اس سلسلہ مضامین کا پہلا مضمون اس لنک پہ پڑھیں
امریکہ میں لفظ ’اسلام‘ اور اس کے تلازمات کے بارے میں جاننا چاہیں تو کتابوں کی کسی دکان میں داخل ہو جائیں۔ خون خشک کردینے والے عنوانات اور سرورق فوراً آپ کو اپنی طرف متوجہ کرلیں گے۔ یہ سنسنی خیز، صحافیانہ ادب مسلمانوں کی امریکہ دشمنی اور اس کے خلاف دہشت گردی کے لرزا دینے والے منصوبوں کو طشت از بام کر تا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ الماریوں میں ایسی کتابیں بھی موجودہیں جن میں نہایت سنجیدہ اور محققانہ انداز میں مسلم تہذیب کی ناکامی اور اسلام اور مغرب کے درمیان تصادم کی پیش گوئیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ وہیں کسی گوشے میں، اسلام کے فلسفۂ مذہب اور تاریخ سے متعلق، بیزار کن اور پیچیدہ نثرمیں نصابی مباحث پر مبنی کچھ جائزے اور مطالعات بھی مل جاتے ہیں۔ شاید چند ایک مسلمان مصنفین کی اسلام کے خلاف الزام تراشیوں کے جواب میں دفاعی نقطۂ نظر سے لکھی گئی، معذرت خواہانہ انداز کی تحریریں بھی مل جائیں اور آخر میں دو تین تراجمِ قرآن ـــ۔ ایک اجنبی زبان کا پر اسرار اور ناقابل فہم متن۔ تو پھر اسلام سے شناسائی کیسے ہو؟۱. imdb Rebecca Lagostina
یہ وہ سوال ہے جو کارل ارنسٹ (Carl Ernst) نے اپنی کتاب بر نقشِ کف پاے محمدؐ (Following Muhammad: Rethinking Islam in the Contemporary World) کے مقدمے میں، اپنی تصنیف کا جواز پیش کرتے ہوئے اٹھایا ہے۔ کارل ارنسٹ کا نام امریکہ میں مطالعات اسلامی کے پروفیسر کی حیثیت سے نیا نہیں۔ وہ کئی برس سے نارتھ کیرولائنا یونی ورسٹی میں مطالعۂ اسلام کے پروفیسر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور کیرولائنا مرکز براے مطالعۂ مشرقِ وسطیٰ اور تہذیب اسلامی کے ڈائریکٹر ہیں۔ انھیں اہم السنۂ شرق یعنی عربی، فارسی اور اردو سے خوب واقفیت حاصل ہے اور اپنے تحقیقی منصوبوں کے سلسلے میں وہ ایران، ترکی، پاکستان، ہندوستان، اور افریقی ممالک میں کئی بار سفر کر چکے ہیں۔ ان کی اہم کتابیں یہ ہیں:
Eternal Garden: Mysticism, History, and Politics at a South Asian Sufi Center ۔ (۱۹۹۲ء)۔ غلام علی آزاد بلگرامی کی معروف فارسی تصنیف روضۃ الا صفیا کا ترجمہ۔ یہ کتاب خلد آباد کے علما و مشائخ کے حالات پر مشتمل ہے۔
Ruzbihan Baqli: Mystical Experience and the Rhetoric of Sainthood in Persian Sufism۔ (۱۹۹۶ء)۔
Ruzbihan Baqli. The Unveiling of Secrets: Diary of a Sufi Master۔ (۱۹۹۷ء)۔
Teachings of Sufism۔ (۱۹۹۹ء)۔
Sufi Martyrs of Love: Chishti Sufism in South Asia and Beyond۔ (۲۰۰۲ء)۔
Rethinking Islamic Studies:From Orientalism to Cosmopolitanism (۲۰۱۰ء)۔
