تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

پاکستانی سیٹھ کمپنیاں۔۔۔ ایک مطالعہ

by ویب ڈیسک 24/02/2017
written by ویب ڈیسک 24/02/2017
86

پاکستان کی طرح دنیا بھر میں کاروبار کو مخصوص خاندان چلاتے ہیں۔ یہ خاندان صرف چھوٹے یا درمیانی حجم کے کاروبار ہی نہیں چلاتے بلکہ خاندانوں نے دنیا کے بڑے بڑے کاروبار بھی کامیابی کے ساتھ چلائے ہیں۔ ڈیو پونٹ (DuPont) جیسے ایک کارباری ادارے کا انتظام خاندان کے افراد نے ایک سو ستر برس (170) بخوبی سنبھالے رکھا حتیٰ کہ 1970ء میں پیشہ وارانہ مہارت رکھنے والے منتظمین نے اس کا انصرام تھام لیا۔

پاکستان میں کاروبار کرنے والے خاندان میرے نزدیک مجسم رحمت ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے لوگ برسرروزگار ہوتے ہیں۔ مزید برآں پاکستان کے موجودہ حالات میں کاروبار کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اور کاروباری خاندان جوان نامساعد حالات میں کاروبار کر رہے ہیں وہ اپنی حب الوطنی کا ثبوت اپنے عملی اقدامات سے دے رہے ہیں۔ آج کی نشست میں ہم ان چند تجاویز کا ذکر کریں گے جن پر عمل کر کے پاکستان کے کاروباری اداروں کی پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ ہونے کا قوی امکان ہے۔
دل پرپتھر رکھ کے کہنا پڑتا ہے کہ بالعموم ہماری سیٹھ کمپنیوں میں خوف کی حکمرانی ہے۔ سیٹھ صاحب کے قرب و جوار میں ہمہ وقت ڈر کا ہالہ موجود رہتا ہے۔ خوف تخلیقی صلاحیتوں کو یوں کھا جاتا ہے جیسے دیمک لکڑی کو نگل جاتی ہے۔ خوف کے ماحول میں اپنی آزادانہ رائے کا اظہار شجر ممنوعہ قرا ر پاتا ہے اور جی حضوری سکہ رائج الوقت بن جاتا ہے۔ جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ کاروباری ادارے اُس ڈائیلاگ سے پروان چڑھتے ہیں جو بغیر کسی نفسیاتی عدم تحفظ کے جاری و ساری رہتا ہے۔
خوف سے نفسیاتی عدم تحفظ پیدا ہوتا ہے۔ خوف جو انڈے بچے دیتا ہے وہ خوف کی مانند ہی بدصورت ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر خوف سے مفید معلومات کا تبادلہ رُک سا جاتا ہے اور ان معلومات کا بے تکلف تبادلہ کسی بھی کاروباری ادارے کی صحت کا ضامن ہوتا ہے۔ سیٹھ صاحب متعدد مرتبہ غیر شعوری طور پر یہ فقرہ ادا کرتے ہوئے سنیں گئے ہیں کہ ”میں چاہتا ہوں سب مجھے سچ بتائیں، چاہے اس کھرے سچ کے نتیجے میں انہیں اپنی نوکری سے بھی ہاتھ دھونے پڑ جائیں“۔ آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ ان ”سازگار حالات“ میں کوئی کیونکر سچ بولنے کی حماقت کرے گا۔
خوفناک ماحول میں کام کرنے کے ضمنی اثرات یہ بھی ہوتے ہیں کہ ہر ملازم مفاد عاجلہ کو دیکھتا ہے اور اُسے ہر لحظ اپنی نوکری بچانے کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔ خوف سے بھر پور ماحول میں کام کرنے والے اپنی غلطیوں کو چھپاتے ہیں اور پھر جب عمداً ان قالین کے نیچے چھپی ہوئی غلطیوں کا کوہ ہمالیہ بنتا ہے تو پوری کمپنی (Company) زمین بوس ہو جاتی ہے۔ کمپنی میں کام کرنے والے لوگ صرف اُسی صورت میں غلطیاں مانیں گے جبکہ کمپنی کے مالکان برملا اپنی خطاؤں کا اعترف کریں گے۔”داغ نہیں تو سیکھنا نہیں“ میں بڑی حکمت ہے اور انسان خطا کا پتلا ہے اور CEOs بھی خطاؤں سے مبرا نہیں ہیں۔
ہماری سیٹھ کمپنیوں میں لوگوں کو عموماًشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور یہ مفروضہ کہ ”لوگ کام چور ہیں“ کاروباری دینیات کا جزولاینفک بن جاتا ہے۔ نفسیات سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ اُن توقعات کے مطابق ڈھل جاتے ہیں جو اُن سے باندھی جاتی ہیں۔ جب ہم کسی محنت کش کو کامچور سمجھیں گے تو پھر وہ حقیقت میں کام چور بن جائے گا۔ اسکے برعکس اگر ہم یہ تصور رکھیں گے کہ لوگ جانفشانی سے کام کرنا چاہتے ہیں اور تھوڑی سی حوصلہ افزائی سے اُن کا سیر بھر خون سوا سیر ہو جاتا ہے اور شاباش سے بوزنے بھی جن بن جاتے ہیں تو پھر ہم ان پر اعتماد کریں گے تاکہ اُن کی مخفی صلاحتیں بیدار ہوں۔
