
مترجمین
عرض مترجم: یہ مضمون ٹی آر ٹی ورلڈ نامی ویب سائیٹ پر شائع ہونے والے ایک مضمون کا ترجمہ ہے جس میں مضمون نگار نے مختلف حقائق پیش کرکے اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) یعنی بجلی بنانے کی نجی کمپنیاں، کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں ایک ارب سے زائد لوگوں کے لیے مصیبت کا مترادف بن چکی ہیں۔ پاکستان میں توانائی کا بحران روز بروز شدت اختیار کرتا جارہا ہےاور گردشی قرضے کاحجم اڑھائی ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔ حکومت بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرتی جارہی ہے یہاں تک کہ عام آدمی کے لئے بجلی کے بل ادا کرنا ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ بیس ہزارجیسی محدود ترین آمدنی والے گھروں میں بھی پندرہ پندرہ ہزار بجلی کا بل آرہا ہے۔ حکومت بجلی چوری پکڑنے کےلئے بھی کوششیں کررہی ہے لیکن ان تمام تر حکومتی اقدامات کے باوجود گردشی قرضے کو قابو میں لانے کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو رہی۔ پاکستان کے توانائی سیکٹر کا اصل مسئلہ واپڈا کے حصے بخرے کرنا، بے سمت پالیسی سازی اور آئی پی پیز کے ساتھ کئے گئے وہ بے رحم اور عوام دشمن معاہدے ہیں جن کاذکر عوامی دائرے میں شاذ و نادر ہی کیا جاتا ہے۔ یہ مضمون پاکستان سمیت دنیا بھر کے توانائی سیکٹر کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
آئی پی پیز کیا ہیں؟ اس اصطلاح کی وضاحت کرتے ہوئے مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ 1990ء کی دہائی میں ورلڈ بنک نے زور و شور سے ان کمپنیوں کو فروغ دیا۔ یہ بجلی کی پیداوار کے انفراسٹرکچر کو نجی سرمایہ کاری (Private Investment) کے ذریعے وسیع کرتی ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سرمایہ دار، ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ آئی پی پیز کے معاہدے ایسے ہوتے ہیں جن کے تحت خریدار ملکوں کو ٹیکنالوجی ٹرانسفر نہیں کی جاتی ۔ بجلی پیداکرنے والی یہ نجی کمپنیاں اپنی بنائی گئی بجلی، سرکاری تقسیم کار (ڈسٹری بیوشن) کمپینوں کو فروخت کرتی ہیں۔ معاہدوں کے دوران حکومتوں سے یہ لامحدود گارنٹیاں (قانونی یقین دہانی) لیتی ہیں۔تمام رسک اور خطرات حکومتوں (اور عوام) پر ڈال دئیے جاتے ہیں جبکہ یہ کمپنیاں ہر حال میں منافع کماتی ہیں۔ اپنے منفی اثرات کی وجہ سے بہت سے ممالک میں ان آئی پی پیز پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔
مضمون میں استعمال ہونے والی دوسری اہم اصطلاح بجلی کی پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر کی جانے والی مالی ادائیگیاں یعنی (Capacity Payments) ہے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے یہ ادائیگیاں انتہائی پرکشش ہوتی ہیں جبکہ صارفین یعنی عوام یہ ادائیگیاں اپنے بلوں میں کرتے ہیں۔ بجلی کے بل کا ایک حصہ بجلی کی پیداوری لاگت (Fuel Cost) جبکہ دوسرا حصہ کیپیسٹی پیمنٹ پر مشتمل ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ملکوں میں کیپسٹی پیمنٹ کا یہ حصہ بجلی کے بل کے 70 فی صد تک پہنچ چکا ہے۔ یعنی بحلی کی پیداواری لاگت ہمیں موصول ہونے والے بلوں کا صرف تیس فیصد ہے۔ ان ادائیگيوں کا مقصد بینکوں سے لئے گئے قرضوں کو ادا کرنا اور آئی پی پیز کو منافع فراہم کرنا ہوتا ہے۔ حکومتوں پر ہر حال میں یہ ادائیگیاں کرنا لازم ہوتا ہے، چاہے آئی پی پیز بجلی پیدا کریں یا نہ کریں۔ اس وقت پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت (Generation Capacity)42 ہزار ميگا واٹ (پاور پلانٹس کی اکثریت آئی پی پیز پر مشتمل ہے)، زیادہ سے زیادہ بجلی کی طلب (Peak Demand)31 ہزار میگا واٹ جبکہ بجلی کے ترسیلی نظام (Transmission and Distribution System) کی صلاحیت صرف 22 ہزار میگا واٹ ہے۔ یعنی پاکستانی ریاست کو آئی پی پیز کو ادائیگیاں 42 ہزار میگاواٹ کے حساب سے کرنی پڑتی ہیں جو کہ ملک کی ضرورت اور ترسیلی نظام کی سکت سے کہیں زیادہ ہیں۔
1990ء کی دہائی میں، ورلڈ بینک نے دنیا بھر کے ملکوں کی حکومتوں پر توانائی کی منڈیوں کو آزاد کرنے کے لیے زور دینا شروع کردیا۔ کمیونسٹ سوویت یونین حال ہی میں ٹوٹ کر مختلف ریاستوں میں بٹ چکا تھا۔ اور یہ خیال کہ حکومتوں کے پاس کاروبار چلانے کے لیے کوئی وسائل نہیں ہیں، پوری دنیا میں زور پکڑ رہا تھا۔ ریاستوں پرعوامی عدمِ اطمینان کی وجہ سے ورلڈ بینک کے لیے بہت سے ممالک کو بجلی کی پیداوار کا کام نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے پر راضی کرنا آسان ہو گیا تھا۔ نجکاری کا رجحان شروع ہونے کے تیس سال بعد، یہ تجربہ ترقی پذیر اور کم آمدنی والے ممالک بشمول بنگلہ دیش، گھانا، گیمبیا، انڈونیشیا، کینیا، نائیجیریا، پاکستان،، فلپائن، روانڈا، تنزانیہ اور زیمبیا میں ایک ارب سے زائد لوگوں کے لیے مہنگے اور بظاہر ناقابل برداشت بلوں کے ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو گیا ہے۔
اِن ممالک میں ضرورت سے زائد پاور پلانٹس ہونے کے باوجود کروڑوں لوگوں کو روزانہ بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ حکومتوں کے پاس مہنگی بجلی خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں، اس لیے وہ آئی پی پیز کو ادائیگیوں کے لیے اکثر بینکوں سے قرض لیتی ہیں، اور اپنی پہلے سے ہی بھاری مقروض آبادی کو مزید قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیتی ہیں۔ نجی طور پر بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ، جنہیں پرائیویٹ پاور جنریٹرز یا انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) کے نام سے جانا جاتا ہے، کو اب عوام، سیاست دانوں اور کارکنوں کی طرف سے ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ یہ کمپنیاں پہلے سے غربت کی چکی میں پسنے والے ملکوں کے بجٹ کا ایک بڑے حصہ ضائع کر دیتی ہیں۔