مگر ارنسٹ کی اہم ترین کتاب Following Muhammad: Rethinking Islam in the Contemporary World ہے جو ۲۰۰۳ء میں پہلی بار نارتھ کیرولائنا یونی ورسٹی پریس سے شائع ہوئی اور عربی، فارسی، ترکی، جرمن اور کورین زبانوں میںاس کے تراجم شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انڈیا اور برطانیہ سمیت کئی ممالک میں طبع ہوچکی ہے۔ اس کتاب نے علمی حلقوں میں غیر معمولی پذیرائی اور کئی عالمی ایوارڈ بھی حاصل کیے۔ ۲
کتاب کے مقدمے ہی میں انھوں نے چند ذاتی تجربات کے ذریعے اس پس منظر سے واقف کر دیا ہے جس میں نہ صرف اس کتاب کی ضرورت اور اہمیت اجاگر ہوتی ہے بلکہ ۱۱؍ ۹کے بعد امریکہ میں تیزی سے ابھرنے اور پھیلنے والے اسلام مخالف جذبات کی شدت اور نوعیت بھی ظاہر ہوتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ کتاب انھوں نے ۲۰۰۲ء میں تصنیف کی تھی جب ۱۱؍۹کا واقعہ رونما ہوئے ابھی کچھ عرصہ ہی گذرا تھا۔ اس تصنیف کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کی متعصبانہ اور بنیاد پرستانہ تفہیم سے دور رہتے ہوئے اس کی مذہبی روایت اور عصری تاثر کا، ایک مختلف اور ہمدردانہ مگر تجزیاتی اور استدلالی مطالعہ پیش کیا جائے۔ اس بظاہر سہل اور منطقی کوشش کی راہ میں حائل مشکلات کا اندازہ دو واقعات سے لگایا جا سکتا ہے۔
۲۰۰۲ء کے موسم گرما میں جب وہ اس کتاب کا مکمل مسودہ لے کراس ناشر کے پاس پہنچے، جس سے اس کی اشاعت کا معاہدہ پہلے سے طے تھا، تو ناشر نے خاصی تاخیر کے بعد انھیں یہ مژدہ سنایا کہ وہ اس کتاب کی اشاعت سے معذور ہے کیوں کہ ادارتی بورڈ کے کچھ ارکان اس کتاب کی اشاعت کے بارے میں شدید تحفظات رکھتے ہیں۔ یہ تحفظات مسودے کی علمی و تحقیقی نوعیت کے بارے میں نہیں تھے بلکہ ان کا خیال تھا کہ وہ ایک ایسی کتاب کی اشاعت کے منصوبے میں شریک نہیں ہو سکتے جو ’دہشت گردی‘ کے جواز میں تحریر کی گئی ہو۔
دوسرا واقعہ نارتھ کیرولائنا یونیورسٹی کے موسم گرما کے تدریسی پروگرام کے دوران پیش آیا جب پروگرام کے انچارج نے خواہش ظاہر کی کہ موسم گرما کے دوران کوئی ایسا کورس پیش کیا جائے جو ۹؍۱۱ کے بعد اٹھنے والے سوالات اور مسائل سے متعلق ہو۔ اس مقصد کے لیے کئی موضوعات زیر بحث آئے۔ مشرق وسطیٰ کی تاریخ، دہشت گردی اور اسی نوع کے کئی دوسرے موضوعات کو رد کرنے کے بعد مصنف سے دریافت کیا گیا کہ کیا سال اوّل کے طالب علموں کو ترجمۂ قرآن پڑھانا مناسب رہے گا؟ مصنف نے فوراً اس تجویز پر صاد کیا اور مائکل سیلز ((Michael Sells)۳ کا ترجمہ Approaching the Quran: The Early Revelations تجویز کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ تدریسی پروگرام ملکی اور بین الاقوامی سطح پر زیر بحث آ گیا اور ورجینیا کے ایک عیسائی گروپ نے مسلم دہشت گردوں کی حمایت کا الزام لگا کریونی ورسٹی کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔ ریاست کی مجلس قانون ساز کے اراکین بھی اس تدریسی پروگرام پرغضب ناک ہو گئے اور اگرچہ وفاقی عدالت نے مقدمے کا فیصلہ یونی ورسٹی کے حق میں کردیا تاہم ان واقعات سے اس تکلیف دہ حقیقت کا انکشاف ہوا کہ امریکہ میں اسلام کے بارے میں بے لاگ اور منصفانہ بحث کو رواج دینا کس قدر دشوار مگر کتنا ضروری ہے۔ ارنسٹ لکھتے ہیں کہ انھوں نے اپنی یہ کتاب Following Muhammad شکوک و شبہات، غلط اور گمراہ کن معلومات اور اسلامی عقائد و تعلیمات کے بارے میں آزادانہ غور و فکر کی غیر موجودگی کے باعث پھیلنے والی دھند میں راستہ بنانے کے لیے تحریر کی ہے۔
