تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

شک کرنا کیوں ضروری ہے ؟

by ویب ڈیسک 04/06/2017
written by ویب ڈیسک 04/06/2017
83

اول تویہ سمجھ لیں کہ شک بدگمانی کے لیے وقت اور لڑائی بچانے کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے۔۔ کچھ عرصہ قبل ایک سوشل میڈیا پراجیکٹ کا کام ہاتھ لگا۔ میری عادت ہے جو کام کرنا آتا ہے اس میں رائے نہیں لیتا سوائے سینئرز کے کسی سے کچھ نہیں پوچھتا، مطلب وہ شوری کا شوربہ بنانے کی عادت نہیں نہ ہی منہ میں ببل ڈال کر، سگریٹ پہ سگریٹ سلگا کر میٹنگ کے نام پر پراجیکٹ کے لیے مختص وقت کی ایسی تیسی کرنے کی بیماری ہے۔ جب کام نہیں آتا تھا تب بھی نہیں کرتا تھا اب جو تھوڑا بہت ٹوٹا پھوٹا کرلیتا ہوں تو اب بھی یہ رائے لینے والی قبیح عادت نہیں ہے ٹیکنیکل کام میں تو بالکل نہیں۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔ کسی کی بھی نہیں۔۔ ہاں گوگل ہے وہاں سے پڑھ لیتا ہوں، کیوں کہ جو پڑھتا نہیں وہ گھاس ہی چرتا ہے یا دوسرے کا دماغ اور کوئی بہت تکنیکی ماہر ہو تو اس کے لیے بسر چشم سیکھنے کے لیے تیار رہتا ہوں، پھر وہاں اپنی رائے نہیں دیتا۔۔ صرف سنتا ہوں۔۔
پہلے یہ رویہ میں میٹنگ میں شامل ایک جیسی ذہنی سطح کے لوگوں کے متنازعہ موقف، کچی پکی رائے سے بچنے کے لیے کرتا تھا اب وقت بچانے کے لیے کرتا ہوں۔۔ ہاں کہانی لکھنی ہو تو اس کے لیے آئیڈیا دس دماغ سے بھی لے لو لیکن اگر کئی ٹیکنیکل کام ہو تو میٹنگ کو سائڈ پر کر کے ڈسکشن کرنے کے شوقین کام چور اور نان پریکٹیکل (یہاں سست افراد کا ذکر نہیں – وہ تو میں خود بھی بہت ہوں ) لوگوں آئی بائیں شائیں اور برین اسٹارمنگ کے نام پر رائے دہی کروا کے کر کے۔۔ دہی بنوانے سے تو اب باقاعدی الرجی ہوگئی ہے۔۔ بہرحال تو بات ہورہی تھی اس پراجیکٹ کی اور مدعا تھا شک۔۔ شک کیوں کریں۔۔

