کشور ناہید سے یاسمین حمید کی شاعری کے اس انتخاب پر بات چل نکلی، جو رضی مجتبیٰ نے ’’ہم دو زمانوں میں پیدا ہوئے‘‘ کے نام سے کیا تھا تو پہلے اُنہوں نے اس کتاب کے نام کی تعریف کہ پھر کہنے لگیں؛ یہ جو ہمارے اِدھر اُدھر سانحات ہو رہے ہیں، یہ یاسمین کی شاعری میں اس طرح نظر نہیں آتے جیسے خود اُن کی اپنی شاعری میں جگہ پاتے رہے ہیں۔ یاد رہے کشور ناہید کی شاعری کا مجموعہ’’شیریں سخنی سے پرے‘‘ ان ہی دنوں شائع ہوا تھا اور لگ بھگ اس مجموعے کی ہر نظم ایسے ہی سانحات کا شکار ہونے والوں میں سے کسی نہ کسی کی طرف توجہ کھینچ لے جاتی تھی جس کی خبر پڑھ سن کر ہمارا کلیجہ ہر بار کٹتا تھا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ بنیادی سوال ہے جو کشور کی نظموں سے پھوٹتا ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے یہ وہ خواہش ہے جو کشور کی نظمیں پڑھنے والوں کے دِل کی زمین میں ایک سوال کا بیج بو دیتی ہیں۔ کہہ لیجئے ان کی نظمیں اپنے زمانے کی عکاسی کرتی ہیں اور فرد اور اس کا وجود ثانوی ہو جاتا ہے اتنا پرے پڑا ہوا کہ کہیں کہیں تو وہ غالب کے لفظوں میں معدوم ہو تا ہے؛ ’’ہر چند کہیں کہ ’ہے‘، نہیں ہے‘‘۔ جی، کشور اپنے وجود میں کم اور سماجی وجود کے اندر زیادہ جیتی ہیں۔ کم از کم ان کی نظموں کی حد تک تو ایسا ہی لگتا ہے تاہم غزل میں وہ اپنے سوئے پڑے وجود کو جھاڑ پھٹک کر جگا لیتی ہیں اور اس صنف کی اپنی تہذیب سے جڑنے کے جتن کرتی نظر آتی ہیں کہ اس صنف میں تخلیق کار کا اپنا وجود جب تک مرکز میں نہ رہے تغزل کا جادو نہیں جاگتا۔ یاسمین حمید کے ہاں ایسا نہیں ہوا، وہ نظم ہو یا غزل اپنی وجودی سرشت پر قائم رہی ہیں۔
یہاں میں کشور ناہید اور یاسمین حمید کی شاعری کا تقابل یا موازنہ نہیں کر رہا، ہوا یوں کہ دونوں کی کتابیں لگ بھگ ایک ساتھ ملیں اور اوپر تلے پڑھ ڈالیں تو شاعروں کے ہاں تخلیقی واردات کے مختلف ہونے سے شاعری کا مزاج کیسے مختلف ہو جاتا ہے اسے سمجھنے نے مجھے ایسا کہنے پر اُکسایا ہے۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ یاسمین حمید کے ہاں ایسا نہیں ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے وہ اس گوں کی تخلیق کار ہیں ہی نہیں جو اپنے وجود سے باہر بکھرے پڑے موضوعات کو ہی حرزِ جاں بناپاتے ہیں، وہ تو اس زندگی سے زیادہ قریب ہیں۔۔۔، نہیں مجھے جملہ درست کرنے دیجئے کہ یہ ‘قربت ‘والا لفظ یہاں چھوٹا پڑ رہا ہے واقعہ یہ کہ وہ اس زندگی کے حسی ریشوں کے کہیں اندر اتر کر ایسی جنشیں اور لرزشیں کشید کرتی ہیں جس میں انہیں اپنا پورا وجود اپنے دل کی طرح دھڑکتا اور آنکھوں کی طرح جاگتا محسوس ہوتا ہے۔ یہاں انہیں اپنے ہی لہجے میں بولنا ہوتا ہے، اپنے آپ سے۔ وہ اپنے وجود میں سر بسر اطاعت پر مائل ہوچکے شخص کی طرح وجودی معتکف نہ سہی مگر اپنے ہجر کی تفسیر ضرور ہو گئی ہیں؛ اپنے دھیمے سروں میں بہتی شفاف ندی کے ایسے پانیوں کی طرح جو بہ ظاہر پہاڑوں سے اُتر کر ہموار زمینوں پر خامشی سے بہہ رہے ہوتے ہیں مگر اپنی مسافت کے مفسر بھی ہوتے ہیں یا پھر ایک بے کراں صحرا میں اُڑتی پھول کی اُس پتی کی طرح جسے، کہنے کو موسموں اور فاصلوں کا ڈر نہیں ہوتا، مگر جو اپنے اُچٹنے، اُکھڑنے، پچھڑنے، بھٹکنے اور اپنی موت کو چھو کر پلٹنے کا استعارہ ہو جاتی ہے۔
میں نے یاسمین کے تخلیقی وجود کو آنکنے ماپنے کے لیے بار بار وجود کا لفظ استعمال کیا ہے تو اس سے یہ گماں نہیں باندھنا چاہیے کہ میں ان کی شاعری کو فلسفہ وجودیت کی عطا سمجھنے لگا ہوں۔ میں نے بہت توجہ سے انہیں پڑھا ہے، ان کی نظمیں اور غزلیں اور ہاں نثمیں بھی اور کہیں بھی مجھے اوپر ہی اوپر تیرنے والا ‘گلٹ’ یا جرم کا احساس نظر نہیں آیا ہے۔ نہ کہیں یگانگی اور مغائرت یعنی ‘ایلی نیش’ نہ تصور موت کی جکڑن۔ اکتاہٹ، گھن اور اُبکائیاں جو وجودیوں کے ہاں سیلن کی طرح سطروں میں اندر تک گھس کر ایک گہرے ہمک اورعجب طرح کی باس کو باہر اُچھالتی ہیں؛ یاسمین نے اس سب کچھ کو اپنے وجود پر القا ہونے والی حیرت سے بدل لیا ہے اور ان پر ایک بچی کی طرح سوالات کی تہیں بچھاتی چلی گئی ہیں۔ یہ حیرتیں اور استفسارات ہمیں ایک ہی وقت میں سنائی اور دِکھائی دیتے ہیں اور حسیات پر پھوار کی طرح برستے بھی ہیں۔ اپنے وجود پر القا ہونے والی آوازوں اور تصویروں سے ہی اس شاعرہ کے ہاں شعری جمالیات کے خال و خد بنتے ہیں۔
تخلیقی جمالیات اور تصویری معنیاتی تشکیل میں یاسمین حمید نے اپنے خوابوں سے بھی خوب کام لیا ہے؛ کئی نظموں اور نثموں میں اور غزلوں میں بھی۔ جہاں بھی خواب سے معاملہ ہوا ہے وہ محض خواب کا بیان نہیں رہا ہے۔ مثلاً ’’فنا بھی ایک سراب‘‘ کی ایک غزل کا یہ شعر دیکھیے:
ابھی نقش کوئی بنا ہی تھا مری آنکھ میں
کہ اُلجھ گیا مرے خواب سے مرا خواب گر
یا پھر ’’آدھا دن اور آدھی رات‘‘ کی ایک غزل کا یہ شعرملاحظہ ہو:
تِری حقیقتوں کے سامنے ِمری بِساط کیا
صدی کے تیز رنگ! میں تو نقش خواب بھی نہیں
اپنی نثموں میں بیشتر اوقات وہ اپنے مجموعی تخلیقی رویے کی پیروی کرتی ضرور ہیں تاہم ایسے مقامات بھی قدرے زیادہ دیکھے جا سکتے ہیں کہ وہ اپنے ذاتی وجود سے باہر نکل سماجی وجود سے جڑ جاتی ہیں مثلاً ’’فنا بھی ایک سراب‘‘ کی ایک نثم کی یہ سطریں دیکھیے:
“چراغوں والی!