لوگ آئی پی پیز (IPPs) کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں کیونکہ گھریلو اور کمرشل صارفین اِن کے ساتھ براہِ راست رابطے (Direct Contact) میں نہیں ہوتے بلکہ یوٹیلیٹی ڈسٹری بیوشن کمپنیاں (پاکستان میں انہیں بجلی کی ترسیل کار کمپنیاں یا ڈسکوز کہا جاتا ہے، جیسے فیسکو، لیکسو وغیرہ) عوام اور آئی پی پیز کے درمیان ایک واسطے (Middle Man) کے طور پر کام کرتی ہیں۔ نیز یہ کمپنیاں بجلی خریدنے کے لیے آئی پی پیز کے ساتھ معاملات طے کرتی ہیں اور صارفین سے بل وصول کرتی ہیں۔ اس وجہ سے صارفین کو بجلی پیدا کرنے والی آئی پی پیز تک براہ راست رسائی نہیں ہوتی۔ بیشتر آئی پی پیز کے مالکان کوغیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں اور ورلڈ بینک، آئی ایم ایف جیسے مالیاتی اداروں کی حمایت حاصل ہے جن کے دفاتر زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک میں ہوتے ہیں۔ عام طور پر مقامی قوانین کی پہنچ سے دور، آف شور فرموں کے ذریعے ان کمپنیز کا انتظام چلایا جاتا ہے۔ جہاں تک پاور پلانٹس کو کام کرنے کے لیے درکار ٹربائنز اور بوائلرز جیسے آلات کا تعلق ہے، تو یہ پرزے عام طور پر امریکہ، جرمنی، فرانس اور چین میں مٹھی بھر کمپنیاں تیار کرتی ہیں۔
آئی پی پیز IPPs جس کاروباری ماڈل کو اپناتی ہیں اس میں طویل مدتی معاہدوں کے تحت سرکاری یوٹیلیٹی (ڈسٹری بیوشن) کمپنیوں کو بجلی فروخت کرنا شامل ہے، جنہیں پاور پرچیز ایگریمنٹس (PPAs) کہا جاتا ہے۔ اِن معاہدات کو خفیہ اور عوامی پہنچ سے دور رکھا جاتا ہے۔ یہ معاہدات اِس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ آئی پی پیز کے مالکان کو اپنے لگائے سرمائے پر ہر صورت میں منافع حاصل ہو، چاہے ان کے پاور پلانٹس سے بجلی پیدا ہو یا نہ ہو۔ اِن مالکان کو ادائیگیاں امریکی ڈالر میں کی جاتی ہیں حالانکہ یوٹیلیٹی کمپنیاں صارفین سے مقامی کرنسیوں میں بل جمع کرتی ہیں۔ جیسے جیسے متعلقہ ملک کی کرنسی کمزور ہوتی ہے، ویسے ویسے بجلی کی قیمت میں اضافہ ہونے لگتی ہے اور سارا بوجھ عام عوام پر منتقل ہوتا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان میں بجلی کی قیمت میں تین سو فی صد تک اضافہ ہوچکا ہے لیکن اس کے باوجود پاور سیکٹر میں گردشی قرضے (Circular Debt) کا بحران حل نہیں ہو پا رہا۔
اِن معاہدات یعنی پاور پرچیز ایگریمنٹس میں (Take or Pay) کی شقیں بھی شامل کی جاتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ بجلی کی ترسیل کے ذمہ دار سرکاری ادارے کو آئی پی پی کو ہر حال میں ادائیگی کرنی ہے چاہے وہ آئی پی پی سے بجلی خریدے یا نہ خریدے۔ کروڑوں ڈالر کی مالیت کے اِن معاہدات میں وسیع پیمانے پر بدعنوانی پروان چڑھی ہے، اور کارپوریٹ مشیران (Consultants) کی ایک پوری صنعت سامنے آئی ہے جس کا کام، ملٹی نیشنل کمپنیوں کو منافع بخش پراجیکٹس حاصل کرنے میں مدد فراہم کرنا شامل ہے۔
جب بھی کسی ملک کو توانائی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، آئی پی پیز کے مشیران (کنسلٹنٹس) اِن ملکوں کے ریاستی اداروں میں اپنے تعلقات کے زریعے مضبوط لابنگ کا استعمال کرتے ہیں۔ حکومتی عہدیداروں کو پاورپوائنٹ پریزنٹیشنز پیش کرتے ہیں اور اُن سے تیز اقتصادی ترقی پر مبنی مستقبل کا وعدہ کرتے ہیں جو (اِن مشیر حضرات کے بقول) صرف اِس صورت میں ممکن ہے جب کہ بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جائے۔ چونکہ بجلی کی بندش (لوڈ شیڈنگ یا بلیک آؤٹ) سڑکوں پر احتجاج کا باعث بنتا ہے، اِس لئے حکومتیں عوامی ردعمل سے گھبرا کر آئی پی پیز کے ذریعے جلد سے جلد اور زیادہ سے زیادہ میگاواٹ (MW) بجلی گرڈ میں شامل کرنے کے لیے کوشش کرتی ہیں۔ آخر میں، بہت زیادہ پیداواری صلاحیت (Generation Capacity) خرید لی جاتی ہے اور صارفین اور ٹیکس دہندگان کو بل ادا کرنے کے لیے اِن آئی پی پیز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
ہارورڈ بزنس اسکول میں بین الاقوامی نظم و نسق International Management کی تعلیم دینے والے پروفیسر لوئس ٹی ویلز کہتے ہیں، ”مجھے یقین ہے کہ وہ (تکنیکی اور مالیاتی مشاورت فراہم کرنے والی فرمیں) مختلف معاملات میں مختلف کردار ادا کرتی ہیں، لیکن یقینی طور پر اُن کا ایک کردار کالے دھن کو سفید کرنا ہوتا ہے۔“ وہ مزید کہتے ہیں: ”آپ کنسلٹنگ فرم کو اُس کی خدمات کے لیے رقم بطور فیس ادا کرتے ہیں جبکہ اِس فیس کا ایک حصہ متعلقہ آئی پی پی کے ساتھ معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے سرکاری افسران کو رشوت کے طور پر دیا جاتا ہے۔“ یونیورسٹی آف یارک کے ایک لیکچرار، بارنابی جوزف ڈائی، جو کم آمدنی والے ممالک کے انفرا سٹرکچر کے منصوبوں پر تحقیق کرتے ہیں، کہتے ہیں: ”سیاستدان آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں میں پراجیکٹ کے 10 فیصد سے 20 فیصد تک دولت بطورِ رشوت (kickbacks) کما سکتے ہیں۔ وہ پبلک سیکٹر یعنی حکومتی نظم و نسق کے ماتحت بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ ایسا نہیں کر پائیں گے۔“ (اسی لئے ترقی پذیر ملکوں کے سیاست دان اور بیوروکریٹ آئی پی پیز کے اِن سودوں کو بہت پسند کرتے ہیں)۔
