یہ جو ایک ایک کرکے دِن مہینوں میں، مہینے برسوں میں اورسال صدیوں کی گرد تلے گم ہو رہے ہیں تو یوں ہے کہ یہی وقت کا جبر ہے جو گزر جاتا ہے اسے ماضی کی قبر میں دفن ہو کر وقت کی دیمک کا رزق ہونا پڑتا ہے۔ مگر اسی وقت کی پوٹلی سے برآمد ہونے والا یہ معجزہ بھی دیکھیے کہ جسے تین صدیاں پہلے خدائے سخن اور صنفِ غزل کا شہنشاہ کہا گیا؛ یعنی میر تقی میر صاحب، اُن کا نام اور کام تاریخ کے صفحات پر مسلسل چمکتا رہا ہے۔ یوں کہ وہ خو د اور ان کا کلام اُردو غزل کی تہذیب ہوگیا ہے اور آج بھی ویسا ہی بامعنی اور ریلے وینٹ ہے جیسا ان کے جیتے جی تھا۔ سوال یہ ہے کہ ایسا شاعر جو صدیوں پہلے گزر چکا ہو مگر آج بھی ریلے وینٹ ہو، اسے کیسے پڑھا جائے۔ جی، اُس شاعر کو جو اُن گنے چنے شاعروں میں سب سے اوپر ہے جنہوں نے آج کے منظر نامے میں بھی اُردو غزل کی صنف کو زندہ، تازہ، توانا اور ریلے وینٹ رکھے ہوا ہے۔. kate beckinsale nude K
آج کا نیا ناقد مصر ہے کہ شاعری کو محض متن کے اندر اتر کر پڑھنا چاہیے۔ اُن کی بات پہلی سماعت میں بھلی لگتی ہے ؛ آپ شعر پڑھ رہے ہیں تو جس فضا اور کیفیت میں آپ ہیں اسی کے اندر رہ کر ہی معنی متعین ہو ں گے محض معنی نہیں اس کی تاثیر بھی۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ محض ایسا میر صاحب کے باب میں کافی نہیں رہے گا۔ اگر آپ یہیں تک رُکے رہیں گے تو قدم قدم پر ٹھوکر کھائیں گے۔ میر صاحب کی غزل کی زبان کیسے بنی؟ اور جس زمانے میں بنی، وہاں سے کیا کچھ اخذ کرتی رہی؟ زبان کو اس ساخت پر ڈھالنے والے کا اپنا ذہنی سانچہ کیسا تھا؟ اور بدن کے بیچ کیسے کیسے بھونچال اُٹھ رہے تھے؟ جب زبان کا کوئی خاص پہلو شاعرکے ذہن میں اُترا تھا تو دِل کی دھڑکن کا کیا عالم تھا؟ وہ سماجی، سیاسی اور معاشی چلن کیا تھا جس سے شاعر کا معاملہ رہا؟ گویا میر صاحب کی اپنی زندگی، تاریخ اور تہذیب؛ سب سے کاٹ کر میر صاحب کو پڑھا ہی نہیں جا سکتا۔ ان سے سے الگ تھلگ رکھ کر میر صاحب کو پڑھ لیجئے ؛ ایک حد تک گرفت میں آئے گا۔ پورے میر صاحب تو آپ کی تفہیم کے دائرے سے باہر کھڑے رہ جائیں گے۔
یوں ہے کہ میر صاحب کو پڑھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ جس عہد میں پیدا ہوئے، ڈاکٹر جمیل جالبی کے لفظوں میں تاج محل کی تہذیب کے زوال کی صدی تھی اور سارا برعظیم طاقت ور نظام کے مرکز کشش کے کمزور پڑنے ٹوٹ بکھر رہا تھا۔ ایک انتشار تھا جو چہار سو تھا۔ سیاسی نظام، تہذیبی مظاہر اور سماجی ادارے، معیشت اور معاشرت جب سب کچھ افراتفری کی زد پر تھا تو میرصاحب جیسے شاعراس شکست و ریخت اور اکھاڑ پچھاڑ سے الگ رہ کر کیسے شعر کہہ سکتے ہیں؟ لہٰذا انہوں نے اپنے تخلیقی وجود کو اپنے زمانے کے سیاسی اور تہذیبی انہدام کے سبب فرد کے فکر و احساس پر مرتب ہونے والی لرزشوں کے آہنگ پر مرتب کر لیا تھا۔ شمس الرحمن فاروقی نے ’’شعر شور انگیز‘‘ کے دیباچوں میں جہاں میرصاحب کو کلاسیکی شعریات کی روشنی میں پڑھنے کو کہا ہے وہیں مغربی تنقید کے زیراثر یہ ثابت بھی کرنا چاہا ہے کہ ’’مصنف خود معنی پیدا نہیں کرتا، بلکہ ایسے سیاق و سباق بناتا ہے اور ایسی ترتیب پیش کرتا ہے اور مروج نظام کے امکانات اس طرح استعمال کرتا ہے کہ اس کا کلام بامعنی ہو جاتا ہے۔‘‘ یہ درست کہ بعض اوقات ہم مصنف کو جانتے ہی نہیں لہٰذا منشائے مصنف کو بھی نہیں جان سکتے اور مجبوراً ہمیں متن سے آزادانہ معاملہ کرنا ہوتا ہے مگر جہاں مصنف اور اس کے زمان و مکان تک پہنچنا ممکن ہو مگر جان بوجھ کر منھ پھیر لیا جائے توکیا ہم معنی کی ایک اور ممکنہ جہت سے اغماض نہیں برت رہے ہوتے؟ یقین جانیے کہیں کہیں ایسا جاننا یوں اہم ہو جاتا ہے کہ متن اس کے بغیر اپنی پوری معنویت ظاہر ہی نہیں کرپاتا۔ دیوان دوم میں میر صاحب کہتے ہیں:
شہاں کہ کُحلِ جواہر تھی خاکِ پا جن کی
اُنھیں کی آنکھ میں پھرتی سلائیاں دیکھیں
“ذِکرِ میر” میں کچھ یوں آیا ہے کہ میر صاحب امیر خان انجام کی حویلی میں مقیم تھے۔ دہلی کے حالات ابتر تھے اور وہاں کے امرا باہم بر سر پیکار۔ یہ وہی زمانہ تھا کہ مرہٹوں نے دلی کوتاراج کیا تھااور عمادالملک نے احمد شاہ کو قید کرکے اُس کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر کر اندھا کر دیا تھا۔ وہ اس سفرِ وحشت میں احمد شاہ کے ہمراہ تھے۔ شعر کے ہمہ جہت معنوں تک پہنچنے کے لیے یہ جاننا لازم ہے کہ یہ تاریخی واقعہ پس منظر میں تھا۔ اچھا، ایک لحاظ سے متن خود مکتفی سہی کہ اس شعر کا اطلاق نئے زمانے پر بہ خوبی کیا جاسکتا ہے اور یوں نئے معنی متعین ہو جائیں گے مگر یہ جاننا بھی اہم ہے کہ نئے معنی شاعر کے اپنے زمانے کو متن سے بے دخل نہیں کرتے اور نہ ہی اس حوالے کو جس سے شاعر نے مدد لی تھی بلکہ اسی کی توسیع ہو جاتے ہیں۔ گویا میر صاحب کے یہاں شعر کی تخلیق کا زمانہ ہو یا اس کے پڑھے جانے کا زمانہ دونوں اہم ہیں۔
یہ کہا جا چکا کہ میر صاحب کا زمانہ سیاسی، معاشی اور سماجی اکھاڑ پچھاڑ کا زمانہ تھا۔ ملک میں ہر کہیں انتشار، افراتفری اور طوائف الملوکی کا سیلاب امڈا پڑتا تھا۔ انھوں نے جو زمانہ دیکھا اس کے آتے آتے مغلیہ سلطنت کو زوال کا گھن کھوکھلا کر چکا تھا۔ انسانی صورت حال مخدوش تھی۔ انھیں چاروں اور زوال دکھائی دے رہا تھا اور انہی حالات میں ان کے اندر کا تخلیق کار اپنے لیے راستہ تلاش کر رہا تھا؛ جی وہ بھی ایسے میں کہ میر صاحب کے اپنے معاشی حالات اچھے نہ تھے۔ یہیں ایک دلچسپ واقعہ بھی بیان کیے دیتا ہوں۔
