تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
فکنگ بِچ —– افسانہ
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزسماجیکالم

محبت پورا وجود مانگتی ہے — محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 13/09/2020
written by محمد حمید شاہد 13/09/2020
542

بیٹی وشا ابھی چھوٹی تھی اور شاید یہ کوئی ڈرامہ دیکھنے کا اثر تھا کہ ایک روز انتہائی بھولپن سے یاسمین سے پوچھا تھا:

’’ماما جان! کیا آپ کی شادی محبت کی تھی۔ بابا جان نے آپ کو کہیں دیکھا، پسند کیا اور آپ کو گھر لے آئے تھے؟‘‘

شام کو جب یاسمین مجھے یہ بات ہنس ہنس کر بتا رہی تھی تو میں سوچ میں پڑ گیا تھا کہ کیا ہم دونوں کے بیچ محبت محض ایک واقعہ تھی یا اس ایمان کی طرح جو گھٹنا بڑھتا رہتا ہے۔ جی ایسا ایمان جو آخری سانس تک کسی نہ کسی تناسب میں موجود رہ کر اپنا منکر نہیں ہونے دیتا۔

میں یہ سوچ کر مطمئن ہوا تھا کہ ہم دونوں کبھی اس بے پناہ جذبے کے منکر نہیں ہوئے تھے۔ ۱۱ستمبر کو ہماری شادی کی پینتیسویں سالگرہ تھی۔ سب بچے تحائف سے لدے پھندے آگئے۔ رات گئے تک ساتھ رہا۔ یہ اس محبت کا پھل تھا جو ہم دونوں کے بیچ تھی اور ہے۔

یہ ہماری پینتیس برس کی محبت نچوڑ ہے کہ محبت وہ نہیں ہوتی جو پہلی نظر میں کسی کو دیکھتے ہی ہو جاتی ہے۔ محبت تو محبوب کو حاصل کرنے کے بعد سیکھنا پڑتی ہے۔ یہاں اپنی طلب اور اشتہا کو اس پاکیزہ جذبے میں ڈھالنے کے جتن کرنا ہوتے ہیں۔ جی، اپنی طلب کی تپش اور اشتہا کے شعلوں میں جل کر وجود کی اینٹوں پر ابھرآنے والی کھنگروں کو استقلال کی تیسی سے توڑنا اور صاف کرتے رہنا اتناآسان بھی نہیں ہوتا۔ تاہم جب محبت ایمان بن جائے تو یہ عمل سانس لینے جیسا ہو جاتا ہے۔ ہاں تو ہم ہر منفی جذبے کی کھنگروں سے صاف ہونے والی اینٹوں سے محبت کی عمارت تعمیر کرتے رہے۔

محبت وہ نہیں ہوتی جو پہلی نظر میں کسی کو دیکھتے ہی ہو جاتی ہے۔ محبت تو محبوب کو حاصل کرنے کے بعد سیکھنا پڑتی ہے۔

محبت کی یہ عمارت ایک ہی ہلے میں تعمیر کہاں ہوپاتی ہے؟ اس میں اینٹ اینٹ جوڑ کر ردے کی صورت دیواریں اُسارنا ہوتی ہیں۔ صبر، برداشت، ایثار اور احترام کے سمینٹ، ریت، سرے اور بجری کو استقلال کے پانیوں میں گوندھ کر چھت ڈالنا ہوتی ہے۔ محبت کی اس عمارت میں جنس کا قوی جذبہ بھی ہوتاہے۔ اس کا انکار نہیں۔ مگر یہ کہیں اندر بنیادوں میں ہوتا ہے یا پھر اس پلستر جیسا جو رنگ و روغن کے پیچھے چھپ جاتاہے۔ یہ روشنی پھینکنے والے قمقمے کی تار میں دوڑتی بھاگتی برقی رو جیسا بھی ہو سکتا ہے مگر اس رو کو منقطع کرنے کے لیے ایک سوئچ بھی تو ہوتا ہے۔ کہہ لیجئے یہ سوئچ اس اتھرے گھوڑے کے لیے لگام جیساہے۔

