تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

بکھرا نظامِ تعلیم: چوہدری خضر امیر

by ویب ڈیسک 25/04/2017
written by ویب ڈیسک 25/04/2017
81

ایک محتاط اندازے کے مطابق اِس وقت دنیا میں 195-96 ممالک موجود ہیں ۔ مختلف ادوار میں کچھ ممالک عروج کی سیڑھی چڑھے اور کچھ زوال کی ندی میں غوطہ زن ہو ئے ۔ ترقی پانے والے تمام ممالک مربوط و منظم تعلیمی نظام کے زیرِ سایہ رہے ، کیونکہ جب بھی کسی قوم نے ترقی کی اس میں بنیادی کردار تعلیمی نظام نے سر انجام دیا ۔ زوال پانے والے ممالک علم و تحقیق سے دوری کا شکار ہوئے ۔ عصرِ حاضر میں ترقی یافتہ ممالک کا جائزہ لیا جائے تو بلا شبہ ہم ایک ہی نقطے کو اہم جانیں گے یعنی کہ تعلیمِ نظام ۔جنوبی کوریا اس وقت تعلیمی نظام میں دنیا کے نقشے پر اول درجے پر ہے ۔عمر کے لحاظ سے جنوبی کوریا پاکستان سے دو سال بڑا ہے ۔ 
اِسی طرح جاپان ، امریکہ ، سنگا پور، کینیڈا، فن لینڈ اور نیوزی لینڈ وغیرہ بھی اعلیٰ تعلیمی نظام کی حامل ممالک کی صف میں شامل ہیں ۔پاکستان آزادی سے لے کر اب تک نو مختلف پالیسیاں ترتیب دے چکا ہے۔ پہلی تعلیمی کانفرنس1947ء ، دوسری 1954ء ، تیسری 1959ء ، چوتھی 1970ء ،پانچویں 1972ء ، چھٹی 1979ء ، ساتویں 1992ء ، آٹھویں 1998ء اور نویں ایجوکیشن سیکٹر ریفارمز پچھلے چند سالوں (2010۔2005) میں ہوئیں مگر نتائج اطمینان بخش ثابت نہیں ہوئے۔ یہ تمام پالیسیاں انگریزی نظام کے مرہونِ منت تھیں اور ہیں۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب تک ہم کس حد تک اور کیوں اپنا تعلیمی معیار تسلی بخش نہیں بنا سکے؟کیا جس تعلیمی نظام کو ہم ستر سال سے اپنائے ہوئے ہیں وہ اس قابل بھی ہمیں نا بنا سکا کہ ہم اپنا مربوط اور منظم تعلیمی نظام بنا اور اختیار کر سکے۔ 
اگر سابقہ ادوارِ حکومت اور نظامِ تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو میرے خیال میں اس کی کچھ بنیادی وجوہات ہیں: 
ان میں سب سے اہم اور پہلا درجہ مذہبی اور غیر مذہبی تعلیمی تفریق ہے۔
دوسرا درجہ سرکاری و نجی اداروں میں امیر اور غریب کا تصور ہے۔
تیسرا درجہ ان تمام اداروں کا غیر مکمل اعداد و شمار کا ہے۔
پہلے درجے میں مذہبی و غیر مذہبی اصطلاحات کا غیر سنجیدہ اور کم علمی طریقوں سے استعمال ہونا ہے۔ چونکہ ان اصطلاحات کے ذریعہ نوجوان طبقے کو ٹیکنالوجی کی طرف جانے سے ہرگز روکا گیا۔ اسلام جیسے وسیع وامن پسند دین کا شیطانی طریقے سے اس گھناؤنے فعل کیلئے استعمال کیا گیا۔ اس کا نتیجہ مدرسہ اور اسکول و کالج میں تعصب کی صورت میں بھگتنا پڑا۔یہ بات کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مدارس بُرے ہیں بلکہ اس کا مقصد مدارس دشمنی کو واضح کرنا ہے۔ کچھ باتیں حقائق پر مبنی ہوتی ہیں مثال کے طور پر:
کیا اسلام ڈاکٹر و انجینئر بننے سے منع کرتا ہے؟ کیا اسلام ٹیکنالوجی کے حصول کے راستے رکاوٹ ہے؟ اگر ہم قرآنِ پاک کا جامع مطالعہ کریں تو چودہ سو سال پہلے، اور تم اپنے گھوڑے تیار کر رکھو؟ کیاحالاتِ حاضرہ میں ان گھوڑوں اور تلوار کی جگہ جدید ٹیکنالوجی نے نہیں لے رکھی؟بلکہ قرآن تو ہمیں تحقیق و جستجو، تفکر و تدبر کا درس دیتا ہے۔مگر صد افسوس کہ آج جو مضامین مدارس میں پڑھائے جا رہے ہیں وہ دہائیوں سے چلے آ رہے ہیں۔مدارس کے ساتھ ایک اور بڑا ظلم 1977ء سے 1988ء تک ان مدارس کے طلبا ء کومستقبل کے روشن ستارے بنانے کی بجائے نام نہادجہاد کیلئے تیار کیا جاتا رہا۔ جس کے سنگین نتائج آج ہم شدت پسند مسلمان جیسی اصطلاحات کی صورت بھگت رہے ہیں۔ 
