تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

ترکی سے ایک سبق — نعیم صادق

by دانش ڈیسک 31/08/2020
written by دانش ڈیسک 31/08/2020
105

ماضی کی عظمت ایک زبردست نشہ ہے۔ جو پاکستانیوں کو پسند ہے، ترکی ٹی وی سیریل کا سحر سب پر غالب ہے، اور وہ اس نشہ کی کافی مقدار فراہم کرتے ہیں۔ یہ ڈرامے ہمیں ماضی کے سحر میں جکڑے ہوئے ، ہمارے حال اور مستقبل سے غافل رہنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ترکی آج اپنے گلیوں کے کتوں کے لیے پاکستان کے بچوں کے مقابلے میں سو گنا اعلی تحفظ کا نظام رکھتا ہے۔ لیکن ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ نہ ہم ان کے طور طریقوں سے کچھ سیکھنے کو تیار ہیں۔

ترکی کے اسٹریٹ ڈاگ پروٹیکشن سسٹم میں ایسے کم از کم 5 اسباق موجود ہیں جن سے پاکستان بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ پہلا سبق یہ کہ یہ پروگرام دراصل کتوں کے مفاد کے لیے ہے، نہ کہ اس کام کو منظم کرنے والی تنظیموں کے لیے۔ دوسرا، یہ کہ، یہ حقائق اور اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ تیسرا، یہ کہ حقیقت میں یہ پروگرام کتوں کی فعال طور پر پناہ گاہوں، طبی علاج، کھانا اور صحت کی دیکھ بھال کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ چوتھا یہ کہ ، کتوں کے تحفظ کے لیے صرف ایک جامع قانون ہے، 36 متضاد قانون نہیں بنائے گئے ہیں۔ اور آخری سبق یہ کہ ترکی، اپنے ڈاگ پروٹیکشن مراکز چلانے یا ڈاگ پروٹیکشن ایس او پیز بنانے کے لئے یونیسیف، بل اینڈ میلنڈا یا یو ایس ایڈ سے کوئی گرانٹ قبول نہیں کرتا ہے۔

پاکستان میں سورتحال یہ کہ بچوں کے تحفظ کا نظام بچوں کے تحفظ کے لئے نہیں بنایا گیا ہے۔ یہ مکمل طور پر اس کے بجٹ کو کھانے والے بیورو، کمیشنوں اور اتھارٹیوں کی خود نمائی اور فروغ دینے کے لئے وقف ہے۔ ایک کیس میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ایک صوبائی چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی نے اپنا پورا سالانہ بجٹ اپنے عہدیداروں کے لئے کاروں اور فرنیچر کی خریداری پر صرف کردیا۔ ترکی نے اس بیوروکریٹک ڈھانچے کو مستعدی اور موثر طریقے سے کم کیا ہے، وہ یہ کام اپنی وزارتوں اور مقامی میونسپل کمیٹیوں کے توسط سے انجام دیتا ہے۔ پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔

ترکی کا ڈاگ پروٹیکشن سسٹم حقائق اور اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ ہر گلی کے کتے کے کان میں ایک ڈیجیٹل چپ لگی ہوتی ہے۔ جس میں اس کا ڈیٹا محفوظ ہوتا ہے۔ جس میں کتے کے انفرادی شناختی نمبر (ٹریکنگ کے لیے)، اس کی رجسٹریشن تاریخ، اس کے معائنہ کی تاریخ اور ویکسینیشن کی تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان میں 58 فیصد بچوں کا پیدائشی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ برس ہا برس تک، ان کی شناخت اور ان کی پیدائش کے سرٹیفیکٹ ہی نہیں بنائے جاتے۔ کیا کوئی ایسے بچے کی حفاظت کرسکتا ہے ؟جس کے بارے میں کوئی بنیادی معلومات ہی دستیاب نہیں ہیں۔

