تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

آؤ سوچیں ۔ ابن فاضل

by دانش ڈیسک 07/10/2017
written by دانش ڈیسک 07/10/2017
129

دوستو کیا خیال ہے آج کچھ گپ شپ ہو جائے ۔ ٹھیک ہے تو پھر ذرا قریب قریب ہو جائیں ۔ میٹرک تو قریب سبھی دوستوں نے کیا ہوگا ۔کسی نے تازہ تازہ اور کسی نے دہائیوں پہلے ۔۔۔ اگراجازت دیں تو ایک بات پوچھوں۔۔۔ یہ میٹرک کا مطلب کیا ہے؟ ارے بھئی آپ نالاں نہ ہوں۔۔ ہیں تو صرف یہ جاننے کی کوشش کر رہا تھا کہ جو سعادت آپ نے بڑی محنت اور شوق سے حاصل کی ہے وہ اصل میں ہے کیا ۔۔۔۔

چلیں چھوڑیں، نماز تو خیر سے سب پڑھتے ہیں نا، ۔۔۔ یہ نماز کو بھلا نماز کیوں کہتے ہیں۔ کیا کہا یہ بھی مشکل سوال ہے۔
اچھا تو پھر بالکل آسان سوال۔۔ دعا تو سبھی مانگتے ہیں نا ۔کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ،کسی حالت میں، کبھی با آوازِ بلند، کبھی آہستگی سے، یہ “دعا” کا مطلب کیا ہے۔

اسکو بھی چھوڑیں، کھانے پینے کی بات کرتے ہیں۔ اس کے سب شوقین ہیں نا۔ بھئی اچھا کھانا کسے نہیں بھاتا ؟ یہ جو کھانے ہم پکاتے اور کھاتے ہیں ان میں نمک مرچ اور دیگر مصالحہ جات تو ذائقہ خوشبو اور اسکی شکل بہتر بنانے کے لیے ڈالے جاتے ہیں۔ یہ ہلدی تقریبا ہر کھانے کا جزوِ لازم بھلا ہے۔ کبھی سوچا ہے کہ کیوں۔ اوہ ہو، اس پر بھی کبھی غور نہیں کیا ۔اچھا چلو سوڈا یا کولا کی بوتل میں نمک تو سب نے کبھی نہ کبھی ڈالا ہوگا، یہ نمک ڈالتے ہی ابلنے کیوں لگتی ہے۔اس کا تو پتہ ہونا چاہیے تھا یار آپکو۔

کششِ ثقل کا تو خیر سب کو پتہ ہوگا ۔جس کے زیرِ اثر تمام چیزیں نیچے کو گرتی ہیں۔ تو یہ آگ پھر ہمیشہ اوپر کو ہی کیوں اٹھتی ہے۔ اس کو بھی چھوڑیں۔ علامہ اقبال کا یہ مصرعہ
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
تو سب نے درجنوں بار سنا، پڑھا ہوگا ۔ یہ مرگِ مفاجات کیا ہوتا ہے ۔ افسوس اس بات کا نہیں کہ یہ اور ایسی درجنوں باتیں جن کا ہم ہر روز مشاہدہ کرتے ہیں۔ہم ان کے متعلق نہیں جانتے یا جاننے کی سعی نہیں کرتے بلکہ المیہ یہ ہے کہ ہم روزمرہ کی چند لگی بندھی باتوں کے سوا کسی اور بات پر غور ہی نہیں کرتے ۔ میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے ستر سے اسی فیصد معاشرتی مسائل ہماری اس غور نہ کرنے کی عادت کے سبب ہیں۔

