تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

اسلامیہ یونیورسٹی اور کالے کرتوت —– فارینہ الماس

by فارینہ الماس 24/07/2023
written by فارینہ الماس 24/07/2023
810

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جو 1925 میں جامعہ عباسیہ کی شکل میں ظہور پزیر ہوئی، جو کہ مصر کی یونیورسٹی جامعہ الازہر کی طرز پر تشکیل دی گئی تھی۔  1963ء میں صدر ایوب خان نے اسے جامعہ اسلامیہ کے نام سے موسوم کیا۔ 1975 میں اسے باقاعدہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا نام دیا گیا۔  اس کے حالیہ وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب امریکی یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل ہیں۔  وہ تمغہ امتیاز کے بھی حامل ہیں۔ انہیں بظاہر ایک نامور انجینئر، منظم، ماہر تعلیم اور صنعتی ماہر سمجھا جاتا ہے۔  کہا جاتا ہے کہ ان کی موجودگی سے ہی یونیورسٹی میں علم کے ساتھ ساتھ تحقیق کی راہ بھی ہموار کی گئی۔ وہ یہاں وائس چانسلر مقرر ہونے سے پہلے خواجہ غلام فرید یونیورسٹی رحیم یار خان میں بھی بطور وائس چانسلر اپنی خدمات انجام دے چکے تھے۔ انہوں نے اسلامیہ یونیورسٹی میں دینی اور عصری علوم کو یکجا کیا۔

یونیورسٹی کی باگ ڈدور سنبھالتے ہی اطہر محبوب صاحب نے یونیورسٹی کے ویژن کو بدلنا شروع کردیا۔ یونیورسٹی تھیٹر کے لئے طلبہ و طالبات کے گروپ بنانا، ان گروپس کا نامور گلوکاروں کے مشہور گیتوں پر پرفارم کرنا اور لوگوں کو محظوظ کرنا۔ پھر یونیورسٹی کو بہترین تعلیمی و تحقیقی ادارہ بنانے کا عزم کرنا معاشرے کی اصلاح اور مسائل کے حل کی تراکیب نکالنے کے لئے علمی شخصیات کے مباحثوں کا انعقاد۔ اطہر صاحب کی انہی کاوشوں سے یونیورسٹی قومی و عالمی درجہ بندی میں نمایاں مقام پانے لگی۔ ایشیا کی پہلی 500 اور دنیا کی پہلی 1000 یونیورسٹیوں میں اس یونیورسٹی کا نام شامل ہو گیا۔

بھیانک حقائق:

اب اس روشن پہلو کے دروں پردہ اٹھنے والی ایک گونج بھی سنئیے جسے سنتے ہی آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ مئی 2022 میں ایک خبر اخبار کی سرخیوں میں آتی ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور رحیم یار خان کیمپس میں خواتین اساتذہ اور طالبات سے جنسی ہراسانی کے واقعات میں وہاں کے ڈائریکٹر عمیر اشرف اور فہد جاوید بیگ ملوث پائے گئے ہیں۔ اور یونیورسٹی چانسلر اطہر محبوب اور دیگر انتظامی افسران انہیں بچانے کی کوششوں میں پائے گئے۔ وہ باقاعدہ شکایت کنندگان کو جن میں تدریسی و غیرتدریسی اسٹاف ممبران شامل تھے، فارغ کرنے کی دھمکیاں دینے لگے۔

بہاولپور پریس کلب کے صدر نے گورنر اور وزیر اعلی سے اس واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ صاحب خواجہ فرید یونیورسٹی میں بھی وی سی شپ کے زمانے میں مبینہ طور پر اوباش، جنسیت زدہ، نفسیاتی مریض افراد کو اہم انتظامی عہدے دے کر ماحول خراب کرتے رہے ہیں۔

الزامات:

اسی سال دسمبر 2022 میں ملک کے ایک اور مئوقر روزنامے میں یہ خبر بھی لگائی گئی کہ بہاولپور یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب پر میگا کرپشن سکینڈل کا الزام ثابت ہوگیا۔ رپورٹ میں کلچرل ڈے کے لئے جاری رقم میں بے ضابطگیاں پائی گئی تھیں۔  یہ بھی ثابت کیا گیا تھا کہ ڈاکٹر صاحب نے بغیر اشتہار کے لوگوں کو نوکریاں دیں۔  اورتجربہ کار اساتذہ کو نظر انداز کرتے ہوئے ناتجربہ کار اساتذہ کی بھرتی کی گئی۔

وی سی صاحب پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ انہوں نے مہنگی ترین گاڑی سرکاری خرچے سے خریدی۔ اس کرپشن کا الزام لگاتے ہوئے اطہر صاحب کو عہدے سے ہٹانے کی سمری وزیر اعلی کو ارسال کی گئی۔  وی سی صاحب پر ان الزامات کے باوجود کرپشن ثابت ہوئی کہ نہیں، یا ان ثبوتوں کو روک دیا گیا واللہ اعلم۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ تاحال وائس چانسلر ہی ہیں۔ اب یہ ان کے وجود کی نحوست ہے یا ان کی بے خبری و لاعلمی، یا کہ ان کی سرپرستی میں پلنے والے مصاحبین کا کرم کہ حال ہی میں ایک ایسا وبال اٹھا جو جامعہ کی رہی سہی ساکھ کو بھی کھا گیا۔

حالیہ اسکینڈل:

گزشتہ کچھ دنوں سے اسی جامعہ سے متعلق ایک جنسی سکینڈل کی گونج سنائی دے رہی ہے جو دل دہلا دینے والی حقیقتوں پر مبنی ہے۔  اس سکینڈل میں بظاہر نمایاں کردار یونیورسٹی کے سکیورٹی آفیسر ریٹائرڈ میجر سید اعجاز شاہ کا ہے۔  جس کی گاڑی کوپولیس نے ناکے پر روکنا چاہا اور اس نے جلد بازی سے گاڑی کو دوسرے راستے پر ڈالنے کی کوشش میں پولیس کے شک کو یقین میں بدل دیا۔  جب اس کی گاڑی کو گھیر کر چیک کیا گیا تو گاڑی میں سے آئس کا نشہ، جنسی ممنوعہ ادویات کے ساتھ ساتھ اس کے موبائل میں 5000 ایسی ویڈیو ز بھی پائی گئی جو کہ جامعہ کی طالبات کی تھیں۔ یہ ویڈیو ز اس شخص نے ان طالبات کے ساتھ جنسی تعلق بناتے ہوئے بنائیں جو شاید طالبات کو بلیک میل کرنے کے لئے تھیں۔

انویسٹی گیشن آفیسرمحبوب احمد کے مطابق یہ تقریبا 5 ہزار ویڈیو زہیں جن میں 18 سے 25 سال تک کی عمروں کی لڑکیاں بظاہر کسی زور زبردستی کے بغیر باہمی رضامندی سے جنسی تعلق میں دکھائی دے رہی ہیں۔ ان ویڈیوز کی فلم بندی مختلف مقامات پر کی گئی ہے یہاں تک کہ یونیورسٹی کا واش روم بھی دکھائی دے رہا ہے۔ یہ لڑکیاں سیکس ورکرز نہیں بلکہ اسی جامعہ کی طالبات ہیں۔ اس سکینڈل کے دو اہم پہلو ہیں۔ اول، طالبات کس طور اس جنسی تعلق جیسے فعل پر آمادہ ہوئیں۔ اور آیا وہ یہ ویڈیوز باہمی رضامندی سے بنواتی رہیں یا انہیں بتائے بغیر انہیں ریکارڈ کیا گیا۔

ہراسگی اور منشیات:

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ طالبات کو ان ویڈیوز کی آڑ میں ڈرا دھمکا کر استعمال کرنا ہی مقصد تھا یا یہ ویڈیوز مبینہ طور پہ کہیں بیچی بھی جارہی تھیں۔ اس کیس کا دوسرا اہم پہلو منشیات فروشی ہے جس میں جامعہ کا پورا ایک گینگ ملوث پایا گیا ہے۔ اس پورے گینگ میں سکیورٹی آفیسر اعجاز شاہ، ڈائریکٹرفنانس ابوبکر، ٹرانسپورٹ آفیسرمحمد الطاف کے علاوہ جامعہ کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنےوالے 4 پروفیسرز اور 11طلبہ بھی شامل ہیں۔ اب تک کی رپورٹس کے مطابق ان لوگوں سے آئس، چرس اور ہیروئین برآمد ہو چکی ہے جوبالتر تیب300 گرام ہیروئن، 5.4 کلو چرس، ڈیڑھ کلو چرس اور 20 گرام کرسٹل ہے۔

انکشاف یہ بھی ہوا ہے کہ جامعہ میں ان نشہ آور اشیاء کی تر سیل کا دھندہ آج کا نہیں بلکہ کئی برس سے چل رہا ہے۔  اگر یہ دھندہ اس قدر منظم طریقے سے چل رہا تھا تو اس سارے سکینڈل کا مرکزی ملزم تو پھر وی سی صاحب ہی ہوں گے جن کی سرپرستی اس گروہ کو حاصل ہی رہی ہوگی۔ ورنہ یہ کس طور ممکن ہوسکتا ہے کہ جامعہ کہ ہر بات وی سی صاحب کے علم میں رہی لیکن یہ قبیع فعل ان کی نظرسے اوجھل رہا۔

اس میگا سکینڈل کی گونج وزیر اعلی تک پہنچ چکی ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ اس سکینڈل کو دبانے کے لئے نامور شخصیات سرگرم پائے جا رہے ہیں۔  میڈیا کو کوریج سے روکا جا رہا ہے۔  ممکن ہے سابقہ الزامات کی طرح ملزمان اس بار بھی نا صرف الزامات سے بری ہو جائیں بلکہ اپنے عہدوں پر بھی اسی طرح برقرار رہیں۔

سوچنے کی بات:

سوچنا پڑے گا کہ کیا ملک کے ہر کاروبار کو لپیٹ دینے والے کیا اب علم کی بساط بھی اس ملک سے لپیٹ دینا چاہتے ہیں۔  کیا تعلیم کی رہی سہی ساکھ کا بھی اس ملک سے اب دیوالیہ نکلنے کو ہے؟ کیا ہماری جامعات تخلیق کار، سائنسدان، محققین و مفکرین کی بجائے صرف سکینڈلز پیدا کرنے کی آماجگاہ ہی بن کر رہ جائیں گی؟ اگر حقائق عوام کے سامنے نہ لائے گئے، ملوث شخصیتوں کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا گیا تو یہ مکروہ دھندہ تو چلتا اور بڑھتا ہی رہے گا۔ طالبات بھی اپنے خوابوں کے عوض اپنی عزتوں کی پامالی پر آمادہ ہوتی رہیں گی۔ ان بوڑھے والدین کے اعتبار اور اعتماد کا کیا ہوگا جو بیٹی کو پڑھاکر اپنی نسل اورشاید اس ملک کے مقدر کو بدلنا چاہتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلامیہ یونیورسٹی اور کالے کرتوت ; فارینہ الماس

Facebook Comments Box
Bahawalpur scandalIslamia University ScandalSexual HarassmentUniversity sex scandalاسلامیہ یونیورسٹی اسکینڈلاسلامیہ یونیورسٹی بہاولپوربہاولپور اسکینڈلجنسی ہراسانی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
فارینہ الماس

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

previous post
لڑکیوں کی تعلیمی برتری اور Boy Crisis —– ڈاکٹر شعیب احمد
next post
سماج میں خیال کی آزادی اور نئی استعماریت —– قاسم یعقوب

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.