تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

غامدی صاحب : میری ملاقاتیں اور خط کتابت ۔۔۔۔۔۔ دوسری قسط

by دانش ڈیسک 30/07/2020
written by دانش ڈیسک 30/07/2020
85

قرآن فہمی کے اصول کیا ہیں؟ ایک ملاقات میں محترم الغامدی صاحب سے میں نے یہ سوال کیا تھا۔ “کثرت مطالعہ” انہوں نے فرمایا۔ میں نے عرض کیا۔ یہاں آپ کے ماڈل ٹاؤن میں جناب ڈاکٹر اسرار احمد اور ڈاکٹر طاہر القادری دونوں صاحبان کی وسعت مطالعہ کے بارے میں کوئی شک کیا جا سکتا ہے۔ لیکن حال یہ ہے کہ ان دونوں کے بیچ ایک سے ایک کی ملتی نہیں صورت‘ والا معاملہ ہے۔ ایک قرآن اکیڈمی کے موسس و مہتمم اور دوسرے صاحب منہاج القرآن کے بانی اور روح رواں ہیں۔ ادھر آپ دونوں حضرات کی قرآن فہمی پر مطمئن ہی نہیں معترض بھی ہیں۔ یہاں انہوں نے محترم مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کا ایک واقعہ سنایا۔ ایک دفعہ باتوں باتوں میں بر سبیل تذکرہ مولانا کے علم میں جب یہ بات آئ کہ ڈاکٹر اسرار احمد اور ڈاکٹر طاہر القادری دونوں صاحبان بھی ماڈل ٹاؤن میں ہی رہائش پذیر ہیں۔ تو محترم مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے بر جستہ فرمایا: سبھی مذہبی —— ماڈل ٹاؤن میں اکٹھے ہو گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی قرآن فہمی والی بات آئی گئ ہو گئ۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ماہنامہ اشراق میں ‘ادب جاہلی‘ کے مطالعہ و اہمیت پر بڑے شد و مد سے اتنی توجہ مرکوز کی گئ کہ گویا قرآن فہمی کی شاہ کلید ایک یہی ہے۔ اور پھر ‘مستند ہے میرا فرمایا ہوا‘ کی شان و شکوہ سے مرصع محترم الغامدی صاحب کا یہ دعوی زباندانی اشراق کے صفحات پر یوں ثبت ہوتا ہے:

“مولانا سید ابوالاعلی صاحب مودودی کی عربیت اور ان کے علم و مطالعہ کے بارے میں میری رائے اب بھی وہی ہے‘ جو آپ نے مولانا امین احسن صاحب اصلاحی کے الفاظ میں آپ نے خط میں نقل کی ہے۔ تاہم زبان کے نظائر و شواہد سے استنباط لغت اور استخراج معانی ایک دوسری چیز ہے۔“ یعنی ‘عربی’ ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ۔۔۔ یاد رہے مولانا سید ابوالاعلی مودودی رحمتہ الله علیہ نے تفہیم القرآن‘ جلد اول کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ ‘میں نے “ترجمانی“ کا ڈھنگ اختیار کیا ہے۔ میں نے اس میں قرآن کے الفاظ کو اردو کا جامہ پہنانے کے بجائے یہ کوشش کی ہے کہ قرآن کی ایک عبارت کو پڑھ کر جو مفہوم میری سمجھ میں آتا ہے اور جو اثر میرے دل پر پڑتا ہے اسے حتی الامکان صحت کے ساتھ اپنی زبان میں منتقل کر دوں۔ اسلوب بیان میں ترجمہ پن نہ ہو‘ عربی مبین کی ترجمانی اردوئے مبین میں ہو۔

‘جب مولانا سید ابوالاعلی مودودی رحمتہ الله علیہ نے یہ لکھا اس وقت محترم مولانا امین احسن اصلاحی صاحب موجود تھے۔ لیکن انہوں نے عربی مبین کی ترجمانی اردوئے مبین میں ہو۔‘ پر گرفت کی اور نہ ہی ‘قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘ پر انہوں نے کوئی تبصرہ یا تنقید کی تھی۔

تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جناب الغامدی صاحب مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کے بارے میں بھی یہی رائے رکھتے ہیں کہ وہ بھی مولانا سید ابوالاعلی صاحب مودودی کی طرح‘ زبان کے نظائر و شواہد سے استنباط لغت اور استخراج معانی ایک دوسری چیز ہے‘ ایسے ذوق زبان سے محروم تھے۔

