تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

ملک بچانا ہے یا ملائیت؟ —– عطا محمد تبسم

by دانش ڈیسک 19/04/2021
written by دانش ڈیسک 19/04/2021
94

ریاست جب اپنے کردار کا تعین نہ کرسکے، اور عوامی مطالبات کو اپنے اقتدار کے حصول کے لیے استعمال کرے، اور انھیں دھوکہ دے اور اپنے وعدوں سے مکر جائے تو عوام کے پاس اپنے جائز مطالبات کو منوانے کے لیے کیا باقی رہ جاتا ہے۔ گذشتہ دو دن سے ان مطالبات میں شدت ہی نہیں آئی، بلکہ اب گولیاں چل رہی ہیں، شہادتیں ہورہی ہیں، خون بہہ رہا ہے، اور آگ لگی ہوئی ہے۔ لیکن کسی کے پاس نہ مصدقہ اطلاعات ہیں، نہ ایسی اطلاعات قومی میڈیا پر نظر آرہی ہیں، افواہوں کا ایک سیلاب ہے، جو ہر آن آپ کو واٹس ایپ، سوشل میڈیا، یو ٹیوب، ٹیوٹر، اور مسیج کے شکل میں مل رہا اور عوام اس میں بہے چلے جارہے ہیں۔

اس وقت میڈیا اخبارات اور ذرائع ابلاغ کے ادارے اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر ہیں، ریاست میں ابلاغ کے تمام مصدقہ ذرائع کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔ جس سے قومی یک جہتی پارہ پارہ ہورہی ہے۔ سچ وہی ہے جو پریس نوٹ میں لکھا ہے۔ ،، کسی دوسرے فریق کا کوئی موقف ہے، نہ وہاں کی حقیقی صورت حال کے بارے میں کوئی مستند معلومات، جھوٹی خبریں، تصاویر، ویڈیوز کے بھرمار ہے۔ پارٹی پروپیگنڈہ ہر طرف اس طرح دھند کی طرح پھیلا ہوا ہے کہ اس میں سچ کو ڈھونڈنا مشکل ہوگیا ہے۔ معاہدہ کیا تھا، کب ہوا، اس میں کیا لکھا ہے۔ یہ بات قومی اسمبلی کے ارکان کو بھی نہیں معلوم، مطالبات کے بارے میں بھی کچھ نہیں پتہ کہ احتجاج کرنے والے اور دھرنا دینے والے کیا چاہتے ہیں۔ لیکن اس بات کی گونج سب سے زیادہ ہے، اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ مظاہرین کی اکثریت ختم نبوتﷺ اور ناموس رسالتﷺ کے پروانے اور ان پر کٹ مرنے کا عزم لیے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے قیام کے بعد ریاست نے وہ ذمہ داری نہ پوری کی، جس کے لیے عوام نے جدوجہد کی تھی اور یہ خطہ حاصل کیا تھا۔ رمضان کا مقدس مہینہ اور جس انداز میں لاہور میں دھرنا ختم کرانے کے لیے آپریشن کیا گیا ۔ اس نے ہر مسلمان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ختم نبوت اور ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے پروانوں پر گولیاں برسانے والوں نے دنیا اور آخرت میں اپنے منہ پر سیاہی پھیر لی۔ ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والوں کے لیے یہ ایک سیاہ داغ ہے، جو ان کی پیشانی پر ہمیشہ لگا رہے گا۔

ہماری قومی تعمیر میں ایک خرابی مضمر رہی اور وہ مذہب کو وطنیت یا قومیت کی بنیاد سمجھنا تھا جس کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں۔ لیکن ہم اس طرف اشارہ کرنا بھی مناسب نہیں جانتے۔ ہمارا سارا زور انتظامی نااہلی پر ٹوٹتا ہے جو اپنی جگہ ایک مسئلہ ہے پر بنیادی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر اس ریاست کی بنیاد مذہب ہے تو پھر اس پر پیش رفت کرنی ہوگی۔ مدرارس کے علماء تمام کے تما م ملائیت کے نظریات نہیں رکھتے۔ ان میں اچھے پڑھے لکھے معتدل افراد بھی ہیں۔ لیکن سب کو ملاء کہنے سے اور ملائیت کا طعنہ دینے سے بات نہیں بنتی۔ قادیانیوں کا ایک بہت فعال گروہ اس وقت لوگوں کو اسلام، مذہب، اور مساجد اور مدارس سے برگشتہ کرنے کے لیے دن رات سرگرداں ہیں۔ وہ فائینل راونڈ کی تیاری کررہے ہیں۔ اس گروہ کا موقف یہ ہے کہ بالاآخر فائنل وقت آ پچار ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ “ہمارے سامنے دو آپشن ہیں۔ ملک بچانا ہے۔ یا ملائیت کو بچانا ہے؟۔ اگر ہم ملائیت کو بچاتے ہیں تو ملک ہاتھ سے نکل جاے گا جس کے نتیجے میں ملائیت بھی فنا ہوجاے گی۔ جب ملک ہی نہ ہوگا تو ملائیت اپنی موت آپ مرجاے گی۔ ملائیت کی جگہ مسلح جتھے لے لیں گے۔” عوام کو ڈرایا جارہا کہ،، ان مسلح جتھوں کا نشانہ ہمارے وہ پڑھے لکھے لوگ ہونگے جو آج ان مسلح تنظیموں اور جتھوں کے خلاف خاموش ہیں۔ بلکہ اسلامی بننے کے فیشن میں ان کو سپورٹ بھی کرتے ہیں،، لیکن اصل بات جو اس میں پوشیدہ ہے وہ یہ کہ پاکستان کو اس کی بنیاد سے ہٹا دیا جائے، اس ملک کی بنیاد اسلام ہے، ریاست جب تک اس جانب پیش قدمی نہیں کرے گی، اس وقت تک یہی ہوتا رہے گا، اور کوئی بھی جماعت یا لیڈر مسلمانوں کے ان جذبات سے ضرور کھیلے گا، ریاست نے خود اس ملک میں انتہاء پسندی کے بیج بوئے ہیں، آج جن سے وہ پیچھا چھڑانے کے درپے ہیں، انھیں کھاد پانی مٹی اور گملے ریاستی اداروں نے فراہم کیے ہیں۔ آج ریاست ہر طرح کی انتہا پسند تنظیموں کی پشت پناہی سے کنارہ کش ہوجائے ۔ یہ سب اپنی موت آپ مر جائیں گے۔ سیاست میں ہر طرح کی پولٹیکل انجینئرنگ سے باز آجائیں، سیاست دانوں کو پارلیمانی نظام میں بر ا بھلا کرنے دیں، عوام ان سے خود نمٹ لیں گے۔ اپنے پسند کے لیڈر اور پارٹی لانے کے ان تجربات کو اب ختم کردیں، معیشت، تعلیم اور صحت کو بنیاد بنا کر ملک کی ترقی کے لیے کام کریں۔ تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
فیمنزم اور لکھاری کی ترجیح : مقامی مسائل یا تنقید مغرب؟ —- وحید مراد
next post
اسلام اور مغرب کے مابین مکالمہ: اہل علم کی آرا —- راجہ قاسم محمود

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.