ویسے ہم نہ کب سوچا تھا کہ اس دوران نو مئی آجائے گا جسکی آڑ میں ہمیں یہ دن بھی دیکھنا پڑیں گے کہ دس ہزار جیل میں اور اتنے باہر جبری چھٹیاں منانے عزیزوں دوستوں کے ہاں مہمان بنیں گئے۔
لوگ طعنے دیتے ہیں کہ آپ لوگ نعرے تو لگاتے تھے کہ ،،ہم لے کے رہیں گے آزادی، تیرا باپ بھی دے گا آزادی،، او بابا ہم تو یہ نعرے لگاتے تھے کہ بابا شریف حاکم علی زرداری مفتی محمود سے ہم آزادی لیں گیں یہ تو نہیں پتہ تھا کہ تم جنرل عاصم منیر ہمارے مقابل کھڑے کر دو گئے۔
وہ کیا کہتے ہیں ماں سے لڑائی ہو گئی ہتھ کس جگہ پائیے
ماں سے لڑائی ہو گئی تو ہاتھ کہاں ڈالیں اس فوج کے ساتھ کس نے کہا تھا کہ ہم ان سے آزادی مانگتے تھے ویسے میاں نواز شریف کو میں سمجھاتا رہا لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد ہم نے بھی پنگا لے لیاوہ ریٹائر جنرل تھے جو سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر تھے اور مجھے نواز شریف کا ساتھی قرار دے کر جدہ جیل میں بند کرا دیا میں وہاں اکہتر دن بند رہا واپس پر ماں کا جنازہ دیکھا اس طرح عظمت نیازی کے والد صاحب اس دنیا سے اپنے بیٹے کے غم میں چلے گئے۔ استحکام پاکستان میں لوگوں نے اپنے آپ کو مستحکم کیا ہم تو، ، لیا نہ دیا گلاس توڑے بارہ انے، ، ہم تو خوامخواہ ہی رگڑے میں آگئے۔
لیکن کیا کریں دل کے ہاتھوں مجبور ہیں کسی کو مصیبت کے دنوں میں چھوڑ نہیں سکتے اور قاسم کے آبا سے تعلق بھی بہت پرانا تھا
اسی لیے لوگوں کو سمجھاتا رہا کہ فوج میں کوئی ریٹائر نہیں ہوتا باز آجائو یہ نیوٹرل کا نعرہ بھی نہ لگائو اور کسی کو برا بھی مت کہو۔مشاہد حسین کہا کرتے تھے میاں صاحب کڈ کڑاکے دیو اور بعد میں یہی مشاہد ق لیگ میں چلے گئے اور مزے کئے اور میاں نواز شریف سرور پیلیس پہنچ گئے
اس طرح عمران خان کے وزیر مشیر اسے دھکہ دے کر استحکام پاکستان بنا بیٹھے
اللہ کرے گا کہ چیزیں جلدسامنے آجائیں گی لیکن ضرورت اس بات کی، ، پہلے جو آگ لگی ہے بجھادی جھائے، ،
کتنا افسوس کی بات ہے کہ جو لوگ فوج کے خلاف تھے وہ فوج کے ساتھ مل گئے اور پاکستان تحریک انصاف کو آگے رکھ لیا
یہ سال 2001 کی بات ہے میاں نواز شریف نے کہا کہ اس فوج کو۔۔۔۔مارنے چاہئے میں نے کہا میاں صاحب ایک فوج کے حوالدار کو سنبھال نہیں سکتے اور آپ پوری فوج کو گالیاں دے رہے ہیں پاس بیٹھے میاں شہباز شریف نے اس بات کو سراہا
اور آخر آپ نے دیکھ لیا کہ جیت اسی سوچ کی ہوئی جو میں کہتا تھا
دنیا میں جمہوریتوں کے کئی رنگ ہیں ترکی کی جمہوریت کو جنرل کنعان کے دور سے دیکھیں
اور آج طیب اردوگان کو سامنے رکھیں
ایک دم ہی یہ سفر طے نہیں ہوا ویسے میرا اپنا خیال ہے کہ کنٹرولڈ جمہوریت ہونا چاہئے
وگرنہ یہ سیاست دان اس ملک کو بیچ کر پتیسہ کھا جاتے
نواز شریف اور زرداری کا دور دیکھیں
اور آج کل وہ لوگ بھی سامنے آ گئے ہیں جنہوں نے عمران خان کے دور میں پاکستان کے وسائل کو مادر وطن کا دودھ سمجھ کر پیا۔
وہی لوگ جو جیلوں کی چیز تھے انہوں نے اب نعرہ لگایا ہے کہ پاکستان کو استحکام بخشا جائے گا۔ہم نےایک وقت کہا تھا کہ کیانی کی جیب پھٹی ہوئی ہے اور جناب بزدار وسیم پلس نہیں ہیں افسوس کہ لوگ بولنے نہیں دیتے اور پارٹی کے اندر رہ کر بھی گونگھے بنا دیتے ہیں
اس وقت اندر کی بات کرنے کو نہیں چاہتا کہ پارٹی مصیبت میں ہے اور مصیبت میں گلے شکوے نہیں کرتے
لیکن اتنی بات ضرور کروں گا کہ آپ کو کس نے کہا تھا کہ ایسٹیلشمنٹ کے ساتھ پنگا لیں
کون آپ کو شہ دیتا رہا
آپ سمجھتے رہے کہ مولوی فضل الرحمن کا باپ پاکستان کو تسلیم نہیں کرتا تھا اور کہتا تھا کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں ہیں حاکم علی زرداری قائد اعظم کا مخالف تھا خود میاں شریف گورنر جیلانی کو رشوتیں دے کر بیٹے کو آگے بڑھاتا رہا
ان لوگوں نے گجرانوالہ میں جنرل باجوہ جنرل فیض حمید کے خلاف ہذیان بکا اور مولوی فضل الرحمان نے کہا کہ ہم جی ایچ کیو آئیں گے زرداری نے کہا کہ تم تین سال رہو گے اور ہم ادھر ہی ہیں
لیکن ان کی یہ، ، ستم ظریفیان، ، معاف کر دی گئیں اور ہمیں دھر لیا گیا ایک بات کا بھی دکھ ہے نو مئی کے واقعات جو ہوئے وہ بغیر تحقیق کے پی ٹی آئی پر ڈال دیے گئے
پاکستان تحریک انصاف اچھا کرے کہ اگر جلسوں کی اجازت ملے تو پہلا جلسہ جی ایچ کیو کے سامنے کریں اور فوج کے شہداء کے ساتھ اظہار یک جہتی کریں اس طرح جناح ہائوس کے سامنےبھی جلسہ کیا جائے
یہ فوج ہماری ہے
یہ کسی کانگریسی ملا کی نہیں اور نہ ہی حاکم علی زرداری اور میاں شریف کی
یہ ہماری اور عمران خان کی فوج ہے۔ اچھا خاصہ جارہے تھے کہ نو مئی آگئی۔
نو مئی مار گئی —– افتخار چودھری
287
Facebook Comments Box
previous post