ہمارے پاکستانی کارباری اداروں می اکثر بیشتر ماضی پرستی چھائی رہتی ہے۔ ہم یہاں یاداشت کے بل بوتے پر اپنے ادارے چلاتے ہیں۔ وہ حکمت عملی جو گزرے ہوئے کل میں کامیابی لے کر آئی تھی اُس سے ہم آنے والے کل میں بھی کامیابی کی نوید کشیدنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ کامیابی مسلسل تفکر کا ثمر ہوتی ہے۔ کاروباری اداروں میں سوچنے سے درج ذیل فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
1۔ ہم اپنی جبلتوں کے غلام نہیں بنتے ہیں۔
2۔ ہم ردِ عمل کا شکار نہیں ہوتے ہیں۔
3۔ ہم پامال راستون کو آبیاری سے اجتناب کرتے ہیں۔
4۔ ہم حکم کی تعمیل اندھے پن سے نہیں کرتے ہیں۔
5۔ ہم وقتی جذبات کی رو بہنے سے پرہیز کرتے ہیں۔
سیٹھ کمپنیوں میں خوشامد کی وبا بھی عام ہے کیونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ ترقی کارکردگی کی بنیاد پر کم اور چاپلوسی کی بدولت زیادہ جلد ملتی ہے۔ ہر انسان اپنی تعریف سننا پسند کرتا ہے اور اختلف رائے کو ناپسند کرتا ہے۔ برادران یوسف نے ترقی کا یہ بھید پا لیا ہے۔ اس لیے وہ سیٹھ صاحب کی ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہیں اور ترقی کی سیڑھیاں چڑھتے جاتے ہیں۔ جھکنے والے رفعتیں پا لیتے ہیں اور خودی کو بلند کرنے والے کسمپرسی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ویسے بھی ”سب اچھا ہے“ کی صدا کانوں میں رس گھول دیتی ہے جبکہ خرابیوں کی نشاندہی کرنے والے خواہمخواہ گھٹن پیدا کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ہماری سیٹھ کمپنیاں مزید رقی کر سکتی ہے کہ اگر ان کے سیٹھ صاحبان فیصلے کرتے وقت کمپنی کی اجتماعی دانش کو بروئے کار لے کر آئیں۔ فیصلے اگر صرف بغل میں بیٹھے ہوئے گھاگ مشیروں ک مشوروں کے مطابق ہونگے تو یقیناً بھلا ہو گا لیکن ادارے کے لیے دور رس نتائج بہتر نہیں نکلیں گے۔
مینجمنٹ کی پوزیشنز پر ریکروٹمنٹ کرنے کے لیے یہ پیش نظر رہے کہ اُن امیدواروں کو نظر انداز کر دیا جائے جو سب کو خوش رکھنا چاہتے ہیں یا پھر جنہیں کسی کی خوشی ایک آنکھ نہیں بھاتی ہے۔ جو مینجر دو سال کے عرصے میں اپنا جانشین تیار نہیں کرتا وہ کُرسی کا دیوانہ ہےاور کرسی کے دیوانے اداروں کا ستیاناس کر دیتے ہیں۔
ادارے لوگوں سے بنتے ہیں اور جب لوگوں کو مشین کے پُرزوں کی مانند نا کردہ گناہوں کے سبب فارغ کر دیا جائے تو پھر کمپنیاں گھر نہیں بنتیں بلکہ دروازے بن جاتی ہیں جہاں سے آنا جانا لگا رہتا ہے۔
کمپنیوں کو باغ بنانے کے لیے باغبانوں جیسے مینجرز کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنے خون جگر سے کمپنی کی کیاریوں کو سنوارتے ہیں۔ وہ مینجرز جو جادو کی چھڑی گھما کر آن واحد میں سب کچھ ٹھیک کر دینے کے دعوے کرتے ہیں وہ صرف اپنی جیب گرم کرنے آتے ہیں اور اپنی جیب گرم کر کے کسی اور کمپنی کا رخ کر لیتے ہیں جہاں پر وہ اپنی نام نہاد معجزانہ شخصیت کے کرشمے دکھا سکیں۔ اللہ تعالی سے دُعا ہے کہ وہ ہمیں معجزے دکھانے والے مینجرز سے محفوظ رکھے ۔

Facebook Comments Box
Pakistani Companiesپاکستانی کمپنیاںسیٹھ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
دانش کے درجے اور مفت کی چائے ۔ ۔ محمود فیاض
next post
کارٹون

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.