ڈمسور کی کہانی The Dumsor Saga
مغربی افریقہ کے ملک گھانا میں حال ہی میں کئے جانے والے معاہدے، آئی پی پی پراجیکٹس کے استحصال کی ایک بدترین مثال کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ مئی 2016ء میں کئی ہیوی ڈیوٹی ٹرک، جن میں سے ہر ایک 25 میگاواٹ کے جنریٹر سے لدا ہوا تھا، کو مغربی گھانا میں ایک دھول بھرے میدان میں نصب کردیا گیا۔ تاروں کے جال نے انہیں آپس میں جوڑ دیا اور اِس سرگرمی کے نتیجے میں 250 میگاواٹ کا AMERI (Africa and Middle East Resources Investment) پاور پلانٹ آپریشنل ہوگیا۔ جب اِس منصوبے کے معاہدے پر ایک سال پہلے دستخط ہوئے تھے، تو گھانا میں بجلی کی گھنٹوں طویل بندش روزمرہ کا معمول تھی۔ صورتحال اتنی خراب تھی کہ لوڈ شیڈنگ کے لیے گھانا میں استعمال کی جانے والی اصطلاح ”ڈمسور“ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ لفظ بن گیا اور اسے آکسفورڈ ڈکشنری میں بھی شامل کر لیا گیا۔

تصویر:ابتدائی طور پر یہ خیال تھا کہ بجلی کی ساری سپلائی چین کی نجکاری کی جائے۔ لیکن نجی سرمایہ کاروں نے پاور پلانٹس کو ترجیح دی، جن کا صارفین سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں ہے۔
گھانا میں بجلی کا بحران 27 اگست 2012ء کو شروع ہوا تھا، جب قزاقوں نے خلیج ِگنی (Gulf of Guinea) میں ایک آئل ٹینکر کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی۔بحریہ کی ایک گشتی ٹیم نے اُن کا پیچھا کیا تو قزاقوں نے فرار ہونے کی کوشش کی۔ اِس دوران ٹینکر کالنگر سمندر کی تہہ کے ساتھ گھسٹتا گیا اور اِس نے مغربی افریقہ کی گیس پائپ لائن کو پھاڑ دیا، جو قدرتی گیس کو نائجیریا سے گھانا پہنچاتی ہے، جہاں اُسے تھرمل پاور پلانٹس چلانے کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ گیس نہ ہونے کی وجہ سے پاور پلانٹس بند ہو گئے۔ دوسری طرف بارشوں کی کمی (Dry spell) نے اکوسومبو ڈیم (Akosombo Dam) میں پانی کے بہاؤ کو کم کر دیا تھا اور اِس سے منسلک ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کی پیداوار کو منقطع کر دیا تھا، جو تاریخی طور پر گھانا کی بجلی کا بڑا حصہ پیدا کرتا آرہا تھا۔ جب بلیک آؤٹ (طویل لوڈشیڈنگ) برقرار رہا تو اس وقت کے صدر جان مہاما کی حکومت نے بجلی کی فوری فراہمی کے لئے بہت سی آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کر دئیے۔
اس وقت تک، گھانا کی پبلک لمیٹڈ یعنی سرکاری کمپنیاں جو اپنے پاور پلانٹس چلاتی تھیں، نے ملک کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے میں ایک قابلِ قدر کام کیا تھا۔ گھانا کی 33 ملین کی آبادی میں 86 فیصد لوگوں کو بجلی کی سہولت میسر تھی۔ ہر کوئی سرکاری گرڈ سے جڑا ہوا تھا سوائے دور دراز کے دیہاتوں میں رہنے والوں کے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ گھانا کے لوگ بہت زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔ انہیں عام طور پر فریج، ٹیلی ویژن یا واشنگ مشین جیسے آلات چلانے لئے بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن گھانا نے اپنی ضرورت (Demand) سے کہیں زیادہ بجلی اپنے نیٹ ورک میں شامل کرلی ہے۔ اربوں ڈالر کے بجلی کے اِن منصوبوں میں کرپشن عروج پر ہے۔ یہ پاور پلانٹس شہر کے مضافات میں لگائے گئے ہیں اورعام لوگ نہیں جانتے کہ زہریلا دھواں چھوڑنے والے اِن پلانٹس کے اندر کیا ہوتا ہے۔ ارنابی جوزف ڈائی کے الفاظ میں یہ عوامی معاملات میں پالیسی سازی کے زریعے اربوں ڈالر منافع کمانے کا ایک کامیاب طریقہ ہے۔ سیاست دان اِس طریقے کے ذریعے آئی پی پیز سے بھاری رقوم بطور کمیشن نکلوا سکتے ہیں۔ آئی پی پیز بھی اربوں ڈالر کماتی ہیں لیکن آخر کار سارا بوجھ کمزور ریاست اور غریب عوام کے کندھوں پر لاد دیا جاتا ہے۔
AMERI (Africa and Middle East Resources Investment) پاور پلانٹ اس بات کو سمجھنے کی بہترین مثال ہے کہ اِس طرح کے مشکوک معاہدے کیسے کام کرتے ہیں۔جس شخص نے یہ معاہدہ کیا اور گھانا کی حکومت کے ساتھ شرائط پر بات چیت کی وہ ناروے سے تعلق رکھنے والا عمر فاروق ظہور نامی ایک پاکستانی نژاد شخص تھا۔ وہ AMERI کا سی ای او تھا۔ یہ ایک کمپنی تھی جو دبئی، متحدہ عرب امارات میں گھانا کے صدر مہاما کی جانب سے ٹھیکہ ملنے سے چند مہینے پہلے ہی رجسٹر ہوئی تھی۔ آگے چل کر اپنے غیر قانونی اور غیر معیاری اقدامات کی وجہ سے کالعدم ہوجانے والی اِس کمپنی کے پاس پاور انڈسٹری کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ جب یہ معاہدہ ہوا تو عمر فاروق ظہور ناروے کی پولیس کو ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے بینک فراڈ کے سلسلے میں مطلوب تھا اور انٹرپول اُس کو پکڑنے کے قریب تھی۔ ابھی حال ہی میں، عمر فاروق ظہور توشہ خانہ کی ‘گھڑی’ کے اسکینڈل کے ایک کردار کے طور پر خبروں میں تھا، جس کی وجہ سے پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو سزا اور قید ہوئی ہے۔
ظہور نے گھانا کے ساتھ جو معاہدہ کیا اُس میں AMERI نے بنیادی طور پر ایک دلال کا کردار ادا کیا۔ اُس نے ٹھیکہ حاصل کیا، پیسے کا بندوبست کیا اور اِس کے بعد تمام تکنیکی کام بشمول جنریٹرز کی خریداری اور پلانٹ کو چلانے کا کام تیسرے فریق (third party) کو سونپ دیا۔ ٹریلر ماونٹڈ جنریٹرز جنرل الیکٹرک (GE) نے تیار کیے تھے، جو کہ ایک امریکی کمپنی ہے اور توانائی کے آلات Power Equipment بنانے والا ایک بہت بڑا نام ہے۔ یہ کمپنی گزشتہ تین دہائیوں میں توانائی کے شعبے کے آزادانہ (یعنی نجی سرمایہ داروں کے ہاتھ میں جانے) کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات سے بھرپور فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں میں پیش پیش رہی ہے۔