ترکی میں کتوں کے تحفظ کا نظام ان سرکاری ٹیموں کی بنیاد پر چلتا ہے جو اسٹریٹ ڈاگ کو فعال طور پر تلاش کر تے ہیں، انہیں ایسی پناہ گاہوں میں لے جاتے ہیں جہاں کتوں کو نہلایا جاتا ہے، ان کو ٹیکہ لگایا جاتا ہے، کھانا دیا جاتا ہے اور انھیں محفوظ پناہ گاہ فراہم کی جاتی ہے۔ پاکستان کے اپنی ہی خدمت اورخود نمائی کرنے والے کمیشن اور اتھارٹیز، اس کے برعکس دفاتر کی تعمیر اور کاریں حاصل کرنے اور اپنے لئے گرانٹ طلب کرنے پر توجہ دیتی ہیں۔ پاکستان میں (پنجاب کے علاوہ) کہیں بھی زیادتی کے شکار بچوں کے تحفظ کے لئے ایک بھی پناہ گاہ نہیں ہے۔ سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی نے تو ڈھٹائی اور بے شرمی سے یہ اعتراف کیا ہے کہ ” وہ بچوں کے تحفظ کے کسی مراکز کے قیام یا انتظام کا ذمہ دار نہیں ہے۔ ” یہی حال اسلام آباد اور دیگر تینوں صوبوں کا بھی ہے۔

ترکی میں کتوں کے تحفظ کی واحد قانون سازی کے برعکس، پاکستان بچوں کی حفاظت سے متعلق 36 متضادقوانین کے بوجھ سے دبا ہوا ہے، ہر نئے قانون نے اس بوجھ کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کیا پاکستان اپنے بچوں کے لئے درج ذیل 7 بنیادی قوانین پر اتفاق نہیں کرسکتا؟

1) بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور بچوں سے دستبرداری سخت سزا یافتہ جرم ہے۔ (اگر ترکی میں کسی پالتو جانور کو آوارہ چھوڑنے پر ایک ہزار سات سو پنتالیس ڈالر جرمانہ ہوسکتا ہے تو، یقینا پاکستان میں بچوں کو بےگھر کرنے اور زیادتی کرنے پر اسی طرح کے جرمانے کیے جاسکتے ہیں)؛

2) سولہ سال سے کم عمر کے بچے کو کسی بھی قسم کی گھریلو، تجارتی یا صنعتی چائلڈ لیبر میں شامل کرنا ممنوع ہو۔

3)۔ 16 سے 18 سال کی درمیانی عمر کے بچے اچھی طے شدہ شرائط میں صرف غیر مضر کام انجام دے سکتے ہیں۔

4)۔ 18 سال سے کم عمر کی شادی ممنوع قرار دی جائے۔

5)۔ ہر بچہ 16 سال کی عمر تک لازمی تعلیم حاصل کرے۔

6)۔ بچوں کا بھیک مانگنا اور سڑکوں پر زندگی گزارنا ممنوع ہو

7)۔ کوئی بھی اسکول یا ’مدرسہ‘ چائلڈ پروٹیکشن پالیسی، پر عمل درآمد کیے بغیر کام نہیں کرے گا۔

پاکستان میں ایکٹ منظور ہونے کے باوجود، حکومت زینب الرٹ رسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی (زرا) کے قیام کی ذمہ داری سے پہلو تہی کررہا ہے، جب کہ اسی ادارے کا ایک اہم مقصد ایک قومی ڈیٹا بیس اور ملک گیر ہیلپ لائن بنا نا بھی تھا۔ اگر ہم واقعی اپنے بچوں کی حفاظت چاہتے ہیں تو ہم پر لازم ہے کہ ہم بچوں کے تحفظ کے نظام کو نئے سرے سے تشکیل دیں۔ قانون سازی کو کم کریں، اور اپنے غیر فعال کمیشنوں اور اتھارٹیوں کو ختم کریں۔ ترکی کا، ، ڈاگ پروٹیکشن سسٹم، ، ہمارے سیکھنے کے لئے ایک بہترین نمونہ ہوسکتا ہے۔

  cheap viagra online tampa

Facebook Comments Box
child safetyبچوں کا تحفظبچے
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
فقہ حنفی کا معروف متن ’مختصر القدوری‘ اور’ صاحبِ قدوری‘ — ایک مطالعہ
next post
سفرپارے: امجد اسلام امجد کے سفری کالم — نعیم الرحمٰن

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.