آپ اگر والدین یا ٹیچر سے پوچھیں انکے بچے تعلیمی میدان میں کیسی کارکردگی دکھا رہے ہیں، تمام نہیں تو بیشتر کا جواب یہی ہوتا ہے
“لڑکیاں اچھا پڑھ لیتی ہیں لیکن لڑکوں نے نہ پڑھنے کی قسم کھا رکھی ہے اور انکے رویہ کو کنٹرول کرنا بھی ایک الگ عذاب ہے۔”
چونکہ اکیسویں صدی تعلیم و شعور کی صدی تصور کی جاتی ہے جہاں تعلیم ہماری زندگی کا حصہ نہیں بلکہ زندگی کی سی اہمیت اختیار کرچکی ہے (مستقل فیل ہونے والے بچے یا پسند کی یونیورسٹی میں داخلہ نہ ملنے پر اکثر طالبعلم ڈپریشن میں مبتلا یا خودکشی جیسے عوامل کو انجام دیتے پائے جاتے ہیں)۔ ہماری خوشیاں، کامیابی اور پرسنیلٹی کو بھی ہماری اسناد سے ماپا جاتا ہے۔ اب ایسے میں جب ہمارے بچے اس میدان میں پیچھے رہ رہے ہوں تو والدین کا فکر مند ہونا ضروری ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں اس وقت boy crisis نامی ایک مسئلے نے لڑکوں کے تعلیمی میدان میں بری پرفارمنس اور رویے کو لے کر کئی سوال اٹھائے ہیں۔ ماہرِ تعلیم، gender studies کی تحقیق اور اعداد و شمار سے جو نتائج سامنے آئے ہیں ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لڑکیوں نے لٹریچر سے لے کر سائنس اور ریاضی (جو خاص مردوں سے وابستہ مضامین مانے جاتے ہیں) میں لڑکوں سے بہت بہتر نتائج دیے ہیں۔ اس صدی میں یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں حاصل کرنے والی خواتین کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہے (پریکٹیکل فیلڈ میں یہ تعداد کم کیوں ہے یہ ایک علیحدہ بحث ہے)۔ جہاں gender pay gap کم ہوتا جارہا ہے وہاں gender education gap وسیع ہوتا نظر آرہا ہے۔
پاکستان کی بات کریں تو Oslo Summit On Education and Development (2015) نے ہمارے ملک کو تعلیمی کارکردگی کے حوالے سے بدترین ملک قرار دیا ہے (یہاں بلاشبہ نہ صرف اسکول جانے والی لڑکیوں کی تعداد کم ہے بلکہ لڑکے بھی اس بنیادی عیاشی سے محروم ہیں)۔ ہم بات کریں گے ان والدین کی جو اپنے بچوں کے لیے بہترین یا اپنی استطاعت کے مطابق اسکولوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
پنجاب ایجوکیشن سیکٹر پروگرام (PSEP) کی ایک ریسرچ رپورٹ سے بھی اس بات کی تصدیق ہوئی ہے، اسکولوں میں زیرِ تعلیم لڑکوں کی کارکردگی تمام مضامین (ماسوائے ریاضی، جس میں زیادہ نہیں بس انیس بیس کا فرق آیا ہے) میں مخالف جنس کی نسبت بہت بہتر ہے۔ محض تعلیم ہی نہیں بلکہ رویے اور social skills میں بھی لڑکوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یوں اچانک اس صدی میں لڑکوں کے رویے اور کارکردگی پر اعتراضات کی بھر مار کی کیا وجوہات ہیں؟ کیا ان مسائل کو زیرِ بحث لانا وقت کی ضرورت ہے، تاکہ آنے والے وقتوں میں اس gender gap کے ہولناک نتائج سے بچا جا سکے؟
وجوہات یقیناً ان گنت ہیں۔ لیکن چونکہ boy crisis ایک گلوبل ایشو کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے تبھی اس پر مختلف ماہرین سے مختلف قسم کے نظریات سننے میں آتے ہیں۔
لرننگ اور ٹیچنگ سے وابستہ افراد کی ریسرچ کہتی ہے اکیسویں صدی کی کلاس رومز کچھ اس طرح سے ڈیزائن کی گئی ہیں کہ اس میں اچھی کارکردگی دکھانے کے لیے بچے کا self-regulatory ہونا ضروری ہے۔ (یعنی گھنٹوں ایک ہی جگہ بیٹھ کر لیکچر سننا، اسے باقاعدگی سے نوٹ کرنا، discipline اور instructions کو فالو کرنا، boring اور frustrated assignments کو وقت پر مکمل کرنا، منظم رہنا)، ایکسپرٹس کے مطابق یہ کلاس رومز لڑکیوں کے حق میں بہتر اور لڑکوں کے لیے بوریت کا سامان ہیں۔
