تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزدیگرسماجیسیاسیمیڈیا پہ تبصرے

سندھی اخبارات کے ادارتی خیالات

by Daanish Editor 11/07/2017
written by Daanish Editor 11/07/2017
127

سندھ کے دکھوں کا منظر نامہ روزنامہ سندھ ایکسپریس نے سندھ کے سیاسی معاشی اور سماجی مسائل پر لکھا ہے کہ اس بیمار سندھ کا علاج کون کریگا؟ جس میں اس نے سندھ کی جو تصویر پیش کی ہے. اس میں غربت، تعلیم کی کمی اور ہسپتالوں کی بدحالی ارو بیروزگاری، پولیس کی کارکردگی، محکمہ آبپاشی کی بدانتظامی، شاہراہوں کی خراب حالت پر تبصرہ کیاگیا ہے۔ جس میں مسافر اپنی منزلوں تک پہچنے سے پہلے ہی موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اخبار نے لکھا ہے کہ دن بہ بدن عورتیں اغواء اور قتل ہو رہی ہیں، جنسی اور جسمانی تشدد اس کے علاوہ ہے اور حکومت میں وڈیرے، جاگیردار اور رئیسوں کا نظام چل رہا ہے جو ان مجرموں کو تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ اس وقت بھی دو درجن سے زیادہ افراد لاپتا ہیں جن کے متعلق کوئی کچھ معلوم نہیں ہے۔ گذشتہ روز شکارپور ضلعہ کے مدیجی پولیس اسٹیشن کے ایک جمعدار نے ایک نوجوان لڑکے اور کڑکی کو شہر کے چوراہے ریاض مشوانی سینٹر سے سرعام اغوا کر کے لے گیا جس کو کوئی روک نہ سکا۔ سیتا روڈ شہر کہ دوکانداروں پر پولیس کے تشدد کی خبریں ہیں۔ دیہات میں زراعت کے لئے پانی کی کمی کی شکایات پر ھاری اور آبادگار احتجاج کر رہے ہیں۔ ان تمام زیاں پر قوم کی توجہ ہے. کیا مسیحا بھی جلاد ہوسکتے ہیں؟ اخبار نے 18 جون 2017 کے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ سندھ کے نئے وزیر اعلیٰ جناب سید مراد علی شاہ نے اپنی ذمہ داری سنبھالنے پر یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ تعلیم اور صحت پر خاص توجہ دیں گے لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ مریضوں کو ایمرجنسی تو چھوڑیئے لیکن عام حالات میں بھی علاج کی سہولتیں موجود نہیں ہیں۔ مثال کے طور پہ ضلعہ نوشہرفیروز میں ٹھارو شاہ رارڈ نمر 8 کے ایک باشندے کو سانپ کے ڈسنے پر ہسپتال لایا گیا لیکن ہسپتال میں متعلقہ ویکسین موجود نہیں تھی۔ نتیجہ میں اس نوجوان کو نواب شاہ لے جانے پر راستے میں ہی فوت ہوگیا۔ اسی طرح تھرپارکر کےچھاچھرو شہر سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کو ایمرجنسی کی حالت میں جب رات کو میرپورخاص کی سول ہسپتال میں لایا گیا تو ہسپتال کی انتظامیہ نے بستر دینے سے معذرت کی اور اس عورت کو فرش پر لٹایا گیا۔ واضح رہے کہ عمر کوٹ کے ہسپتال میں ڈاکٹروں کی چھیالیس اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں اور ضلعہ ہیڈ کوارٹر سمیت تین تحصیلوں کے ہسپتالوں میں 141 اسامیوں پر ابھی تک ڈاکٹر موجود نہیں ہے۔ جن میں کنری ہسپتال میں 30، سامارو میں 33 اور پتھورو میں 32 اسامیاں خالی ہیں۔ ان ہسپتالوں میں ایکسرے مشینیں، لیبارٹریز اور ایمبولینسز کی بھی یہی حالت ہے۔ روزنامہ عوامی آواز نے 3 جون 2017 کے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ مسیحا بھی جلاد ہوسکتے ہیں جس میں محکمہ صحت کی ایک رپورٹ کا ذکر کیا گیا ہے جس کے مطابق تھرپارکر میں 341 بچے فوت ہوگئے ہیں جن میں 36 بچے سانس کی تکلیف کی وجہ سے فوت ہوئے ہیں۔ کچھ رپورٹ میں گذشتہ 3 سال کے اندر بچوں کے اموات کے تعداد 1340 بتایا گیا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ لاڑکانہ میں چانڈکا میڈیکل ہسپتال کے عملے اور انتظامیہ کی لاپرواہی کے سبب 30 انسانی جانیں موت میں منہ میں چلی گئی تھیں.مجموعی طور پر پورے صوبے میں مختلف علاقوں میں گرمی کے شدت، بجلی کی عدم موجودگی، زہریلے پانی پینے کی وجہ سے ہمارے مستقبل کے معمار محفوظ اور صحتمند نہیں ہوسکتے تو مستقبل میں انسانی زندگی کیسے بہتر ہوسکتی ہے؟ پینے کا صاف پانی ہر شہری کا حق ہے سندھ میں پینے کے صاف پانی کی جو صورتحال ہے کہ پورے صوبہ سندھ کے صنعتی علاقوں میں پانی کے 450 نمونے حاصل کئے گئے جس میں 435 نمونے چیک کرنے کے بعد پینے کے قابل نہیں بتائے گئے اور یہ صورتحال گذشتہ 16 سال سے چلی آرہی ہے۔ شہری اور دیہی علاقے کے لوگ گندا پانی پی کر بیمار ہو رہے ہیں۔اور شہروں میں ٹینکر مافیا کی حکمرانی ہے۔ عام آدمی پانی کی بوند کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ محکمہ آبپاشی کی ناقص کارکردگی اخبار نے 21 جون 2017 کے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ محکمہ آبپاشی کی کارکردگی فقط پیسے کمانے والی مشین کی طرح ہوگئی ہے۔ ہر سال اس محکمہ کو دریائے سندھ کے بند ٹوٹنے کا انتظار رہتا ہے اور بعد میں اس کی مرمت کے لئے ان کو بڑی رقم کی طلب ہوتی ہے۔ اس سے پہلے یہ خاموش رہتے ہیں۔ اخبار نے اپنے 22 جون 2017 کے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ سندھ میں ابھی تک ہزاروں کی تعداد میں اسکول بند ہیں۔ اور سندھ میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے عالمی بینک سے قرض لے کر شعبے میں اصلاحات کا منصوبہ بنایا گیا تھا جس کے بھی کوئی نتائج سامنے نہیں آ سکے ہیں. اس سلسلے میں عالمی بینک سے 70 کروڑ ڈالٹر کا قرضہ لیا گیا تھا جس میں اب 37 ارب روپیہ کا مزید قرضہ بڑھ گیا ہے ۔اس سلسلے میں 2015 میں تعلیمی اصلاحات کے لئے 4 ارب روپئےرکھے گئے تھے لیکن اس میں سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا اور موجودہ حکومت کے دس سال گذرنے کا باوجود ایک تعلیم کا شعبہ بھی صحیح طریقے سے نہیں سنبھالا گیا۔ اور اب بھی تعلیم کے نام پر بہت بڑی رقم رکھی گئی ہے لیکن یہاں بھی فقط امیدوں کا سہارا ہے۔ کیوں کہ گذشتہ 10 سالوں میں جو کارکردگی سامنے آئی ہے وہ مایوس کن ہے۔ اخبار نے اپنے 23 جون 2017 کے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ صوبہ سندھ کے ان حالات کو دیکھ کر منتخب نمائندوں سے اچھی امیدوں کے امکانات بہت کم نظر آ رہے ہیں۔ کیونکہ ان کو عوامی پریشانیوں کا کوئی درد محسوس ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہا۔ جب عید کی خوشیاں ماتم میں تبدیل ہوگئیں اخبار نے اپنے 24 جون 2017 کے ادارتی نوٹ میں پاراچنار، کوئٹہ کے بم دھماکوں میں40 افراد کے شہید ہوجانے اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہوجانے پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی دہشتگردی کے خاتمے کا وقت کب آئیگا . بہاولپور کے علاقے احمد پور شرقیہ میں آئل ٹینکر سے تیل نکالنے کے دوران ہونے والے دھماکے میں 150 افرد کی ہلاکت میں پولیس اور موٹروے پولیس کی ناقصکارکردگی قرار دیا ہے. جس کی وجہ سے پورے ملک میں عید کی خوشیاں غمی میں تبدیل ہوگئیں. حکو مت کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ بڑھتی ہوئی غربت نے عوام سے خوشیاں چھین لی ہیں اور وہ سیاسی اور معاشی استقام سے ہی بحال ہوسکتی ہیں۔ اسی اخبار نے اپنے 29 جون والے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ 70 سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ کسی بھی اچانگ صورتحال کا سامنا کرنے کی انتظامی صلاحیت ہمارے اہلکاروں میں موجود نہیں ہے۔ اس کا سبب فقط احتساب کا نہ ہونا ہے۔ فقط سیاسی انتقامی کاروائی اور درباری سیاست کی وجہ سے انتظامی غفلت اور بدعنوانی کا سلسلہ جاری ہے۔ سندھ میں ٹھٹھہ کے قریب روڈ حادثے میں فقط ایک دن کے اندر 6 افراد ہلاک اور 7 زخمی بتائے گئے ہیں۔ اسی دن نواب شاہ، گھوٹکی، شاہپور جہانیہ، میرپورخاص میں روڈ کے حادثات میں 18 افراد ہلاک اور 85 افراد زخمی ہوگئے۔ ایک ہی دن کے اندر اتنے روڈ حادثات ثابت کرتے ہیں کہ عوام کی جان اور مال کے تحفظ کے لئے اب ان اداروں کا کوئی کردار نہیں رہا۔ اتنی بڑی تعداد میں قیمتی جانوں کا ضایع ہونا کسی بھی طرح ایک المیہ سے کم نہیں ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہےکہ اس پر حکومت کو کوئی احساس بھی نہیں ہے۔ اس شہر میں بجلی نام کی کوئی چیز نہیں ہے؟ اخبار نے اپنے 30 جون کے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ برسات کی موسم میں سب سے بڑا مسئلہ بجلی کا غائب ہونا ہے۔ سندھ کے بڑے شہروں کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص میں 3 دن سے بجلی کا غائب ہونا لوگوں کے لیے قیامت کا منظر بن گیا ہے۔اور یہ واپڈا اور کے الیکٹرک والے اداروں کا معمول بن چکا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے۔ یہی بات روزنامہ عوامی نے اپنے یکم جون والے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ کراچی کے باشندوں کے لئے بجلی نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ آج کی، کے الیکٹرک کے ادارے میں حکمرانوں کی حصہ داری کی وجہ سے ان سے کوئی احتساب نہیں کیا جارہاہے.

Facebook Comments Box
تعلیمی بجٹصحت کی ابتر صورتحالمیر پور خاص آئل ٹینکر حادثہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
Pigeons swarm Las Vegas neighborhood, nesting at church
next post
عوامی عدالت اور پلان سی: چودھری بابر عباس خان

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.