تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزمزید

زندگی خوبصورت ہے — یوں ملتی ہے اصلی خوشی : ثناء غوری

by دانش ڈیسک 26/09/2017
written by دانش ڈیسک 26/09/2017
200

آج سے دانش کے قارئین سے مخاطب ہورہی ہوں، اس کا ایک خاص مقصد ہے… ارے ارے ڈریے نہیں میں یہ اعلان نہیں کرنے جا رہی کہ مجھے کینسر ہوگیا ہے۔ کینسر ہوا ضرور ہے لیکن یہ کینسر معاشرے کے ناسوروں کو ختم کرنے کی خواہش لیے میرے قلم کے9 سال کے سفر نے گھاؤ لگا لگا کردیا ہے۔ اب یہ سوچتی ہوں نہ جانے میری کوششیں کامیاب ہوں گی بھی یا یوں ہی جہانِ فانی سے کوچ کیا جائے گا۔ بہرحال کہنا کچھ یوں تھا کہ 2009 سے 2017 تک میری بہت سی تحریریں آپ کی نظر سے گزریں، جن میں عالمی سیاست، ملکی سیاست، سوشل میڈیا، سوشل ایشوز، خواتین اور بچوں سے متعلق موضوعات شامل رہے۔ لیکن اب مجھے شدت سے اس بات کا احساس ہونے لگا ہے کہ ہمارا معاشرہ جس ڈگر پر چل رہا ہے وہاں ایک عام فرد کی تربیت ناگزیر ہوگئی ہے۔ فرد واحد راہنمائی چاہتا ہے اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کوشش کرنا چاہتا ہے لیکن اکثر یہ کوششیں ناکام ہی رہتی ہیں۔ میں نے یہ عزم کیا ہے کہ میں اپنی تحریر کے ذریعے ایک عام فرد کو مضبوط بنانے اور معاشرے میں ایک بہتر شہری کے طور پر سامنے لانے میں مدد کروں گی۔ اس سلسلے میں “زندگی خوبصورت ہے” ہے کہ عنوان سے دانش پہ ایک نیا سلسلہ شروع کررہی ہوں۔ آپ کی توجہ اور رائے میرے لیے اہم ہوگی۔  ثناء غوری


اس تیز رفتار دور میں مصروفیات اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی لگن نے ہر شخص کو اپنی ذات تک محدود کر کے تنہا کردیا ہے۔ جسے دیکھیے ایک اداس کہانی آنکھوں سے جھلکتی ہے، جسے حساس لوگ ہی پڑھ سکتے ہیں۔ جی تو چاہتا ہے کہ جادو کی چھڑی ہاتھ میں آجائے اور اس دنیا سے تمام غم چھومنتر کہتے ہی غائب ہو جائیں۔ میرا تعلق پاکستان کے ایک بڑے شہر سے ہے۔ اس شہر کی مصروف زندگی رات دن نہ جانے کتنے ہی کھیل تماشے لیے ہوتی ہے۔ انسانوں کے اس جنگل میں ہر شخص مصروف ہے، اپنے آپ میں مگن اور اپنے اندر کتنے ہی غموں کو چھپائے ہوئے، کیوںکہ اسے لگتا ہے کہ وہ تنہا ہے۔ وہ کسی سے کچھ کہہ نہیں سکتا۔ لب کشائی کی بھی تب بھی شاید اسے رد کردیا جائے۔

سو خوش رہنے کے لیے اکثر چھوٹی چھوٹی منصوبہ بندی کی جاتی ہے، جس سے نتائج تو برآمد ہوتے ہیں لیکن یہ نتائج بس وقتی نوعیت کی خوشی دے جاتے ہیں، جیسے ہی آنکھوں سے وہ منظر غائب ہوا، چند لمحے گزرے اور پھر اسی اداسی نے ڈیرا ڈال لیا۔ کوئی دوستوں کی محفل میں سکون حاصل کرتا ہے کوئی اپنے قریبی رشتے دار کے ساتھ وقت گزارتا ہے اور کبھی کبھی سیرو تفریح کا راستہ لیا جاتا ہے۔

دفتر کی تھکن، اچھے برے رویے، سماعتوں پر بہت سی آوازوں کا بوجھ اٹھانے کے بعد گھر کی طرف واپسی کا سفر کرتے ہوئے اکثر لوگ موسیقی سنتے ہیں۔ کوئی پبلک ٹرانسپورٹ میں تو کوئی اپنے سیل فون کے ذریعے اور کوئی اپنی گاڑی میں۔ موسیقی اکثر وقتی طور پر سب کچھ بھلا دیتی ہے اور انسان خود کو ہشاش بشاش اور اپنے من کا مالک سمجھتا ہے۔

وہ خواتین جو فکرِروزگار سے آزاد ہوتی ہیں، کچھ وقت ٹی وی اسکرین کے سامنے گزارکر دل کو سکون دیتی ہیں اور اس دنیا کے جھمیلوں سے کچھ وقت نکال کر مطمئن ہوجاتی ہیں۔ یہ تو بہت چھوٹی چھوٹی مثالیں ہیں۔ وقتی خوشی پانے کے لیے انسان کسی حد تک بھی چلا جاتا ہے وقتی لذت چند ساعتوں کا سکون، اور جیسے ہی منظر بدلا سب ختم۔۔۔!