تربیتی عناصر پر اگر غور کیا جائے تو معاشرے میں اولاد نرینہ کی socializing کے طور طریقے کچھ اس طرح سے تشکیل دیے گئے ہیں ان کے لیے اسکول ایک عدم دلچسپی کی جگہ ثابت ہوتی ہے، خالص masculinity model کے زیرِ اثر پنپنے والے آزاد ذہنوں کے لیے اکیسویں صدی کی تعلیم گاہ کسی جیل سے کم نہیں۔ مردوں کے حقوق سے وابستہ کچھ تحریکوں نے اس بحران کی وجہ فیمنزم (feminism) کو قرار دیا ہے۔ انکا ماننا ہے موجودہ دور کے اسکول اور نصاب خالص فیمنسٹ (feminist) اصولوں پر نافذ ہیں جس کی وجہ سے طالب علموں کو کلاس رومز میں مشکلات کا سامنا ہے، فیمنسٹ مائنڈ کی ٹیچرز کا رویہ لڑکوں کی طرف جانبدارانہ ہے۔ ان تحریکوں نے کلاس رومز کو boy-friendly بنانے کی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں شعبہ تعلیم سے وابستہ مرد اساتذہ کی تعداد بہت کم ہے، خاص کر kindergarten اور ابتدائی تعلیم میں مردوں کی شراکت تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ لڑکوں میں پڑھنے لکھنے کے فقدان اور عدم دلچسپی کو اوائل سالوں میں کلاس رومز میں مرد اساتذہ کا بحیثیت ایک رول ماڈل موجود نہ ہونا بھی مانا جارہا ہے۔ بچوں میں پائی جانے والی معذوری (جن میں antisocial behavior, attention disorders, autism spectrum disorders, dyslexia, stuttering, delayed speech) کی شرح لڑکوں میں زیادہ ہے، جس کی وجہ سے انہیں خاص توجہ اور روایتی انداز سے ہٹ کر پڑھانے کی ضرورت ہے۔
اکیسویں صدی میں معیشیت اور سائنس نے muscles سے microchip کا جو سفر طے کیا ہے اس کے اثرات مردوں پر بہت منفی حد تک پڑے ہیں۔ سیلف ڈرائیونگ گاڑیاں اور ہیوی مشینری کے ہوتے ہوئے اب محنت اور مشقت کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی ہے۔ اس منتقلی کی بدولت اعلیٰ تعلیم کے بغیر اچھی جاب ملنے کا تصور مانند پڑ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے اس مسئلے پر عالمی سطح پر غور کیا جا رہا ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں طلاق کی شرح بہت زیادہ ہے، بچے (خاص کر لڑکے) ماں باپ کی علیحدگی کی وجہ سے father-figure یعنی والد کے کردار کو بھر پور طریقے سے سمجھنے اور محسوس کرنے سے قاصر رہتے ہیں جس کی بدولت ان میں تشدد، خود اعتمادی کی کمی اور برے گریڈز دیکھنے میں آئے ہیں۔ اس بحران کی وجہ male-parent کا لڑکوں کی زندگی میں بھرپور کردار ادا نہ کرنا بھی خیال کیا گیا ہے۔ پاکستان میں طلاق کی شرح بہت کم ہے لیکن مرد حضرات کا بچوں کی تربیت میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے کیونکہ انہیں اپنی سوشل سرگرمیوں سے فرصت کم ملتی ہے اور ہماری سوسائٹی میں اسکا کوئی تصور بھی موجود نہیں (اب تو سوشل میڈیا بھی آگیا ہے حالات اور بھی گھمبیر ہیں)۔
مسائل ہوں اور اس میں میڈیا کا منفی کردار شامل نہ ہو، یہ ہرگز ممکن نہیں۔ ٹین ایجرز جب فلموں یا ڈراموں میں دیکھتے ہیں کلاس کا سب سے cool dude ایک بہت ہی لاپرواہ لڑکا ہے، ٹیچرز سے بدتمیزی کرتا ہے، بیک بینچر ہے، پڑھائی سے اسکا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں، اسکول بنک کرنا اسکا اسٹائل ہے، لڑنے جھگڑنے میں نمبر ون، لڑکیوں پر sexist کومنٹ پاس کرتا ہے لیکن پھر بھی لڑکیاں اسی کو پسند کرتی ہیں۔ اسکی نسبت جو لڑکا پڑھتا ہے اور اچھا رویہ رکھتا ہے کلاس میں وہ بزدل(sissy) ہے اور اس سے لڑکیاں بھی متاثر نہیں ہوتیں۔ یہ فارمولا فلموں میں شاید کامیاب ہو لیکن حقیقی زندگی میں شدید ناکامی کا باعث ہے۔