خواب سے ڈر
تو جانتی ہے تیرا کوئی موسم بھی ہے
درختوں کی چھاؤں آدھی ہو جائے
تو روپ جھڑ جاتے ہیں
اور سوچنے والی کی قیمت پوری نہیں لگتی”
(چراغوں والی/ فنا بھی ایک سراب)
جہاں جہاں ایسے مقامات آئے ہیں وہاں وہاں اُن کے تخلیقی وجود کے اندر سے نسائی وجود نے الگ سے چھب دِکھائی ہے۔ تاہم مجموعی طور پر یہ نسائی وجود یاسمین حمید کی شاعری میں اس عورت کے وجود سے الگ دِکھنے لگتا ہے جو فیمنسٹ تخلیق کاروں کے ہاں بھر پور توجہ پاتا رہا ہے۔ مثلاً ’’آدھا دن اور آدھی رات‘‘ کی غزل کا یہ شعر نسائی شعور کی تظہیر ہو کر بھی گرے پڑے تمام طبقوں کی تصویر ہو گیا ہے جن کے لیے زندگی مسلسل مٹنے اور مٹتے چلے جانے سے عبارت ہے:
سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ مجھ کو میرا خالق
بنانا چاہتا ہے یا مٹانا چاہتا ہے
یاسمین حمید کے ہاں عورت بھی انہیں طبقات میں سے ایک ہے جن کا وجود قدرت کے اس کارخانے کے بیک یارڈ میں پڑا گل سڑ رہا ہے۔ تاہم یہ طبقاتی اور نسائی شعور مجموعی طور پر داخلی عنصر میں منقلب ہوکر فن میں عاکس کی بجائے غیر عاکس ہو کر ظاہر ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ شاعری سے اس سطح پر معاملہ کہ آپ سر بسر شاعر رہیں اور سماجی فرد آپ کو پچھاڑے نہیں، ایک ایسی زبان کا تقاضا کرتا ہے جو چونکانے کی بجائے پڑھنے والے پر تصویر کی طرح کھلے، اُس کے من کو رنگوں کی طرح لبھائے اور اس کے دِھیان کوخاموشیوں کی طرح اپنے گپھاؤں میں سمیٹ لے اورلطف کی بات یہ ہے کہ یاسمین حمید کے ہاں ایسی زبان متشکل ہوئی ہے۔ جی، کوئی نیا یا اجنبی لفظ استعمال کیے بغیر، کوئی نئی ترکیب ڈھالے بغیر ایسی زبان جس میں جوگی کے بھیگے بدن کی باس سما سکتی ہے، وہ داستانیں جاگ سکتی ہیں جنہیں کبھی لکھا یا سنا سنا یا گیا یا پھر لکھا اور سنا سنایا جاسکتا ہے، وہ اسی زبان میں لمحوں کی بندش سے آزاد گزر چکے وقت کو مرتب کرتی ہیں اور گزرتے وقت کوبھی۔
“جو دور سے دکھائی دیا
تہذیب نے اس کے چہرے پر حسین نقش و نگار بنائے
اور قریب آنے والے کے منہ پر تھوکا
اُسے گالی دِی
اور اپنی جھولی میں آنسو بھر لیے”
(انسان بدل گیا کیا/بے ثمر پیڑوں کی خواہش)
اسی نثم میں آنے والے وقت کو بھی دیکھا جاسکتا۔ جاچکے وقت کی طرح آچکا اور آنے والا وقت جن سرابی راستوں کی وسعتوںمیں دھول اُڑا رہا ہے وہاں یہ بہت کم کم بدلتا ہے۔ یاسمین حمید ہی کے لفظوں میں:
“ہزارسال کے فاصلے پر بننے والی قبریں ایک جیسی ہیں۔ “
یاسمین حمید نے اپنے ایک مضمون میں اس نہ بدلنے والے وقت کے بارے میں کہہ رکھا ہے:
“وقتِ موجود میں جدیداور قدیم کے کوئی معنی نہیں ہوتے۔ ۔ ۔ تخلیق کار جس عہد میں اپنا بساط بھرسرمایہ جمع کرتا ہے، اُسی عہد کو جانتا اور محسوس کرتاہے۔ محسوس کرنے کے عمل کی پرتوں کا، اس کی پیچیدگیوں کا شمار مشکل ہے۔ احساس اور فکر کے دائرے میں، حالات کی کتنی صورتیں، کن سمتوں سے داخل ہوتی رہتی ہیں، ان کو حساب میں نہیں لایا جاسکتا۔ تخلیقی سطح پر انہیں کس طرح کس حد تک اظہار کی شکل دی جاسکتی ہے، اُس کا انحصار تخلیق کار پر ہے۔ ”
(چند باتیں/ بے ثمر پیڑوں کی خواہش)