گھانا میں TM 2500+ نامی گیس سے چلنے والے GE پاور پلانٹ کی ایک مخصوص قسم نصب کی گئی تھی۔ اگرچہ اس قسم کے پاور پلانٹس کو بہت سے ممالک میں انسٹال کیا گیا ہے، لیکن گھانا میں اسے ایک عارضی حل کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ صرف اس وقت کام آتا ہے جب بجلی کی پیداوار (generation) بڑھانے کی فوری ضرورت ہو۔ ٹرک کے ٹریلرز کے پیچھے نصب ہونے کی وجہ سے اِن جنریٹرز کی نقل و حرکت بہت آسان ہے- GE کا کہنا ہے کہ یہ جنریٹر کسی بھی نئی جگہ پر صرف گیارہ دنوں میں تیار (assemble) ہو کر بجلی کی پیداوار شروع کرسکتے ہیں۔
AMERI پروجیکٹ بووٹ (BOOT: Build, Own, Operate, Transfer) نامی ماڈل کی بنیاد پر مکمل کیا گیا ہے۔ یہ ماڈل نجی شعبے کو بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے، طویل مدت تک (عام طور پر 20 سال کے لگ بھگ) اِس کا انتظام کرنے اور منافع وصول کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ طے شدہ مدت کے بعد یہ پراجیکٹ پبلک سیکٹر کے سپرد کردیا جاتا ہے۔ یہ ماڈل عام طور پر سڑکوں، ہوائی اڈوں، پاور پلانٹس، اور پانی کی صفائی کی سہولیات جیسے منصوبوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ گھانا میں اِس منصوبےکی لاگت $510 ملین ڈالر تھی۔ ناروے کے اخبار ورڈن گینگ (VG) کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اِس معاہدے کی قیمت مارکیٹ ریٹ سے کم از کم 150 ملین ڈالر زیادہ تھی۔ گھانا میں، اِس منصوبے نے بدعنوانی کے الزامات پر شدید بحث چھیڑ دی اور بالآخر 2018 ءمیں وزیرِ توانائی بوکے اگیارکو کو اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ جہاں تک اُس وقت کے صدر مہاما کا تعلق ہے، اُنہوں نے ٹھیکہ دینے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی سے انکار کیا۔ لیکن 2016ء میں عہدے سے ہٹائے جانے کے فوراً بعد، وہ AMERI کے ایک وفد کے ساتھ بطور ملازم نمیبیا گئے جہاں یہ کمپنی بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ جیتنے کی کوشش کر رہی تھی۔ لیکن بوجوہ یہ ٹھیکہ اِس کمپنی کو نہیں مل سکا۔
تقریباً ایک درجن آئی پی پیز اب بھی گھانا میں کام کر رہی ہیں۔ اگرچہ ملک کو اتنی توانائی کی ضرورت نہیں ہے، پھر بھی اِسے پیداوری صلاحیت کی مد میں ہر ماہ بھاری ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ یہ معاہدے بدترین شرائط پر ہوئے ہیں لیکن گھانا کی حکومت کو ہر حال میں انکی پاسداری کرنی ہے۔جون 2023ء کے آخر تک، آئی پی پیز نے دعویٰ کیا کہ گھانا کی حکومت ان کے 1.7 بلین ڈالر کی مقروض ہے۔یہ حقائق اور اعدادوشمار بہت بھیانک ہیں، لیکن ریاستی اداروں اور کارپوریٹ سرمایہ داروں کی ملی بھگت پر مبنی عوامی استحصال کا یہ واحد کیس نہیں ہے جس میں چند ایگزیکٹوز اور ایجنٹوں نے پوری قوم کو دھوکہ دیا ہو۔
بجلی کی پیداواری صلاحیت (Capacity Payments) کا بحران
یہ پہلا موقع نہیں تھا جب کوئی ملک بجلی کے شدید شارٹ فال کا سامنا کرنے سے بجلی کی اضافی پیداوری صلاحیت (Excess Generation Capacity) کی طرف گیا تھا۔ گھانا کی حکومت کے پاس اِس اضافی پیداواری صلاحیت کی ادائیگی کرنے کے بہت کم ذرائع تھے سوائے یہ کہ صارفین کے ٹیرف (بجلی کے بلوں) میں زبردست اضافہ کردیا جائے۔ گھانا میں، حکومت نے گزشتہ چند مہینوں میں بجلی کے نرخوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ کیا ہے تاکہ وہ آئی پی پیز کو ادائیگی کے لیے رقم اکٹھی کر سکے۔ انڈونیشیا، نائیجیریا اور پاکستان سب ایک ہی طرح کے طریقہ واردات سے لوٹے گئے ہیں۔
لیکن اضافی بجلی کی صلاحیت ایک مسئلہ کیسے بن سکتی ہے؟ کیا کسی ملک کے لئے بجلی کی اضافی پیداوری صلاحیت (Generation Capacity) رکھنا فائدہ مند نہیں ہے؟ اگر ہمیں کسی خاص وقت میں پاور پلانٹ سے بجلی کی ضرورت نہیں ہے تو ہم اسے بند کیوں نہیں کر سکتے؟ اِن سوالات کے جوابات عوام کے پاس اکثر موجود نہیں ہوتے۔
1990 کی دہائی تک، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر ترقیاتی مالیاتی ادارے پبلک سیکٹر میں بجلی کے بڑے بڑے منصوبوں کی مالی معاونت کرتے تھے۔ ان منصوبوں، جیسے پاکستان میں تربیلا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، جو 1976 میں مکمل ہوا، کا مقصد ترقی پذیر ممالک میں پاور سیکٹر کو فروغ دینا تھا۔ منافع کمانا ترجیح نہیں تھی۔لیکن 1990ء کی دہائی کے بعد، ایک بار جب پرائیویٹ سیکٹر منظر عام پر آگیا، تو ایک نیا نظام ابھرا جو نجی سرمایہ کاری کے بدلے میں منافع کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ کاروبار اتنا منافع بخش تھا کہ نیویارک ٹائمز کی 1995ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بیان کیا گیا کہ ”جوا کھیلنے والی کمپنیوں سے لے کر سیٹلائٹ اور کیبل ٹیلی ویژن کے مالکان تک ہر کوئی پاور پلانٹس کی بولی لگانے کے لیے بھاگ رہا ہے۔“
