تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تنقیدعلم و ادب

انور شعور: یعنی یکتائے روز گار ہوں میں — محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 06/10/2023
written by محمد حمید شاہد 06/10/2023
280

            میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ انور شعور ہمارے عہد کے سب سے دھیمے مگر تیکھے لہجے کے غزل گو ہیں اور اسی سبب الگ ہیں۔ الگ اور ممتاز۔ جی یہ میں بہت ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں۔ سلیم احمد نے کہا تھا:

“جدید غزل ایک بے کلچر معاشرے کی پیداوار ہے۔ ہم اپنا پرانا کلچر گم کر چکے ہیں اور نیا ہم نے پیدا نہیں کیا۔ اس لحاظ سے جدید غزل صرف خلا میں سانس لے رہی ہے”

آپ کہہ سکتے ہیں کہ سلیم احمد کی بات کا انور شعور کی شاعری سے کیا تعلق؟ اور مجھے جواب میں کہنا ہے؛ تعلق ہے، بہت گہرا تعلق۔ جس دھیمے پن کی میں بات کر رہا ہوں یہ اِس چلتر زمانے کی دین نہیں ہے، اس کے پیچھے ایک تہذیب کی جمالیات اور ایک مستحکم روایت بولتی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ثقافت کا تعلق ہمارے مجموعی مزاج سے بنتا ہے، مزاج جو بدلتے وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے تاہم یہ فیشن کی طرح ایک دو موسم ہی رہتا ہے۔ تاہم ثقافت محض فیش نہیں ہے، یہ شعوری اور جمالیاتی سطح پر ہماری اجتماعی سرگرمیوں، عادات، پسند ناپسند اور قومی مزاج کا پیکیج ہوتا ہے جس کی تظہیر معاشرتی سطح پریوں ہوتی ہے جیسے سطح سمندر پرکھیلتی مچلتی لہریں۔ تہذیب محض ثقافتی سرگرمی نہیں ہے۔ بجا کہ تہذیبیں ثقافتی سرگرمی سے کچھ نہ کچھ بٹورتی رہتی ہیں لیکن ایسا بھی ہے کہ ثقافتی سرگرمیوں کاایک رُخ متعین کرنے کو یہی تہذیب کئی طرح کے رخنے ڈالتی رہتی ہے۔ وہ اسے چھانتی، مانجھتی اورپٹختی ہے پھر جو اسے قابل قبول نظر آتاہے اپنا حصہ بنا لیتی ہے۔ گویا ثقافت ایک ہنگامہ ہے تو تہذیب ثقافت کے قابل قبول عناصر کی امی جمی۔ اسی تہذیب کا بنیادی وصف شائستگی اور دھیماپن ہے۔ وہ بات جو سلیم احمد نے کہی وہ اسی تہذیبی وصف کو سامنے رکھ کر کہی تھی۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ ادب کی باقی اصناف چاہے وہ نظم ہو یا افسانہ اور ناول سب ایک سطح پر ثقافتی مظاہر ہیں یہی سبب ہے کہ وقت بدلنے کے ساتھ انہیں ’’جدید‘‘ ہونے کا ہوکا لگا رہتا ہے۔ اور اس کوشش میں وہ جدید ہو بھی جاتی ہیں۔ جی قدیم ہونے کے لیے جدید۔ مگر تہذیبی امی جمی کا مظہر ہو جانے والی صنف غزل کا مزاج الگ ہے اور اس مزاج کا ایک خاص عنصر ہے دھیما پن ؛ وہی جس نے انور شعور کی غزل کو مختلف اور نمایاں کر دیا ہے۔

