تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

نو مئی مار گئی —– افتخار چودھری

by دانش ڈیسک 15/07/2023
written by دانش ڈیسک 15/07/2023
287

ویسے ہم نہ کب سوچا تھا کہ اس دوران نو مئی آجائے گا جسکی آڑ میں ہمیں یہ دن بھی دیکھنا پڑیں گے کہ دس ہزار جیل میں اور اتنے باہر جبری چھٹیاں منانے عزیزوں دوستوں کے ہاں مہمان بنیں گئے۔
لوگ طعنے دیتے ہیں کہ آپ لوگ نعرے تو لگاتے تھے کہ ،،ہم لے کے رہیں گے آزادی، تیرا باپ بھی دے گا آزادی،، او بابا ہم تو یہ نعرے لگاتے تھے کہ بابا شریف حاکم علی زرداری مفتی محمود سے ہم آزادی لیں گیں یہ تو نہیں پتہ تھا کہ تم جنرل عاصم منیر ہمارے مقابل کھڑے کر دو گئے۔
وہ کیا کہتے ہیں ماں سے لڑائی ہو گئی ہتھ کس جگہ پائیے
ماں سے لڑائی ہو گئی تو ہاتھ کہاں ڈالیں اس فوج کے ساتھ کس نے کہا تھا کہ ہم ان سے آزادی مانگتے تھے ویسے میاں نواز شریف کو میں سمجھاتا رہا لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد ہم نے بھی پنگا لے لیاوہ ریٹائر جنرل تھے جو سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر تھے اور مجھے نواز شریف کا ساتھی قرار دے کر جدہ جیل میں بند کرا دیا میں وہاں اکہتر دن بند رہا واپس پر ماں کا جنازہ دیکھا اس طرح عظمت نیازی کے والد صاحب اس دنیا سے اپنے بیٹے کے غم میں چلے گئے۔ استحکام پاکستان میں لوگوں نے اپنے آپ کو مستحکم کیا ہم تو، ، لیا نہ دیا گلاس توڑے بارہ انے، ، ہم تو خوامخواہ ہی رگڑے میں آگئے۔
لیکن کیا کریں دل کے ہاتھوں مجبور ہیں کسی کو مصیبت کے دنوں میں چھوڑ نہیں سکتے اور قاسم کے آبا سے تعلق بھی بہت پرانا تھا
اسی لیے لوگوں کو سمجھاتا رہا کہ فوج میں کوئی ریٹائر نہیں ہوتا باز آجائو یہ نیوٹرل کا نعرہ بھی نہ لگائو اور کسی کو برا بھی مت کہو۔مشاہد حسین کہا کرتے تھے میاں صاحب کڈ کڑاکے دیو اور بعد میں یہی مشاہد ق لیگ میں چلے گئے اور مزے کئے اور میاں نواز شریف سرور پیلیس پہنچ گئے
اس طرح عمران خان کے وزیر مشیر اسے دھکہ دے کر استحکام پاکستان بنا بیٹھے
اللہ کرے گا کہ چیزیں جلدسامنے آجائیں گی لیکن ضرورت اس بات کی، ، پہلے جو آگ لگی ہے بجھادی جھائے، ،
کتنا افسوس کی بات ہے کہ جو لوگ فوج کے خلاف تھے وہ فوج کے ساتھ مل گئے اور پاکستان تحریک انصاف کو آگے رکھ لیا
یہ سال 2001 کی بات ہے میاں نواز شریف نے کہا کہ اس فوج کو۔۔۔۔مارنے چاہئے میں نے کہا میاں صاحب ایک فوج کے حوالدار کو سنبھال نہیں سکتے اور آپ پوری فوج کو گالیاں دے رہے ہیں پاس بیٹھے میاں شہباز شریف نے اس بات کو سراہا
اور آخر آپ نے دیکھ لیا کہ جیت اسی سوچ کی ہوئی جو میں کہتا تھا
دنیا میں جمہوریتوں کے کئی رنگ ہیں ترکی کی جمہوریت کو جنرل کنعان کے دور سے دیکھیں
اور آج طیب اردوگان کو سامنے رکھیں
ایک دم ہی یہ سفر طے نہیں ہوا ویسے میرا اپنا خیال ہے کہ کنٹرولڈ جمہوریت ہونا چاہئے
وگرنہ یہ سیاست دان اس ملک کو بیچ کر پتیسہ کھا جاتے
نواز شریف اور زرداری کا دور دیکھیں
اور آج کل وہ لوگ بھی سامنے آ گئے ہیں جنہوں نے عمران خان کے دور میں پاکستان کے وسائل کو مادر وطن کا دودھ سمجھ کر پیا۔
وہی لوگ جو جیلوں کی چیز تھے انہوں نے اب نعرہ لگایا ہے کہ پاکستان کو استحکام بخشا جائے گا۔ہم نےایک وقت کہا تھا کہ کیانی کی جیب پھٹی ہوئی ہے اور جناب بزدار وسیم پلس نہیں ہیں افسوس کہ لوگ بولنے نہیں دیتے اور پارٹی کے اندر رہ کر بھی گونگھے بنا دیتے ہیں
اس وقت اندر کی بات کرنے کو نہیں چاہتا کہ پارٹی مصیبت میں ہے اور مصیبت میں گلے شکوے نہیں کرتے
لیکن اتنی بات ضرور کروں گا کہ آپ کو کس نے کہا تھا کہ ایسٹیلشمنٹ کے ساتھ پنگا لیں
کون آپ کو شہ دیتا رہا
آپ سمجھتے رہے کہ مولوی فضل الرحمن کا باپ پاکستان کو تسلیم نہیں کرتا تھا اور کہتا تھا کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں ہیں حاکم علی زرداری قائد اعظم کا مخالف تھا خود میاں شریف گورنر جیلانی کو رشوتیں دے کر بیٹے کو آگے بڑھاتا رہا
ان لوگوں نے گجرانوالہ میں جنرل باجوہ جنرل فیض حمید کے خلاف ہذیان بکا اور مولوی فضل الرحمان نے کہا کہ ہم جی ایچ کیو آئیں گے زرداری نے کہا کہ تم تین سال رہو گے اور ہم ادھر ہی ہیں
لیکن ان کی یہ، ، ستم ظریفیان، ، معاف کر دی گئیں اور ہمیں دھر لیا گیا ایک بات کا بھی دکھ ہے نو مئی کے واقعات جو ہوئے وہ بغیر تحقیق کے پی ٹی آئی پر ڈال دیے گئے
پاکستان تحریک انصاف اچھا کرے کہ اگر جلسوں کی اجازت ملے تو پہلا جلسہ جی ایچ کیو کے سامنے کریں اور فوج کے شہداء کے ساتھ اظہار یک جہتی کریں اس طرح جناح ہائوس کے سامنےبھی جلسہ کیا جائے
یہ فوج ہماری ہے
یہ کسی کانگریسی ملا کی نہیں اور نہ ہی حاکم علی زرداری اور میاں شریف کی
یہ ہماری اور عمران خان کی فوج ہے۔ اچھا خاصہ جارہے تھے کہ نو مئی آگئی۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
میلان کنڈیرا —– عنبریں حسیب عنبر
next post
لڑکیوں کی تعلیمی برتری اور Boy Crisis —– ڈاکٹر شعیب احمد

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.