تو اس پراجیکٹ میں جو کلائنٹ تھا اس سے تعلق واسطہ میرا براہ راست تھا کوئی بالواسطہ شخص اس میں شامل نہیں تھا عموما میری عادت نہیں کلائنٹ سے ڈائریکٹ ہونے کی، کیوں کہ بحث برائے بحث جیسی مہمل سر پھٹول اور زبان چلانے کی لذت کے مریض ہونے کی کی وجہ سے یہ کلائنٹ ولائنٹ زیادہ تر وقت کا خون خرابہ ہی کرتے ہیں اس لیےبھی اس کلائنٹ سے میں براہ راست بات کر رہا تھا۔۔ میں نے کام ہونے کی یقین دہانی کروائی اور قاعدے ضابطےاپنے منتخب کئے جس پر میں کٹر رہا۔۔ اڑا رہا۔۔ وہ کلائنٹ بہت کوشش کرتا رہا رہا۔ کہ میں اس کی مان لوں کچھ اصولوں پر سمجھوتہ کرلوں لیکن میں نے باور کروا دیا تھا کہ پیسے آپ کی مرضی کے تو اصول میری مرضی کے۔ وہ جعلی شکر سی میٹھی میٹھی مٹھارتا رہا لیکن میں ٹس سے مس نہیں ہوا خیر سوشل میڈِیا کمپین ختم ہوئی تو اس وقت ٹیم کے اندر سے اڑتی اڑتی ملی کہ کلائنٹ مرچ مصالحے لگا کر لوگوں کو مجھ سے دور رہنے کے مشورے دے رہا ہے۔۔ وغیرہ وغیرہ میرا کام ہوگیا تھا میں نے پیسے پکڑے، کلائنٹ کو دور سے سلام کیا اور فائنل چیک لے کر گھر آگیا
کچھ دن بعد کلائنٹ کے بارے میں دو تین جگہ سے رپورٹ نکلوائی جن لوگوں کو میرے خلاف کر رہا تھا ان سے براہ راست پوچھا تو معلوم ہوا کہ بھائی صاحب نے وہ وہ باتیں میرے بارے میں اڑا دیں تھیں جن کا مجھ سے دور تک تعلق بھی نہیں تھا۔۔ ہوتا تو افسوس نہ ہوتا کہ گناہ بے لذت کا غم نہیں تھا۔۔ اب چونکہ مجھے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ میرے بارے میں کون کیا سوچ رہا ہے کیوں کہ اکثر لوگوں کو میں پہلی ملاقت میں دور سے سلام کر دیتا ہوں۔ مطلب بندہ دیکھ کر بات کرتا ہوں۔۔ اس لیے میں نے یہاں بھی نارمل لیا۔۔ کلائنٹ بہرحال کائیاں تھا۔۔ کسی کام کے لیے دوبارہ پلٹ کر آیا۔۔ اس بار میں نے منہ پر ان بندوں کا نام لیے بغیر اس سے وہ سارے سوالات پوچھے جو ان لوگوں سے پوچھے تھے۔۔ حسب توقع مکر گیا۔۔ میں نے وقت تاریخ اور مقام کے ساتھ کلائنٹ کو رکھ رکھ کر خوب شرمندہ کیا – وہ اپنی ڈھٹائی بھری مسکراہٹ نچھاور کرتا رہا، د س سال کارپوریٹ سیکٹر میں گزارنے کے بعد یہ سیکھا ہے کہ کہ کام کے معاملے میں کسی سے اعلی ظرفی خود سے کم ظرفی ہے – تعلق کیسا بھی ہی – بزنس ڈیل شفاف ہونی چاہئے ورنہ لوگ آپ کو بیچ چوراہے پر بیچ کھاتے ہیں اور آپ “اجی حضور ” آپ جناب۔۔ ارے بس پرانے تعلق کی وجہ سے مروتا خاموش ہوں –جیسے جملوں سے اپنے زخم چاٹتے رہ جاتے ہیں۔
دوسری طرف اب ان صاحب کا حال یہ ہے کہ وہ دوسروں سے کہتے پھرتے ہیں کہ بھائی اس کے پاس نہیں جانا کام لے کر — پیسے زیادہ لیتا ہے۔ کام کم کرتا ہے اور۔۔ اور کے بعد راوی خاموش ہے لیکن میرا خیال ہے یہ کہتا ہوگا۔۔ کہ رگڑے بہت دیتا ہے۔۔
تو شک کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کے سوشل سرکل سے اس خصلت کے اصحاب یا خواتین چھن چھن کر نکل جاتے ہیں اور آپ کا فوکس کام پہ رہتا ہے۔
شک کرنا، منفی سوچنا اور بدگمانی رکھنا یہ تین الگ چیزیں ہیں اور آپ ا پنی زندگی کو ایسے پڑھے لکھے جاہلوں سے پاک رکھنے کے لیے شک کیجئے پھر اس کے بعد ان کو کک کیجئے یہ دھرتی کا بوجھ ہوتے ہیں۔۔ تین چار عہدے رکھ کر سمجھتے ہیں دنیا خرید لی اور ہاں ان کو پیسے واپس کرنے پڑیں پروجیکٹ ختم کرنا پڑیں تو وہ بھی کردیں ان کو کارپوریٹ مارکیٹ میں راندہ درگاہ کردیں۔۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے پاس سب سے قیمتی چیز وقت ہوتا ہے جو ایسے لوگوں کو کھانا بہت مرغوب ہوتا ہے۔

Facebook Comments Box
شککارپوریٹ کلچرکاروباری اخلاق
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
دردِ بے زباں —— حیا ایشم — قسط 5
next post
پہلا پھل برت”سہہ روزہ”: ارشد محمود

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.