سالار کی عمر یہی کچھ ڈیڑھ سال ہی رہی ہوگی جب اس کے والدین اسے لے کر شہر آگئے تھے۔ کچھ ان کہی اور ناگفتی وجوہات کی بنا پر گامے عرف گل زمان کی سوتیلی ماں نے مٹھی بھر دعائیں اور ایک نصیحت اس کے پلو سے باندھ کر عین مغرب کے وقت اسے گھر سے رخصت کر دیا تھا۔ حالانکہ آج سے نصف صدی پیشتر مغرب کے وقت کسی کو گھر سے رخصت نہیں کیا جاتا تھا۔ لیکن کوثر نے اپلوں سے بھری ٹوکری کٹھالی کی منڈیر پر رکھتے ہی اپنی سگی بہو اور سوتیلے بیٹے سے کہہ دیا کہ جس قدر جلد ممکن ہو وہ اپنا جو کچھ بھی جسے وہ سامان کہہ سکیں سمیٹ کر گھر اور گاؤں سے نکل جائیں۔
گامے عرف گل زمان اور ناہید نے ایک نظر ایک دوسرے کو دیکھا اور چپ چاپ سامان کہی جانے والی چیزوں کی ایک گٹھڑی باندھ لی اور اماں سے جو بھلے سوتیلی تھی لیکن ماں تھی اجازت لی اور ان دیکھی ان جانی منزل کی جانب روانہ ہوگئے۔ اماں نے دوپٹے کے کونے میں بندھی سب پونجی بہو کی ہتھیلی میں ایسے دی جیسے کسی جرم کا ارتکاب کر رہی ہو۔ اس نے سوئے ہوے پوتے کے سر ماتھے کو چوم کر دروازہ بھیڑ دیا۔ گامو کا خیال تھا کہ ان کے راستے میں چونکہ رات اتر رہی ہے اس لیے اس کی آنکھوں میں دھند سی اتر رہی ہے۔ لیکن ناہید کا خیال اس سے الگ تھا۔ کیونکہ وہ دیکھ سکتی تھی کہ گامے عرف گل زمان کی آنکھوں میں اترا ہوا پانی دنیا اور اس کی نظروں میں آنسو تھے۔ لیکن درحقیقت وہ اس کا ملال تھا۔ جو اس کے اندر سے پگھل کر بہہ نکلا تھا۔ گامے عرف گل زمان کی بیوی بڑی حیرت کے ساتھ اسے تکے جارہی تھی۔ وہ اس بات کو سمجھنے سے بالکل قاصر تھی کہ کیا وجہ ہے کہ گاما عرف گل زمان رو بھی رہا ہے اور مسکرا بھی رہا ہے۔ وہ اگرچہ رونا تو چاہتا ہے لیکن کوئی نادیدہ قوت یا خیال اس کا دامن کھینچ رہاہے۔ وہ اندر ہی اندر رو بھی رہا ہے لیکن وہ اس حقیقت کے اظہار سے نظریں چرا رہا ہے۔ ناہید کبھی گامے کو دیکھتی کبھی اپنے ڈگمگانے قدموں کو سنبھالتی جو اس (گامے) کی رفتار کا ساتھ نہ دے سکنے کی وجہ سے پھسل پھسل جاتے تھے۔ دونوں چلتے چلتے اندھیرے کے گہرے غبار میں اتر گئے۔ اور ان کے پیچھے آنے والے یا پیچھے رہ جانے والے اب بالکل نہیں جان سکتے تھے کہ گاما عرف گل زمان اس کی بیوی ناہید اور بیٹا سالار کدھر چلے گئے۔
شہر میں اسے کن حالات کا سامنا کرنا پڑے گا اس بات کا اندازہ پلیٹ فارم پر قدم رکھتے ہی اسے ہو گیا تھا۔ آنے والے دنوں سختی اور بے حسی اس نے پلیٹ فارم کی سنگی پشت پر محسوس کرلی تھی۔ وہ گاؤں سے پہلی بار شہر آیا تھا اور شہر اور اس کے باسی گامے سے اور گاما ان سے نا آشنا تھا۔ وہ جو چہرے دیکھ رہا تھا اور جو اس کےآس پاس سے گزر رہے تھے ان میں اپنائیت اور شناسائی کو کوئی جھلک نہیں تھی۔ وہ ان چہروں کے آئینے میں اپنی شناخت کا متلاشی تھی لیکن خود کو دریافت کرنے کے عمل سے نا آشنا تھا۔ وہ بےز بان بھی تھا کہ لفظوں سے اپنا کوئی پیکر تراش کر کسی کے سامنے رکھ سکے۔ شہر کی تیز رفتار و یک سمتی زندگی اس کے اعصاب کو جنجھوڑ رہی تھی وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر تھا کہ اتنے زیادہ لوگ ایک سمت سےآتے جارہے ہیں اور ایک ہی سمت میں چلے جارہے ہیں۔ سب ایک دوسرےسے بے رخے اور بیگانے سے دکھائی دیتے ہیں۔
وہ گجر دم ریلوے سٹیشن پر اترا تھا دن بھر وہ پلیٹ فارم سے گزرتے لوگوں کے چہرے دیکھتا رہا۔ سورج اب ایک طرف ہٹ کر شہرکے دوسرے کنارے پر شفق پھیلا رہا تھا۔ اب ا س کے سفید براق حصار میں انگارے سی دہکتی نارنگی تیزی آ گئی تھی۔ ایک تیز رفتار گاڑی اس کی سمت بڑھتی جاتی تھی جب کہ وہ (سورج) لین کے سرے پر بے فکرا کھڑا تھا۔ گامے عرف گل زمان کا خیال تھا کہ گاڑی شاید اسے کچل دے گی۔ لیکن وہ وہی استادہ تھا پوری آب و تاب اور استقامت کے ساتھ۔ گامے عرف گل زمان کو شہر کی زندگی کے پہلے روز کے اختتام پر سورج یہ پیغام دے رہا تھا کہ اگر تم استقامت دکھاو تو عالم کی کوئی چیز تمہاری راہ کھوٹی نہیں کرسکتی۔ سو گامے عرف گل زمان نے اماں کی دی گئی نصیحت کے ساتھ اسے بھی اپنے قلب کی کارنس پر سجا لیا۔
وہ رات شب ہجراں کی طوالت کو بھی مات دے رہی تھی۔ گاماں خود کو انگاروں پر جلتا بھنتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ اپنی بے توقیری اور بے بسی کے انگاروں پر۔ قریب ہی گٹھری کے ساتھ گٹھڑی ہوئی بیوی اور اس کی گود میں ممتا کے حصار میں خوابیدہ سالار کی سکینت اس کے لیے قابل رشک تھی لیکن نیند اس کی پلکوں پر بوجھ نہیں ڈالتی تھی۔ ہوش پکڑنے سے اب تک اس کی زیست میں ہوا ہر واقعہ اس کے سامنے ایک ریل کی مانند چل رہا تھا۔ یونہی بے دھیانی کی ڈور سے بندھا پتا نہیں وہ کب اپنی جگہ سے اٹھا اور چلنے لگا۔ چند ہی قدم کے فاصلے پر اس نے ایک متروک شدہ کیبین دیکھا جس میں کھجور کے پتوں کی بنی ایک چٹائی بھی پڑی تھی۔ اسے لگا جیسے قدرت نے اس کے لیے مسکن تراشا ہو۔ ابھی ابھی عدم کی پہنائیوں سے کلمہ کن کی صدا بلند ہوئی اور یہ گھروندہ متشکل ہو گیا۔ وہ جلدی سے واپس آیا نیند اور بیداری کی کسی درمیانی منزل پر ڈولتی زوجہ کو بیدارکیا سامان کی گانٹھ اٹھائی اپنے محل کی ڈیوڑھی میں اتر گیا۔ اسے یوں لگا جیسے زمانے کے شدید لہروں کے تھپیڑوں سے بچ کر وہ کسی پرسکون جزیرے پہ اتر آیا ہو۔ اس کے وجود میں دہکتے انگارے اب مدہم ہونے لگے۔ لیکن نیند اس سے کوسوں دور تھی۔ ناہید اس کی مردانگی کے قلعے میں آسودہ ہو گئی۔ یہ کو ئی الوہی شب تھی۔ جس میں اگرچہ چاند نہیں تھا لیکن چاندنی کی ایک چھٹک سی پائی جاتی تھی۔ گامے کو اپنا مستقبل ایک مستقل اندھیرے میں دکھائی دے رہا تھا۔ بناو بھگاڑ کی اسی ادھیڑ بن پر اذان کی دستک نے اسے ہشیار کر دیا۔ غیر ارادی طور پر اذان کی آواز کی طرف لپکتا وہ مسجد پہنچ گیا۔ نماز اداکر کے نمازی مسجد کے نکل رہے تھے جب اس نے خالی خالی نظروں سے آسمان کی طرف دیکھا۔ اس کی نطروں میں کوئی شکائت نہیں تھی۔ کوئی شکوہ نہیں تھا۔ بس مولوی صاحب کی سکھائی ایک دعا کا عکس تھا۔ خدایا میں فقیر تیری دستگیری کا طالب ہوں۔ میں خود کو تری پناہ میں دیتا ہوں۔تو میرا ٓمین ہے۔ ربا تو میرا پالنہار ہے۔ میرا پاس میر ا کچھ بھی نہیں سب تیرا ہی ہے۔ بس تو مجھ پر اپنا رحم بنائے رکھنا۔ اے مالک میں بے گھر ہوں بے آسرا ہوں۔ اور تیرا ہی دامن ہے جس میں پناہ مل سکتی ہے۔ گامے کی زبان پر اس دعا ایک حرف بھی نہیں تھا بس اس کے یقین کے گہرے پانیوں پر اس دعا کا عکس جھلملا رہا تھا۔
گزری ہوئی کل کو جاری صبح پر رکھ ناپ تول کرتے ہوئے گامے عرف گل زمان کی آنکھ لگ گئی تھی شائد، اور ناہید عجلت میں باندھی گٹھڑی کے اجزاء کا جائزے میں محو بھی جب سالار اس کی نظر سے اوجھل ہوا اور پلیٹ فارم کی طرف چلنے گا۔ کراچی سے گود لیے مسافروں کو لاہور کے سٹیشن پر اتار کر ٹرین سستا رہی تھی اور مسافر اپنی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھے سٹیشن پر زندگی اپنے پورے امکانات اور رنگینی کے ساتھ جلوہ نما تھی۔ اسی ہنگام رستا خیز میں سے ایک پارسی سیٹھ اور اس کا ایک ملازم تیز قدم اٹھاتے اسی طرف آرہے جہاں گامے عرف گل زمان اپنے مستقبل کے خواب اجال رہا تھا اور ناہید اپنے ماضی کی بوسیدگی کو ٹٹول رہی تھی۔ دونوں کی نظروں سے اوجھل اور پارسی سیٹھ کے وجود سے غافل اپنی ہی موج میں مگن سالار مٹی اور کنکروں سے کھیل تراش رہا تھا جب وہ پارسی سیٹھ کے تیز قدم میں رکاوٹ بن گیا تھا۔ گام عرف گل زماں، ناہید اور سیٹھ تینوں جس آواز پر چونک اٹھے تھے وہ سالار کے رونے کی آواز تھی۔ اور تینوں اس بات سے ناواقف تھے۔ سالار کا ہاتھ سیٹھ کے پیر کے نیچے آیا ہے یا پاؤں، یا اس کی ٹھوکر نے اس کی ننھی سے انا کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ سیٹھ سالار کے رونے سے بوکھلا گیا تھا اور گاما عرف گل زمان اور ناہید اس کے رونے سے پشیمان۔ سیٹھ معذرت خواہانہ نظروں سے انھیں دیکھ رہا تھا جو دست بستہ اُ س سے معافی کے خواستگار تھے کہ ان کا بیٹا اس کی تیز روی میں مخل ہوا تھا۔ ان دونوں اور ان کے حالات کو دیکھ سیٹھ کے پہلو میں کسی نادیدہ ہاتھ نے چٹکی کاٹ لی تھی کہ یہ تیرے مطلب کا جوڑا ہے۔ انھیں لگے ہاتھ اٹھا لے ورنہ ہاتھ ملتا رہ جائے گا۔ اور سیٹھ نے بہ عجلت انھیں نہ صرف معاف کر ڈالا بلکہ اپنے ہاں ملازمت و رہائش کی پیش کش بھی کرد ی۔ تحیر خوف بن کر گامے عرف گل زمان اور ناہید کے چہرے پر جم گیا تھا۔ اور سیٹھ کے ملازم کی حلق میں اٹک گیا تھا۔ سیٹھ کے دوبارہ استفسار پر ناہید نے پوچھا اور کھانا۔ سیٹھ ہنسنے لگا۔ وہ تو تم پکاؤ گی اور ہم کھائیں گے۔ گامے کو اپنی دعا کے نقد قبولیت پر حیرت تھی تو ناہیدکو قسمت کی دستگیری پر تعجب ہو رہا تھا۔
سیٹھ جس کے بیوی بچے کراچی اٹھ گئے تھے اور وہ خود کو لاہور سے اور لاہور کے اپنے دل نہیں نکال پار ہاتھا سو اسے محض اپنا جی بہلانے کو کسی ساتھ کی ضرورت تھی جو ٹھوکر بن کے اس کے قدم سے آملا تھا۔ اور اس نے اسی ٹھوکر سے اپنی دلبستگی کا سامان پیدا کر لیا تھا۔ ملازم جو سیٹھ کی فیکٹری کا مینیجر تھا وہ گامے عرف گل زمان کو گھر کے دیکھ ریکھ کے معاملات کا ابتدائی سبق پڑھا گیا تھا اور باقی کو شام کے وعدے میں لپیٹ کر گامے عرف گل زمان کی ہتھیلی پر دھر گیا تھا۔ اس نے دونوں میاں بیوی کو باور کرا دیا تھا کہ سیٹھ کی خوشنودی کا مطلب ہے کہ ان کی آئندہ کی سات نسلیں سنور جائیں گی۔ اور خود سپردگی و جاں نثاری کی مٹی سے گوندھے ہوئے گاما عرف گل زمان اور ناہید سیٹھ کی آواز کا زیروبم، وجود کا سایہ اور نظر کا اشارہ ہو گئے تھے۔ اور نہائیت قلیل سی مدت میں وہ سیٹھ کے گھر کے دروبست میں سما گئے تھے۔ گامے عرف گل زمان نے اپنی پہلی تنخواہ کا جو منی آرڈر اپنی سوتیلی ماں کے نام بھیجا تھا وہ کچھ دنوں کے بعد اس متعلقہ ڈاک خانے کے منشی کے ان الفاظ کے ساتھ واپس آگیا تھا کہ ’’یابندی اس دار فانی سے کوچ کر گئی ہے لہذا بلاتقسیم واپس جاوے‘‘ مینجر کے منہ سے یہ الفاظ سن کر گام عرف گل زمان یہ سمجھ گیا تھا کہ نمبردار نے اماں کو کانٹا سمجھ کو راہ سے ہٹا دیا ہے۔ وہ بس بیٹھا زمین کریدتا رہا اس کی زبان سے کوئی لفظ نکلا نہ آنکھ سے کوئی آنسو پھوٹا تھا۔ دل ہی دل میں اس نے عہد کر لیا تھا کہ وہ ناہید سے کبھی اس بات کا ذکر نہیں کرے گا۔ کیونکہ اسے اپنی سگی ساس سے بے حد محبت تھی۔ وہ اس کے مامے کو دوسری بیوی جو تھی۔ اس کی سگی مامی اور ساس۔ گاما عرف گل زمان زمین کریدتا رہا اور سوچتا رہا کہ وہ اور اس جیسے دوسرے لوگ اتنے بے بس کیوں ہوتے ہیں۔ اس جی چاہ رہا تھا کہ کاش اس کا بس چلے اور وہ نمبردار کو اپنی کھردری ایڑھی تلے چیونٹی کی طرح مسل کےرکھ دے۔