  اچھا، اس دھیمے پن کا امتحان تو اس وقت ہوتا ہے کہ خیال بہت کھردرا اور نوکیلا ہو، بات تلخ ہو، اتنی کہ اس سے شعر کا نرم و نازک پیرہن مسکنے لگے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ایسے عالم میں بھی کمال درجے کا ضبط انورشعور کے ہاں کام کر رہا ہوتا ہے وہ مصرعے کی نازکی کا خیال رکھتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بالعموم تلخ اور کھردرے کلام کو خود کلامی یا مکالمے کی صورت میں شعر میں برتا جاتا ہے۔ کہ اسی طرح اس کا تیکھا پن براہ راست اور کاٹ دار ہو سکتا ہے۔ اور ایسا کرتے ہوئے غزل کا اپنا تہذیبی مزاج الگ تھلگ کھڑا منہ چڑاتا رہتا ہے۔ تاہم انور شعور کے ہاں ایسا نہیں ہے۔ وہ اپنے دھیمے پن کے اس امتحان میں یوں کامیاب ٹھہرتے ہیں کہ وہ سہولت سے تلخ سے تلخ بات کہہ جاتے ہیں اور ان کا نہ تو لحن بگڑتا نہ دہن۔ مثلاً دیکھئے۔ ایک غزل کا مطلع ہے:

حالات نہ پوچھیے کہ کیا ہیں

ہم آپ سے طالب ِ دعا ہیں

            آپ کہہ سکتے ہیں اس میں تلخ بات کہاں ہے؟ صاحب! وہی تو اس شعر میں نفاست سے نہاں رکھ دی گئی ہے۔ یہ لگ بھگ وہی المیہ ہے جس کی نشان دہی میرصاحب نے کی تھی:

میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

میر یات کے باب میں کہیں ’’لونڈے‘‘ کی جگہ’’ لڑکے‘‘ کا لفظ پڑھا تھا مگر ہمارے منٹو صاحب نے چچا سام کے نام ایک خط میں اسے عطار کے لونڈے لکھا تو جی چاہا کہ اسے یوں ہی مقتبس کروں۔ خیر، کہنا یہ ہے کہ معاملہ چاہے انور شعور کے ہاں میرصاحب والا ہی ہو کہ اسی سے طالب دعا ہیں جس کی وجہ سے اس خستہ حالی کا نشان ہوئے، مگر ہمارا یہ شاعر میر جیسا سادہ نہیں ہے۔ اور ان کی سادگی میں جو ایک شرارت ہے وہی انہیں مختلف کرتی ہے۔ یعنی اپنی لاعلاج خستہ حالی پر بظاہر دعا کا یہ طالب طنز کا تیکھا تیر بھی کمان میں رکھ دیتا ہے۔

 اور ہاں غزل کا ایک خاص وصف اس میں معنی آفرینی کا التزام بھی ہے۔ ایک متعین معنیٰ نہیں۔ اور اگر ایک معنی بھی ہیں تو اس کے اندر سے طرفیں نکال لینا۔ انور شعور کے یہاں معنی آفرینی والا یہ وصف بھی بولنے لگا ہے۔

            میرصاحب کا ذکر آیا تویاد آیاکہ اثر لکھنوی نے انہیں سہل ممتنع کا شاعر کہا تھا۔

سرسری تم جہاں سے گزرے

ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا

اور غالب بھی تو سہل ممتنع میں کمال رکھتے تھے:

کوئی امید بر نہیں آتی

کوئی صورت نظر نہیں آتی

 کہنے کو یہ سیدھی، سادی، سہل باتیں ہیں، مگر سادگی اور سہولت کے پیچھے کام کرنے والی فنی ریاضت اور کمال کا اندازہ تب ہوتا ہے جب ایسی فنی مہارت کسی شاعر کو دکھانی پڑتی ہے۔ انور شعور کے ہاں یہ اختصاص بہ طور خاص شناخت ہوا ہے۔ بالعموم وہاں جہاں وہ چھوٹی یا قدرے درمیانہ طوالت کی بحور کا التزام رکھتے ہیں۔

ہم یہاں یا وہاں نہیں جاتے

بیٹھے بیٹھے کہاں نہیں جاتے
۔ ۔ ۔ ۔
ہم تمہیں دیکھ چکے ہیں لیکن

نجانے کہاں، کب دیکھ چکے ہیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دوست کہتا ہوں تمہیں شاعر نہیں کہتا شعور