یہ کتاب دراصل اس خصوصی دلچسپی کا مظہر ہے جو ۱۱؍۹ کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں، اسلام اور اس کے عقائد، نظام ِ معاشرت اور فکری اساس کے بارے میں مغرب، بالخصوص امریکہ میں پیدا ہوئی ہے۔ شمالی امریکہ کی دیگر جامعات کے علاوہ نارتھ کیرولائنا میں تین یونی ورسٹیوں کی ایک مثلث The Research Traiangle خاص طور پر اس حوالے سے نمایاں ہوئی ہے جہاں اسلام کا سنجیدگی، دلچسپی اور فکری آزادی سے مطالعہ کیا جا رہا ہے۔ ان میں نارتھ کیرولائنا سٹیٹ یونی ورسٹی، ڈیوک یونی ورسٹی اوریونی ورسٹی آف نارتھ کیرولائنا چیپل ہل شامل ہیں۔ کارل ارنسٹ کا تعلق تیسری یونی ورسٹی سے ہے۔ اس کتاب کے دیباچے میں انھوں نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں۴ اور اس کتاب کی تصنیف کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کے اس انسان دوست تاثر کو اجاگر کیا جائے جو صوفیا کی تعلیمات کا عطر ہے اور انسانیت کے تحفظ کی خاطر، بین المذاہب ہم آہنگی، برداشت اور تحمل کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگرچہ انھیں اپنے اس مقصد کی راہ میں حائل دوطرفہ دشواریوں کا بھی احساس ہے جن کا ایک پہلو تو یورپ اور امریکہ میں اسلامی نظریات و نظام حیات سے لاعلمی کا نتیجہ ہے اور دوسرا خود مسلمانوں کے انتہا پسندعناصر کی سرگرمیوں کا ردعمل ہے جو اسلام کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ تاہم ان کا یہ اعتراف کہ اسلام کا غیرجانب دارانہ مطالعہ اس لیے ضروری ہے تاکہ امریکیوں کو معلوم ہو سکے کہ مسلمان بھی انسان ہیں اور انسانیت کے کل کا ایک جزو ہیں۵، اصل صورت حال کا چشم کشا اشارہ ہے۔
کتاب کل چھے ابواب پر مشتمل ہے جس میں اسلام کا بطور مذہب اور نظام حیات مطالعہ کیا گیا ہے۔ کئی مقامات پر یہ مطالعہ اس قدر جامع اور گہرا نہیں مگر مجموعی طور پر مصنف کا نقطۂ نظر بے تعصبی اور غیر جانب داری پر مبنی ہے۔ تاہم اس کتاب کا پہلا باب جسے، اس مضمون میں موضوعِ بحث بنایا گیا ہے، کئی حوالوں سے اس لائق ہے کہ اس کے مندرجات کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے اور ان کی روشنی میں مغرب میں پھیلنے والے اسلام کے منفی تاثر کے اسباب و محرکات پر غور کیا جائے۔ اس باب کا عنوان ہے ’اسلام: مغرب کی نظر میں‘۔