سیٹھ اور سالار کی پکی پکی یاری ہو گئی تھی۔ جیس مرزے جٹ کی اور اس کی بکی کی یاری تھی۔ اور اس کہانی میں سیٹھ بکی تھا اور سالار مرزا جٹ۔ ! سیٹھ نے سالر کو ایک کانونٹ سکول میں داخل کرادیا تھا۔ اور بکی سواری کے مزے لیتے لیتے سالار نے ایم یس سی کا امتحان بی پاس کر لیا تھا اور منصفی کا بھی۔ سیٹھ کی خوشی دیدنی تھی۔ بکی کا سوار پہلے نمبر پر آیا تھا۔ بکی کو سوار پر ناز تھا اور سوار کو بکی پر مان۔ جبکہ گاما عرف گل زمان اور ناہید بس مسکین سی شکل بنائے انھیں دیکھتے تھے۔ اور مسکراتے تھے اور لگتا تھا کہ سالار ان کا بیٹا نہیں بلکہ اس حویلی کا کوئی صاحب سرکار ہے۔
پاسپورٹ آفس سے نکل کر گام عرف گل زمان اور ناہید ضلع کچہری اپنے بیٹے سے ملنے چلے گئے۔ ماں کی شدید خواہش تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو منصفی کرتے دیکھے۔ سعادت مند بیٹے نے دونوں کی انصاف کی اونچی کرسی پر بٹھایا اور خود ان کے پہلو میں کھڑا ہو کر ایک کیس کی سماعت کرنے لگا۔ ہرکارے نے عدالت کے دروازے سے نکل کر برآمدے میں بلارا کیا ’’نمبردار غالب بنام زلیخا بی‘‘ اور گامے عرف گل زمان نے مدھم ہوتی نظروں سے نمبردار غالب کو اپنے پہلو میں کھڑے جج صاحب کے حضور اسی سیس نواتے دیکھا جیسے کبھی وہ خود اس کے دروازے پے کھڑے ہو کر نواتا تھا۔ اس نے نمبردار غالب کو نظر بہ قدم اپنے بیٹے کے سامنے مغلوب دیکھا۔ اس کے خون کی روانی تیز ہوگئی تھی۔ جج صاحب نے بس کھڑے کھڑے شہادتوں، گواہوں بیانات اور محکمہ مال کے ریکارڈ کی روشنی میں نمبردار غالب کی نالش کو خارخ کرنے کا مختصر حکم صادر کیا۔ نمبردار کے وکیل نے بہت جرح کی لیکن اس کے پاس بس باتوں کا بھنڈار تھا۔ حق سچ کی گواہی تھی نہ کاغذ کے سینے پر درج کوئی ثبوت۔ گامے عرف گل زمان کا کلیجہ ٹھنڈا تو ہو گیا تھا کہ جس نے اس کی سوتیلی مگر ہمدرد ماں کو کاٹھ کے شعلوں میں لپیٹ کر دفنا دیا تھا۔ وہ آج اسی کے سگے پوتے کے سامنے دست بستہ و گردن نہادن کھڑا تھا۔ یہ کاروائی دیکھ کر اس کا جی بھر گیا تھا۔ دونوں میاں بیوی نے بیٹے سے اجازت لی اور گھر کو رووانہ ہوگئے۔ جونہی ان کی ضلع کچہری کے صدر دروازے سے باہر نکلی اور اس نے رفتار پکڑی تو اچانک سے ایک حواس باختہ سا شخص ان کی کار سے سامنے کود گیا۔ گاما عر ف گل زمان فرنٹ سیٹ پر بیٹھا یہ منظر دیکھ رہا تھا اور اس کی طرف والا پہیہ اس شخص کو کچلتا ہوا نکل گیا تھا۔ گامے عرف گل زمان نے باہر نکل کر دیکھا تو نمبردار غالب کا لاشہ خون میں لت پت پڑا تھا۔ اور اس سے کافی فاصلے پر کھڑے گامے عرف گل زمان نے اپنے پائنچے اوپر کر لیے تھے اور قدم فوراً پیچھے کھینچ لیے تھے جیسے نمبردار غالب کا سر اس کے پاؤں کے نیچے آکر کچلا گیا ہو۔
ختم شد۔۔