کہتے ہیں جب میر صاحب دہلی سے لکھنؤ کے لیے نکلے توزاد راہ کی کمی کا سامنا تھا۔ جس گاڑی میں سوار ہونا تھا اس کے کرائے کے لیے پیسے تک پاس نہ تھے۔ ایک شخص نے انھیں شریک سفر کرلیا تو اس لائق ہوئے کہ دہلی کو خدا حافظ کہہ پائیں۔ جس شخص نے میرصاحب کی ذمہ داری اُٹھائی تھی، سفر شروع ہوا تو اس نے کچھ کہنا چاہا اور میرصاحب اسی شخص سے منھ پھیر کر بیٹھ گئے۔ بات آگے چلی نہیں۔ کچھ وقت گذرا تو ایک بار پھر اُس شخص نے کچھ کہنے کے لیے انھیں مخاطب کیا۔ میر صاحب کے مزاج بگڑ گئے، کہا: ’’صاحب قبلہ آپ نے کرایہ دیا ہے مگر باتوں سے کیا تعلق؟‘‘ اس شخص نے ادبدا کر کہا۔ ’’حضرت، اس میں کیا مضائقہ ہے۔ راہ کا شغل ہے باتوں میں ذرا جی بہلتا ہے۔‘‘ میر صاحب اور بگڑ گئے، کہا: ’’خیر! آپ کا شغل ہوگا۔ ہماری زبان بگڑتی ہے۔”
تو یہ تھے میر صاحب، بگڑے ہوئے حالات میں بھی اپنی انا کو قائم رکھا اور اپنی زبان کو بگڑنے نہ دیا۔ اچھا، وہ حلیہ جو میر صاحب کا بیان کیا جاتا ہے، اسے نگاہ میں رکھیں تو وہ اور بھی گزر چکے زمانے کے لگتے ہیں۔ وہی قدیمانہ وضع، کھڑکی دار پگڑی، پچاس گز کے گھیر کا جامہ، اک پورا تھان پستولیے کا کمر سے بندھا، ایک رومال پٹڑی دار تہہ کیا ہوا اس میں آویزاں، مشروع پاجامہ، جس کے عرض کے پائیچے، ناگ پھنی کی انی دار جوتی جس کی ڈیڑھ بالشت اونچی نوک، کمر میں ایک طرف سیف یعنی سیدھی تلوار، دوسری طرف کٹار، ہاتھ میں جریب۔ جی یہ وہی زمانہ تھا جس میں لکھنؤ والے نئے انداز اپنا چکے تھے۔ ہر کوئی نئی تراشوں کا دلدادہ۔ بانکے ٹیڑھے جوانوں نے میر صاحب کو اوّل اوّل اس حلیے میں ایک مشاعرے میں دیکھا تو خوب ہنسے تھے مگر یہی میر صاحب اپنے کلام سے محترم ہو گئے تھے اور اب بھی محترم ہیں جب کہ زمانہ قیامت کی چال چل کر کچھ اور نیا ہو گیا ہے۔
جن دنوں میر صاحب دہلی میں تھے اور نواب صمصام الدولہ کے ہاں ملازم، تو ان دنوں نادر شاہ درانی دہلی پر حملہ آور ہوا تھا۔ اس حملے میں دہلی شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ صمصام الدولہ بھی ماراگیا۔ جب مالک نہ رہا تو ملازمت کیسی۔ بے روزگار ہوکر اپنے وطن آگرہ لوٹ گئے۔ گھر میں کتنی دیر بیٹھ سکتے تھے۔ آگرہ میں کوئی ذریعہ معاش نہ بن پایا تو پھر دہلی پہنچے اور اپنے خالو سراج الدین علی خان آرزو کے یہاں مقیم ہو گئے مگر اپنے مزاج کے سبب اُن سے نہ بنی تو وہاں سے نکلے اور ایک رئیس رعایت خان کے ہاں ملازم ہو گئے۔ یہاں بھی نہ ٹکے۔ اس رئیس کی ملازمت سے نکلے تو نواب بہادر کی مصاحبت میں چلے گئے۔ نواب بہادر کو صفدر جنگ نے قتل کروا دیا تو میر صاحب پھر سے بے روز گار ہو گئے۔ اُن دنوں دہلی خانہ جنگی کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اسکندر آباد کی لڑائی کے دوران میر صاحب احمد شاہ کے ساتھ تھے۔ جن دنوں وہ راجہ ناگرمل کے بیٹے کے ہاں معقول تنخواہ پر ملازم ہو گئے تھے اُن دنوں اس شہر کے حالات اتنے بگڑے اور ایسی لوٹ مار ہوئی کہ وہاں رہنا مشکل ہو گیا تھا۔ جب میر صاحب کے گھر پر بھی لوٹ مار ہوئی تو وہ بددل ہو کر وہاں سے نکلے اور متھرا جا ٹھہرے۔ کچھ عرصہ اِدھر اُدھر گھوم پھر کر جب پھر دہلی پہنچے تواسے اجڑے ہوئے پایا۔ دہلی کا اجڑنا گویا اُن کے دل کا اُجڑنا تھا۔ شہر کی یہ حالت اُن سے دیکھی نہ جاتی تھی۔ وہ حسام الدولہ کے بھائی وجیہہ الدین کے ہاں ملازم ہو گئے تھے۔ معقول وظیفہ مقرر تھا۔ لگ بھگ گوشہ نشین ہو گئے تھے اور خوب شعر کہہ رہے تھے کہ جو سنتا اوروں کو بھی سناتا تھا۔ یوں دور دور تک اُن کی شاعری کا ڈنکا بجنے لگا تھا۔ نواب آصف الدولہ تک میر صاحب کی شہرت پہنچی تو چاہا کہ وہ اس کے دربار سے وابستہ ہو جائیں۔ میرصاحب کو لکھنؤ بلوا لیا اور ان کا وظیفہ مقرر کر دیا۔ لکھنؤ ان دنوں شعرو شاعری کا مرکز تھا۔ دہلی اجڑ چکا تھا اور وہاں کے اہل فضل و کمال لکھنؤ میں آباد ہو رہے تھے۔ میرصاحب لکھنؤ میں بہت مدت رہے اور بہت احترام پایا مگر اُن کا دِل دہلی ہی میں رہا۔ انھیں نہ جانے کیوںیہ گماں ہو چلا تھا کہ لکھنؤ والوں کے ہاں ان کے کلام کو ڈھنگ سے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہ تھی۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ اس نئے زمانے میں بھی میر صاحب کو ڈھنگ سے پڑھنے اور سمجھنے کی بالعموم صلاحیت نہیں ہے حالاں کہ وہ اس نئے عصر کی حسیت کے بھی شاعر ہیں کہ یہاں بھی ہر کہیں نئے ڈھنگ کی لوٹ مار ہے اور دل اسی طرح اُجڑ رہے ہیں۔
میر صاحب کا آخری زمانہ لکھنؤ میں گزرا تھا۔ وہ گومتی کے کنارے آباد علاقے میں رہائش پذیر تھے۔ چھ ماہ تک بستر علالت پر پڑے رہے۔ علاج معالجہ خوب ہو رہا تھا لیکن وہ جو کہا جاتا ہے کہ بیماری کا علاج ہے، موت کا نہیں، تو اُن کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔ کوئی علاج کارگر نہ ہو رہا تھا اور موت اپنے وقت پر آکر اپنا کام کر گئی تھی۔ میر صاحب اسی شہر میں، وزیر گنج سے کچھ آگے اکھاڑہ بھیم والے قبرستان میں دفن ہوئے۔ میر صاحب کو قبر میں بھی قرار نہ ملا۔ کہتے ہیں یہ قبرستان اب وہاں نہیں ہے۔ ۱۷۲۳۔ ۱۸۱۰ تک کا لگ بھگ نو دہائیوں پر مشتمل یہ زمانہ ہند مسلم تہذیب کے مسلسل زوال کا زمانہ بنتا ہے۔ قومی سطح پر انارکی اور اکھاڑ پچھاڑ کا زمانہ۔ انہی حالات میں میر صاحب نے بسر کی اور اپنے زمانے سے نکل کر ہمارے زمانے تک یوں پہنچے کہ کوئی اور اُن جیسا نہیں ہے۔
