کی تاریخ کھنگالتے ہوئے ارنسٹ نے لکھا ہے کہ موجودہ نفرت انگیز فضا تیار کرنے میں یہودیوں کی نسبت عیسائیوں کے مسلمانوں کے بارے میں مخاصمانہ جذبات و تاثرات نے زیادہ بڑا کردار ادا کیا ہے۔ قرون وسطیٰ میں عیسائیوں کی نسبت یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان زیادہ قریبی تعلقات قائم رہے ہیںاور حال ہی میں اسرائیلی ریاست کے قیام تک دونوں ایک دوسرے کے رفیق و معاون رہے ہیں۔ مصنف کا یہ نقطۂ نظرنہ صرف اسلامی مؤرخین کے نقطۂ نظر سے مختلف ہے جوعیسائیوں کی نسبت یہودیوں کو اسلام کا دشمن قرار دیتے ہیں اور اس کا سرا پہلی اسلامی ریاستِ مدینہ میں یہودیوں کی اسلام دشمنی سے ملاتے ہیں، بلکہ ان کے ہم عصر برنارڈ لیوس نے بھی مسلمانوں اورعیسائیوں کو ایک دوسرے کا ازلی ہمسایہ اورکئی مشترک اوصاف کا مالک قرار دیا ہے۔ ۱۱ ارنسٹ نے قرون وسطیٰ سے لے کر اب تک، عیسائی دنیاکی مسلم دشمنی کا جو اجمالی جائزہ پیش کیا ہے وہ ان کے اس دعوے کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔ عیسائی راہب بحیرہ (جس نے پیغمبر اسلام کو نبوت کی بشارت دی تھی) کی کردار کشی سے لے کرموجودہ زمانے تک عیسائی دنیا میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں منفی پراپیگنڈے کاسلسلہ جاری رہا ہے۔ ۱۲

پیغمبر اسلام کی کردار کشی اور عیسائی پراپیگنڈہ

ارنسٹ نے اسلام اور عیسائیت کے درمیان تعلق کوتاریخی اعتبار سے دیکھا اور تفصیل سے پیش کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلام عیسائیت کو ایک الہامی مذہب قرار دیتا ہے اور دنیا بھر کے مسلمان بالاتفاق حضرت عیسیٰ اور حضرت بی بی مریم کو لائقِ تعظیم سمجھتے ہیں۔ عام مسلمان اپنے بچوں کو مریم یا عیسیٰ کا نام دینا مبارک سمجھتے ہیں اور کبھی ان کی بے حرمتی کے مرتکب نہیں ہوتے۔ دوسری طر ف قرون وسطیٰ سے لے کر آج تک عیسائیوں نے مسلمانوں کی ان کے پیغمبر سے عقیدت اور والہانہ شیفتگی کو ہمیشہ زخم لگانے کی کوشش کی ہے۔ حضرت محمد ؐ کی وہ تمام صفات، جو مسلمانوں کے نزدیک محترم، مثالی اور لائقِ تقلید ہیں، عیسائی مصنفین نے انھیں منفی انداز میں، خامیوں کے طور پر پیش کیا۔ یہ روایتی نظریہ کہ حضرت محمد ؐ ’امّی‘ تھے، مسلمانوں کے لیے اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ ان پر نازل ہونے والی وحی خدا کا کلام ہے لیکن عیسائیوں کے نزدیک یہ جعل سازی کا ثبوت تھا۔ حضرت محمدؐ کا ابراہیم کے بیٹے اسماعیل کی نسل سے ہونا بھی ان کے نزدیک غلط دعویٰ تھا (حقیقت یہ ہے کہ عیسائی اس دعوے کو غلط نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسماعیل کو ایک لونڈی حاجرہ کی اولاد ہونے کے باعث کم تر خیال کرتے تھے اور اس بنا پرحضرت محمدؐ کے دعوی ٔ نبوت کو مبنی برکذب ثابت کرتے تھے)۔ حضرت محمدؐ نے مشرکین مکہ کی، معجزات دکھانے کی فرمائش کے جواب میں قرآن کو اپنا معجزہ قرار دیا تھا۔ مسلمانوں کے نزدیک یہ بات حضرت محمدؐ کی روحانی عظمت کی دلیل ہے مگرعیسائیوں نے اسے اس بات کا واضح ثبوت سمجھا کہ حضرت محمدؐ خدا کے نبی نہیں تھے۔