اکثر تو گناہ اور ثواب کا تصور بھی ختم ہوجاتا ہے ذرا سا سکون حاصل کرنے کے لیے خودفریبی انسان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔
اب سوال یہ کہ اگر یہ وقتی خوشی ہے تو اصل خوشی کیسے حاصل ہو، جو دیرپا ہو، جو سکون دے، جو شخصیت کی تعمیر کرے۔ ظاہر ہے انسان مطمئن ہوگا تبھی اس کی صلاحیتیں بڑھیں گی، تخلیق کے دروازے کھلیں گے۔

دورِحاضر کا تنہا انسان سب سے پہلے تو خود اپنے اوپر ایک خاص کیفیت طاری کرتا ہے اور خودرحمی کی دہلیز پر بیٹھ جاتا ہے۔ ہر ساعت بس سوچتا ہے کہ یہ فقط میرے ساتھ ہی کیوں ہوا اس طرح اُس کے باطن کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہوجاتی ہے۔ دکھ اور ملال دل میں ایک دفعہ بیٹھ جائیں تو ان کا نکلنا مشکل ہے۔ انسان پہروں اور بعض اوقات مہینوں سالوں اِسی کیفیت میں رہتا ہے اور بہت سے کیسسز میں تو عمر گزر جاتی ہے، لیکن ملال کی کیفیت ختم نہیں ہوتی۔ یوں ہوتا تو ایسا ہوجاتا،
وہ ہوجاتا تو یہ کیوں ہوتا،
کاش میں ایسا ہوتا،
اے کاش مجھ میں یہ صلاحیت ہوتی، وغیرہ وغیرہ

ہماری وقتی منصوبہ بندی اور وقتی آسودگی اس وجہ سے ہے کہ ہم اپنے اندر تلاش نہیں کرتے کہ آخر ہماری ذات کس چیز سے مطمئن ہوتی ہے۔
کسی چیز کا نہ ہونا، اور کسی انسان کا نہ ملنا، مال رتبہ اور مرتبہ کا نہ ہونا آپ کے لیے دُکھ کا باعث تو ہے، لیکن ساتھ ہی بھی تو سوچیے کہ آپ کے پاس ایسا کیا ہے جو دوسروں کے پاس نہیں۔

اپنا مستقل سکون اپنے اندر تلاش کیجیے۔ خیالات کی بُنت آپ کو ان مناظر کے دھندلے اسکیچ بناکر دکھاتی چلی جائے گی، ان چیزوں اور لوگوں کے اسکیچ جو آپ کی خوشی ہیں اور وہ کام جو آپ کے دُکھوں کو رفتہ رفتہ ختم کریں گے۔ فقط قوتِ ارادی کی ضرورت ہے۔ کسی کتاب میں لکھا تھا ’’بہادر وہ ہے جو پختہ عزم کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو ترقی دیتا ہے اور اُن سے بھر پور فائدہ اٹھاتا ہے۔‘‘

اب جو گزر گیا سو گزر گیا۔ ساری عمر اس کیفیت میں رہنے سے کیا حاصل۔ اپنے غموں کو اپنی طاقت بنا لیجیے، جو نہیں ہے اُس پر ماتم کرنے کے بجائے جو ہے اُسے مزید بہتر بنائیے۔ پھر دیکھیے زندگی کیسے رنگ بدلتی ہے۔ مصائب میں خوشی تلاش کرنا آپ ہی پر منحصر ہے۔ جسے یقیناً آپ آج ہی سے کریں گے۔ ایسا کیوں ہے کہ دوستوں اور عزیزوں کی محفل میں آپ کی آواز وہ تاثر نہیں چھوڑتی جو کسی اور کی آواز دیتی ہے، ایسا کیوں کہ آپ کا قہقہہ کہیں کھو جاتا ہے۔۔۔۔! یہ اس لیے کہ آپ اپنے باطن سے مطمئن نہیں۔ آپ کے اندر کی دنیا قحط زدہ ہے۔ تو سن لیجیے یہ قحط زدہ دنیا آپ کی اپنی کوششوں سے ہی ہری بھری ہو سکتی ہے۔ اور یہ ہری بھری دنیا جو سکون کے پھل آپ کو دے گی اُس سے آپ کے ارد گرد کے لوگ بھی مطمئن ہوں گے۔ یقیناً آپ لوگوں کی توجہ کا محور بھی بنیں گے اور تاحیات خوشی بھی حاصل ہوگی۔ اللہ تعالی آپ کو سکون عطا فرمائے، آمین۔

Facebook Comments Box
featuredامیدرجائیتزندگیزندگی خوبصورتمایوسیناامیدی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ہمارے معاشرے میں جنسی رجحانات: Lack of Libido OR Lack of Love — فارینہ الماس
next post
ا دب میں مرثیہ نگاری کا مقام: یگانہ نجمی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.