شمس الرحمٰن فاروقی کے مطابق ہماری تاریخ میں میر صاحب کے علاوہ کوئی بڑا شاعر ایسا نہیں ہے جس نے زمانے کے اتنے سرد و گرم دیکھے ہوں۔ جو جنگوں میں شریک رہا ہو۔ جس نے بار بار ترک وطن کیا ہو۔ جس نے بادشاہوں اور فقیروں کی صحبتیں اٹھائی ہوں جس نے عسرت اور تنگی کے وہ دن دیکھے ہوں کہ بہ قول خود میر صاحب کے’’کتے اور بلی کی طرح‘‘ زندگی بسر کرنی پڑی ہو۔ جس نے آرام کے دِن بھی دیکھے ہوں۔ جو صوفیوں میں صوفی، رندوں میں رند اور سپاہیوں میں سپاہی رہا ہو۔ زندگی کے یہ سب تجربات میرصاحب کے ہاں تخلیقی تجربہ ہو رہے تھے اورفاروقی صاحب کہتے ہیں کہ اُن کی شخصیت کی ہمہ گیری نے اُن میں اتنی قدرت رکھ دی تھی کہ ادھر ادھر کے الفاظ کو بھی اپنی عبارت میں اس طرح کھپا رہے تھے کہ وہ ٹھونس ٹھانس معلوم نہ ہوں۔ میر صاحب کی زبان کی بے تکلفی زندگی کے انہی تجربات کی دین ہے۔
شخصیت کی ہمہ گیری اور زندگی کے تجربے کی وسعت کے سب بہ قول ناصر کاظمی میر صاحب کی شاعری کے بعض اہم عناصر اور ہمارے عہد کے ذہنی اور اجتماعی محرکات میں کئی باتیں مشترک نظر آتی ہیں۔ ایک بار پھر ہماری بنی بنائی قدریں چکنا چور ہو گئیں۔ آج ہم نئی قدروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ ناصر کاظمی کا یہ کہنا بھی لائق توجہ ہے کہ ہمیں از سر نو ایک ذہنی اور اخلاقی تصور، زبان اور فلسفہ حیات کی ضرورت ہے۔ گو میر صاحب کے زمانے اور ہمارے زمانے میں بڑا بُعد ہے۔ دُنیا اتنی بدل گئی ہے کہ آج کے شاعر کے سامنے پہلے سے بھی کہیں وسیع منظرِحیات کھل گیا ہے مگر واقعات کی مماثلت کی وجہ سے میر صاحب کا زمانہ ہمارے زمانے سے مل گیا ہے۔
ناقدین میر اور غالب کو الگ الگ طرح کے شاعر کہتے آئے ہیں جب کہ فاروقی صاحب کا کہنا ہے کہ ’’دونوں کے اسلوب مختلف ضرور ہیں لیکن دونوں ایک ہی طرح کے شاعر ہیں۔‘‘ انھوں نے اپنی اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شاعری کے بارے میں دونوں کے مفروضات ایک طرح کے تھے اور دونوں نے روایت کو تخلیقی اور اجتہادی سطح پر ایک ہی طرح برتا تھا۔ اور دونوں الگ الگ شناخت یوں بناتے ہیں کہ میر اور غالب کے تخیل کا مزاج اور زبان مختلف ہو گئی تھی۔ غالب کا تخیل آسمانی اور باریک تھا، میر کا تخیل زمینی اور بے لگام۔ غالب نے اپنی شاعری کے لیے ادبی زبان کا اہتمام کیا میر نے روزمرہ کی زبان کو شاعری بنا دیا۔ فاروقی صاحب اس نتیجے پر بھی پہنچتے ہیں کہ زبان کے تنوع، تجربہ حیات کی کثرت اور شخصیت کی ہمہ گیری میں میر کا مرتبہ غالب سے اعلیٰ ہے جبکہ خالص تعقل، تجرید اور نازک خیالی میں غالب کا درجہ میر سے بلند ہے۔ تو یوں ہے صاحب کہ میر صاحب کو پڑھنے کے لیے تاریخ، تہذیب اور مشرقی شعری روایت کو بھی پڑھنا ہوگا۔
کہنے کو کہہ لیا جاتا ہے کہ میر صاحب نے روزمرہ کی زبان کو شاعری بنا دیا مگر یہ بات اتنی سادہ اور سامنے کی نہیں ہے۔ میں جوں جوں میر صاحب کو پڑھتا گیا یہ بات مجھ پر کھلتی گئی کہ جس زبان کو میر صاحب اپنی شاعری میں روزمرہ کی سطح پر لاکر برت رہے تھے وہ قبل ازیں یوں ہماری زبان کا حصہ ہی نہ تھی یا کم از کم ہماری شعری لغت کا حصہ نہ ہوئی تھی۔ میرصاحب اسے کہاں سے اخذ کر رہے تھے اس کا مطالعہ بھی بہت اہم ہے۔ مثلاً دیکھیے میر صاحب کو ایک ایسی اصطلاح درکار تھی جس میں سب سامان ہتھیار وغیرہ کی موجودگی کو بہ سہولت بیان کیا جانا ممکن ہو، اس مقصد کے لیے وہ فارسی زبان کی طرف گئے اور ’’حاضر یراق‘‘ کو وہاں سے اخذ کرکے اپنے کلام کا حصہ بنا لیا۔
