تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزنئے لکھاری

میڈیکل کالج کی لڑائیاں —– محمد شافع صابر

by دانش ڈیسک 16/10/2019
written by دانش ڈیسک 16/10/2019
167

“وہ فائنل ائیر کا ابوبکر ہے نا، شوخا سا۔۔ اپنے اپکو بڑا چالاک سمجھتا ہے، اپنی پروکسی لگوا لیتا ہے، لیکن جب ہماری لگ جائے تو اسے موت پڑ جاتی ہے۔۔وہ ہوتا کون ہے ہماری پروکسی کٹوانے والا، اب میں دیکھتی ہوں کہ وہ پروکسی لگواتا تو لگواتا کیسے ہے”

ہر میڈیکل کالج کا سٹوڈنٹ اس فقرے سے واقف ہے، کہنے کو تو یہ ایک عام سا فقرہ ہے، مگر اس کے پیچھے لڑائیوں کی کئی داستانیں رقم ہیں۔ ایسی لڑائیاں جن کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

میڈیکل کالج اور لڑائیاں ایسے ہی لازم و ملزوم ہیں جیسے میڈیسن وارڈ اور percussion، جیسے absence اور پروکسی، یہ دونوں ایسے ہی قریب ہیں جیسے examination اور bedside !۔
اگر اپ میڈیکل سٹوڈنٹ ہیں اور اپ نے پانچ سالوں میں کوئی لڑائی نہیں کی، نہ ہی کسی لڑائی میں حصہ لیا، کلاس کے قضیوں میں ٹانگ نہیں اڑائی تو یقین مانیے آپ نے میڈیکل کالج میں کچھ بھی نہیں کیا، لڑائیوں کے بنا آپ میڈیکل کالج میں انجوائے کر ہی نہیں سکتے!

اگر آپ کی کلاس میں سپورٹس ویک، تھیم ڈے، کلاس فنکشن، یا کسی تفریحی دورے کی وجہ سے محاذ آرائی نہیں ہوئی تو آپ کسی بھی طور میڈیکل کالج کے سٹوڈنٹ ہر گز نہیں، ہر کالج میں ان موقعوں پر لڑائی لازم و ملزوم ہے،
میڈیکل کالج کی لڑائیاں بھی بڑی دلچسپ ہوتی ہیں، عام کالجز میں تو صرف گروپنگ ہوتی ہے، لیکن میڈیکل کالج میں پہلے تو گروپنگ تو ہوتی ہوتی ہے، پھر اس گروپنگ کے اندر سب گروپنگ ہوتی ہے، اور اس سب گروپنگ کے جو ارکان ہوتے ہیں، ان کے درمیان بھی ایسی لڑائیاں ہوتی ہیں کہ خدا کی پناہ!
ایک گروپ کہتا ہے کہ ہم نے یہ کرنا ہے، دوسرا کہتا کہ ہم نے وہ کرنا ہے، اسی کشمکش میں تیسرے گروپ کی فلمی انٹری ہوتی ہے تو باقی دو ہکابکا رہ جاتے ہیں۔

میڈیکل سٹوڈنٹس بھی کمال کی لڑائیاں لڑتے ہیں، جو لائق ہوتے ہیں وہ آپس میں اس وجہ سے لڑتے ہیں کہ وہ کسی طرح پروفیسر کی گڈ بکس میں آ جائیں تاکہ distinction آ جائے، جو نالائق ہوتے ہیں وہ آپس میں اس لیے لڑتے ہیں کہ وہ کسی طرح نظروں میں آ کر پاس ہو جائیں، سال بعد سپورٹس ویک آتا ہے تو اس لیے لڑتے ہیں کہ میں نے organize کرانا ہے، پھر وہ لڑائی ہوتی ہے کہ ہلاکو خان بھی دنگ رہ جائے۔
پھر اگر کوئی ٹور کی بات چھیڑ دے تو سونے پہ سہاگا، پھر اس بات پہ لڑتے ہیں کہ اگر ٹور جانا ہے تو جانا کہاں ہے؟ جانا ہے تو کیوں جانا ہے؟ کتنے دن کے لیے جانا ہے؟ کیسے جانا ہے؟ پھر جتنے زیادہ گروپس اتنی زیادہ لڑائیاں!

لڑائی صرف ان باتوں تک محدود نہیں رہتی، اگر ایک گروپ نے کسی دوسرے گروپ کے کسی ممبر کی پروکسی کاٹ دی یا کٹوا دی تو پھر پانی پت کی جنگ شروع ہو جاتی ہے جو سالوں تک چلتی ہے۔ کلاس ٹیسٹ ہو تو ہر گروپ اپنی جگہ پکی کر لیتا ہے، اگر کوئی بندہ وہاں بیٹھ جائے تو کارگل کی جنگ شروع!!!
ان لڑائیوں کے دوران کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں، جو کہتے ہیں کہ ہم نیوٹرل ہیں، لیکن دراصل اندر ہی اندر کسی کے ساتھ ملے ہوتے ہیں، یہ جلتی پہ تیل ڈالنے کی کیٹیگری میں آتے ہیں، ان کا بس چلے تو آگ پہ تیل نہیں پورا پیٹرول پمپ ہی چھڑک دیں تاکہ لڑائی کبھی ختم ہی نہ ہو!

کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو ہر لڑائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں مگر جسیے ہی بات آگے بڑھتی ہے، یہ بڑے آرام سے پسپائی اختیار کرتے ہیں، یہ آتے ہیں چنگاری لگانے کی کیٹگیری میں، یہ میڈیکل سٹوڈنٹس بہت میسنے ہوتے ہیں، ابھی پرسوں کی بات ہے، ایک صاحب جن کا نام کلاس کے ہر قضیے میں آتا ہے، ہر کسی سے لڑتے ہیں، کسی نے پوچھا کہ آپ اتنا لڑتے کیوں ہیں، تو آگے سے بولے” میں نے تو آج تک کسی سے لڑائی نہیں کی” اللہ ایسی سادگی پہ قربان جائیے !

کلاس میں تو لڑائی ہوتی ہی رہتی ہے، سپورٹس ویک میں کلاسز کی آپس کی لڑائیاں بھی قابل دید ہوتی ہیں، اس sports rivalry میں ایسے ایسے فقرے کسے جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے،
اس سال 4th اور فائنل ائیر کی لڑائی بھی کچھ ایسی تھی، گرلز کرکٹ کا میچ تھا، ایک صاحبہ رن آؤٹ ہو گئیں، انھوں نے ڈال دیا رولا!! ان کی حمایت میں ان کی کلاس نے پچ پر دھرنا دے دیا، دھرنا بھی اچھا خاصا، پھر ایسی نعرے بازی ہوئی کہ ڈی چوک بھی حیران رہ جائے!
یہ لڑائیاں صرف کلاس تک محدود نہیں رہتی، ان کا دائرہ سوشل میڈیا تک بھی پھیل جاتا ہے، کلاس میں تو گروپنگ ہوتی ہی ہے، ساتھ ہی فیس بک پہ بھی گروپ بن جاتے ہیں، میسنجر ڈپلومیسی عروج ہوتی ہے، یوں ایک نہیں دو نہیں بلکہ تین تین محاذوں پہ لڑائی لڑی جاتی ہے!
اگر یہ لڑائ دو گرلز گروپس کے در میان ہوتی ہے تو پھر لڑائی لڑائی نہیں رہتی بلکہ ایٹمی جنگ کی صورت اختیار کر جاتی ہے، وہاں وہاں سے فقرے کسے جاتے ہیں کہ بندہ سوچنے پہ مجبور ہو جاتا ہے کہ یاللہ ماجرہ کیا ہے؟ ایک گرلز گروپ کہتا ہے کہ ہم نے یہ کرنا ہے، دوسرا کہتا ہے اچھا یہ کلاس تمہارے ابا جان کی ہے جو تم کرو گی، ہم یہ کریں گی، ۔۔۔ پھر وہاں وہاں سے لڑائی ہو گی کہ بڑے بڑے جنگجو بھی حیران رہ جائیں کہ یہ آخر ہو کیا رہا ہے؟

کل ہی ایک صاحبہ کہہ رہی تھیں میں بھی دیکھتی ہوں کہ وہ یہ کرتی تو کرتی کیسے ہے؟ وہ مجھے جانتی نہیں، جسے کہہ رہی تھی اس نے سن لیا، وہ آگے سے بولی ہاں میں جانتی ہوں تمھیں “کیونکہ تم میراثن ہو!” پھر دنیا والوں نے نئ لڑائی دیکھی!
ان سب کے باوجود، جب باری آتی ہے کلاس کی، تو سب ایسے اکٹھے ہوجاتے ہیں کہ جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں۔۔ پھر ایسا بھائی چارہ دکھاتے ہیں کہ بھائی چارہ بھی حیران رہ جاتا ہے۔

میڈیکل کالج کا حسن ہی یہ لڑائیاں ہیں، اگر یہ لڑائیاں نہ ہوں تو وہ کالج تو ہو سکتا ہے میڈیکل کالج ہر گز نہیں، اگر لڑائیاں طوالت اختیار کرنے پہ آئیں تو سالوں چلیں، ختم ہونے پہ آئیں تو منٹوں میں ختم!!
سیانے کہتے ہیں کہ لڑائی ہوتی ہی وہاں ہے جہاں پیار ہو، احساس ہو، اگر احساس نہ ہو تو لڑائی کیسی؟؟ ہم انھی سے لڑتے ہیں جنھیں ہم کھونے سے ڈرتے ہیں، جن کے بنا ہم خود کو ادھورا تصور کرتے ہیں۔۔۔
میڈیکل کالج کے پانچ سال بھی ایسے ہی ہوتے ہیں، زندگی سے بھرپور، احساس سے مزین، جہاں لڑائیاں ہوتی اور بہت ہوتی ہیں۔۔۔ یہ لڑائیاں لڑتے لڑتے ہی پانچ سال گزر جاتے ہیں، جب جدائی کا وقت آتا ہے تو سب نم آنکھیں لیے منہ بنائے بیٹھے ہوتے ہیں۔۔ پھر کوئی فیصل آبادی جگت مار دیتا ہے تو سب ہنس دیتے ہیں اور ہر لڑائی ختم!!!!

(مضمون نگار، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور میں، فائنل ائیر ایم بی بی ایس کے طالب علم ہیں)۔

Facebook Comments Box
medical college lifeکالج لایفکیمپس لایف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
حضور والا ! حسب روایت غلام حاضر ہے —- عاطف جاوید
next post
قرآن، پردہ اور غامدی صاحب ——– مجید گوندل

Related Posts

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

ادب، مادری زبانیں اور ادیب کا کردار —-...

26/02/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.