تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
علم و ادبفکشننئے لکھاری

بند گلی ——- احمد حامدی کا افسانہ

by دانش ڈیسک 01/11/2019
written by دانش ڈیسک 01/11/2019
208

وہ تو اُس کی کبھی تھی ہی نہیں، لیکن اب تو وہ کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔
“بھاگ گئی”۔۔یہ بات یقین کے اس درجے پر نہیں پہنچی جس پر “کبھی تھی ہی نہیں” فائز ہے۔

کمرےکے اُس کونے میں جہاں ہر داخل ہونے والے کی پہلی نظر نہیں پہنچتی، ایک میز کے سامنے بیٹھا وہ کچھ سوچ رہا ہے۔ مز پر کچھ کتابیں ایسی پڑی ہیں جیسے آج رات ہی ان سب کا پڑھنا “باس “کا حکم ہے۔ “باس” اور “وہ بھاگ گئی” میں اس نے مشترکات اور اتفاقات ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اِس خیال کی طرف سے یوں مایوس لوٹ آیا،جیسےریڑھی والا بند گلی کے آخری گھر پر قفل چڑھا دیکھ کے لوٹ آتا ہے، اگر آخری گھر آباد ہوتا تو کیا اُس کی پکار پر کوئی نکل آتا؟ اگر کوئی اُداس آنکھوں والا، تنہائی کا پالا نکل آتا، تو کیا اس کے مطلب کی چیزاُسے مل جاتی۔ اور اُداس آنکھوں والے کا آخری گھر میں ہونا کیوں ضروری ہے، ایسے خریدار تو گلی کے کسی اور گھر میں بھی ہو سکتے ہیں۔

اس نے میز پر رکھے خالی جگ اور گلاس پر نظر ڈالی، اور اس خیال کو بوسیدہ کرکے رکھ دیا کہ جگ صرف اُن کے کام آتا ہے جن کو پیاس زیادہ لگتی ہے۔ معاََ یہ خیال وارد ہوا کہ میں کس بڑے مسئلے سے دوچار ہوں اور مجھے پڑی ہے،عام اور معمولی باتوں کی۔ وہ اپنے ذہن کو قابو نہ کر سکا، اور اُسے خیال آیا کہ معمولی اور غیر معمولی کا فرق اضافی ہے۔ وہ بھاگ گئی، یہ بات اُس کے لیے عام اور معمولی ہو سکتی ہے۔ “میں اُس کے پیچھے مر جاؤں گا”، یہ بات میرے لیے غیر معمولی ہے، شاید اُس کے لیے بھی غیر معمولی ہو، بلکہ شاید سب کے لیے غیر معمولی ہو۔تو اِس کا مطلب یہ ہوا کہ بعض باتیں سب کے نزدیک غیر معمولی ہوتی ہیں۔ جیسے موت!

اسے اپنے بے قابو خیالوں پر غصہ آیا،اور اپنی بے چارگی پر غصے بھرا ترس۔ اُس نے سوچا کہ اِس وقت سوچنے کے لیے مناسب موضوع یہ ہے۔۔۔۔۔ اُسے ایک لمحے کے لیے محسوس ہوا جیسے وہ کسی کانفرس میں شرکاء سے مخاطب، منتخب موضوع پرنکتۂ اعتراض بیان کرنے لگے ہیں اور مناسبِ حال موضوع کی تجویزدے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔کہ وہ کیوں بھاگ،؟کس کے ساتھ بھاگ گئی؟ مجھ میں کیا کمی تھی؟ کیا وہ کامل ہے، جس کے ساتھ وہ بھاگ گئی؟اگر اسے وہاں خوشی نہ ملی تو واپس آئے گی؟ کیسی شرمندگی، اسے واپس آنا چاہیے، میں محبت بچائے رکھوں گا۔وہ بہت سے سوال و جواب سے تیزی کے ساتھ یہاں آ پہنچا۔ اگراسے وہاں خوشی ملی تو؟ یہ سوال ایسا ہے جس کا جواب تیزدھڑکنوں کے علاوہ کسی کے بس کا نہیں۔اس نےدعا مانگی، یا اللہ ! وہ وہاں خوش نہ ہو۔۔۔ یہ تو بددعا ہے، اسے خود سےگھن آنے لگی، یہ تو مفاد پرستی ہے، ادنیٰ درجے کی مفاد پرستی۔۔۔۔ اس نے دعا مانگی، اے اللہ! اسے وہاں خوش رکھ، اسے مطمئن رکھ۔۔۔۔ اس نے سوچا کہ یہ بھی بددعا ہے لیکن اس میں مفاد پرستی کا شائبہ تک نہیں۔۔۔۔بے یقینی کی دعائیں اور بددعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ اس نے سوچا اور بند گلی سے لوٹ آیا۔

اس نے میز پر سے ایک کتاب اٹھائی، اسے یاد آیا کہ یہ تو وہی کتاب ہے جو اُس کو پڑھانے کے غرض سے خریدی گئی تھی۔شاید وہ میری کتابوں سے بھری زندگی سےتنگ تھی، اس لیے بھاگ گئی۔ اس نے ایک بار کہا بھی تھا کہ “تمھے مجھ سے زیادہ تو اِن کتابوں سے محبت ہے!” وہ غلط کہتی تھی۔ اگر وہ کتابوں اور خود میں، کسی کو منتخب کرنے کا کہتی تو میں ضرور اُس کا انتخاب کرتا۔ اس نے محسوس کیا کہ کتابیں ہی جدائی کا اصل سبب ہے، اس کے دل میں کتابوں کے لیے نفرت کا دھواں اٹھنے لگا۔۔۔ وہ بھاگ گئی اور کتابوں کو میں بھگاؤں گا۔اور پھر سڑکوں، چوراہوں پر میں بھاگتا پھروں گا۔

ایک انہونی خواہش کے علاوہ امید کی کوئی کرن موجود نہیں۔ وہ اچانک لوٹ آئے، اس کاسانس پھولا ہوا ہو، اور لمبا سانس لے کے بولے: “ہائے کمبخت! میں غلط ٹرین میں چڑھ گئی تھی، کراچی نان سٹاپ۔۔۔۔ ” اس نے سوچا کہ نان سٹاپ ٹرین میں زنجیر تو بہرحال ہوتی ہے۔۔۔

ٹرین میں ہوتی ہوگی، اِس وقت میرے خیالوں کا ٹرین تو نان سٹاپ بھاگ رہا ہے،بغیر زنجیر کے، اور ڈائیور بہرا ہے۔
“ڈرائیور بہرا ہے”، اس نے اِس خیال پر توبہ کی، اور سوچا، یہ تو خالص ملحدانہ بات ہے۔

ٹرین بھاگے جا رہا ہے۔اس نے دل ہی دل میں دعا مانگی، خدایا! یہ ٹرین بند گلی میں داخل ہو۔وہ قفل ٹوٹے، یہ ٹرین رُکے!

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
“اثبات” احیائے مذاہب نمبر —- نعیم الرحمٰن
next post
ٹیبلٹ اور ہمارے بچے: کچھ سوچئے —– غزالہ خالد

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...

06/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.