پاور پلانٹس جیسے بڑے منصوبوں کے قانونی معاہدوں کا مطالعہ کرنے والے وکیل کنگسلے اوسی کہتے ہیں، ”آئی پی پیز کا کاروباری ماڈل یہ ہے کہ بینکوں سے قرض لے کر پاور پلانٹ لگایا جائے، بجلی ریاستی اداروں کو بیچ کر منافع کمایا جائے اور اس منافع سے بینکوں سے لیا گیا قرض ادا کیا جائے۔“ پرائیویٹ کمپنیاں پاور پلانٹ بنانے کے لیے بینکوں سے کروڑوں ڈالر قرضہ لیتی ہیں۔ پاور پلانٹ بجلی پیدا کریں یا نہ کریں، انہیں قرضوں پر سود اور اصل رقم کی ادا کرنی ہوتی ہے۔ اِسی طرح، وہ انجینئرز اور دوسرے ملازمین کو مشینری چلانے، لبریکنٹس جیسی سپلائیز کو مستقل بنیادوں پر خریدنے اور انشورنس پریمیم ادا کرنے کے لیے ہائر کرتے ہیں۔ چونکہ یہ تمام مقررہ (overhead/fixed) اخراجات ہیں؛ اِس لئے اِن کی ادائیگی ہر حال میں کرنا ہوگی چاہے کوئی پلانٹ کام کرے یا نہ کرے۔ منافع کا حصول اِس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ لہٰذا ایک بار جب پاور پلانٹ بن جاتا ہے اور گرڈ میں بجلی کی پیداواری صلاحیت (generation capacity) شامل ہوجاتی ہے تو اس پر ہر کوئی اپنے اخراجات وصول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اِس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ اُنہیں مناسب ادائیگی کی جارہی ہے، آئی پی پیز، حکومت کے ساتھ پاور پرچیز ایگری مینٹ یعنی پی پی اے پر دستخط کرتی ہیں جس میں پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر مالی ادائیگی کی شق شامل ہوتی ہے–
مثال کے طور پر، فرض کریں کہ 100 میگاواٹ پیداوری صلاحیت کے پاور پلانٹ کا معاہدہ 20 سال کی مدت پر محیط ہے، جس کے دوران حکومت، اپنی یوٹیلیٹی کمپنی کے ذریعے، پلانٹ کی صلاحیت کا 80 فیصد خریدنے کا وعدہ کرتی ہے چاہے حالات کچھ بھی ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر نیشنل گرڈ سو میگا واٹ پیداواری صلاحیت کے حامل پاور پلانٹ سے ایک میگاواٹ بھی نہیں لے رہا ہے، تو بھی حکومت (حقیقت میں بل ادا کرنےوالی عوام) پلانٹ کے مالک کو 80 میگاواٹ کی ادائیگی کررہی ہوتی ہے۔
اِن معاہدات میں عام طور پر کسی بھی قسم کی ترمیم کی گنجائش نہیں ہوتی۔ نیز ان معاہدات پر دو طرفہ سرمایہ کاری کے بین الاقوامی قوانین (Bilateral Investment Treaties) کے تحت من وعن عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ قوانین نجی کمپنیوں کو بین الاقوامی مرکز برائے سرمایہ کاری تنازعات کے تصفیہ (International Center for Settlement of Investment Disputes) میں حکومتوں کے خلاف مقدمہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ عالمی بینک کی زیرِقیادت اِس ثالثی عدالت میں کیس ہارنے کے نتیجے میں حکومتوں کو سینکڑوں ملین ڈالر جرمانے اداکرنے پڑ سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ حالیہ برسوں میں پاور پروڈیوسرز نے ترقی یافتہ ممالک جیسا کہ نیدرلینڈز اور اسپین کی حکومتوں کو بھی اِس عدالت میں گھسیٹا ہے۔
ایک منیاری کے دوکاندار کی بیٹی (A Grocer’s Daughter):
آئی پی پیزنے اپنا اثرورسوخ کیسے اتنا وسیع کر لیا ہے، یہ جاننے کے لئے ہمیں آنجہانی برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کے دورِ حکومت کا جائزہ لینا پڑے گا۔1980 کی دہائی میں تھیچر نے بطور وزیراعظم، پانی اور بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں سمیت مختلف سرکاری کمپنیوں کی نجکاری شروع کردی۔ جب 1989ء میں وہ اقتدار سے الگ ہوئی تب تک 40 سے زیادہ پبلک سیکٹر کمپنیاں، بشمول برٹش ٹیلی کام، نجی ہاتھوں میں جاچکی تھیں۔ اِس دوران ہزاروں کارکنوں کو نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ دوسری طرف بحر ِاوقیانوس کے اْس پار امریکی صدر رونالڈ ریگن برسراقتدار آچکے تھے۔ تھیچر کی طرح، وہ بھی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے اداروں پر ریاستی ملکیت کے مخالف تھے اور اُن کا خیال تھا کہ آزاد منڈی (Free market) اپنا خیال خود رکھ سکتی ہے اور یہی اصول ایک آئیڈیل معیشت کے لئے ضروری ہے۔
سرکاری ملازمین کی عالمی یونین پبلک سروسز انٹرنیشنل کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈیوڈ بوائز کہتے ہیں۔
”آپ جانتے ہیں، مارگریٹ تھیچر ایک سٹور کے مالک کی بیٹی تھی۔ اُس کےسیاسی فلسفے میں (ملٹن فریڈمین مکتبہ فکر سے آنے والوں کی طرح) بنیادی اصول یہ تھا کہ انسانوں کو فری مارکیٹ کے قیام کی صورت میں ہی حقیقی آزادی مل سکتی ہے۔ ایسے حالات میں وہ اپنی قوتِ خرید کا مظاہرہ کرنے کے لیے آزاد ہونگےاوروہ اپنی قوت خرید کا استعمال کرتے ہوئے، کمپنیوں کو اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔“
لیکن یہ فارمولا توانائی کے شعبے میں بالکل کام نہیں کر سکا۔آزاد منڈی کے حامیوں کے لیے، بجلی کی منڈی کا آزاد ہونا مکمل نجکاری کی طرف پہلا قدم تھا۔ ورلڈ بینک نے پاور سیکٹر کے حِصے بَخرے کرنے (unbundling) یعنی پاور سیکٹر کے مختلف شعبوں (بجلی کی پیداوار یعنی جنریشن، لمبے فاصلے تک ترسیل یعنی ٹرانسمیشن اور صارف تک ترسیل یعنی ڈسٹری بیوشن) کو الگ الگ کردینے کی تجویز پیش کی۔ دوسرے لفظوں میں ”ان بنڈلنگ“ کا مطلب بجلی کی سپلائی چین (supply chain) میں جنریشن، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کی اکایئوں کا الگ کرنا اور پھر انہیں نجی سرمایہ داروں کو فروخت کرنا لیا جاتاہے۔ پاکستان میں یہ عمل 1990ء کی دہائی میں واپڈا کی ان بنڈلنگ کی صورت میں تکمیل پذیر ہوا۔
