Connect with us

بلاگز

سیاسی پولرائزیشن اور عمران خان —– ارشد محمود

Published

on

عمران خان درحقیقت کیا ہیں یہ تو وہ خود جانیں یا اللہ۔ تاہم اس وقت انکی وجہ سے پوری قوم تین دھڑوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔ سیاسی عمل میں دلچسبی لینے والی عوام میں سے بڑی اکثریت (نوجوانوں) عمران خان کے ساتھ نظر آتی ہے بالخصوص انکی حکومت کو جس طرح ختم کیا گیا اس سے انکی ناقص کارکردگی کے باوجود ہمدردیاں انکے ساتھ چلی گئی ہیں۔
دوسرا دھڑا (ساری دینی و سیاسی جماعتوں کے قائدین اور انکے ڈائ ہارڈ سپورٹرز) اسکے خلاف ہے۔ جبکہ تیسرا دھڑا (نیوٹرل) لاتعلق ہے۔ گو کچھ نیوٹرلز کی نیوٹریلیٹی بھی بری طرح ایکسپوز ہوئ ہے تاہم یہ تقسیم اظہر من الشمس ہے۔ معاشرہ میں یہ پولرائزیشن نئی ہے نہ بلاوجہ۔ وجوہ وہی پرانی اور بنیادی ہیں۔ مادی وسائل پر قبصْہ اور سروائیول کی جنگ۔

حُب عمران والے تو خیر انکی محبت میں کچھ سننے سمجھنے کو تیار نہیں کہ محبت و عقیدت کا المیہ ہے اس میں محب و قائد میں عیب نظر نہیں آیا کرتے۔ تاہم بُعصْ عمران والے بھی انہی کی طرح دوسری انتہا پر پیں۔ رہے لاتعلق تو انہیں شاید دونوں دھڑوں نے مایوس کیا ہے یا شاید اممیچورٹی کی وجہ سے انہیں سیاسی جدوجہد کی اہمیت کا شعور ہی نہیں۔

کیا سوچنے والے اذہان نے کبھی غور کیا کہ عمران خان برطانیہ جیسے مہذب معاشرہ میں زندگی کا ایک بڑا حصہ گزار کر جب یہاں آئے تو کیسے جذباتی، بدزبان اور صْدی بن گئے ؟ یہ آہم سوال ہے جسکا جواب شاہد ہماری سیاسی تاریخ اور سیاستدانوں کے طرز سیاست میں پنہاں ہے۔

راقم کو ذاتی طور پر عمران خان کے بہت سارے معاملات میں ان سے شدید اختلاف ہے تاہم انکے فالورز کی کثیر تعداد کو یکسر غلط کہنا میرے نزدیک خلاف جمہوریت و انصاف نہ ہوگا۔
انصافینز بھی اسی کی طرح اس منافقانہ طرز سیاست و معاشرت سے نکونک ہیں جیسے عمران خان 20 سالہ اصولی سیاست کے بعد ہوئے۔ اور کسی نے کیا خوب کہا کہ "محبت لوگوں کو اتنی تیزی سے کسی کے خلاف اکٹھا نہیں کرتی جتنا نفرت”۔

جس طرح عالمی و مقامی اسٹیبلشمنٹ ایکسپوز ہوئیں اس سے ان کے خلاف یہ ماحول انکا اپنا پیدا کردہ ہے۔

پچھلے 75 سالوں سے یہ ظالم سامراجی طاقتیں اور مقامی اشرافیہ عوام کو بےوقوف بنا کر بیٹھی ہے۔ اب اگر کوئ ان کے خلاف علم بغاوت بلند کر رہا ہے تو اسکی پذیرائی کوئ ایسا اچنبہ بھی نہیں ہے۔ عالمی سیاست کی منافقت انکے اپنے میڈیا اور سوشل میڈیا کی وجہ سے کافی حد تک ایکسپوز ہوئ ہے۔ عالمی سپر پاور کا دوہرا معیار شعوری سطح پر اب پوری دنیا کے سوچنے والے اذہان پر پوری طرح آشکار ہو رہا ہے۔

اگر آپ کہیں کہ شرافت کے اصولوں سے انکا مقابلہ کیا جا سکتا تھا تو آپ بہت سادہ ہے۔ شخصی اور اجتماعی سطح پر مزاحمت کرنے والوں کی ناکامی اور حال سب کے سامنے ہے۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ عالمی سامراج اوراس کی چھتر چھایا میں پلتی پاکستانی اشرافیہ مع انکے کاسہ لیس صحافیوں، مولویوں، تاجروں، صنعتکاروں، زمین داروں، وڈیروں اور راشی افسران کے، عمران خان کی اس لئے مخالف تو نہیں کہ وہ بھی انہیں انہی کی زبان میں جواب دے رہا ہے۔ اور ان سب کی ملی بھگت سے قائم اس انسانیت کش عالمی سیاست اور ملکی سطح پر مجہول پارلیمانی جمہوری کھیل میں انہیں اگر کسی سے حقیقی خطرہ ہے تو وہ عمران خان سے ہے؟

Advertisement

Trending