تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

اشکِ امومت —— احمد کھوکھر

by دانش ڈیسک 06/05/2018
written by دانش ڈیسک 06/05/2018
113

عمان میں ہمارا گھر ایک پہاڑی کے کٹاؤ پر واقع ہے۔ جہاں یہ اسٹریٹ اختتام پذیر ہوتی ہے وہاں گورنمنٹ کی طرف سے رکھے گئے تین کوڑے دان ہیں جن کے عقب میں پورا پہاڑی سلسلہ ہے۔ ان پہاڑیوں میں چھوٹے چھوٹے کھوہ بنے ہوتے ہیں۔ دن بھر شدید گرمی میں کتے اور خاص کر گیدڑ ان کھوہ میں وقت گزارتے ہیں اور رات کی تاریکی پھیلتے ہی کھانے پینے کی تلاش میں جب آبادی کا رخ کرتے ہیں تو ہر اسٹریٹ کے اختتام پر رکھے گئے یہ کوڑے دان ان کی خصوصی توجہ کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ یہ پہاڑی علاقوں کے کتے نسبتاً وحشی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کوڑے دان بلیوں کی خانہ داری کا بھی زریعہ ہیں سو آوارہ بے گھر بلیاں بھی چوبیس گھنٹے یہاں منڈلاتی رہتی ہیں۔ میری عادت ہے میں ان بلیوں کو روزانہ کی بنیاد پر چکن کلیجی یا پوٹا ڈالتا ہوں جس کی وجہ سے ہمارے درمیان مانوسیت کی فضا قائم رہتی ہے۔

یہ واقعہ تقریباً دو سال پرانا ہےاس شام ہمارا مطرح (ساحل) پر کھانے کا پروگرام تھا۔ میں کھانے پینے کا سامان گاڑی میں رکھ رہی تھی جب ایک بلی نے میرے پیروں میں منڈلانا شروع کر دیا۔ پارکنگ چونکہ بلڈنگ کے باہر تھی تو گھر سے پارکنگ تک کوئی سو گز کا فاصلہ بنتا ہے جتنی بار میں گھر سے سامان لے کر پارکنگ تک آتی بلی مسلسل میرے پیروں میں بے چینی سے چیاوں چیاوں کرتی رہتی ایک دو چکروں کے بعد مجھے عجیب سا احساس ہونے لگا بلی کی بےچینی اور آواز میں کچھ تھا جو میں سمجھ نہیں پا رہی تھی گوشت ڈالنے کا وقت رات کا ابتدائی پہر ہوتا تھا لہٰذا وہ گوشت کا مطالبہ نہیں کر رہی تھی یہ طے تھا۔۔۔۔

عصر کی نماز ہوئے کچھ ہی دیر گزری تھی اور دن ابھی پوری طرح روشن تھا۔ ہمارا ارادہ کچھ شاپنگ کرتے ہوئے مغرب کے بعد مطرح جانے کا تھا لیکن محترمہ بلی راستہ روکے کھڑی تھیں۔۔۔ اب مسلسل بلی کو بھگاتے گاڑی نکالنے کی کوشش کی مگر وہ گاڑی کے سامنے آگئ اور ہارن کے باوجود ٹس سے مس نہ ہوئی، غصہ آنا لازمی تھا۔ صاحب گاڑی سے اترے بلی کو ٹانگ سے دھکا دے کر سائیڈ پر کیا اور گاڑی نکالی بلی گھوم کر میری ونڈو کے سامنے آئ اور چیاوں میاوں شروع۔۔۔۔

ایک لمحے کے لئے ہمارا آئ کانٹیکٹ ہوا اور گاڑی آگے بڑھ گئی۔۔ اس کی آنکھوں میں کچھ تھا، کوئی عجیب سی تکلیف۔۔۔کچھ کہنا چاہ رہی تھی وہ، مگر کیا ؟

جتنی دیر میں گاڑی نے پہاڑی کے گرد ڈھلان کا چکر پورا کر کے سڑک تک آنے میں لگائی، بلی کی بے چینی مجھ میں منتقل ہو چکی تھی۔۔ گاڑی پھر واپس گھر کی سمت موڑی۔۔ بلی پارکنگ میں اسی جگہ اسی بےچینی سے منتظر تھی۔۔میں دروازہ کھول کر اتری تو وہ پیروں میں کھڑی تھی پھر اس نے چلنا شروع کیا اور میں پیچھے آ رہی ہوں اس کا یقین کرنے کے لئے ہر دو گام پر پلٹ کر دیکھتی رہی۔۔۔ آ گے سے پورا چکر لے کر وہ مجھے ہماری رہائشی بلڈنگ کے پچھلے حصے کی جانب لائ جہاں کچھ سیڑھیاں اترنے کے بعد عقبی گلی شروع ہو جاتی ہے۔۔ سیڑھیوں سے ذرا فاصلے پربلڈنگ کی دیوار کے ساتھ ایک چھوٹا سا بلی کا بچہ مرا پڑا تھا شاید روڈ پر کسی گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہوا ہو گا بعد میں یہاں دم توڑ گیا۔۔۔

مگر بلی ہم سےکیا چاہتی تھی ؟

یہ سمجھنے کے لئے میرا پورا سسٹم اس وقت صرف دماغ بنا ہوا تھا۔۔۔ میں نے اس سے کمیونیکیٹ کرنے کی پوری کوشش کی اور اس کو فالو کرنے لگی۔۔۔ وہ ہمارے آگے چلتی رہی کچھ دور ایک پیزا کا خالی باکس پڑا تھا اس کی ہدایت کے مطابق ہم نے وہ باکس اٹھایا پھر اس مردہ بچے کو باکس میں رکھا اور ایک بار پھر اس کی پیروی شروع کی۔۔۔۔

کوڑے دان کے پیچھے جہاں سے پہاڑی سلسلہ شروع ہوتا ہے کچھ درخت ہیں جن کے بیچ پتھروں کے درمیان چھوٹی سی صاف ستھری نرم مٹی سے ڈھکی جگہ جو صرف نزدیک آنے پر دکھائی دیتی تھی وہاں بچے کو احتیاط سے رکھ دیا۔۔ اب وہ کچرا لے جانے والوں، شرارتی بچوں، کتوں اور گیدڑوں سے محفوظ تھا۔۔۔۔

لازمی بات ہے یہ جگہ ڈھونڈ کر منتخب کی گئی تھی اور بچےکو وہاں تک لانا اس ماں کے اختیار سے باہر تھا سو ہمارا راستہ روکنا اس کی مجبوری تھی۔۔۔

بلی اب بچے کے سرہانے مطمئن چپ چاپ بیٹھی تھی اور میرا دل عجیب و غریب احساسات میں گھرا تھا اس پورے واقعے کے پیچھے دکھ ، حفاظت، پلاننگ، اور ممتا کی ایسی لازوال داستان تھی جو اس دن مجھے کئی نئے سبق سکھا گئی۔۔۔واپسی پر نہ جانے کیوں مجھے لگا جیسے بلی کی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے۔۔۔

وہی آنسو جو ہر بار یہ واقعہ یاد کرتے ہوئے میری آنکھوں میں آ جاتے ہیں۔

Facebook Comments Box
امومتبلیمادرماںماں بلیممتا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
عوام اور صحت: کے پی کے ایم ٹی ایکٹ 2015 —- عماد بزدار
next post
پنجابی خون: رزق خاک —– عابد آفریدی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.