ماضی میں عوامی سطح پر واپڈا جیسے سرکاری اداروں نے پاور پلانٹس چلانے (جنریشن) سے لے کر ہائی وولٹیج تاروں (وہ بڑے ٹاورز جنہیں آپ شہر کے مضافات میں دیکھتے ہیں) پر بجلی کی ترسیل(ٹرانسمیشن) اور اُسے صارفین کو فروخت کرنے(ڈسٹری بیوشن اور بل وصولی) تک سب کچھ کیا۔ لیکن اب بجلی کی پیداواری منڈیوں پر نجی پاور یوٹیلیٹی کمپنیوں نے اپنی اجارہ داریاں قائم کرلی ہیں- چونکہ آپ کے گھر میں بجلی لانے والی دو الگ الگ پاور کیبلز نہیں ہو سکتیں۔ اس لئے سپلائی چین کے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن حصوں میں پرائیویٹ کمپنیوں کے درمیان مسابقت کو فروغ نہیں دیا گیا۔ چنانچہ یہ بجلی کی پیداوار تھی —یعنی پاور پلانٹس— جو نجی سرمایہ کاروں کے لیے آسان اور پرکشش ہدف بن گئے۔
ان ابتدائی سالوں میں، ورلڈ بینک کے ماہرین نے آئی پی پی ماڈل کے حق میں لمبی لمبی رپورٹیں لکھیں۔ وہ کسی ملک کی اِقتصادی ترقی کے لیے ایک ماڈل بناتے ہیں اور آنے والے سالوں میں اُس کے گھرانوں اور کارخانوں کو درکار تمام بجلی کا حساب لگاتے ہیں۔ اُن کے بقول حکومت خود یہ کام نہیں کر سکتی۔ امریکی محکمہ توانائی کے سابق ڈپٹی اسسٹنٹ سکریٹری، رابرٹ آئیکورڈ کا کہنا ہے کہ توانائی کی منڈی کو آزاد کرنے سے پبلک سیکٹر پر دباؤ کم ہوا، جو بدعنوانی اور سیاسی مداخلت کی وجہ سے حکومتی پیسے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ آئیکورڈ، اُن عہدیداروں میں شامل تھے جنہوں نے 1980 ءاور 1990ء کی دہائیوں میں انرجی مارکیٹ لبرلائزیشن کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1986ء میں، اُنہوں نے بجلی کی نجی پیداوار کے اِس ماڈل کے حق میں دلائل دیتے ہوئے پاکستان میں ’پرائیویٹ سیکٹر پاور اینڈ ڈسٹری بیوشن پروجیکٹ‘ کے عنوان سے ایک مَقالہ بھی لکھا۔ رابرٹ آئیکورڈ کے مطابق آج جو ممالک آئی پی پیز کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار ہیں اُن میں بنیادی مسئلہ کرپشن کا عروج پر ہونا ہے۔ مزید یہ کہ اُن میں سے بہت سے ممالک میں بجلی کے شعبے پر سبسڈی کا بوجھ ہے کیونکہ بجلی، صارفین کو اُس کی اَصل قیمت سے کم پر فروخت کی جاتی ہے اور اِن ممالک میں بجلی چوری بھی عروج پر ہے۔
ایک اور چیز جس نے آئی پی پیز کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران میں اضافہ کیا ہے وہ ہے ایندھن کی بلند قیمت۔ دنیا بھر میں زیادہ تر آئی پی پیز تھرمل پاور پلانٹس ہیں۔ وہ بھاپ بنانے کے لیے تیل، گیس یا کوئلے کو بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں، یہ بھاپ بجلی پیدا کرنے کے لیے ٹربائنوں کو چلاتی ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی بجلی کی قیمت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن سیاستدان، ووٹروں کے ردعمل سے خوفزدہ ہو کر، صارفین کے ٹیرف میں اضافہ نہیں کرتے۔ جیسے جیسے خسارہ بڑھتا ہے، حکومتیں آئی پی پیز کو رقم کی ادائیگی کرنے کے لیے مسائل کا شکار ہونے لگتی ہیں۔ترقی پذیر ممالک میں اِن تھرمل پاور پلانٹس کی تعمیر کے لیے پیسہ زیادہ تر امیر ممالک سے آتا ہے۔ اِس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کینیا جیسے ممالک جِن کو بجلی کی ضرورت ہے اِن کے پاس سرمایہ کاری اور کروڑوں ڈالر فراہم کرنے کے لیے سرمایہ دار نہیں ہیں۔
ہارورڈ بزنس اسکول کے لوئس ٹی ویلز، جو آئی پی پیز پر ایک اَہم کتاب کے شریک مُصنف ہیں، کہتے ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کار جب ترقی پذیر ممالک میں پیسہ لگاتے ہیں تو واپسی کی زیادہ شرح منافع (Rate of Return)کا مطالبہ کرتے ہیں، کیونکہ وہ سرمایہ کاری کے لیےاِن مقامات کو بہتر نہیں سمجھتے۔ اِس طرح وہ اپنے سرمائے کو محفوظ بناتے ہیں۔ آپ توقع کرتے ہیں کہ سرمایہ کار بھی اپنی سرمایہ کاری (investment) پر کچھ خطرہ مول لے گا۔ لیکن یہاں تمام تر خطرہ (Risk) حکومت پر منتقل ہو گیا ہے۔
مشرقی ممالک کی منڈیوں کی تلاش (Looking Eastwards):
یہ صرف سرمایہ کاروں کا سرمایہ ہی نہیں تھا جو نئی منڈیوں کی تلاش میں تھا۔ترقی پذیر ممالک میں آئی پی پیز کا عروج اُس وقت ہوا جب امیر ممالک سے بجلی کے سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیوں کو شمالی امریکہ اور یورپ کی مارکیٹوں سے آرڈر ملنے ختم ہوچکے تھے۔ اُنہیں اپنے تھرمل پاور پلانٹس بیچنے کے لیے نئے صارفین کی ضرورت تھی۔جنرل الیکٹرک، فوسٹر وہیلر، کمبسٹنگ انجینئرنگ، جاپان کی ماروبینی اور جرمنی کی سیمنز جیسی بڑی توانائی کی فرمیں، جو کہ بجلی پیدا کرنے والی مشینری اور خدمات فراہم کرتی ہیں، نئے صارفین کی تلاش میں کوشاں تھیں۔ اور یہ سب جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت یعنی انڈونیشیا میں قدم جمانا چاہ رہی تھیں۔
14 اپریل 2013 کو، سادہ کپڑوں میں ملبوس دو ایف بی آئی ایجنٹوں نے نیویارک کے JFK ہوائی اڈے پرصنعتی پلانٹس بنانے والی فرانسیسی دیوہیکل کمپنی آلسٹام Alstom کے ایک سینئر ایگزیکٹو فریڈرک پیروچی Pierucci کو گرفتار کرلیا۔ پیروچی ایک معمول کے کاروباری دورے کے بعد سنگاپور سے امریکہ پہنچے تھا۔ اگلے دو سال پیروچی کو انڈونیشیا میں تارہان پاور پروجیکٹ سے متعلق رشوت لینے کے جرم میں امریکی جیل میں گزارنے پڑے۔ آلسٹام دنیا کے سب سے بڑے ایٹمی بجلی گھر بنانے والی کمپنیوں میں سے ایک تھی۔ یہ اُن بوائلرز کو بنانے میں بھی مارکیٹ لیڈر تھی، جو کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کا ایک اہم جُزو ہے۔ 1990ء کی دہائی میں، انڈونیشیا، جہاں کوئلے کے بڑے ذخائر موجود ہیں، نے کوئلے سے چلنے والے درجنوں پاور پلانٹس کے معاہدے کیے۔ برسوں سے، آلسٹوم، جنرل الیکٹرک، مٹسوئی اور چینی بجلی کا سامان بنانے والی کمپنیاں وہاں پراجیکٹس حاصل کرنےکے لیے مقابلہ کرتی رہی ہیں۔