دوستی اپنی جگہ ہے شاعری اپنی جگہ
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں

اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔

  اوپر والے آخری شعر میں لفظ ’’گم ‘‘کو انور شعور اکثر ازراہ تفنن’’ٹن‘‘ کر لیتے ہیں۔ اور جب وہ ایسا کرتے ہیں تو دھیان فوراً ان کے ان اشعار کی طرف چلا جاتا ہے جن میں انہوں نے اس’’ دختر انگور ‘‘ کو برتا ہے۔ غزل اور خمریات میں ایک تعلق خاص رہا ہے۔ غالب نے کہا تھا:

پلادے اوک سے ساقی جو مجھ سے نفرت ہے

پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے، شراب تو دے

            اور ریاض خیر آبادی، کہ جنہیں خمریات کا امام کہا گیا ہے، ان کی ایک غزل کا مطلع ہے:

جس دن سے حرام ہو گئی ہے

مے، خلد مقام ہو گئی ہے

            تو یوں ہے کہ یہ ’’خلد مقام‘‘ انور شعور کے کلام میں بھی وقار پاتی ہے کہ بہ قول ان کے وہ اسی دختر انگور سے بغل گیر ہوکر اپنا سراغ پاتے ہیں۔

پیو کہ ماحصلِ ہوش کس نے دیکھا ہے

تمام وہم و گماں ہے، تمام دھوکا ہے

نہ کیوں ہو صاحبِ جامِ جہاں نما کو حسد

شراب سے مجھے اپنا سراغ ملتا ہے
۔ ۔ ۔ ۔
دیکھی ہے مے پی کرہم نے

سارا نشّہ اُتر جاتا ہے

اورانور شعور کا اس باب کا ایک اور شعر ان کی غزلوں کے تازہ مجموعے ’’آتے ہیں غیب سے ‘‘ لیا گیا ہے

مے بہت ہے مگر ذرا سی ہے

کیوں کہ بے انتہا اداسی ہے

  اداسی اور بے انتہا اداسی، بے گھری اور در بدری، نارسائی اور حد درجہ نارسائی، بے تو قیری کا احساس اور دل کو مٹھی میں لے کر مسل دینے والا احساس، یہ سب کچھ زندگی کا روز مرہ ہو کر انور شعور کے کلام کا حصہ بنتارہا ہے۔ زندگی کے روز مرہ کو جس سہولت اورشاعرانہ سرمستی سے وہ شعر کا حصہ بناتے ہیں، ایسا جوہر ان کے معاصرین میں خال خال نظر آتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان کے اشعار زبان زد عام ہوجاتے ہیں۔ بنیادی طور پر وہ خیال کے مقابلے میں کیفیت کے شاعر ہیں تاہم ایسا لگ بھگ ہر بار ممکن ہو جاتا ہے کہ ان کے ہاں شعر بن جانے والی کیفیت سے خیال یوں پھوٹ نکلے جیسے بیج سے بیخچہ اور راس جنین۔ شعر میں کس قبیلے کا لفظ آنا ہے اورکس مزاج کا یا پھرلفظوں کی نشست و برخاست کا معاملہ ہو، یوں لگتا ہے ان کے ہاں ایک خود کار نظام کے تحت کہ سب طے ہوتا ہے، کہیں ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ انہوں نے چن چن کر الفاظ اکٹھے کیے ہوں، بن بن کر مصرع کہا ہو یا بنا بنا کر شعر بنایا ہو۔ اس باب میں بھی انور شعور تنہا ہیں۔ تنہا اور یکتائے روزگار۔