حیاتِ محمدؐ پر اہل ِ مغرب کی سب سے سخت تنقید آپؐ کی عسکری مہمات اور تعدّدِ ازدواج سے متعلق رہی ہے۔ عیسائیوں کے نزدیک حضرت عیسیٰ کی طرح تجرد اور عدم تشدد کی زندگی روحانیت کا لازمی جزو ہے۔ حضرت محمدؐ کا جنگوں میں شامل ہونا اور تعدد ازدواج ان کے نزدیک اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ روحانی عظمت کے اس بلند معیار کو نہیں پہنچتے جسے عیسیٰ نے اپنے طرز عمل سے قائم کیا تھا۔ اس کے برعکس مسلمانوں کا ایمان ہے کہ حضرت محمدؐ ایک کامل انسان کا نمونہ تھے۔ انھوں نے خود اپنے اسوہ حسنہ کے ذریعے اپنے پیرو کاروں کو ایک متوازن اور مکمل زندگی بسر کرنے کی تعلیم دی ہے اور ان کا زندگی کے حقیقی معاملات میں شریک ہونا ان کی پیغمبرانہ شان کو کئی گنا زیادہ کر دیتا ہے۔ وہ عیسائیوںکے تجرد اور عدم تشدد کے فلسفے کوانسانی فطرت کے منافی اور انسانی نفسیات اور اس کی باطنی حقیقت کو جھٹلانے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ دونوں مذاہب کے درمیان نقطۂ نظر کا یہ اختلاف کئی صورتیں اختیار کرتا چلا گیا۔ ایک طرف کلیسائی اکابرین کے لیے یہ تسلیم کرنا مشکل تھا کہ کلیسائی دائرے سے باہر کسی کو پیغمبرانہ عظمت حاصل ہو سکتی ہے اور دوسری طرف مسلمان صدق دل سے کلیسائی عقائد، بالخصوص تثلیث کے عقیدے کو، اصل عیسائی تعلیمات سے روگردانی اور گم راہی خیال کرتے تھے۔

مسلمان حضرت محمد ؐ کو رحمۃ للعالمین خیال کرتے ہیں اور حضرت عیسیٰ کو روح اﷲ اور کلمۃاﷲ قرار دیتے ہیں۔ عیسائی مصنفین اس رویے کے بالکل برعکس، مسلمانوں کی حضرت محمد سے غیر معمولی عقیدت اور شیفتگی کو ٹھیس پہنچانے اور حضرت محمدؐ کی سیرت و کردار کو مسخ کرنے کی کوشش میں مصروف رہے۔ اگرچہ چند ایک مصنفین نے بے تعصبی سے حیات محمد ؐ رقم کرنے کی کوشش کی مگر اکثریت کا رجحان منفی تاثر کو ابھارنے کی طرف ہی رہا اور اکثر صورتوں میں اس انتہا تک جا پہنچا کہ بہتان طرازی اور کذب و افترا کی نوبت آن پہنچی۔ فرانسیسی رزمیے Song of Roland ۱۳ میں حضرت محمدؐ کو کافروں کے ایک بت کے طور پر پیش کیا گیا جس کی عبادت کی جاتی تھی۔ دانتے Dante)۔ ۱۲۶۵ء۔ ۱۳۲۱ء) کی مشہور عالم تمثیلی نظم، ڈیوائن کامیڈی میں حضرت محمدؐ اور آپؐ کے داماد اور مسلمانوں کی محترم اور عزیز شخصیت حضرت علیؓ  کو دوزخ میں دکھایا گیا ہے۔ پروٹسٹنٹ مصلح مارٹن لوتھر (Martin Luther۔ ۱۴۸۳ء۔ ۱۵۴۶ء) حضرت محمدؐ کو( نعوذ باللہ) شیطان سے منسوب کرتا تھا۔ ارنسٹ نے اس سلسلہ میں برس ہا برس تک مؤثر اور مقبول رہنے والی، ہمفری پریڈو کی اہانت انگیز کتاب (Humphery Prideaux) کی The True Nature of Imposture Fully Displayed in the Life of Mahomet ۱۴ کا حوالہ دیا ہے۔ تاہم یہاں اس موضوع پر حافظ محمود شیرانی (۱۸۸۰ء۔ ۱۹۴۶ء)کے ایک قدرے غیر معروف انگریزی مضمون، بعنوان Early Christian Legends and Fables Concerning Islam کا ذکر بے جا نہ ہو گا جو ۱۹۱۱ء میں انگلستان سے شائع ہوا۔ ۱۵ اس مضمون میں شیرانی نے بالتفصیل رقم کیا ہے کہ قرونِ وسطیٰ کے یورپی ادب اور مذہبی تصانیف میں اسلام، مسلمانوں اور حضرت محمد ؐ  کے بارے میں کیسی کیسی افسانہ طرازی کی جاتی رہی ہے۔ انھوںنے اپنے مضمون میں عیسائی ادب سے متعدد مثالیں پیش کی ہیں جو پیغمبر اسلام کی کردار کشی پر مبنی ہیں۔ روجر اوف وینڈوور (Roger of Wendover، وفات: ۱۲۳۶ )۱۶ اپنی معروف تاریخ میں پہلی بارحضرت محمد ؐ  کا تذکرہ جادوگر اور سراسینوں کے کاذب نبی کے طور پر کرتا ہے۔ ۱۷ ایک اور مؤرخ میتھیو پیرس (Matthew Paris، ۱۲۰۰ء۔ ۱۲۵۹ء) ۱۸ نہ صرف روجر کے بیان کو دہراتا ہے بلکہ حضرت محمد ؐ کی نسل کے بارے میںایسے ایسے لا یعنی انکشافات کرتا ہے جنھیں دہرانے کو جی نہیں چاہتا۔ معروف سفر نامہ نگار سر جان مینڈیول۱۹ ان دونوں مؤرخین کے برعکس ایک اور نقطۂ نظر اختیار کرتا ہے۔ اس کے بیان کے مطابق حضرت محمد ؐایک دانا اور مال دار شخص تھے جو علم نجوم کے ماہراور نبوت کے دعویدار تھے اورانھوں نے کئی برس تک اپنی سرزمین پر شہزادے کی حیثیت سے حکومت کی۔ اس نے حضرت محمد ؐ کا ایک معجزہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک ’گرجے‘ کا دروازہ، حضرت محمد ؐ کی آمد کے موقع پرخود بخود بڑا ہو گیا۔ یہ وہ مصنف ہے جس کی تحریر مسلمانوں اور ان کے پیغمبر کے بارے میں سب سے زیادہ ہمدردانہ جذبات پرمبنی ہے اور اس نے مسلمانوں کی تعریف کرتے ہوئے انھیں اچھے اور وفادار لوگ قرار دیا ہے جو خدا کی طرف سے ان کے پیغمبر پر نازل کی گئی کتاب القرآن کی تعلیمات پر پوری طرح عمل کرتے ہیں۔