ماہنامہ اشراق میں کلام جاہلی کے بعد قرآن فہمی کے لیے ‘نظم قرآن‘ کی اہمیت پر مضامین چھپنے لگے۔ نظم قرآن کو مولانا فراہی رحمتہ الله علیہ قرآن فہمی کا اہم وسیلہ اور بنیادی کلید سمجھتے تھے۔ خود میری نظر سے ان کے اپنے الفاط میں نظم قرآن کے بارے میں ان کی یہ رائے گزر چکی تھی۔ مولانا فراہی رحمتہ الله علیہ فرماتے ہیں: تاویل کا بیشتر اختلاف نتیجہ ہے اس بات کا کہ لوگوں نے آیات کے اندر نظم کا لحاظ نہیں رکھا۔ اگر نظم کلام ظاہر ہوتا اور سورہ کا عمود یعنی مرکزی مضمون واضح طور پر سب کے سامنے ہوتا تو تاویل میں کسی قسم کا اختلاف نہ ہوتا۔ بلکہ سب ایک ہی جھنڈے کے نیچے جمع ہو جاتے اور سب کے منہ سے ایک ہی صدا بلند ہوتی۔ چونکہ اشراق بھی اس کو بجا طور پر قرآن فہمی کا ایک جید اصول سمجھتا اور اس کے فروغ میں اپنا حصہ بھی ڈال رہا تھا۔ لہڈا میں نے اشراق کو یہ خط تحریر کیا:

باسمہ تعالی۔
محترمی و مکرمی جناب ایڈیٹر صاحب‘
السلام علیکم‘ مزاج بخیر!
سورہ القدر کی آیت نمبر ٣ کے معنی عام طور پر یہ بیان کیے جاتے ہیں کہ ‘شب قدر کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے‘۔ حالانکہ اس آیت میں ایسا کوئی لفظ موجود نہیں جس کا ترجمہ لفظ عبادت سے کیا جائے۔ اگر قرآن کا یہی مدعا ہے جو مترجمین و مفسرین بیان کرتے ہیں تو زبان و بیان کے کس اصول کے تحت یہاں عبادت کا مفہوم مراد لیا جاسکتا ہے۔ امید ہے آپ اشراق میں اس کا جواب ضرور عنایت فرمائیں گے۔
٢٤-١٢-٩٥
والسلام خیر اندیش
عبدالمجید گوندل میاں فضل دین سنز چونیاں ضلع قصور

ایڈیٹر ماہنامہ اشراق کے نام لکھے گئےمیرے خط کا جواب دیا۔

بسم الله الرحمن الرحیم
المورد ادارہ علم و تحقیق
محترمی و مکرمی جناب عبدالمجید گوندل صاحب السلام علیکم عنایت نامہ ملا۔
آپ کا خط غور و فکر اور تحقیق کا متقاضی ہے اس لیے جواب لکھنے میں کچھ وقت درکار ہو گا۔ امید ہے آپ انتظار کی زحمت گوار کر لیں گے۔ باری آنے پر آپ کے خط کا واب ارسال کر دیا جائے گا۔
والسلام
محمد اسلم نجمی زمیل مرافق زاویہ فراہی۔ المورد

جواب میں غیر معمولی تاخیر پر ماہنامہ اشراق کو یاد دہانی کا خط:
باسمہ تعالی
محترمی و مکرمی جناب ایڈیٹر صاحب السلام علیکم
مزاج بخیر! قریب قریب ٦ ماہ قبل راقم نے ایک استفسار جس کی فوٹو کاپی بر پشت ہذا ثبت ہے‘ آپ کی خدمت میں ارسال کیا تھا۔ جس کے جواب میں آپ نے لکھا کہ ‘جواب لکھنے میں کچھ وقت درکار ہو گا‘ آپ کے اس درمیانی جواب کو موصول ہوے بھی اب پانچ مہینے سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے‘ مگر ابھی تک وہی انتظار جاری ہے۔ اس قدر تاخیر سمجھ میں نہیں آئی۔ امید ہے آپ اب مزید انتظار کا موقع نہیں دیں گے۔
والسلام عبدالمجید گوندل ١٩-٦-٩٦

ماہنامہ اشراق لاہور٦ جولائ ١٩٩٦ کو میرے پہلے خط کے جواب میں تاخیر کی وجہ بتائی گئ۔ یہ المورد کے پیڈ کے بجائے ایک چٹ پر تحریر تھی۔ اس کا مضمون یہ تھا۔

بسم تعالی۔
محترم جناب گوندل صاحب السلام علیکم!
امید ہے مع اہل خانہ و احباب خیریت سے ہوں گے۔ آپ کے خط کا جواب ٢٠-٢-٩٦ کو حوالہ ڈاک ہو چکا تھا۔ تاہم آپ کو موصول نہ ہوا۔ آپ کو زحمت انتظار اٹھانا پڑی۔ معذرت قبول کیجیے۔ جواب کی نقل دوبارہ ارسال ہے۔
فقط والسلام
اسلم نجمی ٢-٧-٩٦

