تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

شادی شدہ مرد اور فلرٹ: طیبہ زیدی

by ویب ڈیسک 01/06/2017
written by ویب ڈیسک 01/06/2017
112

مرد کو مذہب نے چار شادیوں کی اجازت دی ہے، اور وہ کر بھی سکتا ہے کیونکہ یہ اختیار اس کو مذہب نے دیا ہے یہ بات الگ ہے کہ وہ ایک بیگم پر ہی التفا کرے اور شکرالحمدللہ کا ورد جاری رکھے۔
عورت ایک وقت میں ایک شادی کرسکتی ہے اور اسے ایک وقت میں ایک شوہر ہی میسر آتا ہے، اگر وہ اس شوہر سے ناخوش ہو اور نفرت کرتی ہو تو وہ خلع کا راستہ اپنا سکتی ہے۔
مرد کو عورت اور عورت کے وجود کو مرد مکمل کرتا ہے اور اس خوبصورت رشتے کو “شادی” کا نام دیا جاتا ہے۔
مرد ایک سے ذیادہ بیویاں رکھے یہ بات شاید ایک عورت کے لئے اتنا تکلیف دہ نہ ہو، جتنا اسے یہ بات جان کر رنج و غم کا سامنا ہوتا ہے کہ اس کا شوہر کسی غیر عورت سے آفس کلیگ (ساتھی) کے نام پر رات رات میسج پر اور کالوں پر مصروف رہتا ہے، گھر دیر سے آتا ہے اور نام آفس میں ضروری میٹنگ کا لگاتا ہے۔ آفس جاتے ہوئے خوش اور گھر آتے ہو افسردہ ہوجاتا ہے۔
کیا برائی ہے سچ بتانے میں؟ بیوی کی آنکھیں نہیں ہوتیں؟ دماغ نہیں ہوتا ؟ یا گونگی بہرہ ہوتی ہے؟
اور گھریلو خواتین کو تو مرد بل کل جاہل سمجھتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ بے چاری کام کی ماری ہماری پیاری بیوی لہسن پیاز کے دام اور کل کیا پکنا ہے کی فکر سے نکلے تو کچھ سمجھ آئے۔
یہ جو چوری چوری پیار کی تحریک چل رہی ہوتی ہے یہ بیوی کو بخوبی پتہ ہوتی ہے، اس پر وہ جاہ جلال اور اصول پسندانہ گفتگو کی جاتی ہے کہ بیوی آنکھیں بند کر کے ایک بار اور چانس “موقع” کی مہم پر رواں داوں ہوجاتی ہے۔
اگر گلہ کرتی ہے کہ کون ہے، کس کا میسج ہے، بار بار کال کس کی آرہی ہے تو بھرپور جواب مل جاتا ہے”شک کررہی ہو؟ اب بھلا کام ایسے ہوں تو شک کیا یقین کا سرٹیفیکیٹ دینے کو دل کرتا ہے۔
میری سمجھ سے بالا تر یہ بات ہے دل تو بیوی کا بھی ہوتا ہے، وہ بھی دو تین چار مرد حضرات سے نیک نیتی کی بنیاد پر بات چیت کرسکتی ہے، کسی کپڑے والے سے، بینک والے سے، اور سبزی والے سے جن سے اس کا سامنا آئے دن ہوتا ہے لیکن ایسا وہ نہیں کرتی۔
لیکن مرد آفس کے نام پر محبت کا کاررخانہ کھول لیتے ہیں، وہ بھی جائز کاررخانہ۔
وہ کسی کے نہیں ہوتے پھر بھی وہ سب کے ہوتے ہیں، عجیب بات ہے، فلرٹ کا کیا فائدہ؟ اگلی لڑکی بھی پیار پیار سے پاگل بن رہی ہوتی ہے، نہ یہ پتہ ہوتا ہے کہ جس سے بات کررہی ہوں کون ہے کیا ہے، اور کیا تاریخ رکھتا ہے، بس موبائل کو محبوب اور خود کو بے وقوف بنارہی ہوتی ہیں۔
سارے مرد حضرات ایسی نہیں ہوتے اور نہ ہی ساری خواتین ایسا راستہ اپناتی ہیں اپنی زندگی کو بھرپور اور خواشگوار بنانے کے لئے!
دھوکہ دہی اور بدکرداری میں فرق ہے لیکن دھوکہ بد کرداری کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے، چاہے بیوی دے یا شوہر۔
لڑکیوں سے تو بعض اوقات ان کے اکانٹس کے پاسورڈذ تک مانگ لئے جاتے ہیں، تحقیق ہی تحقیق میں تشویش کے شکار مردحضرات ایسا بھی کرتے ہیں، ہونے والی بیگم کی سم تبدیل کروالیتے ہیں، کزنز سے بات نہیں کرنی، کسی کولیگ سے بات نہیں کرنی!
میں ہوں سوپر مین” سب سے اعلیٰ و افضل میرا مقام۔
کتنی شادی شدہ خواتین فلرٹ کرتی ہیں؟ اور اس معاملے میں مرد حضرات کی کتنی تعداد ہے؟
لڑکیاں بھی کچھ کم نہیں، بے حیائی اور برائی میں، لیکن یہاں بات کرنے کا مقصد شادی شدہ جوڑوں میں بڑھتے طلاق کے رجحانات ہیں یا علیحدگی ہے، بعض اوقات تو معاملات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کی شادی کا رشتہ جوڑے رکھنا صرف شرمندگی کا باعث بن جاتا ہے کیونکہ یہ عمل جوڑوں کے درمیان لحاظ و مروت اور باہمی اعتماد و خلوص کے جذبے کو بری طرح مجروح کردیتا ہے۔
کچھ ہی مرد حضرات ہوتے ہیں جو ایسی سرگرمیوں کو رشتے میں جوڑ دیتے ہیں اور شادی کرلیتے ہیں ورنہ زیادہ تر “ٹائم پاس” وقت گزاری کے لئے گھر میں” بیگم خاص” اور باہر “گرل فرینڈ بے باک” رکھنے کو بڑی شان اور اعزاز کی بات سمجھتے ہیں، یہ بات ان حضرات کی ہے جو ایک بیگم پہلے رکھتے ہیں اور اس کی موجودگی میں دوسری لڑکی”مائی ون اینڈ اونلی” میری پیاری ایک بچاری کی تحریک چلارہے ہوتے ہیں۔
لڑکیاں شادی کے بعد ایسی سرگرمیوں میں اگر ملوث پائی بھی جاتی ہیں تو بہت کم ہیں اورا س کی سزا معاشرہ بخوبی دیتا ہے، زلت و رسوائی کی شکل میں۔
لیکن اگر مرد کسی عورت سے ملتا جلتا ہے، آفس کی ساتھی کے نام پر تو اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ وہ تو کام سے مل رہا ہے، زرا عورت کرلے یہ آفس کا کام اور پھر دیکھئےشوہر کا کہرام!
مرد حضرات سے گزارش ہے بھلے ایک بیوی اچھی نہیں تو دوسری لے آئیں لیکن بیوی لائیں، دھوکہ دہی سے ایک دوسرے کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیں۔

Facebook Comments Box
شادیفلرٹگرل فرینڈمرد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
یونانی فکرمیں سریت کا حلول: نعمان علی خان
next post
مرد، فلرٹ اور دوسری شادی: فلک شیر کا جواب

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.