خیر، بات کہیں اور نکل رہی ہے مجھے کہنا یہ تھا کہ محبت میں ہمیں اپنے اندر کے ان گھڑ آدمی کو گھڑنا پڑا۔ ہم سیکھتے رہے کہ محبوب کو اس کی ساری خوبیوں، خامیوں اور پسند ناپسند کے ساتھ قبول کرنا ہے۔ یہ محض تین بار ’قبول ہے‘ کہہ دینے سے ممکن نہیں ہوپایا تھا اس کے لیے اپنی ہٹی کٹی اناکے اتھرے بیل کی قربانی دی۔

یہیں مجھے انتظار حسین کے مشہور افسانے’’زرد کتا‘‘ کی لومڑی کا وہ بچہ یاد آرہا ہے جو بولنے والے کے منھ سے نکل پڑا تھا۔ بات کرتے ہوئے حلقوم سے نکل پڑنے والے لومڑی کے بچے کو پائوں کے نیچے ڈال کر جتنا روندا اور کچلا جاتا، اتنا ہی وہ بڑا ہو جاتا۔ افسانے میں شیخ عثمان کبوتر نے لومڑی کے بچے روندے جانے اور بڑا ہوجانے میں مخفی یہ بھید کھولا تھا کہ لومڑی کا بچہ نفس امارہ ہے جسے جتنا روندا جاتا ہے اتنا ہی بڑا اور موٹا ہوتا ہے۔ جسے انتظار حسین کے شیخ عثمان کبوتر نے نفس امارہ کے طور پر شناخت کیا یہی تو ہر نفس کی ذاتی صفت ہے جو شہوت و غضب کے وقت مغلوب کرتی ہے۔ محبت کرنے والے اس سے بچنے کے لیے اپنے نفس کی فصل کو اطمینان کے پانیوں سے سیراب کرتے رہتے ہیں اور خدا کا شکر کہ یہ اطمینان گزر چکی زندگی کے ایک ایک لمحے میں ہمارا مقدر رہا ہے۔

ہمارے دوست اکثر شکوہ کناں نظر آتے ہیں کہ محبوبہ جب بیوی بن جاتی ہے تو ان کے درمیان موجود محبت بھی منہا ہو جاتی ہے۔ ایسے میں میرا دھیان ترکی کی ایلف شفق کے ناول ’’محبت کے چالیس اصول‘‘ کی طرف جا رہا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جیسا ہم اپنے خدا کے بارے میں گمان رکھتے ہیں وہی ہماری اپنی شخصیت کا پرتو ہوتا ہے۔ جب خدا کا ذکر ہو اور اس کے قہار اور جبار ہونے کا تصور خوف زدہ کرے تو سمجھ جائیے کہ یہ ہمارے اپنے اندر کا خوف ہے اور اگر وہی خدا ماں کی طرح شفیق ہو کر آئے تو یقین رکھنا کہ ہم بھی محبت کے ٹھنڈے میٹھے پانیوں سے لبالب ہوتے ہیں۔

بیوی بن جانے والی تو وہی ہے جو کبھی آپ کی محبت تھی۔ اب اگر آپ اس جذبے سے محروم ہو گئے ہیں تو اپنے دِل میں جھانکیے اور سوچیے کہ کیا کبھی آپ کو اس عورت سے محبت تھی بھی یا جوانی اور حسن کے ریپر میں لپٹا جسم آپ کو اچھا لگا تھا؛ یوں جیسے کسی پھلواری سے گزرتے ہوئے کسی ٹہنی پر جھولتا پھول اچھا لگتا ہے، آپ ہاتھ بڑھاتے ہیں، ٹہنی سے توڑ کر اسے اپنے کالر میں سجالیتے ہیں اور پھر کسی کتاب میں رکھ کر بھول جاتے ہیں۔

جن لوگوں کی نظر میں انسانی وجود اگر محض ایک جسم ہے تو محبت اُن کا مقدر کیسے ہو سکتی ہے؟