ظہور جیسے مڈل مین یا کنسلٹنٹ بجلی کی پیداوار کے اِن سودوں (agreements) کو حاصل کرنے کی کلید تھے۔ وہ طاقتور سیاستدانوں کے ساتھ مل کر کام کرتے تھےاور سازوسامان بنانے والی کمپنیوں کے لیے راہ ہموار کرتے تھے۔ ایسے معاہدوں میں کرپشن عروج پر تھی۔ سابق صدر سہارتو کے تمام چھ بچوں کے اِن نجی پاور پلانٹس میں حصص (shares) تھے۔ Alstom نے سوئٹزرلینڈ میں ایک ذیلی ادارہ بھی قائم کیا جس کے توسط سے اِن مشیران (consultants) کو ادائیگیاں کی گئیں جنہوں نے کمپنی کو سیاستدانوں تک رسائی حاصل کرنے اور بولیاں (tenders) جیتنے میں مدد کی۔
اگرچہ پیروچی پر کبھی بھی سیاست دانوں کو براہ راست رشوت دینے کا الزام نہیں لگایا گیا ، لیکن اِس پر الزام یہ تھا کہ اُس نے آلسٹوم کے لیے ٹھیکے حاصل کرنے میں مدد کرنے کے لیے ایک مڈل مین کو رقم کی ادائیگی کی اجازت دی۔ایک سال سے زیادہ جیل میں گزارنے کے بعد، اسے ایک پلی بارگین میں رہا کیا گیا۔ رہا ہونے کے بعد شائع ہونے والی اپنی کتاب ‘دی امیریکن ٹریپ’ میں پیروچی نے لکھا کہ اُس کی گرفتاری کا مقصد فرانسیسی فرم پر دباؤ ڈالنا تھا کہ وہ بجلی بنانے سے متعلق اپنے کاروبار کو امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک کو فروخت کردے۔ یہ کہانی پاور پلانٹ کے آلات فراہم کرنے والی اور انجینئرنگ فرموں کی اندرونی چپقلش کے بارے میں بھی ہمیں آگاہ کرتی ہے۔ امریکی حکام نے فارن کرپٹ پریکٹسز ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر جرمنی کی سیمنز (SIEMENS) اور جاپان کی ہٹاچی (HITACHI) سمیت دیگر ممالک کی پاور کمپنیوں کو باقاعدگی سے ہدف بنایا ہے– یہ ایک ایسا قانون ہے جو کسی بھی کمپنی پر لاگو کیا جاسکتا ہے جو کہ کسی نہ کسی طرح امریکی مارکیٹ سے جڑی ہوئی ہو۔
پیروچی کی کتاب اس مرکزی خیال کے گرد گھومتی ہے کہ امریکہ باقی دنیا کی معیشتوں کو ناکام کرنے کے لئے کون کون سے خفیہ ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔ پیروچی کے بقول:
”میرا سوال یہ ہے کہ یہ امریکی کمپنیاں پچھلے پچاس سالوں سے اپنے ہاتھ ایک بار بھی گندے کئے (یعنی قانون کی گرفت میں آئے) بغیر اپنےکاروبار کو محفوظ کیسے بنا رہی ہیں؟ اس سوال کا صرف ایک ہی جواب ہے کہ ان کمپنیوں کو امریکی سفارت کاری کی پشت پناہی حاصل ہے۔ مثال کے طور پر،2010ء میں، جنرل الیکٹرک کو جنگ کے غیر معمولی حالات میں ایک دوطرفہ معاہدے کے تحت (یعنی ٹینڈر کے زریعے کھلی بولی جیتے بغیر) عراقی حکومت کو $3 بلین ڈالر مالیت کی گیس ٹربائنیں فروخت کرنے کا موقع ملا۔ “
پچھلی تین دہائیوں میں، انڈونیشیا نے آئی پی پی سرمایہ کاری کے کئی دور دیکھے ہیں۔ ہر گزرتے دور کے ساتھ یہ خدشات سامنے آرہے ہیں کہ قومی گرڈ میں ضرورت سے بہت زیادہ بجلی شامل کر دی گئی ہے۔انسٹی ٹیوٹ فار انرجی اکنامکس اینڈ فنانشل اینالیسس کے جکارتہ میں مقیم تجزیہ کار پوترا ادھیگونا کا کہنا ہے کہ نئے پاور پلانٹس اِن مفروضوں پر بنائے گئے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ کارخانے بننے اور اقتصادی ترقی سے توانائی کی طلب میں اضافہ ہوگا۔یہ جاننا مشکل ہے کہ بجلی کے نظام میں اتنی زیادہ پیداواری صلاحیت شامل کرنے کی اصل وجہ کیا ہے اور کیا یہ خالصتاً معاشی ترقی کے بارے میں حکومتی غلط اندازوں کی وجہ سے شامل ہوئی؟ لیکن اس بات کا بھی امکان ہے کہ اس میں سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کے کچھ ذاتی مفادات موجود ہوں جن کی وجہ سے وہ نجی کمپنیوں کو 25 سالہ گارنٹی شدہ ادائیگیوں کے ساتھ کوئلےیا تیل سے چلنے والےبہت سے پلانٹ بنانے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ عوام کو اِس کی تکنیکی سمجھ نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ لیکن اب ہم بجٹ پر (اِس کے مَنفی) اثرات دیکھ رہے ہیں۔
گھانا کے معاملے کی طرح انڈونیشیاکے سرکاری یوٹیلیٹی فراہم کنندہ ادارے PLN نے آئی پی پیز کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ PLN کو اب کپیسیٹی پیمنٹس کی مد میں ہر ماہ IPPs کو کروڑوں ڈالر ادا کرنے پڑتے ہیں۔ بہت سے انڈونیشیائی یہ کہانیاں سنتے ہوئے بڑے ہوئےہیں کہ کس طرح امریکی حمایت یافتہ ڈکٹیٹر سوہارتو اور اُن کے رشتہ داروں نے 1990ء کی دہائی میں Paiton-1 جیسے پاور پروجیکٹس سے اربوں ڈالر کمائے۔ لیکن PLN اِس سب کے باوجود آئی پی پیز کے ساتھ 2015ء کے بعد سے 35ہزار میگاواٹ کے نئے معاہدوں پر دستخط کرچکا ہے۔
ماہرین کے مطابق کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کے ساتھ کئے گئے معاہدےانڈونیشیا کی گرین (ماحول دوست) توانائی کی طرف منتقلی کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ جکارتہ صرف امید ہی کر سکتا ہے کہ آئی پی پیز انڈونیشیا کے قومی خزانے اور عوام پر ناقابل برداشت مالی بوجھ ثابت نہیں گے جیسا کہ قرضوں میں ڈوبے زیمبیا کے ساتھ ہوچکا ہے۔
جب تک قرض کا بوجھ ناقابلِ برداشت نہ ہوجائے (Till debt do us apart):
نومبر 2020ء میں، CoVID-19 وبائی مرض کے عروج پر، افریقی ملک زمبیا اپنے ذمے واجب الادا قرض ادا نہ کرسکنے کی وجہ سے دیوالیہ ہوگیا۔ یوں زمبیا دیوالیہ ہونے والا پہلا افریقی ملک بن گیا۔ زمبیا نے اپنے غیر ملکی بانڈ ہولڈرز کو 42.5 ملین ڈالر واپس کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اُسےعوامی صحت کی دیکھ بھال کے نظام اور اپنے لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے فنڈز کی ضرورت ہے۔ یہ کیس اِس حقیقت کو سمجھنے میں مددگار ہوسکتا ہے کہ کرونا وبائی مرض نے کم آمدنی والی معیشتوں کو کس حد تک نقصان پہنچایا۔ زمبیا کا معاملہ عالمی رہنماؤں کے لیے بحران کے شکار ممالک کے لیے قرض کی بحالی کے بارے میں بات چیت شروع کرنے کا ایک اہم محرک بن گیا۔
