تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
نئے لکھاری

اختلاف رائے کیسے کیا جائے —– عدیس الطاف

by ویب ڈیسک 23/03/2017
written by ویب ڈیسک 23/03/2017
107

آج یوں ہی خیال آیا کیوں نا اختلاف رائے ، اس کی اہمیت اور اس کی ضرورت پر ،اس کے طریقہ کار پر کچھ کلمات قارئین کی خدمت میں پیش کیے جائیں ۔بس اسی لیے کچھ الفاظ لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں

علم و دانش کی دنیا میں جتنا اہم چیز اختلاف رائے ہے اتنی اہم شائد ہی کوئی چیز ہو میرے خیال اور میرے ناقص مطالعے کے مطابق دنیا کی سب اول درجہ کی ایجادات اسی اختلاف رائے کی مرہون منت ہیں یعنی کہ مخالف آراء کا ہونا ہی اس دنیا کی ترقی کا راز ہے ۔سائنس ، مذہب ، فلسفہ،سیاست ، معاشیت کے اصولوں سے لیکر ایک ادنی درجے کے جرگہ کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لیں اس میں اختلاف رائے کا حسن اپنی دلکشی کے ساتھ موجود رہا ہو گا۔۔اختلاف رائے کی موجودگی اس بات کی قوی دلیل ہے کہ ہر انسانی فطری طور کچھ نکات پر اپنے فہم و عقل کے مطابق الگ نقطہ رکھتا ہے اور اپنی الگ فکر کا استعمال کرتے ہوے دوسرے کی رائے سے مختلف رائے دیتا ہے ۔اختلاف رائے سے اس معاملہ پر مباحثے، مکالمے ہوتے ہیں جس سے ایک نئی اور ممکن ہے بہتر رائے سامنے آئے۔

اختلاف رائے کسی بھی معاشرے کی فکری تربیت اور ترقی کے لیے نہایت ضروری امر ہے ۔ہر چیز کا من و عن تسلیم کر لینا میرے خیال اللہ کی دی گئی نعمت عقل اور اللہ کے دیے گے حکم و سوال کی نفی ہوگی جیسا کے مختلف جگہوں پر فرمایا گیا کے “کیا تم غور نہیں کرتے؟ اور “بے شک عقل والوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں” اب غور ہو گا تو ہم سمجھیں گے اب اگر غور کریں گے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ میری رائے وہ نا ہو جو کہ میرے والد صاحب کی یا کسی اور عالم۔یا انسان کی ہو اب سچ کی تلاش ہی یہاں سے شروع ہو گی کہ آخر ہمارا فہم درست ہے یا غلط ۔اس کے بعد اصلاح اور مضبوطی کا عمل وقوع پذیر ہو گا۔کوئی بھی معاشرہ جہاں سوال نہیں اٹھایا جاتا وہاں میرے خیال میں فکری کم ظرفی یا اندھی تقلید کا بول بھالا ہے جو کہ ترقی و سچائی کا سخت ترین دشمن ہے ۔