ان مصنفین کی بیشتر تحریریں نوعیت کے اعتبار سے اس قدر اہانت آمیز ہیں کہ انھیں نقل کرنا بھی تکلیف دہ ہے۔ یہ حکایات نہ صرف دروغ گوئی کی بدترین مثال ہیں بلکہ اپنے تخلیق کاروں کی ذہنی سطح اور اخلاقی حالت کا پتہ بھی دیتی ہیں۔ ان چند مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ عیسائی دنیا میں اسلام اور حضرت محمد ؐ کے بارے میں غلط بیانی، کدورت اور نفرت کی جڑیں تاریخ میں کتنی گہری اور دور تک جاتی ہیں۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر مسلمانوں کے بارے میں اہلِ مغرب کی رائے استوار ہوئی ہے۔ جدیدیت نے اس بنیاد کو کمزور ضرور کیا ہے مگر ختم نہیں کیا۔ حال ہی میں یورپی اخبارات میں شائع ہونے والے کارٹونوں اوراس امر کو جائز سمجھنے والے یورپی ذہن کو سمجھنے کے لیے ان مآخذ کا مطالعہ ضروری ہے۔  (اگلے صفحہ پر جاری ہے)

Facebook Comments Box

Pages: 1 2 3

and Politics at a South Asian Sufi CenterApproaching the Quran: The Early RevelationsCarl ErnstChristendomCovering IslamEternal Garden: MysticismFollowing Muhammad: Rethinking Islam in the Contemporary WorldhistoryLady Mary Wortly MontagueMichael SellsRethinking Islamic Studies:From Orientalism to CosmopolitanismRuzbihan Baqli: Mystical Experience and the Rhetoric of Sainthood in Persian Sufism۔Sufi Martyrs of Love: Chishti Sufism in South Asia and BeyondTeachings of SufismThe Unveiling of Secrets: Diary of a Sufi Masterاسرائیلی الہامی مذاہباسلاماسلام اور مغرباسلام اور مغرب میں کشمکشاسلام: مغرب کی نظر میںبرنارڈ لیوسبین المذاہب ہم آہنگیپیغمبر اسلام کی کردار کشیتہذیبی برتریرب اسرائیل تنازعصلیبی جنگیںعیسائی مشنری سرگرمیاںغلام علی آزاد بلگرامیکارل ارنسٹگلوبلائزیشنمستشرقین کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیاںمسلم تہذیبمسلمان عورت کا پردہ اور اس کی معاشرتی حیثیتمغرب میں اسلام دشمنینجیبہ عارفنوآبادیاتی نظامیورپی استعمار پسندی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
انور شعور: یعنی یکتائے روز گار ہوں میں — محمد حمید شاہد
next post
میر صاحب کو کیسے پڑھیں! — محمد حمید شاہد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.