والدین، پالیسی میکرز اور ٹیچرز، ان تینوں کے کردار کے بغیر اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ممکن نہیں، ہمیں اپنی بیٹیوں کی کامیابی پر بہت خوشی ہے لیکن ہمیں اپنے بیٹوں کے مسائل پر بھی نظر دوڑانی ہوگی۔ اس پر بات کرنا بہت ضروری ہے، ایک جنس پر ٹوٹنے والے مسائل کا اثر یقیناً مخالف جنس پر بھی پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مردوں کے خلاف جنگ : تعلیمی میدان میں صنفی تفریق کی خلیج، لڑکوں کے مستقبل کیلئےخطرہ ہے۔ لڑکوں کو تعلیمی، جذباتی، نفسیاتی اور کئریر کے معاملات میں مدد اور رہنمائی فراہم کئے جانے کے بجائے سارا زور انکی مردانگی کم کرنے پر ہے۔

2 comments
Nice
ڈاکٹر شعیب احمد صاحب نے عمدہ نکات ا کٹھے کیے اور سمارٹ انداز میں پیش کیے ہیں۔
یہ موضوع بہت اہم ہے، اور خوب دلچسپ۔
لڑکیوں کے ہاں اچھے رزلٹس، اچھی تعلیم، عمدہ ڈسپلن معرکہِ حیات کے لیے مطلوب اصل کوالیفکیشن کی سند نہیں بن سکتے۔
مرد بہرحال مرد ہے۔اس کے ہاں پیدائشی اعتبار سے کچھ ایسی in-built تعلیم پائی جاتی ہے کہ لڑکیوں کے حق میں دانش گاہوں کی ڈگریاں اس کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔۔۔مثلاً ، مرد کا کسی معاملے میں خاموش ہو جانا، خاموش رہنا ایک کوالیفکیشن ہے ۔ بہت سے معاملات یا اُن کی جزئیات سے صرفِ نظر کرنا اُس کی کوالیفکیشن ہے۔ایک مخصوص وسعتِ نگاہ سے کسی معاملے میں فیصلہ دینااُس کی کوالیفکیشن ہے۔۔۔اور ایسے ہی دیگر متعدّد پہلو ہیں۔
برسوں شعبہِ تدریس سے وابستگی اور اس میں وصول ہوئے ایکسپوژر نے مجھے بھی اسی بات کا شعور دیا ہے کہ 30 بچوں پر مشتمل ایک کلاس میں بمشکل چھ سات بچے کتابی یا bookish مزاج کے ہوتے ہیں۔وہ کتابی مواد پر اچھا فوکس دکھا سکتے ہیں۔ عبارات زبانی یاد کریں یا پڑھ کر وہ مواد reproduceکریں، اور اس عمل کو اس غرض و غایت سے انجوائے کریں کہ کچھ روز بعد ٹیسٹ ہو گا تو اس میں ہمیں اچھے نمبرز ملیں گے،وہ نمبرز ہماری عزّت میں اضافہ فرمائیں گے ۔۔۔ اور یوں کامیابی در کامیابی کی ایڈکشن یا چاٹ سی لگی رہتی ہےاور بچے کا اکیڈیمک کیریئر اچھا گذر جاتا ہے۔
کوالیفکیشن محض یہ نہیں کہ کتابی نوعیت کے امتحان میں اچھے نمبرز آ گئے، یا یونیورسٹی ڈگری حاصل کر لی۔اس کا اسکوپ بہت وسیع ہے۔جیسا کہ موٹیویشنل سپیکر بخاری صاحب کا ایک کلِپ وائرل ہے کہ “جو بچہ گھر کے سارے کام کرتا ہے، پھپھو کو لاتا ہے، خالہ کو اُس کےگھر چھوڑنے جا تا ہے، بازار سے دہی لا کر دے رہا،پانی بھر کر لا رہا ، میدان میں اچھی کرکٹ کھیل رہا، ڈھیروں اس کے دوست ہیں یعنی سوشل اسکلز ہیں ۔۔۔ یہ سب کوالیفکیشن ہے۔”
یہ سوشل اسکلز سخت پڑھاکو بچے میں عنقا ہوں گی۔یہی وجہ ہے کہ اکثر اوسط درجہ گریڈز والے بچے تعلیمی درسگاہ سے نجات پا کر اپنا بزنس کھڑا کر لیتے ہیں جبکہ پڑھاکو بچے اپنا CV پالش کرتے رہتے ہیں۔کسی بھی بڑے شہر کے کاروباری مراکز کا سروے کر لیں۔ آپ دیکھیں گے ، شہر کراچی، یا شہر لاہور میں بیسیوں بلکہ سینکڑوں کامیاب کروڑ پتی تاجر ماضی کے اچھے اسٹوڈینٹس نہ تھے۔
اب رہ گئی بات بدلتی دنیا کے تقاضوں کی تو اس میں بھی مطلوب نئی اسکلز میں کسی طور ہنرمندبنانے پر زور رہے نہ کہ امتحانی نتائج پر۔
اور بالکل درست کہا ماہرین نے کہ “اکیسویں صدی کی تعلیم گاہ کسی جیل سے کم نہیں۔”
اسکول /کالج والے جیل خانے سے ہٹ کر لڑکوں کے لیےغیرروایتی انداز کےتعلیم و ہنر کا بندوبست کیا جائے۔یہ کلاس رومز لڑکوں کے لیے بوریت کا سامان ہیں۔