غور کرنا انسانی زندگی میں کس قدر اہم ہوگا جو خالقِ حقیقی نے کتابِ ہدایت یعنی قرآن پاک میں درجنوں بار اس کی دعوت دی ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق قرآنِ کریم میں تقریباً پچاس بار بلا واسطہ اور تقریباً اتنی بار ہی بالواسطہ غور و فکر کی دعوت دی گئی ۔بلکہ کئی جگہ تو یوں ارشاد ہوتا ہے کہ اہلِ عقل سلیم ہی وہ لوگ ہیں جو زمین وآسمان کی تخلیق پر غور کرتے ہیں اور تخلیقاتِ رحمٰن کے فوائد اور استعمالات تلاش کرتے ہیں۔ (سورۃ3 أیۃ 191 (اسی طرح قرآنی تعلیمات اور احکامات پر غور کی دعوت ہے (سورۃ4-آیۃ 82 ۔سورۃ 23-آیۃ 68) اسی طرح ایک جگہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے پسندیدہ بندے وہ ہیں کہ جن کو جب ہماری آیتوں کے ذریعہ نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گر پڑتے بلکہ غور و فکر کرتے ہیں۔ (سورۃ25- آیۃ 73)

ہمارے تعلیمی اداروں میں درسی کتب کے انداز اور اساتذہ کے رویوں سے طالبعلموں کو ایسا ماحول ملنا چاہئے کہ ان کو ہر بات اور عمل پر غوروفکر کی عادت بن جائے ۔اور اسی طرح باقی لوگوں کو کسی نہ کسی طور غور و خوض کی عادت کو اپنانا ہوگی۔ یقین کیجیے جب ہم سب اپنے طرزِ زندگی، رہن سہن، لباس، عاداتِ خورد و نوش، آپس کے تعلقات اور دیگر انسانی رویوں پر غور کرنا شروع کردیں گے تو ہمارے بے شمار مسائل جیسے ٹریفک کے مسائل، خالص خوراک اور دودھ کی کمیابی یا عدم دستیابی، بے شمار چھوٹی بڑی بیماریاں، جو ہماری غلط عادات کی وجہ سے پروان چڑھتی ہیں، وغیرہ کے حل بغیر یا انتہائی کم وسائل سے نکل آئیں گے۔ ہمیں ہر ہر بات پر غور کرنا ہے۔ ٹی وی پر کچھ دکھایا جا رہا ہے، اس پر، اگر صحیح ہے تو ٹھیک ورنہ مسترد، جو کچھ ہمیں کھلا یا پیکٹوں میں بند کھلایا جاتا ہے اس پر، خاص طور پر پیکٹوں میں موجود خوراک پر اس کے اجزائے ترکیبی درج ہوتے ہیں، وہ ضرور دیکھنے چاہیئں۔ دودھ اور آئس کریم کے پیکٹوں پر درج اجزائے ترکیبی پڑھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ آپ کو دودھ اور آئس کریم کے نام پر کیا کیا کھلایا اور پلایا جارہا ہے۔ اسی طرح بیماریوں پر غور کریں کہ اتنے لوگ کیوں بیمار ہوتے ہیں اور اس کا تقابل باقی دنیا سے کریں۔ کھانے میں گھی اور چکنائی جتنی ہم پاکستانی استعمال کرتے چینی شاید اس سے دس گنا کم کرتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے ہم سے کئی گنا زیادہ صحت مند ہیں۔ ادویات کے فارمولوں پر غور کریں گے تو پتہ چلے گا کہ ایک ہی سالٹ والی دوا ایک کمپنی کی دوسری سے آدھی قیمت پر دستاب ہے ۔اس کا استعمال کرلیں۔ علی ھذالقیاس ۔

اور سب سے بڑھ کر قرآنِ کریم کی آیات اور اس کے احکامات پر غور کریں۔ اس کو خود سیکھیں ۔دوسروں کے سہارے مت سمجھنے کی کوشش کریں ۔ بخدا اگر ہدایت کی نیت سے سب لوگ قرآن کریم کو خود سیکھ کر پڑھیں تو ہماری مسلکی مسائل بھی اسی فیصد ختم ہوجائیں گے۔ انشاءاللہ ۔۔
دوستوں کو دعوتِ فکر ہے۔

Facebook Comments Box
خوراکرویہسماجی اصلاحسماجی رویےسوچ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
عالمی اداروں کی ملکی سیاست پر چھاپ ۔ حصہ اول — جاوید اقبال راو
next post
کالا کوٹ اور کالی بھیڑیں: ارسلان اے بھٹی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.