جن لوگوں کی نظر میں انسانی وجود اگر محض ایک جسم ہے تو محبت اُن کا مقدر کیسے ہو سکتی ہے؟ عورت محض ایک خوب صورت، جی لبھانے والی شئے نہیں ایک زندہ وجود ہے۔ آکسفرڈ کے اسلام آباد لٹریچر فیسٹول میں میرے ایک سوال پر خالدہ حسین نے کہا تھا کہ ان کا اصل مسئلہ وجود ہے۔ عورت محض نام نہیں ہے؛ ایک ہستی ہے، ایگزسٹینس ہے۔ یہ ایگزسٹینس نام اور جسم کی وجہ سے نہیں وجود کی وجہ سے ہے۔ جو دکھائی دے رہا ہوتا ہے صرف وہی وجود نہیں ہوتا۔ خالدہ حسین نے اس موقع پر کرسی کی مثال دی تھی۔ کرسی کے بازو پر ہاتھ رکھا کہ یہ اس کا بازو ہے، پھر باری باری سیٹ، پشت اور کرسی کی ٹانگوں کو گنوایا اور کہا کہ ’’میں نے ایک ایک کرکے سب اجزا گنوا دیے، کچھ باقی نہیں بچا تو پھر کرسی کہاں ہے؟‘‘ لگ بھگ ایسی ہی بات ایک بزرگ نے کہی تھا۔ یہی کہ کسی زید نامی شخص کی ٹانگیں، بازو کاٹ دو، آنکھیں نکال دو، زبان گدی سے کھینچ دو تو بھی وہ زید رہے گا۔ گویا اعضا کا نام زید نہیں۔ پورے جسم کا نام بھی زید نہیں ہے کہ مر جانے پر وہ لاش اور میت کہلواتا ہے۔ جسم وجود کا محض ایک خول ہے، خالدہ حسین نے تو نام کو بھی ایک خول کہا تھا۔ محبت پورے وجود کے اندر پنپتی ہے، وہ مرد کا وجود ہو یا عورت کا اور جہاں یہ شعور نہیں ہوتا محبت کے راستے میں یہی جسم سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔

مجھے یاد آتا ہے ابھی بیٹا سعد نویں یا دسویں کے درجے میں ہوگا جب اس کے ذہن پر کرکٹ کا جنون سوار تھا۔ جب دیکھو بلے پر گیند اچھالتے نظر آتا۔ ہم دونوں اس کے اسکول گئے، اس کے استاد سے ملے کہ وہ سعد کو کرکٹ سے ہٹا کر پڑھائی کی طرف راغب کریں۔ وہاں جاکر معلوم ہوا وہ تو اسکول کی ٹیم کا کپتان تھا۔ اس کے ٹیچر نے یہ کہہ کر ہمیں لوٹا دیا کہ ’’کیا آپ لوگ اسے کتابی کیڑا بنانا چاہتے ہیں پڑھائی میں اچھا بھلا تو ہے۔‘‘ ہم اسکول سے واپس آ گئے مگر یاسمین کی پریشانی اور بڑھ گئی تھی۔ فیصلہ ہوا کچھ فاصلے پر ایک اچھی شہرت والی اکیڈمی تھی، اس میں اسے داخل کر دیں۔ امتحانات میں نتیجہ اتنا اچھا نکلا کہ اکیڈمی والوں نے اس کی تصویر کا پوسٹر چھاپ لیا تھا۔ خیر یہاں جو بات مجھے بتانی ہے وہ بہ نہیں۔ میرے موضوع سے جڑی ہوئی بات یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ ہم بیٹے کو اکیڈمی چھوڑ کر دونوں گاڑی میں اس کی چھٹی تک بیٹھے رہتے۔ ایک روز اس اکیڈمی کی انچارج خاتون ہمارے پاس آئیں اور کہنے لگیں آپ واقعی میاں بیوی ہیں میں دیکھتی رہتی ہوں کہ آپ کی آپس کی باتیں ختم ہی نہیں ہوتیں۔ جشن ریختہ میں شرکت کے لیے جب ہم دونوں دہلی میں تھے تو وہاں کے معروف شاعر فرحت احساس نے بھی میاں بیوی والا لگ بھگ یہی جملہ کہا تھا۔

آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ کو اپنی بیوی سے محبت ہے مگر آپ کے پاس اس سے مکالمے کے لیے کوئی موضوع نہیں ہے تو یقین جانیے آپ کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ محبت ایمان کی طرح ’’اِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ وَ تَصْدِيْقٌ بِالْقَلْب‘‘ کا مطالبہ رکھتی ہے۔ یہ اقرار محض ایک بار کا نہیں بار بار کا ہے اور اس اقرار کے وقت ہر بار دل کو زبان کا رفیق ہونا ہوتا ہے:تصدیق کرنے والا رفیق۔

آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ کو اپنی بیوی سے محبت ہے مگر آپ کے پاس اس سے مکالمے کے لیے کوئی موضوع نہیں ہے تو یقین جانیے آپ کا دعویٰ جھوٹا ہے۔

جن دنوں میں بنک کا ملازم تھا اور بینک کے سٹاف کالج میں لیکچر دیا کرتا تھا تو ایک روز وہیں ٹرینگ کورس میں آئے ایک آفیسر کی لگ بھگ یہ بتاتے ہوئے گگھی بندھ گئی تھی کہ بنک کے لمبے اوقات کے سبب اس کی عائلی زندگی تباہی سے دوچار ہورہی تھی۔ اس نے بتایا تھا کہ کام کے سبب وہ تھکا ماندہ گھر پہنچتا تھا تو بیوی کسی نہ کسی بات پر برہم ہو کر گھر کا ماحول خراب کر دیتی تھی۔ تب میں نے پوچھا تھا کہ اس کی بیوی کن باتوں پر برہم ہوتی تھی۔ کہنے لگا۔ ’’دیکھیں جی، اس کے پاس یا تو بچوں کی شرارتوں کی شکائتیں ہیں یا بات کرنے کے ایک دو موضوعات؛ نئے فیشن کے کپڑے اور ٹی وی پر چلنے والے ڈرامے۔ ان پر کیا بات کی جائے؟‘‘ تب مجھے اندازہ ہوا کہ ہر شخص اپنے اپنے تجربے کا قیدی ہوتا ہے۔ ایک خول میں بند۔ وہ افسر اپنے طور پر مصیبت کا گرفتار تھا اور اس کی بیوی گھر بند رہ کر اکلاپے کا شکار۔ دونوں کے پاس اپنے اپنے موضوعات تھے جن سے ایک دوسرے کی دلچسپی نہ تھی۔ مرد کی طرف سے بس اتنا مکالمہ تھا ’’کھانے میں کیا ہے؟‘‘، ’’آج تو بہت تھک گیا‘‘، ’’کپڑے جوتے تیار کر دینا صبح جلدی جانا ہے‘‘، ’’بچوں کو چپ کرائو مجھے آرام بھی کرنا ہے‘‘۔ عورت کے وجود کو کریدنا، اس کا مسئلہ نہ تھا۔ موضوعات زندگی میں شراکت سے آتے ہیں محض کولہو کے بیل کی طرح ایک دائرے میں گھومتے رہنے سے نہیں۔ یہی شراکت آپ کے مکالمے کا موضوع ہو جائے گی۔ ہم دونوں کے ہاں بھی جب موضوعات ختم ہونے لگتے ہیں تو ہم کسی نہ کسی اور نکل جاتے ہیں۔ جب تک میں بنک میں رہا اور یاسمین بچوں کے ساتھ رجھی ہوئی تھی اور میں جاب کے ساتھ لکھنے لکھانے میں مگن تھا، تب بھی ہم بات کرنے کے موضوعات ڈھونڈھ نکالا کرتے تھے اور اب ایسا ہے کہ بات کرنے لگو تو ایک کے ساتھ ایک موضوع بندھتا چلا جاتا ہے۔

پینتیس برس ؛ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو خدا کا شکر بجالاتا ہوں۔ اے محبت زندہ باد

Facebook Comments Box
featuredLoveLove of lifeازدواجی محبتبیوی سے محبتشادی شدہ زندگیمحبت
1 comment 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
خان صاحب کیا آپ کو آواز آرہی ہے؟ —- سحرش عثمان
next post
ڈاکٹر برہان احمد فاروقی کے ساتھ ایک مصاحبہ (حصہ دوم) — جلیل عالی

Related Posts

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

1 comment

Rashid Mehmood 13/09/2023 - 11:52 am

محبت کوایک نئے کا وی کے سے دیکھنے اور محسوس کرواتی ہوئی بہت عمدہ،پُراثراورباوقار تحریر۔۔بہت اعلی سر

Reply

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.