سرابی راستوں پر دھول اڑاتے وقت کا جو پارچہ یاسمین حمید کی بساط کا سرمایہ ہوا ہے وہ اگرچہ یہی نہ بدلنے والا وقت ہے مگراس کو ایک ایسے آئنے کی طرح ماضی اور حال کے وسط میں نصب کر لیا گیا جس میں وقت کی دونوں طرفیں جھلک دے رہی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ آئنے میں سب کچھ صاف صاف دکھائی دے رہا ہے کہ دونوں طرف کا وقت اس برف کی طرح ہے جو روئی کے گالوں کی صورت اُڑتے ہوئے اُترتا ہے یا اُس قدرے کم دبیز دھند کی طرح جو بہت کچھ چھپا کر بھی بہت کچھ ظاہر کردیاکرتی ہے۔ اسی منہاج سے اس شاعرہ کے ہاں در آنے والی پیچیدگیاں، الجھنیں اورفکری اور حسی دائرے بھی نظموں میں مسطر ہوجاتے ہیں۔ یہیں وضاحت کردوں کہ اس شاعرہ کے ہاں دَر آنے والا ابہام زبان کے مشکل برتاوے کا زائیدہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ شعری تجربے میں برتی گئی فکریات کا نظام فہم سے باہر رہ جانے یا قصداً باہر رکھ کر ایک دھند بنالینے کا شاخسانہ ہے، یہ تو احساس کی لطیف سطوح سے جنم لیتا ہے، ہرے بھرے تخیل سے پھوٹتا اور جمالیاتی سطح پرمتن کا حصہ ہوجاتا ہے۔
کچھ اورکہنے سے پہلے، ’’فنا بھی ایک سراب ‘‘ سے ایک نظم کی کچھ سطریں، یہاں وہاں سے، مقتبس کرتا ہوں:
“میں نے اپنے آپ کو دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہاتھوں میں کچھ لفظوں کا سرمایہ دیکھا
تھوڑی دیر کو سایہ دیکھا
ورق الٹ کر پڑھنا چاہا تو ہاتھوں پر
بادل جیسی دھند کی گیلی چادر دیکھی
اپنی آنکھوں کو پاتال کے اندر دیکھا
بھید بھری خاموشی دیکھی۔ ۔ ۔ ۔
سانس اکھڑتے دیکھی اپنی
اور زبان میں لکنت دیکھی
اپنے جسم کو مرتے دیکھا
دور کہیں چوپال سے باہر
پچھلی رُت کے
بوڑھے پیڑ کا
پتا پتا جھڑتے دیکھا
تم نے خواب میں کس کو دیکھا؟”
(میں نے اپنے آپ کو دیکھا/فنا بھی ایک سراب)
نظم کے اس ٹکڑے میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یاسمین نے ایک خواب میں دیکھے جانے والے ایسے مناظر سے اپنی جمالیات کو متشکل کیا ہے جو حیرت کی ایک دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔ ان حیرتوں میں استفسار ہو جانے کی گنجائشیں بھی ہیں گویا پوچھا جا رہا کہ یہ کیسے مناظر ہیں جو انہیں دیکھنا پڑے ہیں؟ یا ایسے مناظر وہ کیوں دیکھنے کو مجبورہیں ؟ ایک اور سطح پر یہ ایک جبر کی کیفیت ہے جو ان کے لیے ہونی شدنی جیسی ہو گئی ہے اور آخر میں ایک راست استفسار: ’’تم نے خواب میں کیا دیکھا؟‘‘۔ خواب میں دیکھے گئے منظروں کی تقلیب، حیرت کی تجسیم اور تجسس سے داغے گئے سوال پر نظم کا انقطاع، بظاہر بہت کم مایہ حیلے ہیں۔ نہ کوئی نامانوس یا شوخ لفظ، نہ کوئی نئی ترکیب، نہ چونکانے والے موضوعات کا کوئی حیلہ مگر اس سب کے نہ ہوتے ہوئے بھی اپنی جمالیات کا جادو الگ سے جگا لینا، میرے نزدیک وہ وصف ِخاص جو یاسمین حمید کو اس شعری منظر نامے میں الگ اور ممتاز کرتا ہے۔
اور آخر میں ’’آدھا دن اور آدھی رات‘‘ کی وہ غزل جس میں مجھے اس شاعرہ کا تخلیقی چلن بھی جھلک دے گیا ہے:
“جو مٹتا جا رہا ہے پھر وہی منظر بنانا ہے
مجھے اِحساس کی دِیوار میں اِک دَر بنانا ہے
مجھے پہچان دِینی ہے کسی موہوم رِشتے کو
مجھے بے جسم و جاں تصویر پر اِک سَر بنانا ہے
مجھے زنجیر کرنا ہے کہیں بے سمتیئِ دِل کو
ہوا کی موج پر ٹھہرا ہوا اِک گھر بنانا ہے
مجھے تو عکس اپنا ڈھونڈنا ہے پتھروں میں بھی
طلسمِ آب و آتش سے اِنہیں گوہر بنانا ہے
کنارِ دشت اِک کشتی ہے اور پتوار ہاتھوں میں
سو اب دریا مجھے اس دشت کے اندر بنانا ہے