حاضر یراق ہونا کاہے کو چاہیے تھا
مجھ بے نوا کو کیا کیا سامان کرکے مارا
(دیوان سوم)
اسی طرح ایک اور غزل سے شعر ملاحظہ ہو، یہاں فارسی اصطلاح ’’چشم بند‘ کو برتا گیا ہے۔ جامع اللغات کے مطابق چشم بند وہ منتر یا تعویز ہے جس سے لوگوں کی نظر کو باندھ لیا جاتا ہے۔ نظر باندھنے سے مراد ہے کہ سامنے جو ہوتا دیکھا جارہا ہوتا ہے فی الاصل وہ محض نظر کا دھوکا ہوتا ہے۔
گو چشم بندی شیخ کی ہو آخرت کے واسطے
لیکن نظر اعمیٰ نمط پردے میں دنیا پر بھی ہے
(دیوان سوم )
آپ نے دیکھا کہ یہاں فارسی اصطلاح کو عین مین لے لیا گیا ہے مگرآپ کو ایسے مقامات بہ کثرت ملیں گے کہ فارسی لفظیات کو اُردو زبان کا مزاج عطا کرکے برتا گیا ہے۔ مثلا:
“جنوں کردن‘‘ سے’’ جنوں کرنا”
میر اب بہار آئی صحرا میں چل جنوں کر
کوئی بھی فصل گل میں ناداں گھر رہے ہے
(دیوان اوّل )
“بگِرد سر رفتن‘‘ سے ’’سر کے گرد پھرنا یعنی خود کو نچھاور کرتے رہنا۔ “
لگا میں گردِ سر پھرنے تو بولا
تمھارا میر صاحب سر پھرا ہے
(دیوان دوم )
یہ مثالیں فارسی زبان کی ہیں تاہم وہ اس باب میں عربی زبان سے بھی بھرپور استفادہ کر رہے تھے۔ میر صاحب جہاں دوسری زبانوں کے الفاظ اپنے کلام میں برت رہے تھے وہیں وہ اپنے آلے دوالے بولے جانے والے الفاظ اور محاورے بھی لے رہے تھے۔ یوں دیکھیں تو میر صاحب ایک ہی وقت میں زبان اور شاعری، دونوں کے تخلیقی عمل سے گزر رہے تھے۔ ان کے ہاں زبان سازی کا یہ عمل جس برتر تخلیقی سطح پر ہو رہا تھا اس نے اُردو زبان کو بھی مالا مال کر دیا تھا۔
جب میں میر صاحب کی غزلیات کا انتخاب مرتب کر رہا تھا تو اس راہ میں کئی مشکلات آئیں تاہم غزلیاتِ میر کے مسلسل مطالعے نے یہ غلط فہمی کلی طور پر دور کر دِی کہ وہ روزمرہ کے شاعر ہیں۔ یہ بجا کہ وہ بہت سے مقامات پرعام آدمی کا محاورہ برت جاتے ہیں جس کی سند خود میر صاحب کے بہ قول، جامع مسجد کی سیڑھیوں پر ملتی ہے لیکن یہ بھی تو ہوتا ہے کہ وہ فارسی اور عربی کے نادر اور ناموس الفاظ بہ کثرت اُردوشاعری کا حصہ بنا رہے ہوتے ہیں، یوں جیسے یہ اسی زبان کا حصہ تھے۔ یہ ایسا تخلیقی اعجاز تھا جو صرف میر صاحب کا بخت ہوا تھا اور ان سب عوامل کو سمجھے بغیر میر صاحب کو ڈھنگ سے پڑھنا اور سمجھنا تشنہ رہے گا۔
(علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقدہ تین سو سالہ جشن میر کے ایک اجلاس مورخہ 22جولائی 2023ء میں بطور صدارتی خطبہ پڑھی گئی تحریر)
یہ بھی پڑھیں: جسے میر کہتے ہیں صاحبو ! – ڈاکٹراعجازالحق اعجاز