سورہ القدر کےحوالے سے درج ذیل جواب ٢٠-٢-٩٦ کا محررہ ہے۔ مجھے یہ نہ مل سکا تھا۔ یاد دہانی کے بعد المورد نے مجھے اس کی نقل دوبارہ بجھوانے کی زحمت اٹھائی۔

المورد ادارہ علم و تحقیق
قسم از مراسلات العلمیہ الاسلامیہ حوالہ۔ ۔ ۔ ۔ ١٣٩۔ آر تاریخ۔ ۔ ٢٠-٢-٩٦
محترم المقام جناب عبدالمجید گوندل صاحب
السلام علیکم
عنایت نامہ ملا۔ آپ کے خط کا جواب حاضر ہے۔ آپ نے درست سمجھا ہے کہ سورہ القدر کی آیت ٣ میں بظاہر کوئ لفظ ایسا نہیں ہے جس کا ترجمہ عبادت ہو سکے۔ اس سورت کا موضوع نزول قرآن ہے۔ اس میں اس مبارک رات کی نشان دہی کی گئ ہے جس میں الله کے اس مقدس کلام کا نزول شروع ہوا۔ اور اس کے ساتھ ہی اس رات کی وہ اہمیت‘ عظمت اور شان بیان ہوئ ہے جو اسے دوسری راتوں کے مقابل حاصل ہے۔ الله تعالی نے اس رات کو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا ہے۔ ظاہر ہے یہ بہتری حصول مقصد کے اعتبار سے ہے۔ جس طرح اس مادی دنیا کا قانون ہے کہ فصلوں‘ موسموں اور اوقات کا لحاظ رکھے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ اسی طرح روحانی عالم میں بھی موسموں کا اعتبار ہے۔ مثلا ہر فصل کے کاشت کرنے کا خاص موسم ہوتا ہے۔ موسم گزر جانے کے بعد‘ لاکھ جتن کرنے کے باوجود‘ اپنے موسم میں بوئ گئ فصل کے برابر نتائج اور فوائد حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ اسی طرح روحانی عالم میں بھی خاص موسم اور خاص اوقات و ایام ہیں۔ ان میں کیے گئے کاموں کے ایک تو مطلوبہ نتائج نکلتے ہیں اور دوسرے ان کی تاثیر بڑھ جاتی ہے۔ مثلا نماز ہر جگہ پڑھی جا سکتی ہے اور اس کا ثواب بھی ملتا ہے۔ مگر بیت الله میں ایک نماز پڑھنے کا اجر ایک لاکھ نمازوں کے برابر بیان ہوا ہے۔

اسی طرح نوافل کے لیے علی الاطلاق وقت کی قید نہیں ہے۔ مگر تہجدکے نوافل کی فضیلت خود قرآن میں بیان ہوئ ہے۔ اسی پر ماہ رمضان اور ایام حج اور اس کے اعمال کو قیاس کر لیجیے۔ ان تمام ایام و اوقات میں الله تعالی نے جو عبادتیں مقرر کر رکھی ہیں‘ ان کے اجر و ثواب کی کوئ حد و نہایت نہیں ہے۔ ان کی ساری برکات اسی صورت میں ظاہر ہونگی جب یہ ٹھیک ان ایام و اوقات کی پابندی کے ساتھ عمل میں لائ جائیں۔ یہی معاملہ لیلتہ القدر کا ہے۔ اس رات کی عظمت اور جلالت شان الله تعالی کے حوائے سے ہے۔ یہ تقدیر امور اور تقسیم امور کی رات ہے۔ سورہ دخان میں اسے لیلتہ مبارکتہ (مبارک رات) کہا گیا ہے۔ اس رات میں کائنات اور اس کے اندر بسنے والے انسانوں کے بارے میں اہم فیصلے ہوتے ہیں۔ اس لیے ایک بندہ مومن کے لیے دانش مندانہ رویہ یہی ہے کہ اتنے اہم موقعے پر وہ اپنے پروردگار کے حضور اس حال میں رہے کہ وہ عبادت میں مشغول ہو۔ الله کا قرب حاصل کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ اس کا ذکر ہے اور ذکر کی بہترین صورت نماز ہے۔ نماز اصل عبادت ہے جس کے ذریعے سے بندہ اپنے پروردگار کی رفاقت میں جینے کا سلیقہ سیکھتا ہے۔ اس لیے اس آیت کے ترجمے میں بعض مترجمین نے عبادت کا ذکر کر دیا ہے۔
والسلام محمد اسلم نجمی زاویہ فراہی۔
المورد

Facebook Comments Box
جاوید احمد غامدیغامدی صاحب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سلیم احمد کی روح کا رزمیہ —- فتح محمد ملک
next post
قائداعظم سے منسوب جملہ “پاکستان میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی” کی تحقیق — عارف گل

Related Posts

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

ادب، مادری زبانیں اور ادیب کا کردار —-...

26/02/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.