اختلاف رائے کے لیے بنیادی اصول شائستگی اور دلیل ہیں یعنی کے اختلاف رائے کا مطلب یہ ہر گز نہیں لے لینا چاہیے کہ اگر آپ کو علم ہی نہیں ایک بات کا اور اس پر اختلاف فقط اس بنیاد پر کر رہے ہیں آپ کو ٹھیک نہیں لگ رہی آپ کے سکول آف تھاٹ کو مناسب نہیں معلوم ہوئی تو آپ کہہ ڈالیں میں نہیں مانتا یہ اصول بنیادی طور پر غلط اور غیر علمی روایے کی دلالت ہے ۔ اختلاف تو تبھی ممکن ہے جب آپ اس کے پورے سیاق و سباق کو باغور معائنہ کر چکے ہوں اور اس کے بعد آپ کو معلوم پڑتا ہے کہ یہ معاملہ میرے فہم کے مطابق درست نہیں مصنف اس معاملے میں یا منصف اس معاملہ میں دلائل کی نفی کر رہا ہے تو نہایت شائستگی اور بنیادی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوے اس پر اپنی رائے انتہائی صداقت سے دیں اور اس نیت و حوصلے سے دیں کے اگر آپ پر کوئی غلطی کلا کلاں واضح ہو جاتی ہے تو اس پر اپنی درستگی فرماویں گے۔اختلاف رائے کے وقت اس بات کا باخوبی خیال بھی اختلاف رائے کے بنیادی اصولوں میں شمار ہوتا کے آپ جس چیز سے اختلاف کر رہے ہیں کیا آپ کا اختلاف اسکی بنیاد کی نفی تو نہیں کر رہا یعنی اگر سائنسدان سے اختلاف ہے تو کیا آپ سائنس کے بنائے گے اصولوں کے ساتھ نا انصافی تو نہیں کر رہے یا اگر کسی عالم مذہب کے ساتھ اختلاف ہے تو کہیں مذہب کی بنیادی نص کو تو نقصان نہیں پہنچا رہے یا فلسفی سے ہے تو فلسفہ کا بنیادی اصول تو متاثر تو نہیں ہو رہا یعنی اختلاف رائے اور رد کو ایک سا تو نہیں جان رہے۔ اپنی دلیل کا بغور جائزہ لیجیے پہلے پھر اسے متکلم کے سامنے پیش کیجئے اختلاف کا اصل مقصد فہم و فراست کا معاملہ عیاں کرنا ہو نا کہ اپنی واہ واہ کروانا ۔اہم بات یہ کہ اختلاف کا مرکز مباحثے یا مکالمہ والا فیصلہ یا عنوان ہونا لازم ہے یہاں اکثریتی ایسا کہتے فلاں جگہ غلط لکھا تھا تو یہاں بھی غلط لکھا ہو گا۔۔۔

ہمارا معاشرہ چونکہ اس چیز کو آسانی سے قبول نہیں کرتا علم و دانش کی جگہ جذبات کو ترجیح اور نعروں کو فوقیت حاصل ہے اس لیے ہمارے معاشرے میں ایک چیز یہ ہے کہ عقیدت کی پٹی بندھی ہے اس اتارنے کے لیے نہایت عمدہ اسلوب اختیار کرنا چاہیئے سب سے پہلے عوام کو اس بات پر قائل کرنا لازم و ملزوم ہے کہ ایک غلط والے کا سب غلط نہیں ہوتا اور ایک صحیح والے کا سب صحیح ہونا کوئی لازم امر نہیں۔ بچپن سے ہی علمی بنیادوں پر بات کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے اور اختلاف کا طریقہ کار مرتب کر کے بتانےچاہیے
اس کے اصل طریقہ کار سے روشناس کروایا جانا چاہیے۔اختلاف سب سے اہم اصول باور کروانا چاہئے کہ کسی پر معاملہ تھوپ نا دیا جائے بلکہ کہا جائے اپنا موقف ہے آپ اگر بہتر دلائل دے سکتے ہوں دے دیجئے وغیرہ وغیرہ۔۔۔اس طرح ہم اپنی نسل میں اس احسن کام کو خوش اسلوبی سے پیوست کر کے دنیا کو ایک صحت مند معاشرہ دے سکیں گے۔۔
اختلاف رائے کو تب نفاق سے بچایا جا سکتا ہے وگرنہ اختلاف رائے کا اسلوب منافقانہ رائے میں بدل جائے گا جو کے باعث رحمت اور سچائی کی طرف اقدام بڑھانے کے بجائے دشمنی بن جاتی۔

Facebook Comments Box
اختلاف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
یوم پاکستان اور ہمارے کرنے کے کام: لالہ صحرائی
next post
تنہائی میں اپنے ساتھ گزارے غنیمت لمحے: اسد علی

Related Posts

استانی جی —– محمد اویس حیدر کا افسانہ

24/11/2019

کتاب ’’ہجر کی تمہید‘‘ ——– راحیلہ خان

23/11/2019

ایڈونچر ——– محمد اویس حیدر

15/11/2019

میرے علامہ اقبال:ایک بچے کا خراج — محمد...

08/11/2019

بند گلی ——- احمد حامدی کا افسانہ

01/11/2019

میڈیکل کالج کی لڑائیاں —– محمد شافع صابر

16/10/2019

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.