گزشتہ دنوں ادارہ فروغ قومی زبان نے میرے شریک حیات محمد حمید شاہد کے ساتھ ایک مکالمے کا پروگرام رکھا جس کی صدارت محترم افتخار عارف فرمارہے تھے۔ تقریب میں بہت سے سینئر ادیب گفتگو کے لیے موجود تھے۔ محبوب ظفر پروگرام کنڈکٹ کر رہے تھے میری درخواست انہوں نے مان لی اور مجھے بھی کچھ کہنے کا موقع مل گیا مگر جب کچھ کہنے لگی تو بہت سارے خیالات آپس میں مل گئے اور جذبات میں کچھ ایسا کہا کہ سب کے بار بار قہقہے بلند ہوئے۔ ایسا ہی تب ہوا تھا جب میں نے انہیں یہ واقعہ سنایا تھا کہ ایک یونیورسٹی میں ایک پروگرام کے بعد جب لڑکیوں نے انہیں گھیر لیا اور کہنے لگیں کہ میڈم ہمیں سر بہت اچھے لگتے ہیں تو میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا تھا کہ آپ کے سر مجھے بھی بہت اچھے لگتے ہیں۔ ایک مقام پر جب میں نے یہ کہا کہ اگر میں حمید کا ساتھ نہ دیتی تو شاید یہ اس مقام پر نہ ہوتے تو محترم افتخار عارف صاحب کا بھی قہقہہ نکل گیا تھا۔ تب مجھے وضاحت کرنا پڑی تھی کہ میں نے بہت سے مردوں کو صرف اس لیے لکھنے پڑھنے سے دور ہوتے دیکھا ہے کہ ان کی بیویاں ان کا ساتھ نہیں دیتی تھیں اور وہ ضائع ہوگئے ایسا باصلاحیت عورتوں کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے جب ان کے شوہر اس کام کی اہمیت کو نہ سمجھتے ہوں۔ جو میں نے وہاں کہا یا جو میں کہنا چاہتی تھی اسے میں لکھنے بیٹھی تو اندازہ ہوا کہ لکھنا بھی کتنا مشکل کام ہے۔ یہ تحریر جیسی بھی ہے میرے خالص جذبوں کا اظہار ہے۔
ہماری رفاقت کو 38 برس ہو گئے ہیں۔ میں مڑکر پیچھے دیکھتی ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ حمید شاہد جیسے مشکل آدمی کے ساتھ زندگی کتنی سہولت سے گزر گئی۔ ایک ایسی شخصیت کے ساتھ جو بظاہر بہت منظم ہے مگر اصل میں اتنی بکھری ہوئی اور لاپروا ہے کہ مجھے اس آدمی کو پل پل سمیٹ کر رکھنا پڑا ہے۔ اگر میں ان کی پروا نہ کرتی تو جیسے وہ ہیں ویسے نہ ہوتے۔ حمید کی والدہ اور بھائی بہن بتاتے ہیں کہ وہ بچپن میں بہت شرارتی تھے اور گھروالوں کا ناک میں دم کیے رکھتے تھے؛ خوش مزاج تو وہ اب بھی ہیں مگر کون جانتا ہے کہ اگلے ہی لمحات میں وہ چھوئی موئی ہو جائیں گے۔ بیٹھے بیٹھے اپنے آپ میں گم ہو جانا اور خوشی کے موقع پر آنکھوں میں آنسو بھر لینا معمول کی باتیں ہیں۔ مجھے تو وہ کبھی کبھی اپنے آپ میں ضدوں کا مجموعہ لگتے ہیں۔ جب ہماری شادی ہوئی تھی تو بینک میں افسری کرتے ہوئے انہیں سال سے اوپر کا وقت گزر چکا تھا۔ بتیس سال بینک کی ملازمت کرنے کے بعد انہیں ریٹائر ہوئے آٹھواں سال شروع ہے مگرروپے پیسے کی بات ہو تو یوں منہ دوسری طرف پھیر لیتے ہیں جیسے شوگر کا مریض مٹھاس سے منہ پھیرتا ہے۔ حوصلے والے اتنے کہ جب بائی پاس آپریشن کا موقع آیا اور میں پریشان تھی کہ نہ جانے کل کیا ہو۔ میں ہسپتال سے انہیں صحیح سلامت لے کر دور بھاگ جانا چاہتی تھی کہ میں انہیں موت کے منہ سے ایک بار کھینچ کر واپس لاچکی تھی۔ یہ کچھ ایسے بے ہوش ہوئے تھے کہ ان کی آنکھیں چھت کو جا لگی تھیں اور زبان الٹی ہو دانتوں کے درمیان پڑی۔ میری بہو کو لگا تھا بابا اب نہیں ہیں کہ وہ میرے سامنے بے حس و حرکت پڑے تھے میں نے ان کی چھاتی پیٹ پیٹ کر سانس بحال کر رہی تھی۔ میں نے ہمت نہ ہاری تھی جب تک کہ ان کے ہونٹوں میں حرکت نہ ہوئی تھی۔ مگر بائی پاس آپریشن کا فیصلہ ہوا تو وہ اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے کر اور یہ کہتے ہوئے گہری نیند سو گئے تھے کہ میرے اپنے خدا سے بہت اچھے تعلقات ہیں اگر اس نے واپس بلا لیا تو مجھے وہ وہاں شرمندہ نہ کرے گا۔ بے حوصلے اور کمزور دل والے اتنے ہیں کہ ایک بار انہیں اپنی بھابی کو ہسپتال لے جانا پڑا اور جب انہیں ٹیکا لگایا جارہا تھا تو یہ انہیں دیکھ کر بے ہوش ہو گئے تھے۔ ایسا تب بھی ہوا تھا جب ان کے چھوٹے بھائی کو کتے نے کاٹ لیا تھا اور اسے پیٹ پر ٹیکا لگایا جارہا تھا۔ یہ بعد میں بھی بے ہوش ہوتے رہے ہیں۔ بیٹی ثنا کو چکن پاکس نکلے تو یہ کہہ کر بے ہوش ہو گئے کہ یہ بہت تکلیف میں ہوگی۔
میں انہیں اضداد کا مجموعہ اس لیے کہہ رہی ہوں کہ ایک ہی وقت میں یہ مذہبی ہیں اور مذہب سے فاصلے پر بھی۔ فجر کی نمازضرور پڑھیں گے چاہے شدید ترین سردیوں کے موسم میں یخ پانی سے وضو کرنا پڑے۔ اور باقی کی نمازوں کےاوقات میں حد درجہ لا پروا؛ جیسے ان پر بس ایک ہی نماز فرض تھی۔ باقی کی نمازیں انہیں تب یاد آتی ہیں جب ان کی امی جان ہمارے ہاں رہنے کو آجاتی ہیں۔
میں نے انہیں ماں کے ماتھے پر بوسہ دیتے اور ان کے قدموں میں ادب سے بیٹھ کر دعائیں لیتے دیکھا ہے اور اپنے والد صاحب کی یاد میں روتے ہوئے بھی۔ جب میں ان کے گھر آئی تو ان کے والد صاحب کچھ برس پہلے فوت ہو چکے تھے لیکن میں نے انہیں دیکھا ہوا تھا اور مل بھی چکی تھی۔ وہ ہمیشہ سفید لباس پہنتے تھے اور نرم مزاج کے تھے۔
کبھی کبھی یہ مجھے اپنے باپ کا عکس لگتے ہیں۔ شروع شروع میں انہیں بھی سفید کاٹن کے لباس کی عادت تھی جو میں نے بہت مشکلوں سے چھڑوائی کہ وہ ہفتے میں تین چار جوڑنے بدلتے تھے اور یہ جوڑے مجھے تیار رکھنا ہوتے تھے۔ خوش لباسی انہیں پسند ہے بشرطیکہ اس کا اہتمام میں کروں۔ آج تک وہ اپنے لیے یا میرے لیے کپڑے خرید کر نہیں لائے یہ بھی میں ہی کرتی رہی ہوں۔ بازار جانا یا شاپنگ کرنا انہیں اچھا نہیں لگتا۔ اگر مجبوری سے شاپنگ کرنا پڑے تو کچھ ایسا اٹھا لائیں گے کہ نہ تو وہ چیز پھینکی جاسکے گی اور نہ ہی کسی کام آئے گی۔ جن دنوں ہم جی نائن میں رہتے تھے بالکل سستے بازار کی سامنے والی گلی میں۔ سامنے سے ٹماٹر لانے کو بھیج دیا واپس آئے اور جونہی شاپر کھولا سارے پلپلے نکلے۔ میں نے ناراضگی کا اظہار کیا تو اس پر بھی ایک افسانہ لکھ دیا۔ تھائی لینڈ اور چین اکیلے گئے تھے؛ وہاں سے سب کے لیے تحائف خریدے کسی کو بھولے نہیں مگرجو لائے وہ کسی کےکام کے نہ نکلے۔ سچ کہوں تو وہ اس دنیا میں رہتے ضرور ہیں مگر اس دنیا کے آدمی نہیں ہیں۔
