تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

دکھوں کی متلاشی قوم‎ — علی عمر عمیر

by دانش ڈیسک 12/01/2021
written by دانش ڈیسک 12/01/2021
163

ہم کب تک دکھ کے پیچھے بھاگتے پھریں گے؟

ہم دکھی نہیں ہوتے تو بھی فیشن کے طور پر بُوتھا سُجائے پھرتے ہیں، پُھکّڑ بنے پھرتے ہیں۔ جس طرح امیروں نے گھروں میں کُتے پالے ہوتے ہیں، ویسے ہی ہم نے دکھ پالے ہوتے ہیں۔ ہر شام دکھ زنجیر سے باندھ کر ہم اپنے ساتھ گھمانے کے لیے کسی پارک لے آتے ہیں، ٹہلتے جاتے ہیں، ٹھنڈی آہیں بھرتے جاتے ہیں اور پھر گھر واپس چلے جاتے ہیں۔

آج ایک بہت ہی مشہور شاعر کا انٹرویو سُن رہا تھا۔ فرماتے ہیں “دکھ آپ کو شاعر بناتا ہے”۔ سُن کر بہت دُکھ ہوا۔ یار خدا کے لیے!! یہ اُنیس سو چِروکڑاں والا دور نہیں ہے۔ آپ اس دھرتی پر ظلم کرتے ہوئے اگر آخر شاعر بن ہی گئے ہیں تو خدارا دکھ کی ماں بہن تو سلامت رہنے دیں۔ شکر ہے وہ شاعر مشہور شاعر تھے، اچھے شاعر نہیں تھے۔ ورنہ دُکھ کا انسانوں پر سے اعتماد اٹھ جاتا۔

یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر دکھی نہ رہیں تو پریشان ہو جاتے ہیں اور دکھی ہو کر اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ انہیں دُکھوں سے محبت ہے۔ اگر کہیں سے دکھ نہ مل رہے ہوں تو خود کو سوئی چبھو کر زور سے اُوئی کر کے دُکھی ہو جاتے ہیں۔

ہمارے کچھ دوستوں کو عجیب عجیب دکھ لاحق ہیں۔ مثلاً ساتھ والے احمد صاحب کا اے سی ہمیشہ خراب رہتا ہے۔ ہفتے میں دو بار بنواتے ہیں اور مہینے میں بنوانے پر اتنا خرچہ کر دیتے ہیں کہ آدھا نیا اے سی آ جائے، ہمیشہ اسی دکھ میں گُندھے نظر آتے ہیں لیکن تبدیل اس لیے نہیں کرتے کہ ان کی پچھلی مرحومہ بیوی کی نشانی ہے۔ بھئی بیوی نئی کر لی آپ نے تو اے سی بھی نیا ہی کر لیں۔۔ لیکن خیر۔

مجھے آج تک کوئی معقول دکھی انسان نظر نہیں آیا۔ مطلب جو معقول بھی ہو اور دکھی بھی ہو تو وہ دکھی ہوتا تو ہے، دکھی نظر نہیں آتا۔ لیکن کبھی کبھار لامعقول لوگ دکھوں کے معاملے میں معقول نظر آنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھی نہ نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں اور یوں کھسیانی بلی کھمبا نوچے جیسی کہاوتیں وجود میں آتی ہیں۔ میں نے عاقب چوہدری پر ایک مضمون لکھا تھا۔ عاقب چوہدری کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں، اُس مضمون میں چرس پر عاقب چوہدری کے فلسفیانہ ردعمل کی بات کی گئی ہے جبکہ میں نے عاقب چوہدری جیسا دکھی انسان بھی نہیں دیکھا۔ وہ چار سال پہلے یونیورسٹی میں آیا تھا، اُس نے اپنے پہلے بیج والوں کو ڈگریاں لے کر پاس آؤٹ ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور ہر مرتبہ اپنے نئے کلاس فیلوز کو یونیورسٹی میں آنے والے چار سال کی مشکلات اور مراحل بتاتا ہے۔ “یہ کیا سیاپا ہے یار!!!!”۔ “سیاپا” اُس کا تکیہ کلام ہے۔ ہر کوئز اس کے لیے سیاپا ہے، اسائنمنٹ ہو یا پریزنٹیشن، اس کے لیے سب سیاپا ہے۔ سیاپے کا مطلب اس کی ڈائری میں دکھ ہے۔ جب بھی کوئی سیاپا پڑتا ہے تو اس کے پیشانی پہ تین چار لکیریں پڑ جاتی ہیں، ہونٹوں کو بھینچ کر منہ اور نتھنوں کو پھلا لیتا ہے، ہاتھ اٹھا کر اپنی گردن کو پیچھے سے پکڑ کر دباتا ہے اور کہتا ہے “یہ کیا سیاپا ہے یار”۔

ہمارے دوستوں کو عموماً کسی گہرے دُکھ نے جکڑا ہوتا ہے۔ انہیں کوئی لڑکی چھوڑ گئی ہوتی ہے، ان کے دوستوں نے انہیں دھوکے دیے ہوتے ہیں، ان کی زمانے میں وقعت نہیں ہوتی، ان کی آستینوں میں بٹن نہیں ہوتے سانپ ہوتے ہیں، انہیں اپنی غربت کا دکھ ہوتا ہے، انہیں اپنے آنسو خشک ہو جانے کا دکھ ہوتا ہے، یہ شربت کو شراب سمجھ کر پیتے ہیں اور دکھ مناتے ہیں۔

آپ اگر سچ مچ دکھی ہونا چاہتے ہوں اور کوئی معقول وجہ نہ مل رہی ہو تو کسی لامعقول وجہ سے دکھی ہو جایا کریں۔ دکھی ہونے پر کوئی ٹیکس نہیں۔ اُلٹا ہر وقت دکھی رہنے والا شخص لوگوں میں فلسفی اور بردبار(برباد نہیں) مشہور ہو جاتا ہے۔ ہر وقت ٹھنڈی ٹھنڈی آہیں بھرا کریں۔ بات کرتے ہوئے ایک ادا سے سر کو جھکا لیا کریں۔ مسکراتے ہوئے خیال رکھا کریں کہ آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی تیر رہی ہو۔ وصی شاہ کے “اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں” جیسے اشعار یاد کر لیں اور موقع بے موقع ہر مخاطب کے منہ پر زریون کی گلی کے بچوں والے مصرعے مارا کریں۔ اگر مزید دکھی ہونا ہو تو یاسرہ رضوی کی غزم پڑھ لیا کریں۔۔۔۔۔ افاقہ ہو گا۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اسرائیل سے تعلقات غیراخلاقی اور فلسطینی جدوجہد سے متصادم ہے —– اسد ابوخلیل، حویدہ عراف
next post
پاکستانی نصاب تعلیم : فیمنسٹ ماہرین کے نرغے میں — وحید مراد

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.