زمبیا اِس وقت متعدد غیر ملکی قرض دہندگان کا 17 ارب ڈالر سے زائد کا مقروض ہے، جس میں بلیک راک جیسی سرمایہ کار کمپنیاں اور چین جیسے قرض دہندگان ممالک شامل ہیں۔ جو بات بہت سے لوگ نہیں جانتے وہ یہ ہے کہ زمبیا کےمسلسل بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ کے پیچھے ایک اہم وجہ آئی پی پیزکے ساتھ ہونے والے معاہدے بھی ہیں۔ زمبیا صرف چارآئی پی پیز کا 1.7 ارب ڈالر کا مقروض ہے۔
زمبیا میں آئی پی پیز ایک نسبتاً نیا رجحان ہے۔ چند سال قبل تک، بجلی کی کل پیداوار میں نجی شعبے کا حصہ صرف 5 فیصد کے قریب تھا لیکن دیگرترقی پذیر ممالک کی طرح 2015 ءتک یہ حصہ 24 فیصد تک پہنچ چکا تھا۔ بجلی کی پیداوار میں نجی شعبے کی شراکت میں اضافہ بنیادی طور پر حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کو دی جانے والی مراعات کی وجہ سے ہوا۔ مثال کے طور پر، برطانیہ میں قائم گریٹ لیکس افریقہ انرجی (Great Lakes Africa Energy Company) نامی فرم، جو کہ 105 میگاواٹ کے نڈولا پاور پلانٹ کے زیادہ ترحصص کی مالک ہے،وہ سرمایہ کاری پر 25 فیصد تک منافع لیتی ہے۔زمبیا میں آئی پی پیز کو ٹیکس مراعات بھی حاصل ہیں۔ یہ کمپنیاں مشینری کی درآمد پر لیوی ادا نہیں کرتیں۔ حکومت خود آئی پی پیز کے لیے کروڑوں ڈالر مالیت کی ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائنیں بچھا رہی ہے، جو بڑے شہروں تک بجلی پہنچانے کے لیے طویل فاصلے طے کرتی ہیں۔زمبیا اور آئی پی پیز کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے تحت، حکومت پاور پلانٹس کو ایندھن کی فراہمی کی ذمہ داری بھی خود لیتی ہے۔
ورلڈ بنک اور ایشین ترقیاتی بنک جیسے مالیاتی امداد کے ادارے اور غیر ملکی تربیت یافتہ مشیر چاہتے ہیں کہ ہر کوئی اس بات پر یقین رکھے کہ آئی پی پیز لوگوں کو اندھیروں سے نکالنے میں مدد کر سکتی ہیں۔ زمبیا کے انرجی ریگولیشن بورڈ میں خدمات انجام دینے والے توانائی کے ماہر جان سٹون چکوانڈا کہتے ہیں کہ ”افریقہ میں پبلک سیکٹر زیادہ کار آمد نہیں ہے۔ہمیں سرکاری شعبے کی ناکامی کی وجہ سے نجی سرمایہ کاری کی ضرورت تھی۔ ہمیں اِس بات کا علم ہو گیا تھا کہ بجلی کی فراہمی کے سرکاری اداروں پر مکمل انحصار کرنے سے ہم پورے ملک کو بجلی فراہمی نہیں کرسکیں گے۔“
پبلک سیکٹر کی افادیت کے بارے میں اِستدلال ناقص (لیکن منظم اور کامیاب) طریقے سے ترویج دیا جا رہا ہے۔ خسارے میں چلنے والے ریاستی ادارے کوئی ایسا تجربہ نہیں ہیں جونیا ہو اور صرف زمبیا تک محدودد ہو۔ بلکہ کم و بیش تمام ترقی پذیر ممالک میں یہی صورت حال ہے کہ جان بوجھ کر عوامی ملکیت کے اداروں کو ریاستوں اہلکاروں کی نااہلی اور بددیانتی کے باعث ناکام کیا جارہا ہے تاکہ اِن اداروں کو عالمی اور مقامی سرمایہ داروں کو کوڑیوں کے بھاؤ بیچا جاسکے۔ ورلڈ بینک اور اُس کے مشیران (Consultants) اکثر نجی ملکیت والے آئی پی پیز کے لیے راہ ہموار کرنے کے لئے نجی شعبے کے فضائل بیان کرتے رہتے ہیں۔ لیکن یورپی ممالک کی اکثریت میں، بجلی کا گرڈ اب بھی عوامی ہاتھوں (پبلک سیکٹر کے کنٹرول) میں ہے۔ فرانس میں، بجلی پیدا کرنے والی سب سے بڑی کمپنی EDF ہے، جو کہ ایک سرکاری کمپنی ہے۔ سپین میں بھی ایسا ہی ہے۔دوسری طرف جان سٹون چکونڈا، جو بجلی کی منڈی میں نجی شعبے کی شرکت کی حمایت کرتے ہیں، اعتراف کرتے ہیں کہ بجلی کی پیداوار کا موجودہ آئی پی پی ماڈل ناقص ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ ”میری سفارش یہ ہے کہ ہمیں بجلی کی خریداری کے معاہدوں میں سے کچھ ناگوار شقوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ نہ صرف زمبیا میں بلکہ ہر جگہ ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔“
لیکن ان معاہدات میں ترامیم آسان نہیں ہوں گی۔ آئی پی پیز مہنگے وکلاء کی فوج کو اپنے پے رول پر رکھتی ہیں۔ کمترمالی اور افرادی قوت کے وسائل والے ریاستی ریگولیٹرز معاہدات کی تکنیکی پیچیدیگیوں سے متعلق بنیادی سمجھ بوجھ سے بھی عاری ہوتے ہیں۔اس لئے وہ ثالثی عدالتوں میں آئی پی پیز کی قانونی ٹیموں کا مقابلہ نہیں کرپاتے اور ثالثی عدالتیں ، معاہدوں کی مبینہ خلاف ورزی کے جرم میں حکومتوں کو اکثر بھاری جرمانوں کی سزا سناتی ہیں۔ کمزور معیشتوں کے لیے وقت ختم ہو رہا ہے۔ اِس سال پاکستان کو کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں تقریباً 5 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں۔ کینیا میں، حکومت آئی پی پیز کو ادائیگی کے لیے فنڈز کی فراہمی کے لئے جدوجہد کر رہی ہے۔ اور بنگلہ دیش میں، جس نے پچھلے سال، ہر گاؤں میں بجلی پہنچانے کا سنگِ میل عبور کیا ہے، ریاستی حکام آئی پی پیز کے ساتھ ضرورت سے زیادہ معاہدوں پر دستخط کرنے کے فیصلے پر اَفسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔ ڈھاکہ میں مقیم توانائی کے تجزیہ کار، شفیق العالم کہتے ہیں، ’’یہ مضحکہ خیز بات ہے کہ ہمارے ملک میں پیداواری صلاحیت اتنی زیادہ ہے، لیکن پھر بھی اسے لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔“
اصل مضمون کا لنک:-
https://www.trtworld.com/magazine/how-commercial-power-companies-are-wreaking-havoc-in-developing-countries-14932557