میں نے ان چار دہائیوں کے قرب میں چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر انہیں بہت زیادہ خوش ہوتے دیکھا ہے۔ سارے دکھ وہ اندر ہی اندر خود سہتے ہیں اور خوشیوں میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ وہ ڈرامے کے دکھی سین پر رو دیتے ہیں اور کوئی دکھی گیت سن کر مسکرا دیں گے۔ فجر کی نماز پڑھ کر پرانی فلموں کے گیت سن کر یوں آنکھیں بند کر لیتے ہیں جیسے مراقبے میں ہوں۔
بیٹا سفر میں ہو یا کسی بیٹی داماد کا فون نہ آئے تو بے چین ہو جاتے ہیں ؛ مگر خود انہیں فون نہیں کرتے مجھے فون کرکے خیریت معلوم کرنے کو کہتے ہیں۔ چاروں بیٹیاں ایک ایک کرکے بیاہ لیں تو ان کی تصاویر سامنے دیوار پر لگادیں۔ ان کی خوش حال زندگیوں پر خوش ہیں اور اس خوشی کے آنسو میں نے ان کی آنکھوں میں تقریباً ہر روز دیکھے ہیں۔ بیٹے کی دلہن گھر آگئی تو اسے بیٹی بنا لیا۔ بیٹیوں کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی ترغیب دی تھی سب اپنی اپنی جاب پر مصروف ہیں۔ اُدھر سے مطمئن ہو کر اب اس فکر میں ہیں کہ بہو نے جو این سی اے میں سیکھا تھا وہ ضائع نہ ہوجائے۔ اسے نئے نئے کام کی تحریک دیتے رہتے ہیں۔ اپنی کتابوں کے ٹائیٹل بھی اس سے بنوائے اور ہر آنے والے کو خوش خوش دکھاتے ہیں کہ یہ بہو نے بنائے ہیں۔
کتابیں کتابیں اور ہر طرف کتابیں۔ اگر آپ ہمارے گھر آئیں گے تو ہر طرف کتابیں نظر آئیں گی۔ اگرچہ گھر کی بیس منٹ میں لائبریری ہے اور اس میں ہزاروں کتابیں ہیں مگر نئی آنے والی کتابیں سیدھی وہاں نہیں جاتیں۔ پہلے لاونج میں آتی ہیں جہاں فیصلہ ہوتا ہے کہ انہیں مزید دیکھا جانا ہے یا نہیں۔ جنہیں پڑھا جانا ہوتا ہے وہ بیڈ روم کے اس کونے میں پہنچ جاتی ہیں جہاں لکھنے پڑھنے کی میز ہے اور لیپ ٹاپ رکھا ہوا ہے۔ لائبریری میں کتب پہنچنے کی باری آخر میں آتی ہے اور اس میں ایک سے زیادہ ہفتے لگ سکتے ہیں۔
پہلے پہل مجھے کتابیں اپنی سوکن لگنے لگی تھی مگر رفتہ رفتہ اندازہ ہوا کہ انہی میں حمید کی زندگی ہے۔ اب یہ مجھے بھی بچوں کی طرح عزیز ہیں۔ جتنا وہ پڑھتے ہیں شاید ہی کوئی پڑھتا ہوگا تاہم کھانا کھاتے ہوئے بھی جب ان کا دھیان کتاب کی طرف رہتا ہے تو مجھے کوفت ہوتی ہے۔ میں نے انہیں کھانا رغبت سے کھاتے نہیں دیکھا ؛ ٹوکنے پر کتاب سامنے سے ہٹا دیں گے مگر چور نظروں سے بار بار اس کی طرف ضرور دیکھیں گے۔
لکھتے ہوئے جیسے وہ گھر بھر کے لیے اجنبی ہو جاتے ہیں۔ کئی کئی گھنٹے بیٹھ کر لکھ سکتے ہیں۔ نیا افسانہ یا مضمون لکھنے سے پہلے اس پر سوچتے رہتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ لیپ ٹاپ کے سامنے چپ چاپ بیٹھے ہیں اور کچھ بھی ٹائپ نہیں کر رہے مگر جب لکھنا شروع کر دیں گےتو گھنٹوں لکھتے چلے جائیں گے۔ “انتخاب غزلیاتِ میر” پر کوئی چھ ماہ لگائے ہوں گے۔ رات دن ایک ہو گیا تھا۔ اپنی آپ بیتی ‘خوشبو کی دیوار” کے پیچھے بھی ایسے ہی جنون میں صرف چار ماہ میں لکھ ڈالی تھی۔ حال ہی میں انہیں محمد عمر میمن پر اکادمی ادبیات نے کتاب لکھنے کا کہا تو وہ بھی ہفتے دس دنوں میں مکمل کر دی۔ اس عادت یاجنون میں مسلسل ایک رخ پر بیٹھے سے ان کی گردن اور پشت کے مہروں میں شدید تکلیف ہونے لگی ہے جس کے لیے پروسیجر کروانا پڑا۔
میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ وہ اپنی تحریروں کا مسودہ مکمل کرنے کے بعد اس کا پرنٹ لے کر اسے بار بار دیکھتے اور بدلتے رہتے ہیں۔ جب ہاتھ سے قلم کاغذ سے لکھتے تھے تو بھی کئی بار بدلتے تھے اور پہلا لکھا ہوا ضائع کر دیتے تھے۔ جنم جہنم افسانہ انہوں نے اسی زمانے میں لکھا تھا تب ہم ماڈل ٹاؤن ہمک میں رہتے تھے۔ اکثر یہ صبح چار بجے کے بعد لکھنے بیٹھتے ہیں مگر اس افسانے کا خیال رات کے کسی پہر آیا تھا اور وہ ڈرائنگ میں جاکر لکھنے بیٹھ گئے تھے۔ جب وہ افسانہ لکھ کر فیئرکر چکے تو بچے اگلے روز سکول جاچکے تھے۔ انہوں نے خوشی خوشی مجھے آواز دی کہ دیکھو افسانہ مکمل ہوگیا۔ مجھے کچھ آنے میں دیر لگی اور اس انتظار میں وہ پہلارف لکھا ہوا پھاڑتے رہے۔ جب میں قریب آئی اور انہوں نے افسانہ سنانے کو کاغذ اٹھائے اور سر پکڑ کر بیٹھ گئے کہ جو کاغذ پھاڑے تھے ان پرفئیر کیا ہوا افسانہ تھا۔ وہ دکھ سے نڈھال ہو کر گر پڑے تھے۔ میں نے حوصلہ دیا۔ ایک ایک پرزہ پاس پاس فرش پر بچھایا تو وہ اس قابل ہوا کہ اسے دیکھ کر کاغذ پر لکھا جاسکتا تھا۔ پرزے اتنے چھوٹے تھے کہ انہیں ٹیپ لگا کر جوڑا نہ جاسکتا تھا۔ موبایل فون کا زمانہ بھی نہ تھا کہ اس کی تصویر بنا کر سہولت سے لکھ لیا جاتا۔ انہوں نے کئی گھنٹے اکڑوں بیٹھ کر اسے صاف صاف کاغذ پر اتارا تھا۔ یہ بھی بتادوں کہ میں ان کے افسانوں اور ناول کی پہلی سامع ہوں اور میں نے کہانی کے ماحول اور کرداروں کے دکھ سکھ کو ان پر اثر انداز ہوتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ وہ لکھے گئے افسانے کی کیفیت سے نکلنے میں کچھ دِن لگا دیتے ہیں۔
ایک حساس لکھنے والے کے ساتھ زندگی گزارنا کیوں آسان نہیں ہوتا اس کا اندازہ مجھے شروع کے کچھ سال گزارنے کے بعد ہوا۔ مجھے کچھ بات کرنا ہوتی اور وہ پاس ہو کر بھی پاس نہیں ہوتے تھے تو مجھے کوفت ہوتی تھی۔ بینک سے چھٹی کے بعد وہ لکھنے پڑھنے میں لگ جاتے اور مجھے بازار سے سودا سلف لانے کو بھی اکیلے جانا پڑتا تھا۔ بچوں کو سکول لے جانا لے آنا؛ خاندان بھر کی خوشیوں اور موت فوت میں شرکت یہ ایسے کام تھے جو میں انہیں مصروف دیکھ کر خود ہی کرنے لگی تھی۔ انہیں اس کا احساس تھا اور وہ شکرگزار ہوتے تو میری تھکن اتر جاتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم صرف میاں بیوی نہ رہے تھے مخلص دوست بن گئے تھے۔ اب ہم ہر موضوع پر بات کر سکتے تھے۔ میں ادبی تقاریب میں بھی ان کے ساتھ شریک ہونے لگی تھی؛ یوں زندگی کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا۔ اب اگر وہ نہ لکھ پڑھ رہے ہوں تو مجھے کوفت ہوتی ہے۔ لوگ دور دور سے انہیں ملنے آتے ہیں تو مجھے اچھا لگتا ہے۔ شاید یہی محبت ہے کہ ہم ایک دوسرے کے الگ وجود کا احساس کریں اور ایک دوسرے کی راہ میں بچھے ہوئے کانٹے چنتے چلے جائیں۔
یہ پھی پڑھیں: شناخت کا بحران (2) : اسلام اور مغرب —- نجیبہ عارف