مجھ سا تنہا کوئی نہیں ہے شعور

یعنی یکتائے روز گار ہوں میں

  اکثر غزل گو شعرا کے ہاں قافیہ محض خوش آہنگی کے طور پر آتا ہے تاہم ایسے بھی ہیں کہ اس کا استعمال ایک قرینہ ہو جاتا ہے۔ انور شعور کے ہاں بھی اسے ایک تخلیقی قرینے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ اسے کام میں لا کر جہاں کلام کا لہجہ متعین کرتے ہیں وہیں معنی کے کسی پہلو، خیال کی کسی رو یا احساس کی کسی لہر کو شعر کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ انور شعور اپنے شعر میں کہیں کہیں صرف منظر بناتے ہیں تاہم دیکھا گیا ہے کہ یہ منظر کشی صرف منظر کا بیان نہیں رہتی ان کی غزل کی جمالیاتی وصف بھی ہو جاتی ہے۔

تم اک مرتبہ کیا دکھائی دیے

مرا کام ہی دیکھنا ہو گیا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وہ ہاتھ میرے ہاتھ میں آیا تو دفعتاً

اک سنسی سی دوڑ گئی جسم و جان میں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
صرف اس کے ہونٹ کا غذ پر بنا دیتا ہوں

خود بنا لیتی ہے ہونٹوں پر ہنسی اپنی جگہ
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کچھ بھی مری آنکھوں کو سجھائی نہیں دیتا

جب سے تجھے دیکھا ہے، دکھائی نہیں دیتا

“اندوختہ” انور شعور کا پہلا مجموعہ ہے جو ۱۹۹۵ء میں طبع ہو کر منظر عام پر آیا تھا مگر واقعہ یہ ہے کہ وہ شعر سے محبت کرنے والوں میں اس سے بہت پہلے محبوب ہو چکے تھے۔ “مشق سخن” نے ان کی شناخت سہل ممتنع پر قادر شاعر کے طور مستحکم کی۔ “می رقصم”، “دل کا کیا رنگ کروں” اور اب “آتے ہیں غیب سے” کہیں بھی احساس نہیں ہوتا کہ ادابدا کر اُنہوں نے سادہ کاری سے غزل کہنے کا چلن بدلنے کے جتن کیے ہوں کہ انہیں یہی قرینہ خوش آتا ہے۔ میں اوپر کہہ آیا ہوں کہ وہ ایسا شاعر نہیں ہے جسے شعر بنانا پڑے، ایک خود کار نظام کے تحت اُن کے اندر سے تخلیق کا چشمہ پھوٹتا رہتا ہے اور اُن کی حسوں پر یلغار کرنے والے عصر کو خود بخود شعر میں منقلب کرتا رہتا ہے۔ خود بخود وجود میں آنے والی زندگی کی طرح اور خود بہ خود گزرنے والی زندگی کی طرح۔ وہ زندگی جو انور شعور کے حصے میں آئی ہے:

ملی تھی مجھے زندگی خود بخود

لہٰذا گزرتی رہی خود بہ خود

 آخر میں مجھے وہی بات ایک بار پھر دہرانے دیں جو عین آغاز میں کہہ آیا ہوں یہی کہ انور شعور ہمارے عہد کے سب سے دھیمے لہجے کے غزل گو ہیں۔ سب سے منفرد۔ سہل ممتنع کی ایک روشن مثال ہو جانے والے، زندگی کے روز مرہ کو شعر میں بہ سہولت ڈھال لینے والے، حرف سادہ سے اس عہد کی تظہیر کرنے والے اوراس تہذیبی صنف سخن کا وقار بحال رکھ کر یوں دھیرے سے بات کرنے والے جیسے کوئی سماعتوں میں محبت کی سرگوشی انڈیلتا ہے۔ بجا کہ انور شعور کی غزل میں کہیں آگ ہے کہیں پانی مگرحیرت اس پر ہوتی ہے کہ جب وہ ہر بار اسے اپنے خاص اسلوب میں لاکر محبت کی سر گوشی بنا لیتے ہیں۔

وہ کبھی آگ سے لگتے ہیں کبھی پانی سے

آج تک دیکھ رہا ہوں انہیں حیرانی سے

Facebook Comments Box
anwar shaoorانور شعور
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
یاسمین حمید: ہم دو زمانوں میں پیدا ہوئے— محمد حمید شاہد
next post
شناخت کا بحران (2) : اسلام اور مغرب — نجیبہ عارف

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...

06/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.