ارنسٹ نے مغرب کو امریکہ اور یورپ کا مترادف قرار دیا ہے۔ امریکہ میں پھلنے پھولنے والی تہذیب کا منبع یورپی تہذیب ہی قرار پاتی ہے مگر گزشتہ پانچ سو برس کے دوران خود امریکی روایات بھی پروان چڑھیں۔ مغرب کی جو علاقائی یا جغرافیائی حد بندی ارنسٹ نے اختیار کی ہے اس پر بیشتر مغربی مفکرین متفق ہیں حالاں کہ جغرافیائی اعتبار سے یورپ اور امریکہ میں ہزاروں میل کا فاصلہ ہے۔ موسم اور آب و ہوا کے لحاظ سے بھی دونوں خطے ایک جیسے نہیں۔ ان اصطلاحات کا استعمال اس وقت شروع ہوا جب مغربی یورپ کی حکومتیں غریب ممالک کو غلام بنانے میں مصروف تھیں اور مغربی یورپ کو مرکز مانتے ہوئے اس کے مشرق کی جانب واقع علاقوں کو ’مشرق‘ پکارنے لگی تھیں۔ اب جب کہ امریکہ تمام بین الاقوامی امور میں مرکزی حیثیت حاصل کر چکا ہے اور مغربی یورپ کے علاقے امریکہ کے مغرب نہیں، بلکہ مشرق میں واقع ہیں، امریکہ کے حوالے سے یورپ کو ’مغرب‘ شمار کرنا درست نہیں لیکن اس کے باوجود شمالی امریکہ اور مغربی یورپ کے ممالک خود کو مشترکہ طور پر مغرب قرار دیتے ہیں۔ ۶ ارنسٹ نے بھی اسی خیال کو بنیاد بنایا ہے لیکن ان کی کتاب کے مضامین یورپ سے زیادہ امریکی قوم کے فکری و تہذیبی رویوں کو زیر بحث لاتے ہیں۔
اسلام اور مغرب: عصری تناظر
اسلام اور مغرب دومختلف نوعیت کی اصطلاحات ہیں۔ مغرب ایک جغرافیائی اصطلاح ہے جو کسی خاص خطۂ زمین سے وابستہ ہے جب کہ اسلام کا تعلق معتقدات و نظریات سے ہے۔ دونوں کے درمیان ایسی کوئی یکسانیت موجود نہیں جس کی بنا پر دونوں کا تقابل کیا جا سکے۔ لیکن یہ تقابل عہد حاضر کی فکری جستجو کا اہم محور بن چکا ہے۔ برنارڈ لیوس (Bernard Lewis: ۱۹۱۶۔ ) نے اس تقابلی مطالعے کا جواز پیش کرتے ہوئے ـ’مغرب‘ کی لسانی اصطلاح کو قرونِ وسطیٰ میں استعمال ہونے والی اصطلاح ’عیسائی دنیا‘ (Christendom) کا متبادل قرار دیا ہے۔ ۷ نشاۃ ثانیہ کے بعد یورپ میں مذہبی تشخص نے ثانوی اور سیکولر نظریات نے اولین اہمیت حاصل کر لی تو یورپ، جو پہلے عیسائی دنیا سمجھا جاتا تھا، خود کو مغرب کہنے لگا۔ گویا مغرب سے وہ ممالک مراد ہیں جہاں یورپی نشاۃ ثانیہ کے بعد سیکولر ازم کا دعویٰ کیا جانے لگا۔ دوسری طرف اسلام سے وہ خطے یا ممالک مراد لیے جاتے ہیں جہاں اسلامی نظام رائج ہے۔ یہ بھی ایک پیچیدہ معاملہ ہے اور ارنسٹ نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ مذہبی تصورات کی وحدت کے پس پشت تکثیریت کارفرما ہوتی ہے اور انھیں مختلف طرح سے دیکھا، سمجھا اور برتا جاتا ہے لہٰذاپوری اسلامی دنیا کو عصر جدید میں ایک یکساں اکائی قرار دینا معاملے کو غیر ضروری طور پر سادہ کرلینے کے مترداف ہے۔ ارنسٹ کا یہ خیال قابلِ توجہ ہے کیوں کہ خود اسلامی تہذیب کے اندر کئی طرح کے افتراقات و اختلافات موجود ہیں۔ شیعہ اور سنّی اختلاف محض مذہبی نہیں بلکہ تہذیبی و سیاسی تناظرات کا حامل بھی رہاہے اور عرب و عجم کی واضح تقسیم کا آئینہ دار ہے۔ اسی طرح مشرق وسطیٰ میں اسلامی تہذیب کا منظر نامہ ہند اسلامی تہذیب کے رنگ و آہنگ سے بہت مختلف رہا ہے۔ افریقی مسلمان ممالک میں آپس میں بھی تہذیبی و ثقافتی تکثیریت واضح نظر آتی ہے۔ اس بنا پر ارنسٹ کا یہ کہنا بجا ہے کہ فی زمانہ پورے عالم اسلام کو یکساں تہذیب کا علم بردار قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ماضی کو رد کرنے اور حال کو حقیقت کی واحد میزان خیال کرنے کا عمل بھی نظر ثانی کا محتاج ہے۔ جدیدیت کی جس منہ زور لہر نے ماضی کے مقابلے میں، زمانۂ حال کو مغرب کا خیر مطلق قرار دے رکھا ہے، ارنسٹ نے اس پر تنقید کی ہے کیوںکہ حال ایک نہ ایک دن ماضی ہو جاتا ہے اور اگر ماضی فرسودہ اور بے معنی ہے تو حال بھی اس تہمت سے پاک نہیں رہ سکتا۔ مغرب میں مذہب کومحض حال کی روشنی میں پرکھنے کا عمل جاری ہے اور یہی عمل درست نتائج کے استنباط میں حائل ہے۔ اسلامی معاشروں کی معاصر صورت حال اسلام کے مثالی چہرے کی تصویر ہر گز نہیں ہے۔ ایسا کیوں نہیں ہے، یہ ایک الگ بحث ہے جس میں مسلمانوں کے لیے انفرادی وقومی سطح پر خود احتسابی کے کئی کٹہرے کھلے ہیں۔ افسوس کہ مسلمان ابھی تک کسی فیصلہ کن احتساب کے مرحلے سے گزرنے پر تیار نہیں ہوئے اور اپنی ذلت و ادبار کو مسلسل غیروں کی سازش اور دشمنی پر محمول کرنے کی تن آسانی میں مبتلا ہیں لیکن اس کے باوجود مغرب کا یہ رویہ درست نہیں کہ مسلمان معاشروں کی زوال آمادگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فکری و علمی افلاس کو اسلام کے کھاتے میں شمار کرے۔ اگر کوئی سائنس دان کسی ذہنی، جسمانی یا اخلاقی مرض کا شکار ہو جائے تو کوئی بھی صحیح الدماغ انسان اسے سائنس کی کمزوری خیال نہیں کرتا، اسی طرح اگر کسی نظریے پر اعتقاد رکھنے والا عملی طور پر اس نظریے کے آدرش کو پانے میں ناکام رہے تو اسے نظریے کی ناکامی قرار دینا کس حد تک درست ہو سکتا ہے؛ خاص طور پر ان حالات میں جب تاریخی اعتبار سے اسی نظریے کی بنیاد پر تہذیب و تمدن کی بہترین صورتیں وجود میں آچکی ہوں۔
مذہبی عقائد و احکامات کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ کی لسانی تاریخ اور مختلف عصری تناظرات میں ان کا استعمال بھی قابلِ غور ہے جس کے بغیر مذہب کی روح تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ اسلامی تاریخ کا غائر مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ شریعت اسلامی میں استعمال ہونے والے عام الفاظ، جو اب مخصوص معانی کے لیے مختص ہو چکے ہیں، اسلام کے اولین ادوار میں محض لغوی معنوں میں استعمال ہوتے تھے۔ لسانی تبدیلیوں کے اس عمل پر طرح طرح کے سیاسی، شخصی اورمعاشرتی عناصراثر انداز ہوتے رہے ہیں۔ ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمے کے دوران معانی و مفاہیم کی کئی سطحیں ہاتھ سے نکل جاتی ہیں اور نامعلوم طور پر کسی اور اقلیم سے معنی کی کچھ نئی تہیں برآمد ہو جاتی ہیں۔ اس کے تدارک کی کوئی صورت، اس تمام تر علمی ترقی کے باوجود، ابھی تک دریافت نہیں ہو پائی۔ ان تمام باریکیوں کو پیش نظر رکھ کر ہی کسی نظریے کی حقیقی روح تک پہنچنے کی کوشش کامیاب ہوسکتی ہے۔ (اگلے صفحہ پر جاری ہے)