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25 کی رو سے پانچ سے پندرہ سال کی عمر کے ہر بچے کیلئے تعلیم کی فراہمی ریاست کا بنیادی فرض ہے۔الف اعلان کے حالیہ سروے کے مطابق چوبیس ملین بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں۔ دوسرے درجے میں سرکاری و نجی تعلیمی نظام کا میں غیر مساوی حصوں میں منقسم ہوناہے۔ ایک بیوروکریٹ یا وزیر کا بچہ تو بیکن ہاؤس یا ایجوکیٹر میں پڑھ سکتا ہے مگر ریڑھی بان کا بچہ کیوں نہیں؟؟؟ ظاہر سی بات ہے جب پاکستان میں 48 فیصد سرکاری سکول بغیر ٹائلٹ چار دیواری اور بجلی و پینے کے پانی سے محروم ہوں گے تو یہ تفریق مزید بڑھے گی۔ اس وقت سرکاری و نجی سکولوں میں 1.4 ملین اساتذہ ہیں جن میں سے 51 فیصد صرف سرکاری سکولوں میں ہیں۔ اس 51 فیصد حصہ کا 58 فیصد حصہ قومی سرگرمیوں کا علم نہیں رکھتا جبکہ 73 فیصد بغیر ٹیچنگ کورس کے ہے۔
تیسرے درجے کا مسئلہ ان تمام اداروں کا بغیر اعداد و شمار کے نافذ العمل ہونا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سابقہ تعلیمی اعداد و شمار کی بنیاد پر خامیاں تلاش اور نئی حکمتِ عملی اپنائی جاتی ہے لیکن ہمارے ہاں اس کی مثال مدرسوں اور پرائیویٹ سکولوں کا غیر رجسٹرڈ ہونا ہے۔ 1947 سے 1999 تک مدارس کا رجسٹر ہونے کا تصور دور دور تک نظر نہیں آتا۔9/11 کے بعد مشرف دور میں امریکہ دباؤ کے نتیجہ میں مدرسہ رجسٹریشن کا آغاز کیا گیاجوکہ ابھی تک پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ اسی طرح اگر غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی بات کی جائے تو عصرِ حاضر میں بھی ایک بڑی تعداد غیر رجسٹرڈ ہے۔ بظاہر تو ہر ڈویژن سطح پر تعلیمی بورڈ، چاہے مذہبی ہو یا غیر مذہبی، موجود ہے مگرعملی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے۔اگر موجودہ جدیدیت اور ٹیکنالوجی کی اہمیت سے انکار کیا گیا اور مدارس اور سکول و کالج میں فاصلے کو مزید وسعت دی گئی تو وہ وقت دور نہیں جب ہم بھکاری اقوام کی صف میں اول درجے پر ہوں گے اور نتیجہ شام و فلسطین جیسا حال ہمارا ہوگا۔ اگر ہم 2.3 ملین مدارس کے طلباء کو قومی دھارے میں ترقی کے واسطے شامل کر لیں تو نتائج مثبت ہو سکتے ہیں۔ اس وقت حکومت کو چاہئے کہ تعلیمی نظام کو اولیت دے اور اس ملک کے مستقبل کو چٹانوں اور جھاڑیوں کی آغوش سے بچا لے۔ اگر ہم احتساب، قانون کا بول بالا، احساسِ کمتری سے چھٹکارا، جھوٹ، چوری اور کرپشن جیسی لعنتوں سے نجات چاہتے ہیں ،  تعلیمی نظام کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ 

Facebook Comments Box
تعلیم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
برطانوی مظالم کا عجائب گھر
next post
چینی یا میٹھا زھر: عہد کم ظرف کی’خوراک‘ گوارا کرلیں؟

Related Posts

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

ادب، مادری زبانیں اور ادیب کا کردار —-...

26/02/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.